فیصلہ ۔۔۔ شفا چودھری

فیصلہ

شفا چودھری

کچھ لمحے فیصلہ کن ہوتے ہیں، ہتھیلیوں پر فیصلے اگا جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک لمحہ اس کی ہتھیلی پر ایک فیصلہ اگا گیا تھا، جسے دیکھ کر چند نگاہوں سے لپکتے شعلے اس کے وجود کو جلائے دے رہے تھے۔

“ہائے ربا! نازلی یہ تجھے کیا سوجھی؟” اس کی سب سے گہری سہیلی نے سنا تو بھاگی چلی آئی۔ نازلی نے ایک زخمی نگاہ اس پر ڈال کر چپ سادھ لی۔ تکیے پر سر رکھا، دوپٹہ سر تا پا اوڑھا اور دوسری طرف کروٹ بدل لی۔ یہ عندیہ تھا کہ جاؤ بی بی! مجھے مت سمجھاؤ۔

“تو بڑی بے مروت ہو گئی ہے نازلی!” وہ غصے سے پاؤں پٹختے ہوئے کمرے سے نکل گئی۔

” صفیہ! رک! کیا ہوا کے گھوڑے پر سوار ہے۔ چائے تو پیتی جا۔” ذکیہ نے ہانک لگائی۔

“خالہ! اپنی بیٹی کو پلا گرم گرم چائے تاکہ اس کا دماغ کھلے۔” وہ دہلیز پار کر گئی۔

شام میں ذکیہ کی سب سے گہری سہیلی آئی۔

“ارے میں کیا سنتی ہوں ذکیہ! تیری بیٹی پر جن تو نہیں آ گئے؟ کوئی دم درود کرا!” اس نے ناک پر حیرانی سے انگلی رکھ کر یوں اس کا جائزہ لیا جیسے وہ دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہو۔ محلے کی کئی بڑی بوڑھیوں نے باری باری چکر لگائے اور اسپے سمجھاتی رہیں لیکن وہ تو یوں خاموش بیٹھی تھی جیسے کس نے سحر پھونک کر اسے ایک ہی جگہ ساکت کر دیا ہو۔ ذکیہ کا سارا دن باورچی خانے میں چائے، شربت بناتے ہی گزر گیا۔

“ہم سے نہیں سمجھنے کی تمہاری بیٹی!” سہیلی نے برقعہ اوڑھا اور کانوں کو ہاتھ لگاتی باہر نکل گئی۔

“خدا کے لیے اماں! ان سب سے کہیں میرا پیچھا چھوڑ دیں۔ میں تھک چکی ہوں بہت!” اس نے مدد طلب نظروں سے ماں کی جانب دیکھا۔

“ایک بار پھر سے سوچ لے دھی رانی! بہت مشکل فیصلہ ہے۔” ذکیہ اس کے پاس پلنگ پر بیٹھ گئی۔

“اماں تو بھی؟” وہ سسکی۔

“میں بھی مجبور ہوں، تو جانتی ہے۔”

“بڑا مشکل فیصلہ تھا، ہو گیا، اب نہ مجبور کر۔” آنسو اس کے گالوں پر لکیریں بناتے ماں کے آنچل میں جذب ہوتے رہے۔

اسے علم تھا کہ طوفان تو اٹھے گا اور اپنے ساتھ بہت کچھ اڑا کر لے جائے گا۔ اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ اسے تنہا کرنا پڑا تھا۔ ایسے تغیرات سے نمٹ لیا جاتا ہے اگر گھر کی چار دیواری مضبوط ہو ورنہ تنکوں کی کیا اوقات جو ایسے طوفانوں کے سامنے ٹھہر جائیں۔ اسے علم تھا کہ مخالفت ہو گی لیکن وہ اپنے فیصلے پر جم گئی تھی۔

“اماں! تو بات کر اس سے! ضد چھوڑ دے۔” ساتھ والے کمرے سے آتی آواز اتنی مدھم نہیں تھی جو اس کے کانوں کی دسترس سے دور رہتی یا ہو سکتا ہے اسے سنانا ہی مطلوب تھا۔ اسے اپنا وجود تنکے سے بھی زیادہ ہلکا محسوس ہونے لگا تھا۔

اس نے کمرے کی دیواروں پر کھنچی آڑی ترچھی لکیروں میں چھپے پھن پھیلائے ناگ اپنی جانب لپکتے دیکھے تو دہل کر آنکھیں میچ لیں۔

اگلی صبح اس کی آنکھ آوازوں کے شور سے کھلی۔

“بس آج ہم تاریخ لے کر ہی جائیں گے۔” پھوپھی لال بھبھوکا چہرہ لیے اماں کے سامنے تن کر کھڑی تھیں۔

“بیٹھ جائیں ہم بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔ آپ اندر آئیں۔” اماں نے ان کا ہاتھ پکڑ کر کمرے میں لے جانا چاہا۔

“اے چل ہٹ! اچھے سے جانتی ہوں تجھے، بیٹی کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ کہیں نین مٹکا کر لیا ہو گا اس نے اور تو پردے ڈال رہی ہے۔” پھوپھی نے اماں کو پیچھے دھکیلا اور وہیں برآمدے میں بچھی چارپائی پر بیٹھ گئیں۔

“ایسی بات نہیں ہے آپا! خدا کے لیے ایسی بات نہ کرو۔ زمرد غسل خانے میں ہے۔ سن لیا تو نازلی کی گردن اتار دے گا۔” اماں نے گھبرا کر غسل خانے کے بند دروازے کی جانب دیکھا۔

“ہاں چھپا تو اب! لیکن یاد رکھ میرے مرے ہوئے بھائی نے یہ رشتہ کیا تھا۔ میں نہیں ختم کرنے والی!” پھوپھی نے چادر کے پلو سے چہرے پر آیا پسینہ صاف کیا۔

“بس آپا مجھے ایک دن کا وقت دیں۔ امید ہے نازلی مان جائے گی۔” اماں نے ہاتھ جوڑے تو وہ بجلی کی سی سرعت سے کمرے سے باہر نکل آئی۔

“آج نہ کل نہ کبھی۔۔۔۔۔ مجھے مدثر سے شادی نہیں کرنی۔” اس نے ماں کے جڑے ہاتھ آہستگی سے کھول دیے اور انہیں کرسی پر بٹھایا۔

“ارے ارے اتنی لمبی زبان! بھئی عشق کے رنگ ہیں ورنہ تو کہاں وہ کبھی گردن نہ اٹھا سکنے والی نازلی اور کہاں یہ چنڈال۔”

“پھوپھی! میرے کردار پر بات کرنے والی آپ کون ہوتی ہیں؟ مجھے آپ کے بیٹے سے شادی نہیں کرنی تو نہیں کرنی۔” وہ غرائی۔

“تجھے تو میں بتاتا ہوں چل اندر دفعان ہو جا۔ تو جا پھوپھی اور اگلے مہینے کی پندرہ تاریخ کو لے جانا اسے!” زمرد نے اسے اندر دھکا دیا تو پھوپھی کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ ابھری۔

“ٹھیک ہے پتر ! اگلے ہفتے مدثر آ رہا ہے بحرین سے۔ میں پھر چکر لگاؤں گی۔ خیر سے میرا پتر پورے تین سال بعد پلٹ رہا ہے۔ اتنے سارے پیسے کمائے ہیں اس نے!” پھوپھی نے دانستہ آواز بلند کی تو اس کا جی چاہا کانوں میں انگلیاں ٹھونس لے۔

“تو چھوڑ دے ضد میری بچی!” رات پھر ذکیہ اس کے پاس آ بیٹھی۔

“اماں! وہ لوگ میری بات کیوں نہیں مان لیتے؟ اگر مجھ سے ہی شادی کرنی ہے تو مان لیں میری شرط! مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔” اس نے ماں کے ہاتھ تھامے۔

“کیسی باتیں کرتی ہے نازلی؟ وہ چھ سات سال سے ادھر ہے۔ کیسے لگی لگائی نوکری چھوڑ آئے؟”

“اماں! تو جانتی ہے جانے والے آنکھوں کو انتظار سونپ جاتے ہیں اور نگاہیں دہلیز سے لپٹی لپٹی منجمد ہو جاتی ہیں یا پھر۔۔۔ نہیں اماں!” کچھ یاد آنے پر اس نے جھرجھری لی ۔

“اس خوف کو دل سے نکال دے میری بچی! چند سالوں کی تو بات ہے۔”

“اور اگر میرا ضبط جواب دے گیا تو؟”

“مجھے معلوم ہے تو میری صابر بچی ہے۔” ذکیہ نے ایک آس سے اسے دیکھا۔

“بعض اوقات صبر آزمانا بہت مہنگا پڑتا ہے۔” وہ اپنی بات پر اڑ گئی۔

“وہ بھی تو ہے صفیہ تیری سہیلی! اسی کو دیکھ کیسے عیش کر رہی ہے۔ تین سال بعد اس کا شوھر آتا ہے اور پھر بھی وہ کیسی کھلی کھلی رہتی ہے۔” اماں کی نگاہوں کے سامنے صفیہ کا دلکش سراپا لہرایا۔

“اماں مجھے نہیں چاہیے ایسا عیش!” ضبط کے باوجود اس کی آواز بلند ہو گئی۔

“اماں! او اماں! اسے مت سمجھا، چار جماعتوں نے اس کا دماغ ساتویں آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ تو بس تیاری کر!” زمرد کی باہر سے آتی غصیلی آواز سن کر ذکیہ کا رنگ پیلا پڑ گیا۔

وہ ساری رات خود سے الجھتی خود کو مناتی رہی لیکن دل بغاوت پر آمادہ رہا۔

“کاش اس دن!” آگہی کی خاردار شاخوں نے اس کا سارا وجود زخمی کر دیا تھا۔ کانٹوں کے بستر پر نجانے کسے نیند آ جاتی ہے وہ سوچتی رہی اور کروٹیں بدلتی رہی۔

اگلے دن صفیہ اپنے دو سالہ بیٹے کے ساتھ اسے ملنے آئی تو اس نے پہلے والی گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

“آنٹی میری چاکلیٹ؟” بچے نے اپنا ننھا سا ہاتھ آگے کیا تو اس نے ایک نظر اس پر ڈال کر دراز سے چاکلیٹ نکال کر اس کی ہتھیلی پر دھر دی۔

“تمہارا وہ مولا جٹ کا جانشین بھائی تو گھر نہیں ہے نا؟” صفیہ نے ہمیشہ کی طرح کہا تو اس کی اس بات پر قہقہہ لگانے والی مسکرا بھی نہ پائی۔

“بھئی! مجھے بہت ڈر لگتا ہے۔” صفیہ ہمیشہ کی طرح صوفے پر پاؤں پسار کر بیٹھ گئی۔

“میں نے سنا ہے تیری شادی کی تاریخ طے ہو گئی۔ چل اب چھوڑ یہ سوگ اور اپنے پیارے پیارے ہاتھوں سے چائے پلا! بہت دن ہو گئے تمہارے ہاتھ کی چائے پیے ہوئے۔” صفیہ میز سے کتاب اٹھا کر ورق گردانی کرنے لگی تو وہ خاموشی سے اٹھ کر باورچی خانے میں آ گئی۔

“اپنے لیے نہیں لائیں؟ ہاں بھئی اب تم رنگ روپ کا بھی تو خیال رکھو گی!” صفیہ نے قہقہہ لگایا تو وہ بچے کو بغور دیکھتے ہوئے ایک دم ٹھٹک سی گئی۔

ہفتے بعد مدثر بحرین سے آ گیا تو پھوپھی ایک بار پھر سے آ دھمکیں۔

“نازلی! اپنا ناپ والا سوٹ شاپر میں ڈال دو۔” اماں اسے کہہ کر واپس پلٹ گئیں۔ وہ اسی طرح بیٹھی سبزی کاٹتی رہی۔

کچھ دیر کے بعد پھوپھی جانے سے پہلے اس کے پاس آئیں اسے گلے سے لگایا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

“یہ خوشی کا موقع ہے میری بچی روتے نہیں!” پھوپھی نے خود سے الگ کر کے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔

“میں مدثر سے شادی نہیں کر سکتی پھوپھی! مجھے معاف کر دیں۔” اس نے ہاتھ جوڑے۔

“دماغ خراب ہو گیا ہے تیرا! پھر وہی بات! ناپ کے کپڑے دو تاکہ میں تو جاؤں۔” شفقت کی جگہ غصے نے لے لی۔

“اماں ! مجھے بچا لیں میں میں۔۔” وہ بولتے بولتے چپ ہوئی۔

“وہ صفیہ بھی تو ۔۔”

“اماں خدا کے لیے خاموش ہو جائیں۔ میں صفیہ نہیں ہوں۔ میں صفیہ بننا بھی نہیں چاہتی۔”

“کس بات سے ڈرتی ہے میری بچی؟” اماں نے اسے سینے سے لگایا۔

کاش! میں وہ منظر نہ دیکھتی یا کم از کم وہ منظر دکھائی دینے سے قبل میری بصارت ہی اچک لی جاتی۔ کاش! اس دوپہر میں صفیہ کے گھر نہ جاتی۔” سوچتے ہوئے اس کا دل خراب ہونے لگا۔ وہ منظر ایک بار پھر سے اس کی نگاہوں کے سامنے گھوم گیا۔

اس دن ساون کی پہلی بارش ہوئی تھی۔ اس نے آلو پیاز کے پکوڑے بنائے تو سوچا صفیہ کو دے آئے۔ دونوں گھروں میں اکثر اس طرح کا لین دین ہوتا رہتا تھا۔

“اماں ! میں صفیہ کی طرف جا رہی ہوں۔” اس نے اماں کو مطلع کیا اور پکوڑوں کی پلیٹ تھامے باہر نکل آئی تھی۔

“دھیان سے جانا اس موسم میں سانپ بھی نکل آتے ہیں۔” وہ اماں کی بات سن کر مسکراتی ہوئی چلتی گئی تھی۔

صفیہ کے گھر سے واپسی پر اس کی سانسیں پھولی ہوئی تھیں۔ ہاتھ میں پکوڑوں کی پلیٹ ویسے کی ویسی ہی تھی۔

“نازلی! کیا ہوا تجھے؟” اماں کے گھبرا کر پوچھنے پر وہ فق چہرہ لیے

“وہ وہ دو سانپ!” بس اتنا ہی کہہ پائی تھی۔

وہ یادوں کی تلخی کی شدت سے چیخ اٹھی

“اماں! بس میں نہیں چاہتی کہ میرا شوہر دیار غیر میں محنت کرتا رہے اور میں یہاں کسی اور کی اولاد کو پالتی رہوں۔”

اس کی بات سن کر کمرے میں داخل ہوتے زمرد کے قدم زمین میں گڑ گئے۔

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

July 2024
M T W T F S S
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
293031