غزل ۔۔۔ اقصیٰ وزیر
غزل
اقصیٰ وزیر
اپنوں کی غداری سے
پیڑ کٹے کلہاڑی سے
ہر پل نام ترا نکلا
دھڑکن تیز ہماری سے
ہر مرہم ناکام ہوئی
اپنوں کی دلداری سے
بستر پر بھی چین نہیں
عشق، بری بیماری سے
کمزوروں پر آن پڑے
بوجھ یہ کیسے بھاری سے
دن بھی تیرے جیسے ہیں
بدلے سے بازاری سے
اور کوئی در جا ڈھونڈے
کہہ دو! نیند ہماری سے
وہ ہم پر دیوانہ سا
ہم خود سے انکاری سے
اقصیٰ گیلانی
Facebook Comments Box