گھوس ۔۔۔ انجلا ء ہمیش

گھوس

انجلاء ہمیش

ایک غیر چادر، ایک غیر تکیہ پہ بدن کھلنے کا مرحلہ تھا پر ماتحت وجود کے ذہن میں گلی میں کچلا گھوس اٹک گیا تھا۔بدن کے ہم راز نفسیات میں بندھی الجھی گرہوں کو نہیں کھول سکتے شائد اسی لیے  ان لمحات میں اس کے بدن کا تناو کم نہیں ہورہا تھا. …جانے  کونسی عذاب سوچ میں ماتحت وجود چلی گئ تھی ۔۔۔  کیا وہ مکمل طور پہ لمحہ موجود میں نہیں تھی؟ اگر گلی میں کچلا ہوا گھوس نظر نہ آتا تو امکان تھا کہ یہ مرحلہ طے ہوجاتا ۔ کوشش تو یہی تھی کہ جو گزر گیا اس سے باہر آٓیا جائے مگر ماتحت وجود کو ایسا کرنے نہیں دیا جارہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ جو گزر گیا اور جو موجود ہے اس میں کیا موازنہ ہوسکتا تھا! قربت کے لمحات جو من چاہے نہ ہوسکے اس میں کس طرح کی سازشیں تھیں، اس سے ماتحت وجود کا ہم جسم کیسے واقف ہوسکتا تھا۔

گلی میں کچلا ہوا گھوس اور چار دن تک اس کی ڈیسک میں مرے ہوئے دو  گھوس۔ یہ مماثلت ، اندیشہ تھا کہ کہیں دونوں ہم جسموں نے تو ماتحت وجود کے ساتھ ایسا نہ کیا ہو۔یہ کیسا بھیانک تجربے سے وہ گزرہی تھی۔ جیسے وقت گزرنے کے باوجود ایک مخصوص گھڑی کے لیے رکا ہو۔۔۔۔۔

کلی طور پہ تو نہیں لیکن جنسی تلذذ سے ماتحت وجود کی زندگی اکثر محروم ہی  رہی پھر بھی پیٹ کی بھوک جسم کی بھوک سے اوپر تھی . سو مقدر بھر ذلت جھیل کر پیٹ کی بھوک میں جٹ جانا ٹھہرا۔یسوع مسیح کسی کو بھی تو پتھر مارنے سے روک نہ سکے ۔کوئی ٹھٹھے مارتے ہوئے گاے جارہا تھا ‘‘دل کے ارماں آنسوئوں میں بہہ گئے‘‘۔

ویسے بھی کوئی بھی مسیحا مینجمنٹ کی پالیسز میں مداخلت نہیں کرسکتا تھا۔مینجمنٹ کے سسٹم میں اتھل پتھل کے اندیشہ کے سبب ماتحت وجود پر ہر وقت نگرانی یوری تھی۔جس طرح کا نظام رائج تھا اس میں افراد کو کیٹگریز میں رکھا جاتا اورجس کو جس کیٹگری میں ڈال دیا گیا تھا وہ اس سے نکلنے کی غلطی کیسے کرسکتا تھا۔مگر غلطی تو سرزد ہوگئ تھی ۔ایسا نہیں تھا کہ جنت سے نکالا جارہا تھا ۔جنت تواساطیر میں باور ہوتی ہے ورنہ جنت تو ہے ہی نہیں۔

حالانکہ وہ فوری سمجھ ہی نہ سکی کہ ایک پوری پلاننگ کے تحت کہیں اور نہیں عین اس کی ڈیسک کے نیچے پڑے ڈبے کے اندر گھوس پڑے ہوئے تھے اور مینجمنٹ نے خاک روبوں کو روک دیا تھا وہاں جانے سے اور طے یہ ہوا تھا کہ چار دن تک گھوس کی سڑاند میں اس کی سانسیں سڑتی رہیں۔تاکہ اس کے دماغ سے بدبو نکل نہ سکے۔یہ۔اس کے حصے کا جہنم تھا۔ویسے وہ اس بات سےلاعلم تھی کہ بدبو دماغ میں گھسا دینا جہنم۔کے درجوں میں آتا ہے۔

اور یہاں یہ سمجھنا تو invalid تھااس کے ساتھ  تب کون تھا اور اب کون ہے ۔۔ جہنم میں کوئی بھی ہوتا وہ جہنم تو ماتحت وجود کے حصے کی ہی تھی۔ پالیسی عناصر نہیں چاہتے تھے کہ ماتحت وجود ان لمحات کو کشید کرسکے۔

پورے چار دن گزرگئے تب جاکے مینجمنٹ سر جوڑ کے بیٹھی کہ اب دونوں گھوس وہاں سے ہٹادںینے چاہئیں ، مقصد تو پورا ہوگیا تھا۔بظاہر تاثر یہ تھا کہ اتنی سزا کافی ہے۔لہذا ایک  خاک روب  کو بھیجا گیا جو ماہر تھا ایگزٹ جگہ سے بدبو جانچنے میں ، اسی نے آکے  وہ دو گھوس پھینکے ۔ ۔

اب جبکہ کچھ وقت بعد جبکہ اسے لگتا تھا کہ وہ ان حدود سے باہر آکے freash breath لے سکے گی تو یہ سراسر اس کی غلط فہمی تھی۔ ایک اور کچلا ہوا گھوس  دکھا کے باور کرادیا گیا تھا کہ ماتحت وجود کا ذہن کبھی بدبو سے چھٹکارا نہیں پاسکتا۔

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.