غزل ۔۔۔ تنویر قاضی

غزل

تنویر قاضی

میت ایمبولینس میں لے کرآنا
جانا خالی اوک آنسُو بھر آنا
جچتا ہےسُرخی مائل منظر اور
عشق گلی میں سر پر پتھر آنا
بھر دیتے ہو سرسوں اِن آنکھوں میں
اب کے سنور کر سُرخ کبوتر آنا
دل کی گرہ میں ایک سوال بچا تھا
لڑکی اُسی پُرانی چھت پر آنا
ڈالوں پاؤں میں سونے کی جھانجن
کالے پرندے بَن نامہ بر آنا
گیت کا مکھڑا شروع ہوا ایسے میں
تیرا مسلسل بیچ میں جھینگر آنا
رکھتا ہے موروں کو خوف زدہ سا
رانی کھیت کا تھر کے بھیتر آنا
ایک سوار ہے اونٹنی ہے اور اس کا
دشت اُٹھائے نیچے اُتر کر آنا
پیاس ہے صدیوں کی روحوں کے اندر
گئے دنوں تک یار سمندر آنا
گھر کا دروازہ تو اونچا کر لو
کہہ دیتے ہو روز صنوبر آنا

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: