سیلیبریشن ۔۔۔ رابعہ الربا ء

سیلبریشن

رابعہ الربا ء

واہ شاہ نواز کیا تقریر لکھی ہے تو نے۔۔۔! منسٹر صاحب کی تو ہر طرف واہ واہ ہو رہی ہے کہ اتنا بڑا عاشق رسولؐ، سُبحان اللہ!،

صالح نے گلاس اس کی طرف بڑھاتے ہوئے مخمور آواز میں کہا۔

’’بس یار سب گیم ہے گیم،یہ زندگی، یہ لفظ، سب گیم ہے۔

And we all are players…!‘‘

میں تسلیم کرتا ہوں! ’’یہ شام تیری تقریر کے نام، صالح نے گلاس ہوا میں بلند کرتے ہوئے مسکراکے کہا۔ فرید نہیں آیا ابھی تک۔۔۔ آج تو اس۔۔۔۔

اور دونوں نے کمزور قہقہہ لگایا۔

’’دیکھ رہا ہو گا منسٹر صاحب کی تقریر اور اس پہ ہونے والے تبصرے۔۔۔ کل رپورٹ جو دینی ہو گی۔۔۔ سرکار کو۔‘‘

یار ویسے ایک بات ہے اپنی اکیڈمی میں اس سے زیادہ فضول اور کوئی لڑکا نہیں تھا۔

You’r Right مگر جان بیچارہ دیہاتی مڈل کلاس سے بھی نیچے سی ایس ایس کر گیا ہے۔ تو۔۔۔ اس کے لیے یہی افسری ہے، اس کے تو گھر والوں کو یہ بھی علم نہیں ہو گا کہ بیٹا کتنا بڑا افسر ہے؟

اچھا چھوڑ، امتل آگئی؟

ہاں ادھر میز پر بیٹھی ہے، حسب عادت چین سموکنگ میں مصروف۔۔۔
اور وہ اس کی دوست؟

ہاں دوسرے کمرے میں آرام کر رہی ہے، صالح نے ایک گھونٹ بھرتے ہوئے کہا۔

یار ایک بات تو سچ سچ بتا یہ اتنی پُر تاثیر تقریر تو نے لکھی کیسے، آئیڈیا؟ مطالعہ؟

صالح نے ایک اور گلاس بناتے ہوئے پوچھا۔

Interesting۔ کچھ خاص نہیں۔ یہ جو سب میں نے لکھا ہے ناں ہم بچپن سے سُنتے آرہے ہیں جب ہمارے وہاں مزار شریف پہ عرس ہوتا ہے نا۔۔۔، تو صدیوں سے یہی باتیں، لفظ بدل بدل کرلوگ کرتے رہتے ہیں۔ دادا جی کو گدی ملی تو انھوں نے بھی یہی سب کچھ ہمیں بتایا، سمجھایا، پھر ابا جی بھی اب ہر برسی پر ایسی ہی باتیں کرتے ہیں اور اب بڑے بھائی کی باری ہے۔۔۔

’’تو میری جان میں نے کچھ بھی نہیں لکھا‘‘امتل کو بلاؤ، اس نے مخمور آواز میں کہا۔

امتل شہریار کی آواز سن کر خود ہی چلی آئی اورسیدھی اس کی گود میں آکر بیٹھ گئی۔ اوربیٹھتے ہی شاہ نواز کی آنکھیں اور گال چومنے لگی۔ وہ بھی ایک ہاتھ اس پہ لپٹی فقط چادر میں سے اس کے آشنا جسم پر پھیرنے لگا جس پہ کوئی مادی لباس نہ تھا۔

اور گھونٹ گھونٹ اپنے اندر اتارنے لگا۔۔۔سانس سے سانس متصادم ہونے لگے۔

جان تمہارامزہ ہی الگ ہے،بالکل الگ۔۔۔عمر ڈھل رہی ہے مگر جسم کا کرارا پن وہی ہے۔ صالح نے مسکراتے ہوئے اُسے اور قریب کرلیا۔

یار سارا ملک دیوانہ ہورہا ہے اس منسٹر کا،جو لوگ اُسے گالیاں دیتے تھے آج اِسی کی تعریف کر رہے ہیں۔

سویٹ ہارٹ یہ اس قوم کا پرانا مسئلہ ہے، باتیں، باتیں اور بس باتیں۔ درگاہ پہ پہلے ہزاروں دیوانے آتے تھے، اب انہی باتوں سے وہ لاکھوں ہو گئے تو کیا حیرانی؟صدیوں سے یہی ہوتا آیا ہے۔۔۔ حیرانی پر حیرت کیسی- ؟

’’مگر یار تیری ترقی پکی ہوگئی۔‘‘

اوہ، یوُ نو ویری ویل، اب مجھے اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔میرا خیال ہے فرید آ گیا،

ڈور بیل کی آواز نے اسے چونکادیا۔

شاہ نواز نے گلاس میز پہ رکھا ۔ امتل کو قر یب کیا۔ اور پھر آنکھیں موندھ لیں اس کا سر صوفے کی پشت سے ٹِک گیا تھا۔

’’امتل جان آج تمہارا امتحان ہے۔۔!‘‘

اب کونسا امتحان رہ گیاہے۔ وہ بھی تمہارے اور میرے بیچ!اس نے قہقہہ لگایا

شاہ نواز مسکرادیا۔

نواز یہ امتحان نہیںیہ تو ہمارے درمیان طے ہوچکا ہے۔۔۔ اس کے علاوہ بتاؤ۔۔۔

اوہ ہاں۔۔۔ایگریمنٹ تو ہوچکا ہے۔۔۔کہ۔۔۔ ok leave it

’’نواز یہ کہہ کراس کی نر م گو ری ٹا نگو ں پہ ہا تھ پھیرنے لگا۔

ہمارا ایک دوست فرید آ رہا ہے، ورجن ہے ظالم! باقی تم سمجھ ہی سکتی ہو۔۔۔نواز نے ایک آنکھ د باتے ہوئے کہا۔

سمجھ گئی، پہلے کبھی شکایت ہوئی ہے ! جواب یہ کہہ رہے ہیں!

سویٹ ہارٹ جانم پہلے کی بات اور ہے۔ مگر اب،یہ یاربڑامومن ہے، پارسا ٹائپ۔ One Women Person۔

اُس نے قہقہہ لگانے کی کوشش کی لیکن ناکامی پر صرف مسکرا کر رہ گیا۔نواز بس فکر نہ کرو سمجھو، ہو گیا کام۔اس نے پورے وثو ق سے جو اب دیا۔

میرا خیال ہے کہ وہ آ گیا ہے صالح کی آواز سے محسوس تو یہی ہوتا ہے۔ جان۔ مگر ابھی نہیں، ابھی،i need you

اور اس کے بعد شاہ نواز،امتل کے ملائم ہونٹو ں سے بے خودی کشید کرنے لگا۔

صالح نے فرید کو پیگ آفر کیا مگر اس نے سگریٹ سلگالیا اور گہری سوچ میں ڈوبی گہری آواز سے تبصرہ کرنے لگا۔

’’آج تو شاہ نواز کے قلم کا جادو ہرطرف بڑھ چڑھ کر بول رہا ہے۔ جس کے پیچھے بلا شبہ شاہ نواز کی سوچ اور اس کا قلم ہے۔ اکثریت کی رائے مثبت ہے اور حکومت کے حق میں جا رہی ہے۔‘‘

ہوں۔۔۔ تو اس کا مطلب ہے کافی کام کر کے آ رہے ہو، ویسے شاہ نواز سے اسی حوالے سے بات ہورہی تھی۔

’’شاہ نواز کا یہ روپ ہم سے آج تک چھپا ہوا تھا‘‘ فرید نے سنجیدگی سے تبصرہ کیا۔

’’آج اسی کی تو سیلیبریشن کر رہے ہیں۔‘‘ صالح نے وضاحت کرنے کی کوشش کی۔

کچھ ہی دیر میں سرفراز اور شمشاد ادھورے کپڑوں میں ملبوس قہقہے لگاتے دوسرے کمرے سے برآمد ہوئے ’’اوہ فرید Well Come‘‘

شمشاد نے کھلے دل اور پُر خلوص لہجے میں فرید کو دیکھتے ہوئے کہا۔

Have you done your work?

سرفراز نے سوال کیااورفرید جواب دیئے بغیر سگریٹ پیتا رہا۔

کچھ ہی دیر میں ایک بے لباس حسینہ جواپنی چلت پھرت سے اوباش لگ رہی تھی کمرے میں داخل ہوئی اور کرسی پر بیٹھ کر سگریٹ پینے لگی۔

فرید کے چہرے پر ناگواری کی تیوریاں ابھر آئیں۔

اسی لمحے سرفراز باہر نکل گیا اور شمشاد کچن میں چلا گیا۔

امتل سیاہ چادر لپیٹے کمرے میں داخل ہوئی ۔ اس نے نو عمر لڑکی کو غور سے دیکھا اور کہنے لگی ’’سویٹی تم جاؤ اور تیار ہو جاؤ۔‘‘

یہ سنتے ہی سب کمر ے سے رفو چکر ہو گئے۔

امتل فرید کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی اور چادر اتار کر پیچھے پھینک دی اورسائیڈ ٹیبل کھسکا کر اس کے سامنے ایک خود سپردگی کی بے پرواہ ادا سے بیٹھ گئی۔ اُس نے اچانک فرید کے گال چو منا شروع کردیئے۔۔۔اور اس کا ہاتھ سینے پر گردش کر تا شرٹ کے بٹن کھو لنے لگا۔۔۔ساتھ ہی دوسرا ہاتھ پتلون میں کچھ ٹٹولنے لگا۔

فرید نے سگریٹ ایش ٹرے میں پھینکا اور اسے سختی سے روکنے لگا۔ اسے اس عورت سے نہ جانے کیوں گھن آ رہی تھی۔

یار فرید کونسی نئی اور انوکھی بات ہے۔ Enjoy Your Life

صالح نے دروازے کے پا س سے گز رتے ہو ئے طنزیہ لہجے میں کہا۔

’’صالح۔‘‘ وہ دھیمی آواز میں چلایا۔

صالح آگے بڑھااور کپڑے اتار کر امتل سے لپٹ گیا۔

امتل بھوکی شیرنی کی طرح اس پر حملہ آور ہوئی لیکن کوئی بھی لمس اُسے متحرک نہ کر سکا۔۔۔۔

اس نے غصے سے اپنی شرٹ کے بٹن بند کرکے اور پتلون درست کرتے باہر لان میں چلا آیا۔

حیرت دامن گیر تھی ،کیا بے لباسی کوئی تحریک پیدا نہیں کرتی۔۔۔ یہ توکوئی اور ہی جذبہ ہے۔ اس کی اپنی ہی سوچ اس کے سامنے نئے سوال کا مینار بنی کھڑی تھی۔۔۔ تو وہ جذبہ کیا ہے؟اور یہ سب کیا تھا؟

سب کچھ تھا مگر۔۔۔ ایک برف کی سِل۔۔۔ ایک عورت کا حساس لمس بھی نہ پگھلا سکا۔۔۔ اس کے ہاتھوں، انگلیوں کے تار آگ اور گھی کا کھیل بھی نہ کھیل سکے۔

نجانے کتنی دیر وہ یونہی خود سے الجھتا رہا، کسی نے مداخلت نہیں کی سرمئی شام سرخ ہوئی اور سیاہ رات کی طرف چل پڑی۔ اس نے دیکھا- وہ جو ذرا دیر پہلے حیوان بنے ہوئے تھے اس وقت خالص انسان لگ رہے تھے۔

شاہ نواز فرید کے کاندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے مسکرایا۔۔ ہیلو!

’’ہائے‘‘ فرید نے اس کے چہرے پہ معنی خیز نظر ڈالی۔

Don’t Worry, Lets Go… شاہ نواز نے پیار بھرے لہجے میں کہا۔

سب گاڑیوں میں بیٹھنے لگے۔ فرید نے ایک نظر ان دونوں کی طرف دیکھا۔وہ دونوں بھی اس وقت انسان کے روپ میں نظر آ رہی تھیں۔ اور وہ شاہ نواز کے ساتھ بیٹھ گیا۔

’’آج ڈنرمیری طرف سے ہے‘‘

’’اور وہ بھی وی آئی پی!‘‘ شاہ نواز کے جملے کو شمشاد نے پورا کیا۔

اسلام آباد کی کشادہ سڑکوں کے حسین سینے پہ گاڑیاں خامشی سے شام کی سیاہی میں تیرتی چلی جا رہی تھیں۔

اچانک فرید کی نظر سڑک کے دوسری طرف کچھ افراد پہ پڑی جو صبح والے جلوس کے بینرز اور کاغذ اکٹھے کر رہے تھے۔

’’شاہ نواز گاڑی روکو!‘‘فرید بولا۔

’’کیا ہوا؟‘‘ اس نے اچانک گاڑی سائیڈ پہ روکتے ہوئے پوچھا۔

’’تم چلو۔ مجھے ضروری کام ہے، کل رپورٹ دینی ہے‘‘

وہ یہ کہتے ہوئے اترا اور وہاں موجود لوگوں کے ساتھ بینرز اور کاغذ اٹھانے لگا۔وہ کاغذوں کو چوم رہا تھا، یہ وہ کاغذ تھے جن پر دینی جماعتوں نے جذبا تی نعرے درج کر رکھے تھے اور شام کو جاتے ہوئے وہ انہیں یہیں چھوڑ گئے تھے۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: