کائنات اور تیسری عالمی جنگ ۔۔۔ مہجور بدر

کائنات اور تیسری عالمی جنگ

مہجور بدر

‎ہم اپنے عہد میں بارشیں بورہے ہیں

‎کائنات کے ہونٹوں پہ محبت کی  خشک سالی ہے

‎اگلے برس  شہر کے ٹیرس پہ

تنہائی کے اژدھام میں

ہم اپنی جنم بومی میں

یادوں کی چتا پر

خود بارشیں رورہے ہونگے

کسی کے آنے سے

کسی کے چلے جانے سے

زمانے کو کیا فرق پڑتا ہے ؟

ہم اپنے عہد میں بارشیں بورہے ہیں

اسی آس پہ

کہ اگلے برس

کائنات کے ہونٹوں پہ

محبت کے سبزوں کی بہاریں جھوم جائیں گی

مگر کائنات آتشی خوابوں کی دکان کھول کر

زمانے کو بنجر بنانے کا منصوبہ بنا رہی ہے

سفید ھاتھی اب گرم پانی پہ پہرہ دے رہا ہے

کائنات تیسری عالمی جنگ  کی طرف بڑھ رہی

 ہے

ہماری بارشوں پہ  پھول آنے تک

کائنات اپنے آتشی خوابوں کی دکان بند کر رہی ہو گی

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.