پھر یہ ہنگامہ ۔۔۔ سجاد ظہیر

پھریہ ہنگامہ

( سجاد ظہیر )

’’مذہب دراصل بڑی چیز ہے۔ تکلیف میں، مصیبت میں، ناکامی کے موقعہ پر، جب ہماری عقل کام نہیں کرتی اور ہمارے حواس مختل ہوتے ہیں، جب ہم ایک زخمی جانور کی طرح چاروں طرف ڈری ہوئی بے بسانہ نظریں دوڑاتے ہیں، اس وقت وہ کون سی طاقت ہے جو ہمارے ڈوبتے ہوئے دل کو سہارا دیتی ہے؟ مذہب! اور مذہب کی جڑ ایمان ہے۔ خوف اور ایمان۔ مذہب کی تعریف لفظوں میں نہیں کی جاسکتی۔ اسے ہم عقل کے زور سے نہیں سمجھ سکتے۔ یہ ایک اندرونی کیفیت ہے…‘‘

’’کیا کہا؟ اندورنی کیفیت؟‘‘

’’یہ کوئی ہنسنے کی بات نہیں، مذہب ایک آسمانی ضیا ہے جس کے پرتو میں ہم کائنات کا جلوہ دیکھتے ہیں۔ یہ ایک اندرونی…‘‘

’’خدا کے واسطے کچھ اور باتیں کیجیے، آپ کو اس وقت میری اندرونی کیفیت کا اندازہ نہیں معلوم ہوتا۔ میرے پیٹ میں سخت درد ہو رہا ہے اس وقت مجھے آسمانی ضیا کی ضرورت بالکل نہیں۔ مجھے جلاب…..‘‘

ایک بار رات کو میں ناول پڑھنے میں محو تھا کہ چپکے سے کوئی میرے کمرے میں داخل ہوا اور میرے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ میں نے جو آنکھ اٹھائی تو کیا دیکھا کہ میاں ابلیس کھڑے ہیں۔

میں نے کہا ’’ابلیس صاحب! اس وقت آخر آپ کی مراد میرے یہاں آنے سے کیا ہے، میں ایک بہت دلچسپ ناول پڑھنے میں مشغول ہوں، خواہ مخواہ آپ پھر چاہتے ہیں کہ میں کتاب بند کر کے آپ سے مذہبی بحث شروع کروں۔ میرے نزدیک ناول پڑھنا مذہبی باتوں میں سر کھپانے سے بہتر ہے۔ آپ نے جو میرے دل میں وسوسہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے میں ہر گز اس کا شکار نہیں ہونا چاہتا۔‘‘

میرے اس کہنے پر وہ ابلیس نما شخص مڑا اور کمرے کے باہر جانے لگا۔ اس طرح ایک فرشتے کے ساتھ برتاؤ کرنے پر میرا دل مجھے کچھ کچھ ملامت کرنے لگا ہی تھا کہ وہ شخص یکبارگی میری طرف پلٹا اور افسوس بھر ی آواز میں مجھ سے کہا:

’’میں ابلیس نہیں جبرئیل ہوں۔ میں تم پر اس کا الزام نہیں رکھا چاہتا کہ تم نے مجھے ابلیس کہا۔ ابلیس بھی آخر میرے ہی ایسا ایک فرشتہ ہے۔ تم تو کیا تم سے بڑے لوگوں نے اکثر مجھے ابلیس سمجھ کر گھر سے نکال دیا۔ پیمبروں تک سے یہ غلطی سرزد ہو چکی ہے۔ بات یہ ہے کہ میں اچھائی کا فرشتہ ہوں۔ میری صورت سے تقدس ٹپکتا ہے۔ اگر ابلیس کی طرح میں حسین ہوتا تو شاید لوگ مجھ سے اس طرح کا برتاؤ نہ کرتے۔ اور بھلا آپ یہ کیسے سمجھے کہ میں آپ سے مذہبی بحث کرنا چاہتا ہوں؟ مجھے بحث سے کوئی سروکار نہیں۔ ہر بحث چونکہ وہ عقل اور منطق پر مبنی ہوتی ہے شیطانی چیز ہے۔ مذہب کی جڑ ایمان ہے اگر تمہاری جڑ مضبوط ہے تو پھر خدا خود مذہبی بحث میں تمہارا ساتھ دیتا ہے اور جب مدد خدا شامل حال ہو تو پھر عقل سے کیا سروکار؟ مذہب دراصل بڑی اچھی چیز ہے…….‘‘

عقل اور ایمان، آسمان اور زمیں، انسان اور فرشتہ، خدا اور شیطان، میں کیا سوچ رہا ہوں؟ سوکھی ہوئی خشک زمین برسات میں بارش سے سیراب ہو جاتی ہے اور اس میں سے عجب طرح کی خوشگوار ، سوندھی خوشبو آنے لگتی ہے۔ قحط میں لوگ بھوکے مرتے ہیں۔ بوڑھے، بچے، جوان، عورت، مرد آنکھوں میں حلقے پڑے ہوئے، چہرے زرد، ہڈیاں، پسلیاں جھری پڑی ہوئی کھال کو چیر کر معلوم ہوتا ہے باہر نکلی پڑ رہی ہیں۔ بھوک کی تکلیف، ہیضہ کی بیماری، قے، دست، مکھیاں، موت کوئی لاشوں کو گاڑنے یا جلانے والا نہیں، لاشیں سڑ تی ہیں اور ان میں سے عجب طرح کی بد بو آنے لگتی ہے۔

ایک رئیس کے یہاں ایک ولائتی کتا پلا تھا۔ اس کا نام تھا شیرا۔ اس کے لیے روزانہ کا راتب مقرر تھا، اور وہ عام طور سے گھر کے احاطہ کے اندر ہی رہا کرتا تھا۔ کبھی کبھی بازاری کتیوں کے پیچھے البتہ بھاگتا تھا۔ جب وہ بڑا ہوا تب اس کی یہ عادت بھی بڑھی محلے میں اور جو دبلے، پتلے، بازاری کتے تھے وہ جب شیرا کو آتا دیکھتے تو اپنی کتیوں کو چھوڑ کر بھاگ جاتے اور دور سے کھڑے ہو کر شیرا پر بھونکتے۔ شیرا کتیوں کے ساتھ رہتا اور ان کتوں کی طرف رخ بھی نہ کرتا۔ تھوڑے دنوں کے بعد اتفاق ایسا ہوا کہ بڑا بھاری شیرا سے تقریباً دونے جسم کا بازاری کتا اس محلے میں کہیں سے آ گیا اور وہ شیرا سے لڑنے پر آمادہ ہو گیا۔ دو ایک دفعہ شیرا سے اور اس سے جھڑ پ بھی ہوئی۔ ایسے موقع پر کتیاں تو سب بھاگ جاتیں اور سارے بازاری کتے اپنے گروہ کے پیشوا کے ساتھ مل کر شیرا پر حملہ کرتے۔ رفتہ رفتہ شیرا کا اپنے گھر سے باہر نکلنا ہی نہ صرف بند ہو گیا بلکہ بازاری کتوں کا گروہ الٹے شیرا پر حملہ کرنے کے لیے اس کے احاطہ کے اندر آنے لگا۔ جب اس قسم کا حملہ ہوتا تو گھر میں کتوں کے بھونکنے کی وجہ سے کان پڑی آواز نہ سنائی دیتی۔ نوکر وغیرہ جو قریب ہوتے وہ شیرا کو چھوڑانے کے لیے لپکتے اور بڑی بری مشکلوں سے شیرا کو اس کے دشمنوں سے بچاتے۔ شیرا کئی کئی دفعہ زخمی ہوا اور اب گھر کے اندر چھپا بیٹھا رہتا۔ بازاری کتوں کی پوری فتح ہو گئی۔ ایک دن علی الصبح شیرا اپنے گھر کے احاطہ میں پھر رہا تھا کہ باہر والے کتوں کے گروہ نے بڑے کتے کی سرکردگی میں اس پر حملہ کیا۔ گھر میں سب سو رہے تھے۔ مگر غل اور شور اتنا ہوا کہ لوگ جاگ اٹھے۔ رئیس صاحب جن کا کتا تھا اندر سے باہر نکل پڑے اور اس ہنگامے کو دیکھ کر اپنی بندوق اٹھا لائے۔ انھوں نے بڑے بازاری کتے پر نشانہ لگا کر فایر کیا اور اس کا وہیں خاتمہ کر دیا، باقی کتے بھا گ گئے۔ شیرا زخمی شدہ اپنے مالک کے قدموں پر آکر لوٹنے لگا۔ کمینے، رذیل بازاری کتوں کی کمر ٹوٹ گئی۔ شریف، خاندانی، ولائتی کتا سلامت رہ گیا اور پھر اس طرح سے مزے کرنے لگا۔

انسانیت کسے کہتے ہیں؟

گومتی ہزاروں برس سے یوں ہی بہتی چلی جا رہی ہے۔ طغیانیاں آتی ہیں، آس پاس کی آبادی کو مٹا کر دریا پھر اسی رنگ سے آہستہ آہستہ بہنے لگتا ہے۔ دریا کے کنارے ایک جگہ ایک چھوٹا سا مندر ہے۔ اس مندر کی نیو معلوم ہوتا ہے بالو پر تھی۔ بالو کو دریا کے دھارے نے کاٹ دیا۔ مندر کا ایک حصہ جھک گیا۔ اب مقدر (مندر۔ خ۔ ع) ترچھا ہو گیا۔ مگر ابھی تک قایم ہے۔ تھوڑے دن بعد بالکل مسمار ہو جائے گا۔ تھوڑے دن تک کھنڈر کا نشان رہے گا۔ اس کے بعد مندر جہاں پہلے تھا وہاں سے دریا بہنے لگے گا۔

آج تیوہار ہے، نہان کا دن ہے۔ صبح سویرے سے دریا کے کنارے کے مندروں اور گھاٹوں پر بھیڑ ہے۔ لوگ منتر پڑھتے ہیں اور ڈبکیاں لیتے جاتے ہیں۔ دریا کا پانی میلا معلوم ہوتا ہے۔ لہروں پر گیندے اور گلاب کے پھولوں کی پنکھڑیاں اوپر نیچے ہوتی ہوئی بہتی چلی جا رہی ہیں۔ کہیں کہیں کناروں پر جا کر بہت سے پھول، پتیاں، چھوٹے چھوٹے لکڑی کے ٹکڑے پیے ہوئے سگریٹ، عورتوں کے کپڑوں سے گری ہوئی سنہری چمکیاں، مردہ مچھلی اور اسی قسم کی اور چیزیں اکٹھے ہو کر رک گئی ہیں۔

گومتی ندی، شیرا کتا، مردہ مچھلی، آسمان پر بہتے ہوئے بادل اور زمین پر سڑتی ہوئی لاشیں، ان پر رحمت خدا وندی اپنا سایہ کیے ہوئے ہے۔

کلو مہتر کے جوان لڑکے کو سانپ نے ڈس لیا۔ برسات کا موسم تھا، وہ صحن میں زمین پر سو رہا تھا۔ صبح ہوتے ہوئے، اس کی باتیں کہنی کے قریب سانپ نے کاٹا۔ اس کو خبر تک نہیں ہوئی۔ پانچ بجے صبح کو وہ اٹھا، بازو پر اس نے نشان دیکھے، خفیف سی تکلیف محسوس کی۔ اپنی ماں کو اس نے یہ نشان دکھائے اور یہ خیال کر کے کہ کسی کیڑے مکوڑے کے کاٹنے کا نشان ہے، وہ جھاڑو دینے میں مشغول ہو گیا۔ کلو مہتر اور اس کے سارے بیوی بچے ایک گھر میں نوکر تھے۔ ان کی پندرہ روپیہ مہینہ تنخواہ تھی، رہنے کے لیے شاگرد پیشہ میں ایک کوٹھری تھی جس میں کلو، اس کی بیوی، اس کی دو لڑکیاں اور اس کا لڑکا، سب کے سب رہتے تھے۔ پندرہ روپیہ مہینہ، ایک کوٹھری اور کبھی کبھی بچا ہوا جو ٹھا کھانا اور پھٹے پرانے کپڑے، کلو کو جن صاحب کے یہاں یہ سب کچھ ملتا تھا وہ ان کو خدا سے کم نہیں سمجھتا تھا۔ کلو کا لڑکا دس پندرہ منٹ سے زیادہ کام نہ کر سکا، اس کا سر گھومنے لگا اور اس کے بدن بھر میں سرسراہٹ محسوس ہونے لگی۔ چھ بجتے بجتے وہ پلنگ پر گر کر ایڑیاں رگڑنے لگا۔ اس کے منہ سے پھین نکلنے لگا، اس کی آنکھیں پتھرا گئیں۔ زہر اس کے رگ و پے میں سرائیت کر گیا اور موت نے اسے اپنے بیدرد شکنجے میں جکڑ لیا۔ اس کے ماں باپ نے رونا شروع کیا۔ سارے گھر میں خبر مشہور ہو گئی کہ کلو کے لڑکے کو سانپ نے ڈس لیا۔ سب نے دو اور من تجویز کیا۔ کلو کے آقا کے صاحبزادے بہت زیادہ غریب پرور اور رحم دل تھے۔ وہ خود کلو کی کوٹھری تک آئے اور کلو کے لڑکے کو خود انھوں نے اپنے ہاتھ سے چھوا اور دوا پلائی، مگر کلو کی اندھیری کوٹھری اتنی زیادہ گندی تھی اور اس میں اتنی بدبو تھی کہ صاحبزادے سے چار پانچ منٹ بھی نہ ٹھہرا گیا۔ رحم دلی اور غریب پروری کی آخر ایک انتہا ہوتی ہے۔ وہ واپس تشریف لاکر اچھی طرح نہائے، کپڑے بدل کر رومال میں عطر لگا کر سونگھا تب جاکر ان کی طبعتا درست ہوئی۔ رہا کلو کا لڑکا وہ بدنصیب ایک بجے کے قریب مر گیا۔ اس کوٹھری سے رونے پیٹنے کی آواز رات تک آتی رہی، جس کی وجہ سے سارے گھر میں اداسی چھا گئی۔ تجہیز و تکفین کے لیے کلو نے دس روپیے پیشگی لیے۔ رات کو آٹھ، نو بجے کے قریب کلو کے لڑکے کی لاش اٹھ گئی۔

حامد صاحب اپنی رشتہ کی بہن سلطانہ پر عاشق تھے۔ حامد صاحب نے سلطانہ بیگم کو صرف دور سے دیکھا ہے۔ ایک دو لفظوں کے علاوہ کبھی آپس میں ان سے دیر تک باتیں نہیں ہوئیں۔ مگر عشق کی بجلی کے لیے لفظوں کی گفتگو کی، جان پہچان کی کیا ضرورت؟ حامد صاحب دل ہی دل میں جلا کرتے، جھوم جھوم کر شعر پڑھتے، اور کبھی کبھی جب عشق کی شدت ہوتی تو غزل لکھ ڈالتے اور رات کو دریا کے کنارے جا کر چپ بیٹھتے اور ٹھنڈی سانسیں بھرتے۔ صرف ان کے دو گہرے دوست حامد کے عشق کا راز جانتے تھے۔ اس طرح اپنے دل کی آگ چھپانے پر وہ حامد کی تعریف کیا کرتے تھے، شرکاء کا دستور یہی ہے: دیکھنا بھی تو انھیں دور سے دیکھا کرنا

شیوہ عشق نہیں حسن کو رسوا کرنا!

حامد ہفتہ میں ایک بار سے زیادہ شاید ہی اپنے چچا کے گھر جاتے رہے ہوں۔ مگر جانے کے ایک دن پہلے سے ان کی بے چینی کی انتہا نہ رہتی۔ شاعر نے ٹھیک کہا ہے:

وعدۂ وصل چوں شود نزدیک آتش شوق تیز تر گردد

ان کے دوست جب حامد کی یہ کیفیت دیکھتے تو مسکراتے اور ذیل کا شعر پڑھتے:

عشق پر زور نہیں، ہے یہ و ہ آتش غالبؔ

کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے

حامد صاحب شرماتے، ہنستے، خفا ہوتے، گھبراتے، دل پر ہاتھ رکھتے اور اپنے دوستوں سے التجا کرتے کہ انھیں چھیڑیں مت۔

سلطانہ بیگم شریف زادی ٹھہریں۔ عشق یا محبت کے الفاظ، باعصمت بہو بیٹیوں کی زبان تک آنا نامناسب ہیں۔ انھوں نے اپنے حامد بھائی سے آنکھ ملا کر شاید ہی کبھی بات کی ہو مگر جب وہ حامد بھائی کو اپنے سامنے گھبراتے اور جھینپتے دیکھتیں تو دل ہی میں سوچتیں کہ شاید عشق اسی چیز کا نام تو نہیں! حامد بیچارے کو پاک محبت تھی اس لیے اگر کبھی سلطانہ بیگم اور وہ کمرے میں چند منٹ کے لیے اکیلے رہ بھی جاتے تو سوائے اس کے کہ وہ ڈرتے ڈرتے بہت دبی ہوئی ایک ٹھنڈی سانس لیں اور کسی ’’نا جائز‘‘ طریقہ سے اظہار عشق نہ کرتے، ایک مدت تک عشق کا سلسلہ یوں ہی جاری رہا۔

جب حامد صاحب کی نوکری ہو گئی تو ان کے دل میں شادی کا خیال آیا۔ ان کے والدین کو بھی اس کی فکر ہوئی۔ سلطانہ بیگم کی والدہ بھی اپنی بچی کے لیے بر کی تلاش میں تھیں۔ حامد صاحب نے بڑی مشکل سے اپنی والدہ کو اس بات سے آگاہ کر وا دیا کہ وہ سلطانہ بیگم سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔

شادی کا پیام بھیجا گیا۔ مگر سلطانہ بیگم کی والدہ کو حامد میاں کی والدہ کی صورت سے نفرت تھی۔ ہمیشہ سے ان دو خاتونوں میں عداوت اور دشمنی تھی حامد میاں کی والدہ اگر اچھے سے اچھا کپڑا اور زیور بھی پہنے ہوتیں تب بھی سلطانہ بیگم کی ماں، ان پر کوئی نہ کوئی فقرہ ضرور کستیں، اور ان کے لباس میں کچھ نہ کچھ عیب ضرور نکالتیں۔ اگر ایک کے پاس کوئی زیور ہوتا، جو دوسرے کے پاس نہ ہوتا تو دوسری بیگم ضرور آئندہ ملاقات کے موقع پر اس سے بہتر اسی قسم کا زیور پہنے ہوتیں۔ ایک سے برخاست شدہ ماما کو دوسرے گھر میں ضرور نوکری ملتی۔

حامد میان کے گھر سے جب شادی کا پیام آیا تو سلطانہ بیگم کی والدہ نے ہنس کر بات ٹال دی۔ انھوں نے کوئی صاف جواب نہیں دیا۔ وہ چاروں طرف نظر دوڑا رہی تھیں اور چاہتی تھیں کہ پہلے سلطانہ بیگم کے لیے کوئی بر ڈھونڈھ لیں اس کے بعد حامد میاں کی نسبت سے صاف صاف انکار کردیں۔ حامد میاں کی والدہ ان ترکیبوں کو خوب سمجھتی تھیں، ان کے غصہ کی کوئی انتہا نہ تھی۔ جب خاندان میں اچھا خاصہ، صحیح سالم، کماتا کھاتا، سعادت مند لڑکا موجود ہو تو سلطانہ کی گھر سے باہر شادی کرنے کے کیا معنی؟

مگر حامد کو عشق صادق تھا، انھوں نے اپنی والدہ سے کہا کہ وہ کوشش کیے جائیں۔ یوں ہی ایک مدت گزر گئی۔ کچھ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ سلطانہ بیگم کی والدہ کو اپنی لڑکی کے لیے اس درمیان میں کوئی مناسب بر بھی نہیں ملا۔ سلطانہ بیگم کی عمر انیس برس کی ہو گئی۔ ان کی والدہ اب زیادہ انتظار نہ کر سکیں، آخر کار وہ رضا مند ہو گئیں۔

حامد میاں کی سلطانہ بیگم سے شادی ہو گئی۔ ان کی شادی ہوئے دو برس سے کچھ زیادہ ہو گئے۔ عاشق کی مراد بر آئی۔ خدا کے فضل سے گھر میں دو بچے بھی ہیں۔

ایک غریب عورت ایک تاریک اندھیری کوٹھری میں ایک ٹوٹی ہوئی جھلنگی چار پائی پر پڑی کراہ رہی ہے۔ درد کی تکلیف اتنی ہے کہ سانس نہیں لی جاتی۔ رات کا وقت ہے اور سردی کا موسم۔ عورت کے بچہ ہونے والا ہے۔

ایک اندھیری رات میں ایک غریب عورت، سب سے چھپا کر چپکے سے اپنے غریب عاشق سے ملنے گئی۔ جب اس عورت کو موقع ملتا وہ اس مرد سے ملنے جاتی۔

عشق کی لذت، موت کی تکلیف۔ یہ پہاڑ جن کی چوٹیاں نیلے آسمان سے جا کر ٹکراتی ہیں کیوں کھڑے ہیں؟ سمندر کی لہریں۔

گھڑی کی ٹک ٹک اور پانی کے ایک ایک قطرے کے ٹپکنے کی آواز اور خاموش، اور دل کی دھڑکن، محبت کی ایک گھڑی، رگوں میں خون کے دوڑنے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ آنکھیں گفتگو کرتی ہیں اور سنتی ہیں۔ سور، پاجی، الو، حرامزادہ…… گالیاں اور سخت تیز دھوپ، جوکھال کو معلوم ہوتا ہے جھلسا کر ہڈی تک پگھلا دے گی۔ ایک زمیندار اور ان کا کاشت کار، جس کے پاس لگان دینے کے روپئے نہیں۔ صاحبزادے نے والد کو دوسرا خط بھیجا ہے جس میں ان سے بہ تاکید روپئے مانگے ہیں وکالت کے امتحان کی فیس چار دن کے اندر جانی ضرور ہے۔ والد صاحب اپنے صاحبزادے کی تعلیم کے لیے کاشت کار سے روپے وصول کر رہے ہیں۔

چاروں طرف سانپ رینگ رہے ہیں۔ کالے کالے، لمبے۔ پھن اٹھا اٹھا کر جھوم رہے ہیں۔ ان کو کون مارے؟ کس چیز سے ماریں؟

برسات میں بادل کی گرج، اور پہاڑوں کی تنہائی میں ایک چشمے کے بنے کی آواز، لہلہاتے ہوئے شاداب کھیت اور بندوق کے فا یرکی تڑاتے دار صدا، اس کے بعد ایک زخمی سارس کی دردناک قائیں، قائیں قائیں۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: