سب ہم نے سویئکار کیا۔۔۔ فارحہ نوید
سب ہم نے سویئکار کیا
فارحہ نوید
من مندر ما دِیپ جلایا , خُوب سجی شِنگھارکیا
تُمرے کار مہُورت کے بِن ,دیکھ سجن تیوہار کِیا
اِک اِک رَوم ہَمار تِہارے عشق کا کلمہ وِرد کرے
من کے بے کل بالک نے بھی جاپ دِوانہ وار کیا
تُمری سُندر چھَب کی جَوتی اندھِیاروں ما سُورج ہے
پُونم شب ما چاند تُمہی ہو، تم نے ہی اُجیار کیا
خالی نینن بھر کے توہے دن ریناں سپنا دیکھوں
گوپی میں ہُوں تُو ما ہر نے کسنا کا اوّتار کیا
جوگ رَما کے عشق کا تُمرے جَپتی تُمرا نام رہوں
ہر نے تُمری صُورت مجھ پر خوب گَھنا اُپکار کیا
ایسن پِیت لگائی مَو سے جنموں مانگوں تُمرا ساتھ
من کی سیج پہ توہے دھر کے چاہت کا اِقرار کیا
گھات لگائے بیٹھا راون کب رادھے کو آن ہَرے
سیتا نے بھی مریادہ سے ہر کٹھِنا کو پار کیا
کیسن سنکھَٹ جَھیل تِہاری سنگت ہم نے پائی تھی
تم نے پھیر نَجر یُوں ہم پر کیسن اتِیا چار کیا
دل کے بدلے دل کا سودا گھاٹے کا بیوپار نہ تھا
تم نے اِک گوپی کی خاطر رادھے کو انکار کیا
ہم سادُھو کے بھیس ما تُمری چوکھٹ بیٹھے جنموں کے
ٹھُکراؤ یا بھِکشا دیوو سب ہم نے سُوِیکار کیا
فارحہ اپنا وَید بُلاؤ کاہے ایسن حال ما ہو
اُجلے رُوپ کی گوری کیسن روگ یہ توہے خوار کیا
فارحہ نوید