ہاں کوئی ہے/کامران مغل۔تاثرات۔۔۔انجلا ہمیش
کامران مغل کے پہلے شعری مجموعے” ہاں۔ کوئی ہے ” پر ایک تاثر
انجلاء ہمیش
کامران مغل کے لئے کہا جاسکتا ہے کہ قید بامشقت گزاری۔۔۔زندگی کو برتنا بذات خود قید بامشقت ہے۔
کامران مغل صحافت سے اس طرح سے وابستہ ہیں کہ ان کے ارد گرد حالات حاظرہ کا شور ہمہ وقت رہتا ہے البتہ اس اتنے صحافتی ماحول میں بھی ان کی نظموں میں شعریت قائم رہتی ہے۔ان کی نظم ‘سحر انگیز‘شوریدہ زندگی سے نکلنے کی خوایش ہے :
کیا بتلاوں دوستوں !
سورج جب بھی نکلتا ہے
سلگتا ہے بدن میرا
زخم ہرے ہوجاتے ہیں
سحر انگیز
ساے کی تلاش میں
وہ محنت کش طبقے کے عذاب سے واقف ہیں ۔وہ محنت کش طبقہ جس کے خد و خال نہیں ہوتے بس ایک جاندار وجود ہوتا ہے کمیائ اخراج ، دھوئیں ِ دھول سے اٹا ہوتا ہے۔ چمنی اور دھواں جلتا رہتا بس آسرے مرجاتے ہیں۔
پھر چمنی سے دھواں اٹھے گا
پھر نیا ارمان جاگے گا
پھر ایک دنیا آباد ہوگی
اور، یہ سلسلہ چلتا رہے گا
(چمنی اور دھواں)
کامران مغل نے اکثر اپنی نظموں میں صحافیانہ زندگی کو موضوع بنایا ہے :
زندگی نے ہتھکنڈوں میں گھیر رکھا ہے
قلم، سگریٹ اور چاے ٹیبل پر دھری ہے
کچھ لکھنا چاہتا ہوں
قلم اٹھاوں تو چاے کا کپ ہل جاتا ہے
کیا لکھوں
کس کا نوحہ لکھوں
(قلم، سگریٹ اور چاے)
سڑک کی عصمت دری کو جس انداز سے کامران نے ‘کالی‘ میں بیان کیا ہے وہ کمال ہے ہنچ لائنز ہیں:
اے ظالم انسان!
میں کابل و بغداد کی وہ سڑک ہوں
جسے تونے تباہ کردیا ہے
“پہلی محبت” کچھ نہیں اور کہیں نہیں ہوتی۔۔۔ زندگی کی تلخیاں پہلی محبت کی فنتاسی کو ،afford نہیں کرسکتیں:
مجھے کیا معلوم پہلی محبت کیا ہوتی ہے
باپ میرے لیے ہوائ جہاز لایا
ماں نے بلی لے کر دی
مگر مجھے کووں کی صحبت میں رہنا پڑا
مجموعی طور پر صحافت کا انتھک پیشہ اور ذاتی زندگی کے دکھ ۔انہیں الگ الگ طور پر نہیں دیکھا جاسکتا ۔کامران مغل کی نظموں میں یہ دونوں ہی آمیزش ملتی ہے۔
ان کے شعری مجموعے کے لیے نیک تمنائیں اس توقع کے ساتھ ان کے یہاں نظمیں اپنی originality کے ساتھ آئیں گی ۔