جنت الفردوس ۔۔۔ ڈاکٹر مریم عرفان

جنت الفردوس

ڈاکر مریم عرفان

شبیر کی زندگی میں سب کچھ صحیح چل رہا تھا۔ وہ روایتی مرد کی طرح اپنی بیوی کے ساتھ بیس دن بعد بس ایک بار ہی بستر گرم کرنا ضروری سمجھتا تھا۔ پھر چالیس کے پیٹے میں جاتے ہی اسے محسوس ہوا جیسے جسم کو زبان لگ گئی ہے۔ وہ ہر گلی اور کوچے کو چاٹنے لگا،آتی جاتی خوشبو بکھیرتی تتلیاں اس کے چوڑے شانوں کو چھو کر گزرتیں ۔ وہ نظریں نیچے کیے انھیں کن انکھیوں سے دیکھ کر گردن جھکائے رکھتا۔ محلے میں وہ سادھو مشہور تھا ۔ صبا ٹیکسی اس کے مکان کے بالکل سامنے رہتی تھی۔ اس کے صحن میں دوسری کسبیاں دندناتی گھستیں تو وہ اپنے دروازے کے گول سوراخ سے انھیں آتے جاتے دیکھتا۔ ٹیکسی جانتی تھی کہ شبیر بھی سواری بننے کے چکروں میں ہے۔ کوٹ عبدالمالک کی اس گمنام گلی کا سرا بند تھا۔ زیادہ مکان کرایہ داروں پر مشتمل تھے۔ بس ایک شبیر کا تین مرلے کا گھر اس کی کل کائنات تھا ۔ جسے بنانے اور سنوارنے میں اس نے دن رات ایک کر رکھا تھا۔ ایک رنگ ساز فیکٹری کا سپروائزر پسماندہ علاقے کا معزز آدمی شمار ہوتا تھا۔ فردوس کو اپنے شوہر کی لٹکتی ہوئی زبان کبھی نظر نہیں آئی تھی۔ وہ دس سالوں میں اوپر تلے تین بچوں میں ایسی مصروف ہوئی کہ شبیر کی ڈڈو جیسی آنکھیں اسے دیکھ ہی نہیں سکتی تھیں۔ شبیر کی کوشش ہوتی کہ فردوس کا سایہ بھی گلی میں نہ پڑے۔ چہ جائیکہ صبا ٹیکسی کے مکان کی کسبیاں ، جو آتے جاتے شبیر کے چوڑے شانے دیکھ کر ہنکارے بھرتی تھیں۔

وہ اپنے محلے میں کارٹون کا ہیرو بن کر گھومنے نکلتا۔اکثر دونوں بازو پیچھے کو موڑکر ایک پر اپنی گرفت مضبوط کیے بڑی شان سے اپنا پف ماتھے سے اوپر کی جانب اٹھاتا۔ اس کا سینہ اس خوبی سے باہر کو نکلا ہوا ہوتا کہ کھنچی ہوئی شرٹ میں سے سفید بنیان جھانکنے لگتی۔ فوجی پرچون والے کی دکان کے تھڑے پر بیٹھے لوگ سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے اس کی باتوں کو غور سے سنتے۔ ‘‘ جناب ! شہر والے پاسے نکلو تو تمہیں پتہ چلے کہ زندگی کیا ہے؟’’

‘‘ حق سچ ہے جی ، حق سچ ہے۔ ’’

‘‘ صبا جی ! کوئی میرے لائق خدمت ؟’’ جب سواری اس کے مکان کے آگے سے گزرتے ہوئے ہاتھ دیتی تو مخروطی ہونٹوں میں سے سفید دانتوں کے اوپر سیاہ مسوڑھے ہنستے ہوئے اسے روک لیتے۔ دبلی پتلی دراز قد لاٹھی جیسی لڑکی عقب میں سے جھانکتی تو شبیر کے چوڑے شانے مزید پھیل جاتے ۔ دروازے میں سے راستہ بن جاتا اور سواری ٹیکسی میں بیٹھ کر کمرے میں پارک ہو جاتی۔ اکثر رات کے اندھیرے میں شبیر کی زبان لمبی ہوتی تھی۔وہ جسے تھوک نگلتے ہوئے دوبارہ حلق تک لے جاتا ۔ فردوس کے پاس جاتے ہی اس کی زبان کو تالہ لگ جاتا تھا۔ وہ زنگ آلود تالے سے رسنے والے پانی کے رنگ میں رنگی جانے لگی۔ جب وہ چوتھا بچہ پیدا کرنے کے مراحل میں داخل ہوئی تو شبیر کو اپنی مردانگی پر ناز ہونے لگا۔ وہ شیشہ دیکھتے ہوئے بنیان پہنتا تو ہونٹوں کی لکیر دائیں سے بائیں پھیل جاتی۔ شاید اس کی زبان اس دن بھی لمبی ہونے کے چکروں میں سرگرداں تھی جب فردوس کے پیٹ میں شدید درد اٹھا۔ وہ پریشانی میں اسے لیے ہسپتال کی ایمرجنسی میں داخل ہوا۔ ڈاکٹروں نے بتا دیا تھا کہ بچہ یوٹرس میں گیا ہی نہیں۔ ٹیوب میں پڑے لوتھڑے نے قیامت مچائی ہے اور اب اس کی بائیں ٹیوب نکالنا پڑے گی۔ شبیر نے پہلی بار خود کو پاتال میں کھڑا پایا۔ اسے اپنی مردانگی پر شک گزرنے لگا۔ وہ اپنا بی پی لو محسوس کرتے ہوئے ہسپتال کی کینٹین پرچلا گیا ۔ جہاں اس نے جلدی سے جوس پیتے ہوئے فردوس کے گھر اطلاع کی۔ اس کا دل اپنے تینوں بچوں کی شرارتوں سے گھبرانے لگا تھا۔ اسے ان کے ہاتھوں میں پکڑی ہوئی چاکلیٹوں کے رئیپر ٹیوبوں جیسے لگ رہے تھے۔ وہ جیسے ہی انگلیوں سے مائع چاکلیٹ کو حلق میں انڈیلتے شبیر کو لگتا جیسے کوئی اسے نیچے سے نچوڑ کر اوپر کھینچ رہا ہو۔ اس کے گھر والوں کو دوسرے شہر سے آنے میں وقت درکار تھا۔ وہ وارڈ کے باہر اپنی مردانگی کو سینے سے لگائے کھڑا تھا جب فردوس کی ماں اور بہن روتے دھوتے پہنچیں۔ ‘‘ آپریشن تو صبح آٹھ بجے ہے۔ اماں جی ! آپ ان بچوں کو گھر لے جائیں۔ ’’

ہسپتال کی لیبر وارڈ کے ٹھنڈے بستر پر فردوس پڑی تھی۔برآمدے میں بچھے سبھی بینچ کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے۔ جس سے گھبراکر وہ اپنی سالی کو لے کر کینٹین کے باہر بچھی میز کرسی پر آ گیا۔ جنت اسے بار بار حوصلہ دیتی ۔ وہ بھی اب ماحول کے تناو سے نکل آیا تھا۔ اس کی مردانگی نے ہوش سنبھال کر گردن اٹھا کر سامنے دیکھا تو جنت کا کتابی چہرہ باغِ بہشت بنا ہوا تھا۔ اس کے گورے گورے ہاتھ میز پر دھرے تھے ۔ اس کی زبان منہ سے پھسل کر باہر نکلنے کے لیے زور لگانے لگی۔ وہ بے بس ہو کر اس کے گورے ہاتھوں پر گر گیا۔ باغِ بہشت انگشت بدنداں اس کی زبان کو منہ سے باہر نکلتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ وہ اماوس کی رات نہیں تھی کہ چار سو اندھیرے کی چادر تن جاتی۔ وہ اسے گاڑی سے سامان اٹھانے کے بہانے لے گیا۔ اس دن اسے احساس ہوا کہ چھوٹی گاڑی دو بائی تین کی لیٹرین جیسی ہوتی ہے۔ جہاں بندہ بس نالا کھول کر فلش پر ہی بیٹھنے کے قابل ہوتا ہے۔ وہ اس کی جھولی میں سر دئیے کانپ رہا تھا۔ اس کا ایک بازو باغِ ارم کے چوڑے کولہے کے گرد گھیرا تنگ کر رہے تھے۔ فردوس کی جڑواں بہن جنت سیٹ کی نشست سے ٹیک لگا چکی تھی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے دونوں کے چھ بچے گھیرا ڈالے گھومتے ہوئے محسوس ہوئے۔

‘‘ آئیاں تے کائیاں ، دو بہناں آئیاں۔ دوویں بہنا لمیاں ، اک تھائیں جمیاں۔’’

گھیرا تنگ ہونے ہی والا تھا کہ گارڈ نے آ کر ان کی گاڑی کا شیشہ بجانا شروع کر دیا۔ باغِ بہشت میں بہتی دودھ کی نہر اڑن چھو ہو گئی ۔ شبیر نے گھبرا کر گاڑی کا دروازہ کھولا اور سامان سے بھرا تھیلا لے کر وارڈ کی جانب چل پڑا۔ دن کی روشنی ہونے تک وہ خود کو پل صراط پر ہی کھڑا محسوس کرتا رہا۔ اگرچہ اس کی لمبی ہوتی زبان دوبارہ بند ہو کر تالو سے چپک چکی تھی لیکن اسے ڈر تھا کہ کہیں جنت کے کولہوں پر اس کے بازوؤں کے نشان واضح نہ ہو جائیں۔ فردوس آپریشن کے بعداپنی ماں کے گھر جا چکی تھی۔ سسرال جاتے ہوئے اس کے دل میں وسوسے سر اٹھاتے کہ باغِ بہشت سے ٹاکرا نہ ہو جائے ۔ دوسری طرف بالکل خاموشی چھائی رہی ۔ ایک حد درجہ اطمینان نے اسے اپنے حصار میں لے لیا تھا۔ زندگی اپنی ڈگر پر آ چکی تھی جہاں صبا کا مکان اور فوجی پرچون والے کا تھڑا اس کی مردانگی اور چودھراہٹ کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار ملتے تھے۔ اب اس کی توجہ اپنے مکان کی اوپری منزل بنانے پر مرکوز تھی۔ وہ مل سے قرضہ لے کر اپنی معیشت کو سنوارنے میں جت گیا۔ فردوس کے پاس جاتے ہی اس کی زبان زنگ آلود تالے میں بدل جاتی۔ ‘‘ اگر تمہارے پیٹ پر چربی چڑھنے کے بجائے یہ کولہے بھاری ہو جاتے نا تو قسم سے تم بھی پوپٹ ہو جاتیں۔ ’’ پندرہ دن بعد سنائی دینے والا یہ جملہ اب اس کے لیے شربت فولاد بن چکا تھا۔ جیسے وہ اپنے بچوں کو کھانے کے دوران ایک ایک چمچ منہ میں انڈیلتی تھی۔ ویسے ہی وہ اس کے کانوں میں اپنی خواہش کا رس نچوڑنے لگا تھا۔ اس نے گھر کی تکمیل پر سسرال والوں کی چھوٹی سے دعوت رکھی تھی۔ گھر بچوں، مردوں اور عورتوں سے بھرا ہوا تھا۔ مبارکبادیوں کا سلسلہ جاری تھا ، ہر کوئی اس کی دہلیز پار کرنے سے پہلے نیم پلیٹ پر جلی حروف میں ‘‘ جنت الفردوس’’ لکھا دیکھ کر مسکرا دیتا۔ تیسری منزل کی سیڑھیاں چڑھ کر ممٹی کی چھت کی ریلنگ سے ٹیک لگائے ایک زبان نیچے لٹک رہی تھی۔ دو بھاری کولہے دیوار سے لگے اسے دیکھ رہے تھے۔ ‘‘ جنت جی ! ہسپتال کی وہ رات میں بھول نہیں سکا۔ کیا کبھی کوئی ایسی رات دوبارہ نصیب ہو گئی۔ ’’

باغِ بہشت کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ بغلوں میں پناہ لے چکے تھے۔ سیڑھیوں پر دھپ دھپ کی آوازیں گونجنے لگیں۔ جیسے بہت سارے بچے شور مچاتے کسی محاذ پر نکلے ہوں۔ زبان گول مول ہو کر تالو سے چپک چکی تھی۔ شبیر نے ادبدا کر ریلنگ سے منہ نیچے کر کے دیکھا تو صبا ٹیکسی اپنی نئی کسبی کے ساتھ صحن میں بچھی چارپائی پر لیٹی ٹانگیں دبوا رہی تھی۔ اس کی سڈول ٹانگوں کی مچھلیاں اتنی چمک دار تھیں جیسے دو لالٹینیں دودھیا روشنی میں نہا رہی ہوں۔ بچے چھت پر پہنچ کر اودھم مچا رہے تھے۔

 ‘‘ میرا خیال ہے کہ ہمیں نیچے چلنا چاہیے۔’’ باغِ ارم کے کانوں میں صدائیں گونجنیں لگیں۔

‘‘ آئیاں تے کائیاں ، دو بہناں آئیاں۔ دو ویں بہنا لمیاں ، اک تھائیں جمیاں۔’’

٭٭٭٭٭٭٭

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.