میثاق ِ تخلیق ۔۔۔ خیر زمان راشد

میثاقِ تخلیق

خیر زمان راشد

عورت۔۔۔۔ عدم کے سکوت میں پہلا ارتعاش!

جب وہ اپنے وجود کے لمس سے

کائنات کے ادھورے پن کو مکمل کرتی ہے

جب وہ مٹی کو معجزہ بناتی

اور خاموشی کو زندگی کا استعارہ بنا دیتی ہے

جب وہ مسافروں کو منزلوں کا سراغ اور

معرکہ آراؤں کو جیت جانے کا گر سکھاتی ہے

 ہر بندھن کی گرہ اور ہر کشاد کا بھرم ۔۔

 حرفِ کن کا وہ عکس ہے

جو زندگی کے کن کو فیکوں میں بدل دیتا ہے

خلاق ازل کے لمسِ تخلیق سے قرطاسِ زیست پر لکھا وہ آخری سکرپٹ

جسے لکھاری خود بھی کاپی نہیں کر سکتا

فطرت کی فطانت کی توثیق

جو فنا و بقا کے درمیاں

تخلیق کا واحد “مقدس استعارہ” ہے

جس کے نہ ہوتے ہوئے کائنات کا سکرپٹ

ادھورا اور خالق کا ارادہ بے معنی ہے

عورت کو خدا سمجھ سکتا ہے

یا وہ  خود ۔۔۔

 اور وہ خود کو سمجھنے کی

غلطی کبھی نہیں کرتی

کہ اسے خدا سے کیے اپنے نیابت کےمیثاقِ تخلیق کا احترام کرنا ہے۔۔

عورت ۔۔خدا کے رازِ تخلیق کی وہ غایت ہے، جسے وہ خود پر بھی آشکار نہیں کرنا چاہتا!

لفظ زاد

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.