کہاں گیا میرا بچپن خراب کر کے مجھے ۔۔۔ شہناز پروین سحر

کہاں گیا میرا بچپن خراب کر کے مجھے

( شہناز پروین سحر )
۔
احباب کا اصرار تھا کہ کچھ ایسا لکھوں جو خوشگوار ہو اور پڑھ کر ہنسی آئے ۔۔۔
میرے قلم کے پاس بیتے وقتوں کچھ تصو یریں ہیں مجھے نہیں معلوم کہ یادیں ہنساتی ہیں یا رلاتی ہیں ۔۔۔ البتہ میں یہ سب ہنسانے کے لیئے لکھ رہی ہوں ۔۔۔ اور اس شرط پر ۔۔۔ کہ دوستوں کا یہ دعوٰی تھا کہ اس بار اگر میں لکھوں گی تو وہ ضرور ہنسیں گے ۔۔۔ اور اس ضمن میں انہوں نے کچھ ایڈوانس قہقہے بھی ریکارڈ کروا دیئے تھے ۔۔ جن کی ذمہ داری نیں نے اِس تحریر کے کھاتے میں ڈال دی ہے اب کل کس نے دیکھا ہے ہو سکتا ہے میں ہنستے ہنستے خود رو پڑوں ۔۔۔۔
لکھنے بیٹھی تو سوچا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں نہ پانچ منٹ تک کا ایک نان سٹاپ قہقہہ لکھ دیا جائے ۔۔۔ ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا
چاہے جتنے مرضی صفحات پر مشتمل ہو ۔۔ لیکن جلد ہی ایک شعر یاد آگیا۔۔۔
نہ جانے رات کیا کیا غم دکھائے
میں دن بھر بے سبب ہنستا رہا ہوں
اس شعر کے یاد اتے ہی اس پانچ منٹی قہقہے سے تائب ہونا پڑا ۔
اب سوچا ہے بچپن کے کچھ جھمیلے تحریر کر دوں میری بلا سے کوئی ہنسے
یا روئے ۔۔۔
رونے یا نہ مسکرانے کی صورت میں اتنا یاد رکھیئے کہ اس تحریر کو لکھنے سے پیشتر ہی یہ ایک فکاہیہ تحریر تسلیم کیا جا چکی ہے ۔ یعنی کہ فکاہی جملہ حقوق بحق ِ تحریر محفوظ ہیں ۔۔۔ کسی بھی قسم کے اعتراض کی صورت میں مصنفہ خفا ہو سکتی ہے اور پھر مزید کبھی بھی ، کہیں بھی ، نثر کے طور پر ، ایک تو کیا ،آدھ یا پون لفظ تک لکھنے کا ارادہ نہیں رکھتی ۔۔ اور یہ کہ پھر وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے واپس اپنی شاعری کے پاس لوٹ جائے گی اور پھر اپنی بقیہ زندگی کے دن اسی کے ساتھ گذار لے گی وغیرہ ۔
قصہ یوں ہے کہ میں بچپن میں ماں کو بہت کھپاتی تھی ۔۔
وہ بار بار نہانے کا پانی گرم کرتیں میں بار بار بھاگ جاتی۔۔ پھر تلاشِ بسیار کے بعد جب میں اُن کے ہاتھ آتی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر … چھوڑیئے اس بات کو ۔۔۔
ایک دن ۔۔۔۔۔
حسبِ عادت نہانے کا پانی گرم کر کے وہ مجھے آوازیں دے رہی تھیں ۔۔۔ جیسے ہی نہانے کی خبر ِ وحشت اثر میرے کان میں پڑی میں بھاگم بھاگ پڑوس میں اپنی ایک سہیلی کے گھر پہنچ گئی ۔۔
ماں بھی میری ہی ماں تھیں آخر ۔۔۔ میرا پیچھا کرتی میری جائے فرار پر پہنچ گئیں ۔۔۔
جب وہ دروازہ کھٹکھٹا رہی تھیں تو میں نے وہاں موجود لوگوں کو سمجھایا کہ دروازہ مت کھولنا ۔۔۔ کیوں کہ میں احتیاطا” اندر آتے ہوئے کنڈی لگا کر آئی تھی ۔۔۔ لیکن پھر بھی دروازہ کھول دیا گیا ۔۔۔
جب وہ وہاں آئیں ، تو میں نے کمرے میں موجود لوگوں کو کہا کہ میری امی کو نہ بتانا کہ میں یہاں ہوں اور ان کے پلنگ کے نیچے گھس کر چھُپ گئی ۔۔۔ امی آئیں ۔۔۔
“کہاں گئی یہ؟”
انہوں نے نامناسب عزائم کے ساتھ وہاں پڑا ہوا ہاتھ سے جھلنے والا پنکھا اُلٹا پکڑ لیا
ان سے کہا گیا
“نہیں یہاں تو نہیں آئی”
لیکن یہ کہنے کے بعد میری جائے وقوع بھی اشارے سے بتا دی گئی ۔۔۔ ماں نے پلنگ کے نیچے جھانکا اور اُلٹے پنکھے کی ڈنڈی دکھا کر میری پٹائی کا ارادہ ظاہر کیا ۔۔۔ اور باہر نکلنے کا اشارہ کیا
“نکلو باہر” ۔۔۔
اب مجھے باہر آنا پڑا ۔۔۔ ماں نے پنکھا تو وہیں پھینک دیا لیکن دو میں سے میری ایک چوٹی کو پکڑا بلکل ایسے ۔۔۔۔۔ جیسے بکرے کو قصائی اس کے ایک کان سے کھینچ کر قربانی کے لیئے لے کر جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔
وہ مجھے یونہی کھینچتے ہوئے ان کی سیڑھیوں تک لے آئیں ۔۔۔
“نئیں اماں بازار میں نئیں ۔۔۔ لوگ دیکھ لیں گے ۔۔۔ چوٹی نہ کھینچو اماں ۔۔۔”
کوئی قبولیت کی گھڑی تھی کہ انہوں میری درخواست مان لی اور میں کافی شریف بچیوں کی طرح ان کے ساتھ اپنے گھر تک پہنچ گئی ۔۔۔۔۔
بس پھر ۔۔۔۔
میرے تمام کام نمٹا ئے گئے ، جن میں میری دھلائی کے بعد کنگھی اور کھینچ کھینچ کر کسی ہوئی دو چوٹیاں گوندھنا بھی شامل تھا ۔۔ ان حالات میں میری پٹائی مسلسل شامل کار رہی ۔۔۔۔ کیوں کہ میں نظر بچا کر ہر بار اُٹھ بھاگتی تھی ۔۔ اور ہر بار ماں مجھے پھر سے گھیر لیتی تھیں ۔۔۔
پھرماں نے اپنی صاف ستھری بچی کو پلیٹ میں ڈال کر کھانے کے لیئے چینی اور دودھ ملے چاول دیئے ۔۔۔
وہ چاول لیکر میں اندر کمرے میں آئی اور دھلے ہوئے ٹھنڈے فرش پر پلیٹ رکھ کر وہیں زمین پر بیٹھ گئی اور چاول کھانے شروع کر دیئے ۔۔۔ میرے ساتھ کھانا کھانے اکثر ہماری پالتو بلی بھی آ جاتی اور ایک چمچ میں خود کھاتی اور ایک اس کے سامنے زمین پر ڈال دیتی جسے وہ مجھ سے پہلے چٹ کر جاتی ۔۔ اب جو اپنا چمچ ختم کر کے دیکھتی ہوں تو بلی کی جلد بازیاں اپنے عروج پر ۔۔۔۔ وہ اپنا چمچ ختم کر کے میری پلیٹ میں کھا رہی تھی ۔۔ میں نے کھٹاک سے وہی چمچ اس کے سر پہ مارا وہ پیچھے ہو کر بیٹھ گئی ۔۔ تو انصاف سے میں نے اس کے حصے کا چمچ بھر کے زمین پر ڈالا اور اگلا چمچ سیدھا اپنے منہہ میں ۔۔ جانے کیسے یہ منظر ماں نے دیکھ لیا ۔۔۔ اب میں ہر بار نہیں بتاؤں گی کہ پھر کیا ہوا ۔۔۔۔
بس ماں نے میری چاولوں کی پلیٹ چھین کر مجھے دوسرا کھانا دیا اور اب مجھے زمین کے بجائے چارپائی پر مرنے کا حکم صادر کیا ۔
فارغ ہونے کے بعد ماں تھک ہار کر سر پکڑ کے ہانپتی ہوئی بیٹھ جاتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
پڑوس سے لتا کے گیت کی آواز آ تی ۔
“مٹی سے کھیلتے ہو بار بار کس لیئے ۔۔”
“یہ تجھے ہی کہہ رہی ہے شیطان کی خالہ ۔۔۔”
ماں گانے کی تشریح کرتیں
“خبردار جو اب مٹی میں گُھسی ۔۔”
اور پھر میری وہ ٹوٹی پھٹی اکلوتی گُڑیا ۔۔ جو امی نے بنا کر اور سی کر دی تھی اور میری نادانیوں کی وجہ سے روز اس پر کچھ نہ کچھ مرمت کا کام ان کو کرنا پڑتا تھا
” ٹوٹے ہوئے کھلونوں سے پیار کس لیئے ۔۔۔”
ہو گا کسی اور کے لیئے یہ رنج اور درد میں ڈھلا گیت لیکن میں تو جب بھی لتا کا یہ گیت سنتی ہوں ، تو اپنا بچپن بھی ساتھ میں سنتی ہوں ۔
میری سکول ٹیچر کی اکثر عادتیں میری ماں پر ہی گئی تھیں
“تختی کدھر ہے تمہاری ۔۔”
“وہ تو آج میرے ابو نے دھوئی ہی نہیں تھی ”
تختی چھپانے کے لیئے بنچ پر رکھ کر میں اس کے اوپر بیٹھ جایا کرتی تھی کہ نہ تختی ٹیچر کو نظر آئے گی اور نہ مجھے لکھنی پڑے گی ۔
“تم خود کیوں نہیں دھوتیں اپنی تختی ؟ ”
“وہ تو میرے ابو مجھے کل کو سکھا دیں گے”
اس تمام جوکھم کے بعد بھی تختی تو لکھنی ہی پڑتی تھی ۔۔ دوسری لڑکیاں بتا جو دیتی تھیں ۔
” یہ رہی تختی یہ اپنی تختی کے اوپر بیٹھی ہوئی ہے”
کاہنے کا قلم ،دوات ،کالی روشنائی اور تختی سے زیادہ میرے ہاتھوں اور چہرے کالے گُچ پھول بوٹے ۔۔۔
ہاں ابو بہت پیار سے لکھواتے تھے ۔۔۔۔
“یوں ترچھا قط کاٹتے ہیں قلم کا”
“نون کی گولائی کتنی لائن سے اوپر”
“کتنی لائن سے نیچے ۔۔”
“اور ب کی لمبائی عین لائن کے اوپر ۔۔”
پھر ابو امی سے کہتے
” دیکھو ذرا ہماری بچی کتنا خوش خط لکھتی ہے ”
“ہاں ہاں دیکھے ہیں سب چڑیاں طوطے جو یہ تختی پر بناتی ہے”
ماں کو تو میری لکھائی کی کچھ بھی قدر نہ تھی ۔
اُدھر سکول کی استانی بھی کمال طالم تھیں ۔۔ میرے بستے میں سے کچی امبیاں نکال کر چپراسی سے پھنکوا دیا کرتی تھیں ۔۔ بستے میں پڑی گیند ٹہنیں ، کودنے کی رسی سے انہیں خدا واسطے کا بیر تھا۔
بریک کے وقت امی خود سکول آ کر مجھے تازہ کھانا کھلا کر جاتیں
“اور کسی بچی کی ماں کھانا کھلانے نہیں آتی امی”
” لڑکیاں چھیڑیں گی مجھے آپ جائیں نا ۔۔ ”
لیکن امی میری سہیلیوں کے منہہ میں بھی لقمے ڈالتی جاتیں اور مجھے بھی کھلاتیں ۔۔۔
گھر میں ایک استاد مجھے ریاضی پڑھانے کے لیئے بلائے گئے
سوال سمجھانے کے بعد وہ رف کاپی سے صفحات پھاڑ کے نیچے گلی میں پھینک جاتے تھے
“سمجھ میں آ گئے سارے سوال ؟
“جی آ گئے”
“اب یہی سوال تم خود کر کے رکھنا”
“جی اچھا ”
میں ان کے گھر سے نکلتے ہی گلی سے وہ پھٹے ہوئے کاغذ اٹھا کے لاتی ۔ دوبارہ سے جوڑتی اور یوں ہوم ورک مکمل ہو جاتا ۔
اتنی محنت کے باوجود ریاضی سے میری کبھی دوستی نہیں ہوئی ۔۔۔
لیکن
کھیل کود سے بہت دوستی تھی میری ۔۔۔۔۔
اپنے گھر کے اُس دھلے ہوئے ٹھنڈے ٹھنڈے میٹھے اور پیارے فرش پر دونوں بازو پھیلائے گنتی کرتے ہوئے، کتنی کتنی دیر میں گول گول گھومتی چلی جاتی ،
یہ گنتی گھومنے کی مدت کو ماپنے کا ایک پیمانہ تھی ۔۔ پھولی ہوئی سانسوں میں گنتی اٹک اٹک جاتی، گھومتے گھومتے خوب سارے چکر آتے ۔ نڈھال ہو کر سیدھی گر جاتی ، اور فرش پر لیٹ کرگول گول گھومتی ہوئی چھت کو دیکھنے کا مرحلہ شروع ہو جاتا ۔
پنکھا بائیں طرف اور چھت دائیں طرف گھومتے ۔۔۔۔ کیا مزے کا منظر ہوتا تھا ۔۔۔
رسی کودنا ۔۔ گیند کھیلنا ۔۔۔ ماں نے مجھے رسی سے جھولا باندھ کے دیا ہوا تھا ۔ میں اُس پر بیٹھ کر جی بھر کے جھولا جھولتی ۔۔
پھر محلے کی اور بھی لڑکیاں آ جاتیں
” نہیں ماں یہ لڑکی کالی ہے ۔۔”
میں اپنی ماں کے کان میں بتاتی ۔۔۔
“اس کو میرے جھولے پر مت بیٹھنے دینا میرے جھولے کی رسی کالی ہو جائے گی ”
اور ماں کا ایک تھبڑ مجھے کالے چٹے کی تفریق سے دور کر دیتا
“کون سکھاتا ہے تجھے یہ فرق ”
اور کچھ ہی دیر میں اُسی لڑکی کے گلے میں بازو ڈال کر میں
” ہم آتے ہیں جی آتے ہیں” ۔۔۔۔ کھیل رہی ہوتی تھی ۔۔
ہم گڑیا کی شادی کرتے ۔۔۔ ماں بھی ہمارے ساتھ مل کر کھیلتی تھی ۔۔۔
ہم اتنی ساری بچیاں ماں سے پوچھ پوچھ کر چھوٹی سی دیگچی میں ہنڈ کُلیا پکاتی تھیں ۔۔۔ میٹھے چاول ۔۔۔۔ اور اس کھانے کے بہت مُنے مُنے سے حصے بنا کر سب بچیاں بانٹ کر کھا لیتی تھیں ۔۔۔۔۔
مین اپنی گڑیا کو کبھی رخصت نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔
لیکن گڑیوں کو رخصت ہونا ہی پڑتا ہے ۔۔۔ وہ کپڑے کی گڑیا ہو ، میرے بابا کی لاڈلی ہو ، یا میری اپنی لاڈلی ۔۔۔
سب کی سب پرائی ہیں ۔۔۔۔۔
رخصت ہوجاتی ہیں ۔۔۔
ابو امی سے کہانیاں سننے کا بہت شوق تھا مجھے ۔۔۔
سردیوں کی راتوں میں ہم تینوں لحاف میں بیٹھ کر خوب مزے مزے کی کہانیاں سنتے اور سناتے تھے ۔۔ امی کچھ مونگ پھلیاں چھیل کر ریوڑیوں کے ساتھ اکٹھی میرے مئنہ میں ڈال دیتیں ، بہت مزہ آتا تھا ۔۔ کبھی چلغوزے کھاتے تو وہ بھی اکٹھے سارے چھیل کر مجھے کھلاتیں ۔۔۔ ایک ایک چلغوزہ چھیل کر وہ میرے لیئے جمع کرتی جاتیں ۔
اور وہ چلغوزے دار کہانیاں سنتے سنتے میں سو جایا کرتی تھی ۔۔۔
لیکن آج ۔۔۔۔
میرے امی ابو کہانیاں سناتے سناتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خود ہی سو گئے ہیں ۔
اب ۔۔۔۔۔۔۔
میرے بچے ۔۔۔ مجھ سے کہانیاں نہیں سنتے
کیونکہ آئی پیڈ ، موبائیل ِلیپ ٹاپ کے آگے میری کہانیاں بے رنگ اور پھیکی ہیں
وہ سب کچھ کہیں بہت پیچھے چھوٹ گیا ہے ۔۔۔۔۔
وہ سب کچھ وقعت رکھتا ہے تو ۔۔۔۔۔
شاید صرف اور صرف میری زندگی تک ۔۔۔
آج ۔۔۔۔۔۔۔
جب مُڑ کے دیکھتی ہوں تو سب کچھ ایک فلم کی طرح دکھائی دینے لگتا ہے ۔۔
وہ وقت کیسا بھلا تھا ۔۔۔ معصومیت میں ڈوبا ہوا ۔۔۔
لیکن ۔۔۔۔۔۔ انسان کے ساتھ شاید اس کی یادیں بھی مر جاتی ہیں ۔
کیا میرے بعد ۔۔۔ میری یادوں کو ۔۔۔۔۔۔ کوئی پلٹ کر نہیں دیکھے گا ۔
کیا سب کچھ کسی دبیز دھند میں تحلیل ہو جائے گا ۔۔۔۔
وہ سب ۔۔۔۔۔۔
جو وقت کے ساتھ ساتھ ۔۔۔۔۔
مدھم سے مدھم تر ہو رہا ہے ۔۔۔ کسی گم نام اندھیرے میں ڈوب جائے گا ۔ ؟
کیا واقعی ؟؟؟
ہماری کہانیاں بھی مر جائیں گی ۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: