غزل ۔۔۔ مختار صدیقی

غزل

مختار صدیقی

موت کو زیست ترستی ہے یہاں

موت ہی کون سی سستی ہے یہاں

دم کی مشکل نہیں آساں کرتے

کس قدر عقدہ پرستی ہے یہاں

سب خرابے ہیں تمناؤں کے

کون بستی ہے جو بستی ہے یہاں

چھوڑو بے صرفہ ہیں ساون بھادوں

دیکھو ہر آنکھ برستی ہے یہاں

اب تو ہر اوج کا تارا ڈوبا

اوج کا نام ہی پستی ہے یہاں

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.