سحر انگیز ۔۔ سید کامی شاہ

سِحر انگیز

سید کامی شاہ

ایک دفعہ کا ذکر ہے کسی شہر میں ایک رومان پرست اور تخیل پرور شاعر رہتا تھا جس کے دو بیٹے اور ایک بیوی تھی، جسے اس کی عام سی جذباتی اور نیم رومانوی شاعری سے بے حد چِڑ تھی مگر خواتین میں وہ شاعری خاصی مقبول تھی۔ اسی شہر میں ایک حسین عورت بھی رہتی تھی جسے شاعری بہت پسند تھی اور وہ گاہے گاہے مختلف شاعروں سے ملتی بھی رہتی تھی۔ اس عورت کا شوہر ملک سے باہر رہتا تھا اور شادی کے کئی برس بعد تک اس کے ہاں کوئی بچہ نہیں ہُوا تھا۔۔ اُس نے اپنے گھر میں ایک نگار خانہ بنا رکھا تھا جہاں بہت سی تصاویر تھیں اور انہی کے درمیاناس شاعر کی بھی ایک تصویر آویزاں تھی مگر شاعر کو یہ بات معلوم نہیں تھی۔

ایک دن ایک مشاعرے کے بعد وہ اس شاعر سے ملی اور اسے اپنے گھر چلنے کی دعوت دی، جو شاعر نے بخوشی قبول کرلی۔۔۔ اس کا گھر ایک اونچی عمارت میں خاصی بلندی پر جا کر واقع ہُوا تھا اور اس کی ایک کھڑی اُس رُخ پر کھُلتی تھی جہاں سے کھُلا آسمان اور آدھا سویا، آدھا جاگا شہر دِکھائی دیتا تھا۔ یہاں تک وہ لفٹ کے ذریعے آئے تھے جس میں داخل ہوتے وقت ان کا سامنا ایک مرد، عورت اور ان کے دو بچوں سے ہوا تھا۔ بڑے بچے نے باپ کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا اور چھوٹا اپنی ماں کے شانے سے لگا مزے سے سورہا تھا جبکہ اس کا باپ کھنکھیوں سے دوسری عورت کے سراپے کا جائزہ لے رہا تھا۔

وہ کھسک کر لفٹ میں ایک کونے سے لگ کر کھڑا ہوگیا اور چور نگاہوں سے اس برقعہ پوش عورت کی پشت کو دیکھنے لگا جس نے آدھا چہرہ ڈھانپ رکھا تھا، وہ ایک دبلی پتلی سی عورت تھی جس کے سراپے میں بظاہر کوئی دلکشی نہیں تھی جبکہ اس کے شانے سے لگا چھوٹا بچہ بڑی آسودہ نیند کی حالت میں تھا۔

وہ سوچنے لگا کہ آخری بار وہ کب ایسے بے فکری سے سویا تھا مگر اسے یاد نہ آیا شاید ایسی بے فکر نیند لیے ہوئے اسے دہائیاں بیت چکی تھیں۔ جس عورت کے ساتھ وہ آیا تھا وہ قریب ہی کھڑی سامنے تیزی سے بدلتے ہندسوں کو دیکھ رہی تھی اور وہ اُس اجنبی عورت کے سراپے میںدلکشی تلاش کررہا تھا جسے کچھ ہی دیر میں اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ اسی عمارت کی کسی اوپری منزل پر اترجانا تھا۔ کچھ ہی دیر میں ان کی منزل آگئی اور وہ دونوں میاں بیوی اپنے بچوں کو سنبھالتے ہوئے لفٹ سے باہر نکل گئے۔

کیا دیکھ رہے تھے اُس میں۔؟ لفٹ کا دروازہ بند ہوتے ہی عورت نے پلٹ کر اس سے پوچھا اور وہ گڑبڑاگیا۔۔

نہیں، نہیں میں تو ایسے ہی۔۔۔۔،، وہ کوئی واضح جواب نہ دے پایا۔

جانتی ہوں میں تم مردوں کی نیچر، میرے ساتھ آئے ہو اور دیکھ اُس چھپکلی کو رہے تھے، کیا خاص بات تھی اُس میں؟

میرے پاس بھی تو بہت کچھ ہے۔،، اس نے ہلکا سا قہقہہ لگاتے ہوئے خود کو نمایاں کیا اور اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔

وہ سُبکی محسوس کرنے لگا۔

مجھے اس عورت کو اس طرح نہیں دیکھنا چاہیے تھا۔ اس نے سوچا۔

اتنے میں گھنٹی بجی اور لفٹ ان کی مطلوبہ منزل پر پہنچ کر رک گئی۔

ارے مذاق کررہی ہوں، تم تو سنجیدہ ہی ہوگئے،، عورت پر ایک سرخوشی طاری تھی اور اس کی آنکھیں پھلجڑیاں چھوڑ رہی تھیں، وہ سبک روی سے اس کے آگے آگے چلنے لگی۔ شاعر نے ادھر ادھر دیکھا، راہداری خالی پڑی تھی اور غالباً اس رَو کا آخری فلیٹ اس کا تھا جو تیزی سے اُس کی طرف بڑھ رہی تھی۔

وہ ایک نیم روشن اور پُراسرار رات تھی۔

مشاعرہ خاصی تاخیر سے ختم ہُوا تھا اور مشاعرہ گاہ سے اس کے گھر تک کا فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔ گاڑی وہ خود ہی چلارہی تھی اور سارے رستے خاموش رہی تھی جبکہ کنکھیوں سے اس کے بھرے بھرے سراپے کا جائزہ لیتا ہوا شاعر آنے والے حسِین لمحات کے بارے میں سوچ سوچ کر اندر ہی اندر خوش ہورہا تھا۔ مگر لفٹ والے واقعے نے تھوڑی دیر کو اس کییہ خوشی غارت کردی تھی۔۔

ایک چھوٹے سے سجے سنورے کمرے میں اسے بٹھا کر وہ ابھی آئی کہہ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔۔

سامنے والی چھوٹی میز پر کچھ رنگ برنگی ڈائریاں رکھی تھیں۔ شاعر نے تجسس کے مارے ہاتھ آگے بڑھایا اور ایک ڈائری اٹھا کر اس کی ورق گردانی کرنے لگا۔

اس عورت نے اسے اپنا نام سِحرانگیز بنایا تھا اور اس ڈائری میں مختلف شاعروں کے ہاتھوں سے سحر کے نام کچھ نظمیں، غزلیں اور اشعار لکھے ہوئے تھے جن کے نیچے شاعروں کے دستخط اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ یہ کلام شاعروں نے خود اس کے لیے لکھا ہے اور ان میں سے کئی شاعروں کو وہ ذاتی طور پر بھی جانتا تھا۔ کچھ صفحات پر لکھی تحاریر کے نیچے کسی کا نام نہیں تھا اور بظاہر یہ لگتا تھا کہ یہ اس نے خود ہی لکھی ہوں گی، مگر یقین سے کچھ کہنا مشکل تھا۔ ایک کے بعد دوسری اور پھر تیسری ڈائری کے صفحات الٹتے پلٹتے شاعر کو اپنے وجود میں حسد کی ایک تیز لہر دوڑتی محسوس ہوئی۔

وہ جب واپس آئی تو اس کا برقعہ، چشمہ اور کالے دستانے غائب ہوچکے تھے اور اس نے گہرے سرخ رنگ کی ایک لمبی سی بنا آستینوں کی پوشاک پہن رکھی تھی، جس کے نیچے اس کی پنڈلیوں تک جھلکتی مضبوط ٹانگیں اور سفید کبوتروں جیسے اجلے ننگے پائوں دکھائی دیتے تھے، پائوں کے ناخنوں کو بھی اس نے لال رنگ سے رنگا ہوا تھا، اس کے دونوں ہاتھوں میں دو منقش پیالے تھے جن میں سنہری رنگ کا مشروب چمک رہا تھا اور اس کی روشنی میں اس کے ہاتھوں کی انگلیوں کے ناخن سرخ شعلوں کی طرح دمکتے نظر آتے تھے۔ اس نے بائیں ہاتھ کی ایک انگلی میں بڑا سا نیلا پتھر پہن رکھا تھا، اس نے اپنے ہونٹوں کو بھی لال رنگ سے نمایاں کر رکھا تھا، اسے ایک پل کو وہ ایسی بلی نظر آئی جس نے تازہ تازہ کسی کبوتر کا شکار کیا ہو۔۔

اس کے سامنے والے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھنے کے باعث اس کی قمیص تھوڑی اوپر اٹھ گئی اور اس کی صندل کی لکڑیوں جیسی بے داغ پنڈلیاں کچھ اور نمایاں ہونے لگیں، وہ بے نیازی سے اسے دیکھتی رہی اور ایک ٹانگ پر رکھی دوسری ٹانگ جھُلاتی رہی۔

اس کے کھلے بالوں سے اٹھتی دلفریب خوشبو سارے کمرے کو مہکا رہی تھی۔ شاعر کو اندازہ نہیں تھا کہ اس کالے برقعے کے اندر سے ایسی بے باک عورت برآمد ہوگی۔

شاعر کو ڈائریوں کی ورق گردانی کرتے وہ دیکھ چکی تھی اور اب اشتیاق سے اس کے ردِ عمل کا انتظار کررہی تھی۔

ان سب شاعروں نے یہ ساری نظمیں، غزلیں تمہارے لیے لکھی ہیں؟ اس کے سوال میں تجسس اور حسد دونوں کی آمیزش تھی۔

ہاں، اس نے مختصر جواب دیا اور ٹانگ جھلاتی ہوئی مزے سے مشروب کی چسکیاں لیتی رہی۔

تو کیا وہ سب یہاں آتے رہے ہیں، ان سب کے ساتھ بھی۔۔۔۔ وہ ایک ہی سانس میں بہت کچھ پوچھ لینا چاہتا تھا لیکن اپنا سوال مکمل نہ کرپایا اور سر جھکا کر ڈائری کو دیکھنے لگا، مگر وہ اس کی بات سمجھ چکی تھی۔

ارے نہیں بھئی،یہ تو مشاعروں میں لوگ ملتے ملاتے رہتے ہیں تو ان سے لکھوا لیتی ہوں۔ اس نے ایک نقرئی قہقہہ فضا میں اچھالا جیسے اس کی روایتی مردانہ سوچ کا مذاق اڑا رہی ہو۔

ایک ڈائری اٹھا کر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے اس نے کہا۔۔ ہر کوئی اتنا اہم نہیں ہے کہ اسے یہاں لے آئوں، یہ تو بس تم پر میرا دل آگیا۔۔،، اس نے ایک اور قہقہ لگایا۔۔

تم بھی کچھ لکھو نہ میرے لیے۔۔۔،،

شاعر نے کچھ کہے بغیر ڈائری اس کے ہاتھ سے لے لی اور ایک خالی صفحہ کھول کر اسے گھورنے لگا۔

اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا لکھے۔۔۔

بہت سارے لوگ یکدم اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گئے، وہ ایسے کئی ٹھرکی شاعروں کو جانتا تھا جن کے لیے شاعری کا مقصد صرف عورت کی توجہ یا اس کے بدن تک رسائی حاصل کرنا تھا اور ان میں سے اکثر کے نام اس ڈائری میں دیکھ کر اس کے اندر حسد کا گاڑھا نیلا، زہریلا دھواں پھیلنے لگا۔ وہ اس بات پر فوراً یقین کرنے کو تیار نہیں تھا کہ اس سے پہلے کوئی مرد اس عورت کے ساتھ یہاں نہ آیا ہوگا۔

عورتیں اتنی منافق کیوں ہوتی ہیں؟

اس کی آنکھوں کے سامنے ایک سادہ چشمے والی، برقعہ پوش عورت گھوم گئی جو اپنے ہاتھوں کو بھی دستانوں سے چھاپے رکھتی تھی اور اس وقت یہاں اس روپ میںیہ تو کوئی اور ہی عورت تھی۔۔۔۔

اس کا دل چاہا کہ ڈائری میں کوئی سخت قسم کا فقرہ لکھ دے۔ مگر اسی لمحے اس کے اندر ایک آواز گونجی تم بھی تو منافقت ہی کررہے ہو جو اپنے گھر، بچوں اور گھر والی کو چھوڑ کر ایک اجنبی عورت کے ساتھ رات کے اس پہر یہاں آئے ہو اور ظاہر ہے مقصد عورت مرد کے فطری رشتے کی تکمیل کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے؟

مشروب نوش کرنے کے دوران شاعر کو لگا کہ جیسے وہاں قریب ہی کوئی اور بھی ہے، سرسراتے ریشمی پردوں، سامان سے بھری الماریوں، صوفوں، کرسیوںیا مضبوط ستونوں کے پیچھے سانس لیتی، لال آنکھوں اور نوکیلے دانتوں والی کوئی زرد رنگ مخلوق ہے جو اس پر نظر جمائے اس کی تمام حرکات و سکنات کو دیکھ رہی ہے اور کسی بھی لمحے اس پر جھپٹ پڑے گی۔ شاعر کو اپنا سانس گلے میں تنگ ہوتا محسوس ہوا۔ وہ بلا ارادہ اپنے گلے کو مسلنے لگا۔

مگر عورت نے کہا کہ یہاں کوئی اور نہیں ہے، وہ اس گھر میں اکیلی رہتی ہے۔

شاعر نے جلدی سے پیالہ خالی کرکے میز پر رکھا تو عورت نے ایک رنگین ڈائری آگے بڑھاتے ہوئے اصرار کیا۔۔۔

لکھو نہ میرے لیے کچھ۔۔،،

اس نے قلم تھاما تو اسے اپنا ہاتھ کپکپاتا ہُوا محسوس ہوا۔۔۔

عورت کے نام جو اس کائنات کی سب سے دلچسپ اور پُراسرار ہستی ہے۔،،

اس نے لکھا اور اس کے نیچے اپنا نام لکھ کر ڈائری اس کی طرف بڑھادی۔۔

میرا نام تو تم نے لکھا ہی نہیں،، عورت نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔

نام میں کیا رکھا ہے، عورت تو ہر حالت میں عورت ہی رہتی ہے۔،، اس نے کہا۔

مگر ہر عورت ایک سی نہیں ہوتی، کچھ عورتیں آسانی سے بھلادی جاتی ہیں اور کچھ ناقابلِ فراموش ہوتی ہیں۔،، اس نے اپنا فلسفہ سنایا۔

تو تمہارا اپنے بارے میں کیا خیال ہے، کیا تم ایسی عورت ہو جسے آسانی سے فراموش نہیں کِیا جاسکتا؟

ہاں، مجھے پتہ ہے کہ میرا ساتھ پانے والا کوئی مرد مجھے کبھی بھول نہیں سکتا۔

تو کتنے مردوں کا تجربہ ہے تمہیں؟ وہ کہتے کہتے رُک گیا۔

اور زیرِ لب بولا۔ یہ عورت مرد کا رشتہ بھی عجیب ہی ہے کم بخت۔۔۔،،

ھاھاھاھا، وہ ہنسی اور جیسے فضا میں رنگ برنگے پرندے اڑنے لگے۔۔۔

اس نے قریبی بک شیلف پر رکھی ایک خوبصورت بوتل اٹھائی اور پیالوں میں مشروب انڈیلنے لگی۔

عورت مرد کا رشتہ جتنا آسان اور خوبصورت ہے اسے دنیا نے اتنا ہی مشکل اور بدصورت بنا رکھا ہے۔،،

اس نے ایک پیالہ شاعر کی طرف بڑھایا۔ اس بار پیالے میں ارغوانی رنگ کا مشروب ہلکورے لے رہا تھا۔

اوریہ؟ اس نے پیالے کے طرف اشارہ کیا۔

ہاں،یہ۔۔۔۔ میرا میاں پیتا ہے، شادی کے بعد اس نے بار بار بول کر مجھے بھی پینے پر آمادہ کرلیا اور پھر مجھے مزہ آنے لگا۔

یہ برقعے اور چشمے والی کیا کہانی ہے؟ شاعر نے موضوع بدلنے کے لیے کہا۔

یار، ہم جس گھٹیا اور منافق سوسائٹی میں رہتے ہیں وہاں ایسی چیزیں کرنی پڑتی ہیں۔ میں کسی کے چوتیاپے کے سوالوں کے جواب نہیں دے سکتی اس لیے سماج میں برقعہ پہنتی ہوں اور اپنے گھر میں اپنی مرضی سے رہتی ہوں۔،،

تو کیایہ سب ٹھیک ہے؟

اس نے پوچھا۔

ھاھاھاھاھاھاھا۔۔۔۔،، اس نے ایک لمبا قہقہہ لگایا اور دو بڑے بڑے گھونٹ لے کر مشروب ختم کیا۔

یہ جو ٹھیک اور غلط اور سچ اور جھوٹ ہوتے ہیں نہ، یہ بھی ہم نے اپنے سیٹسفیکشن کے لیے ہی بنائے ہوئے ہیں۔ ہوسکتا ہے میرا سچ کسی کے لیے جھوٹ ہو اور تمہارا جھوٹ کسی کے لیے سچ ہو۔ حتمی سچائی کا فیصلہ کون کرسکتا ہے؟

شاعر نے بھی دو تین بڑے بڑے گھونٹ لیے اور پیالہ خالی کرکے اسی ٹیبل پر رکھ دیا جہاں رنگین ڈائریاں پڑی تھیں۔

مرد تو عورت کے اٹھنے، بیٹھنے میں بھی مزہ ڈھونڈ لیتے ہیں، تم کیسے آدمی ہو جو میری طرف دھیان ہی نہیں دیتے ہو۔،، عورت نے ایک بھرپور انگڑائی لے کر اپنے دلکش سراپے کو مزید نمایاں کیا اور اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔

آئو تمہیں اپنا کمرا دکھاتی ہوں۔،، اس نے کہا اور ڈائری کو لاپروائی سے بُک شیلف پر پھینک دیا جہاں اور بھی ڈائریاں اور کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔

شاعر ڈرتا، جھجھکتا، کنکھیوں سے اس کے بھاری اور دلکش کولہوں کو دیکھتا ہُوا آہستگی سے اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہا، نشے کی ایک ارغوانی لہر اس کے رگ و پے میں سرسرانے لگی تھی۔۔۔ ایک نیم تاریک راہدی سے گزر کر وہ اس کمرے میں آگئے جسے عورت نے اپنا کمرا کہا تھا۔ وہاں ایک بڑا سا پلنگ بچھا تھا جس پر ترتیب سے تکیے دھرے تھے اور پلنگ پوش پر ایک ناچتا ہوا مُور بنا ہُوا تھا۔ ایک طرف بڑی سی سنگھار میز تھی جس کے آئنے میں پورے کمرے کا نیلمیں منظر دکھائی دیتا تھا۔

آنے والے مسرت خیز لمحوں کے خیال سے شاعر کے ہاتھوں کی انگلیوں پر کپکپاہٹ طاری ہونے لگی مگر ساتھ ہی بار بار اسے یہ خیال بھی آرہا تھا کہ اس عورت کا یہ دلکش سراپا نہ جانے کتنے مردوں سے وصال پذیر ہوچکا تھا۔ اسے ان شاعروں سے شدید حسد بھی ہورہا تھا جو اس سے پہلے اس عورت کا قرب حاصل کرچکے تھے جبکہ کسی نادیدہ مخلوق کی موجودگی کا احساس بھی وسوسے بن کر اس کی پسلیوں میں کینچئوں کی طرح رینگ رہا تھا۔۔۔ اسے اب تک یقین نہیں آرہا تھا کہ کوئی اجنبی عورت اس پر اس قدر مہربان کیوں کر ہوسکتی ہے؟

میں تمہیں کئی برسوں سے جانتی ہوں، بہت سے مشاعروں میں سنا ہے۔ اچھے خاصے خوش شکل آدمی ہو اور شاعری بھی اچھی ہے تمہاری۔۔،،

اس نے کہا اور ساتھ ہی اپنے بدن کو اس ریشمی پوشاک کی قید سے آزاد کردیا۔

کمرے میں پھیلی نیلگوں روشنی میں اس کا برہنہ بدن آنکھوں کو خیرہ کیے دے رہا تھا۔ مگر شاعر کا دھیان اس وقت اُس کے بدن سے زیادہ اس پراسرار صورتحال پر تھا جس سے وہ آج سے پہلے کبھی دوچار نہیں ہوا تھا، اس کے سر میں خیالات کا اژدھام تھا جو اسے کسی ایک بات پر توجہ مرکوز نہیں کرنے دیتا تھا۔ پلنگ کی بائیں طرف غالباً واش روم تھا جس کا دروازہ پوری طرح سے بند نہیں ہُوا تھا اور اندر پھیلی سفید روشنی کی ایک مہین لکیر دروازے کی جھری سے نکل کے کمرے کی گاڑھی نیلمیں روشنی میں مدغم ہورہی تھی۔ اسے لگا کہ اندر کوئی ہے جو چُھپ کر اسے دیکھ رہا ہے۔۔۔

تو رابطہ کیوں نہ کیا مجھ سے،، اس نے انگلیاں چٹخاتے ہوئے اس سے پوچھا۔

مجھے بس آج کی رات کا انتظار تھا، اس لیے پہلے تم سے رابطہ نہیں کیا۔

آج کی رات۔۔۔؟ شاعر کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں ایک سرد لہر دوڑتی محسوس ہوئی۔

کیا خاص بات ہے آج کی رات میں؟ اس کی آواز میں تجسس اور سراسیمگی کی ملی جُلی کیفیت تھی۔

ارے تمہیں نہیں پتہ، آج فُل بلیو مُون نائٹ ہے۔ سو سال میں ایک بار آتی ہے یہ رات۔۔ اس نے مسرت آمیز لہجے میں کہا اور دونوں ہاتھوں سے اپنے بال سنوارنے لگی۔

پلنگ کے سرہانے بڑی سے کھڑکی تھی جس کے دونوں پٹ باہر کی طرف کھلتے تھے۔

آئو تمہیں دِکھاتی ہوں،،

عورت نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔ اس کے گرم اور ملائم ہاتھوں میں شاعر کو اپنا ہاتھ بے حد ٹھنڈا محسوس ہُوا۔ وہ عورتوں میں بہت زیادہ دلچسپی لینے کے باوجود اپنی بیوی کے علاوہ کبھی کسی عورت کے اتنا قریب نہیں ہوسکا تھا جبکہ اس کی سرد مزاج بیوی نے کبھی بیڈروممیں اتنی گرم جوشی اور بے باکی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔

اس نے آگے بڑھ کر کھڑکی کھولی اور نیچے جھانکنے لگی۔ وہ بھی اس کے قریب ہُوا اور کھڑکی میں منہ ڈال کر نیچے دیکھنے لگا۔ وہاں کوئی ذی روح سانس لیتا نظر نہیں آتا تھا۔ نیچے، بہت دور تک سناٹا پھیلا تھا۔۔۔ اس نے سر اٹھا کر سامنے دیکھا جہاں کھُلا آسمان تھا اور اس پر ایک بڑا سا، نیلا چاند بیٹھا تھا۔ اس نے اتنا بڑا اور نیلا چاند اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔ وہ محویت سے اسے دیکھتا رہا۔۔ سناٹے کے سِوا وہاں کوئی آواز نہیں تھی۔۔۔

عورت کے ملائم بدن کی حدت اسے اپنے بدن میں اترتی محسوس ہورہی تھی۔

میں نے بہت سال پہلے تمہیں ایک مشاعرے میں دیکھا تھا۔ پھر میں کافی عرصہ سوچتی رہی کہ تم سے ملوں، مگر کوئی نظام نہیں بن رہا تھا، پھر مجھے اس بلیو مُون نائٹ کا خیال آیا کیونکہ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ کچھ عرصے میںیہ رات آنے والی ہے تو میں نے ہماری پہلی ملاقات کو یادگار بنانے کے لیے آج کی رات کا انتخاب کیا۔ اچھا لگا نہ تمہیں؟

عورت نے پیار سے اپنا گال اس کے شانے سے رگڑا، اس کی گرم سانسیں شاعر کو اپنے کان سے ہو کر دماغ میں اترتی محسوس ہورہی تھیں۔

واش روم سے ہو کے آتی ہوں،، عورت نے کہا اور پلنگ سے اتر کر واش روم کی طرف بڑھ گئی۔ وہ کھنکھیوں سے اسے جاتے ہوئے دیکھنے لگا۔ کمرے کی نیلگوں روشنی میں اس کا سراپا بہت فسوں خیز محسوس ہوتا تھا، مگر شاعر کے دماغ میں بے ہنگم خیالات کا اژدھام تھا جو اسے اس عورت کے وجود پر دھیان مرکوز نہیں کرنے دیتا تھا۔

پھر اس کا سر بلاارادہ ہی بائیں جانب گھوما جہاں ایک پتلی اور لمبی عمارت کھڑی تھی جس کا چہرہ دوسری جانب تھا۔۔ چاند کی نیلگوں روشنی میں اس کا اُجلا رنگ چمکتا تھا اور اس پر کوئی خاکہ سا بنا ہُوا تھا۔۔۔ جیسے تنی ہوئی رسی پر کسی کو پھانسی دے کر لٹکا دیا گیا ہو۔۔۔ شاعر کا سانس اس کے کانوں میں سائیں سائیں کرنے لگا۔۔ وہ ایک لمحے کو بھول گیا کہ وہ کسی اجنبی عورت کے گھر میں تھا جو ضرورت سے زیادہ مہربان لگ رہی تھی۔

اس نے غور کِیا۔۔ وہاں کوئی تھا جس کے گلے میں پھندا تھا اور وہ ہوا میں تنی رسی کے ساتھ لٹکا ہُوا، جھول رہا تھا۔۔۔ مگر وہ جھول کب رہا تھا کہ ہوا تو سانسیں روکے کھڑی تھی اور سب کچھ ساکت و جامد دکھائی دیتا تھا۔۔۔ چاند کی نیلی روشنی میں چمکتی عمارت پر پھانسی کے پھندے میں جھولتے بھالو کی ایک تصویر سی بنی ہوئی تھی اور ہر طرف ایک نیلگوں فسوں سازی چھائی ہوئی تھی۔۔

شاعر کھڑکی میں کہنیاں ٹکا کر انتہائی حد تک گردن باہر نکالے سارے منظر کو دیکھ رہا تھا۔ اتنا بڑا اور نیلا روشن چاند اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔ اتنی بلندی سے نیچے جھانکنے اور قریبی عمارت کی دیوار پر پھندے میں لٹکے جسم کا عکس دیکھنے سے اس کے اندر کئی طرح کے خدشے سر اٹھانے لگے تھے۔۔ اس نے دائیں بائیں جھانک کر دیکھنے کی کوشش کی مگر بھالو کی پھانسی والا اصل منظر کہیں نہیں تھا، صرف دیوار پر اس کا عکس دکھائی دیتا تھا، رات کے اس پہر موسم قدرے سرد تھا مگر شاعر کی کنپٹیوں پر پسینے کی لکیریں رینگنے لگی تھیں۔

اچانک اسے زور کا جھٹکا لگا جیسے کسی نے اسے پیچھے سے دھکا دیا ہو۔ اس کے بدن میں ایک جھرجھری سی دوڑ گئی، اس نے گھبرا کر کھڑکی کی چوکھٹ پر اپنی گرفت مضبوط کی اور فوراً پیچھے مُڑ کر دیکھا۔

وہ ذرا فاصلے پر بالکل برہنہ کھڑی سنگھار میز کے آئنے میں خود کو دیکھ رہی تھی، اس کے ریشمی بال اس کے سڈول کاندھوں اور سینے کے ابھاروں پر بکھرے ہوئے تھے اور اس کے بھاری بھرکم برہنہ کولہے روشن سیاروں کی طرح چمک رہے تھے، گندم کی ڈھیری جیسا سنہری پیٹ اسے اپنی طرف بلاتا تھا مگر وہ خود کو بے لباسی کی اس حالت میں آئینے میں دیکھنے سے کترارہا تھا۔ وہ پلٹے بنا آئنے میں شاعر کو دیکھتی رہی۔۔ جس کے سینے میں اتھل پتھل ہورہی تھی اور آنکھوں کے آگے کوئی پُراسرار فلم چل رہی تھی۔ اسے لگا جیسے عورت کے رشمی بدن پر کئی مردوں کے کھردرے ہاتھ چپکے ہوئے ہیں۔

اس نے عورت کے سراپے سے نظر ہٹائی اور بلا ارادہ ہی پھر سے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔۔۔۔

ایک سرد اور مشینی سی  آواز شاعر کے کان کے قریب سرسرائی۔

کیا ہوا؟ ڈرگئے کیا۔۔۔ میرے شاعر؟

نئیں۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔ مم۔۔۔ میں۔۔۔،،

شاعر جواب میں ہکلا کر رہ گیا، اسے لگا کہ اس کے پاس کہنے کے لیے کوئی بات نہیں تھی۔ پسینہ اس کی کنپٹیوں سے ہوتا ہوا گردن پر پھسلنے لگا اور دل ایسے زور زور سے دھڑک رہا تھا جیسے کوئی مکوں سے دروازے کو پیٹ رہا ہو۔

وہ شاعر کا حواس باختہ چہرہ دیکھ کر کھلکھلا کر ہنسی اور ایک ہاتھ سے شاعر کو ایک طرف ہٹا کر کھڑکی میں جھک گئی۔ شاعر کو اس کے ہاتھ ضرورت سے زیادہ بڑے لگے۔ اسے لگا کہ وہ ان ہاتھوں میں شاعر کے پورے وجود کو قید کر لے گی۔

کچھ بھی تو نہیں ہے یہاں۔۔۔،،

اس نے پلٹ کر شاعر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور آگے بڑھ کر ایک دیوار پر لگا بٹن دبایا۔ کمرے کی نیلمیں فضا پر سفید دودھیا روشنی حاوی ہوگئی۔۔

شاعر کو اس لمحے اس کی آنکھیں بہت غیرمعمولی محسوس ہوئیں مگر وہ اس بات پر دھیان نہ دے سکا کہ کمرے میں روشنی کے ہوتے ہی باہر تاریکی چھاگئی تھی۔

آئو، آئو ڈر کیوں رہے ہو، دیکھو کوئی بھی تو نہیں ہے یہاں،،

عورت نے کھڑکی کی طرف اشارہ کیا۔ شاعر کی ہتھیلیوں میں چیونٹیاں سرسرارہی تھیں، اس نے قدم آگے بڑھائے اور ڈرتے ڈرتے باہر جھانکا۔۔۔ سامنے وہی کھلا منظر تھا جس میں نیم سوئے، نیم جاگے شہر کا ایک بڑا حصہ دکھائی دیتا تھا جو اب تاریکی میں ڈوب چکا تھا، شاید سامنے والے علاقے کی لائٹ چلی گئی تھی۔ مگر اس کے سامنے اس وقت نہ تو وہ لمبی عمارت تھی اور نہ اس کی دیوار پر پھانسی زدہ بھالو کا خاکہ تھا۔ سامنے کھلے آسمان پر وہی نیلا اور بڑا سا روشن چاند تھا جس کی ٹھنڈی اور خوابیدہ نیلی چاندنی سارے میں پھیل رہی تھی۔ شاعر حیرت زدہ سا سب کچھ دیکھتا رہا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ نیلا چاند اس سے کچھ کہنا چاہتا ہے مگر اس حواس باختہ شاعر کو اس سمے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا۔

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

April 2024
M T W T F S S
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
2930