بے چین جادو گرنیاں ۔۔۔ نادیہ عنبر لودھی
بے چین جادوگرنیاں
نادیہ عنبر لودھی
بارش نے جھل تھل کررکھا تھا ۔ ٹھنڈی ہوا گلی کوچوں کے گیلے راستوں سے اٹھکیلیاں کررہی تھی ۔مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو معطر احساس بکھیر رہی تھی موسلادھار بارش کی بوندیں موسم گرما میں فرحت بخش احساس لیے فضا کو خوشگوار بنا رہی تھی ۔ اس برستی بارش میں وہ چارپائی پر پڑی ہوئی تھی ۔ پریشانیوں نے اسے گھیر رکھا تھا ۔ اس زوروں کی بارش میں باہر نکلنے کی کوشش بے کار تھی ۔ اسے بارش پر غصہ آرہا تھا ۔ “بارش بھی آج ہی ہونی تھی “۔ غزالہ بڑبڑائی ۔ غزالہ کو روپے کی شدید ضرورت تھی ۔ گھر میں راشن ختم ہوچکا تھا اس کی کمائی کا واحد ذریعہ اس کا بدن تھا ۔ اسی کو بیچ کر وہ اپنا اور اپنی بوڑھی ماں کا پیٹ پالتی تھی ۔ اس نے ہوش سنبھالا تو ماں کو لوگوں کے گھروں میں کام کے بہانے عصمت فروشی کرتے دیکھا ۔ ماں نے جلد ہی اسے اپنی لائن پر لگالیا ۔ بڑھاپے اور بیماریوں نے غزالہ کی ماں کے بدن کو دیمک کی طرح چاٹ لیا تھا ۔ اب وہ ہڈیوں کا پنجر بنی چھلنگا چارپائی پر پڑی رہتی تھی ۔ غزالہ بچپن سے کام چور تھی ۔ اس نے لوگوں کے گھروں میں کام کی بجائے سڑک پر گاہگ ڈھونڈنے کو ترجیح دی ۔ آج کی بارش نے اس کی روزی پر لات مار دی ۔ چارو ناچار ماں بیٹی چائے کے ساتھ پاپے کھا کر سو گئی ۔
شمسہ ہولے ہولے منیر نیازی کی نظم خلش کے مصرعے گنگنا رہی تھی
وہ خوبصورت لڑکیاں
دشت وفا کی ہرنیاں
شہر شب مہتاب کی
بے چین جادو گرنیاں
جو بادلوں میں کھو گئیں
نظروں سے اوجھل ہو گئیں
اب سرد کالی رات کو
آنکھوں میں گہرا غم لیے
اشکوں کی بہتی نہر میں
گلنار چہرے نم کیے
ہستی کی سرحد سے پرے
خوابوں کی سنگیں اوٹ سے
کہتی ہیں مجھ کو بے وفا
ہم سے بچھڑ کر کیا تجھے
سکھ کا خزانہ مل گیا
شمسہ تعلیم یافتہ تھی اسے ادب سے دلچسپی تھی ۔ وہ جدید دور کی امراؤ جان تھی ۔ شمسہ اپنے والدین کے وجود سے لاعلم تھی اس نے جب سے آنکھ کھولی اسی کوٹھے پر تھی ۔ وقت کے ساتھ ساتھ کوٹھا بھی ماڈرن کوٹھی میں تبدیل ہوچکا تھا ۔ مگر آمدنی اور گناہ کا راستہ وہی پرانا تھا ۔ شمسہ کو کبھی کبھی اپنے وجود سے گھن آتی کبھی ۔اسے خود پر ترس آتا ۔ کبھی وہ موت کی تمنا کرتی ۔ جب حرام کمائی پر پِلا ہوا کوئی عیش پسند بڈھا سیٹھ اسے بُک کرلیتا تو اس کی مایوسی ، بے زاری اور تھکان سوا نیزے پر پہنچ جاتی ۔ بدبو دار منہ ، گندے پیلے دانت ، بڑی توند والا جسم ، ہڈیوں سے لٹکا ہوا گوشت ، سفید بال اور ٹھنڈا جُثہ ۔ چند ہزار کے عوض یہ سودا شمسہ کے لیے بہت مہنگا تھا ۔ مگر وہ مجبور تھی میڈم کے سامنے کسی لڑکی کی نہیں چلتی تھی۔ انکار کا مطلب اذیت ناک سزا کی صورت میں بھگتنا پڑتا تھا – میڈم زیبا کے کارندے خونخوار وحشی جانوروں سے زیادہ خوفناک تھے ۔ لڑکیوں پر نظر رکھتے اور انہیں سزا بھی ان ہی کے ذریعے دی جاتی تھی ۔ آج کی رات بھی سیٹھ اکبر کے ساتھ اسے آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے ذہنی اذیت سے گزرنا پڑا ۔ سیٹھ ہانپنے لگا ۔ جب کہ شمسہ نے کوفت سے اپنی بے بسی پر نظر ڈالی ۔ دو آنسو پلکوں سے آزاد ہوئے اور اسکے رخسار پر خاموشی سے بہہ گئے ۔ اس نے سگریٹ سلگائی اور لمبے لمبے کش لینے لگی ۔ اپنے شکستہ ، تشنہ وجود کو سمیٹتے ہوئے وہ کوٹھی پر (رنڈی کا کوٹھا ) واپس آگئی ۔
اس کے ساتھ چار مزید کال گرلز اس کوٹھی پر رہتی تھی ۔ یہ میڈم زیبا نامی خرانٹ عورت کی رنڈیاں (کال گرلز ) تھیں – کبھی کبھی شمسہ کو کوئی جوان اور ہینڈسم گاہک لے جاتا ۔ شمسہ کے لیے جوان کا ساتھ نعمت سے کم نہ ہوتا ۔ وہ بھی انسان تھی ۔ گوشت پوست سے بنی ہوئی ۔ فرشتہ تو نہیں تھی ۔اسے بھی جسمانی تسکین کی ضرورت تھی۔ بدن کی ضرورت بھوک بن کر اسے بھی بے چین کرتی تھی ۔ وہ نا چاہتے ہوئے بھی جذبات کے دہکتے ھوئے تنّور کی لو سے مجبور ہوجاتی تھی ۔ وہ ایک ذرّہ تھی جو خود سے مہجور تھا ۔ آب و رنگ و خط و محراب سے بنا اس کا خوبصورت بدن مردوں کے لیے خاصی کشش رکھتا ہے ۔ اس جیسی بے شمار عورتیں سڑک کنارے پر ، چوراہوں پر ، ہاسٹلوں کے گیٹوں پر۔ ہوٹلوں کی لابیز میں ، پارٹیز کے بیچ میں ، میوزُک کے شور میں ، شراب کے بلوریں جام کی گردش میں ، کوٹھوں کی بالکونیوں میں ، کام والیوں کی قطاروں میں جسم و جان کا رشتہ برقرارکھنے کے لیے لگی ہوئی تھی ۔
“ہمیں کوئی پسند نہیں کرتا فروا ” شمسہ نے فروا سے کہا ۔ فروا بولی ۔”رات گئے گاڑی کے شیشے بجاتے ہاتھ بھی ہم انسانوں کے ہیں جنہیں سماج سیکس ورکر کہتا ہے ۔ سماج ہم سے نفرت کرتا ہے ۔ ہماری محرومیاں ہماری مجبوریاں کوئی نہیں سمجھتا شمسہ “۔ “ہمارے پروفیشن میں زیادہ تعداد ان افراد کی ہے جن کو زبردستی اس پروفیشن میں جھونک دیا گیا ۔ ہم چاہنے کے باوجود اس دلدل سے نکل نہ سکتے ۔”شمسہ بولی۔
کبھی کبھی شمسہ کا واسطہ نفسیاتی ، جنسی مریضوں سے پڑ جاتا – انسان نما یہ درندے اسے ربر کی گڑیا سمجھ کر تڑوڑنا مڑوڑنا اپنا فرض سمجھتے ۔ نت نئے تجربات اور سنسی خیز لمحات کی طلب میں خریدار آتے ۔ اس کے احتجاج کے نتیجے میں خریدار ہونے کا طعنہ دیتے ۔ چند گھنٹوں کے یہ خریدار اس کی روح اور جسم کو کچل کر چل دیتے ۔ اپنے زخموں کو سیتے سیتے وہ تھک جاتی ۔ ——————— آئمہ نے تیار ہوکر تنقیدی نظروں سے اپنے سراپے کو جانچا ۔ ٹرائے پوڈ پر سیٹ کیا ہوا موبائل آن کیا اور ٹک ٹاک بنانے لگی ۔ لہراتے ہوئے بل کھاتے ہوئے ، ادائیں دکھاتے ہوئے اس نے ویڈیو آپ لوڈ کی ۔ فلٹرز نے آتش حسن کو دوآتشہ کردیا ۔ ہوشرُبا اداؤں نے منچلوں ، ٹھرکی بڈھوں کے دلوں پر چھریاں چلا دی ۔ یہ ٹک ٹاک اس کی کمائی کا ذریعہ تھی ۔ اس سے پہلے اس نے انسٹا اور یو ٹیوب پر ویڈیوز آپ لوڈ کی تھی لیکن وہاں اسے کامیابی یعنی گاہک نہ مل سکے ۔ پھر اس نے فیس بک کا سہارا لیا ۔ فیس بک پر کنگلے تلنگے عاشقوں کی بھرمار تھی جو بغیر پیسے کے عیاشی کرنے کے لیے بیٹھے ہوئے تھے ۔ ٹک ٹاک پر اسے گاہک بھی ملے ۔ اپنے ہم خیال دوست بھی ۔ اس کا دھندا زوروں پر چل رہا تھا ۔ وہ بہت خوش تھی ۔ چند دن بعد اس کی سال گرہ تھی جس کا اعلان اس نے آج کی اس ٹک ٹاک ویڈیو میں کیا تھا ۔ عاشقوں کے میسیجز اور کالز کا جواب دیتے ہوئے وہ بہت پرُجوش تھی ۔ اپنے خیالوں میں تحائف اور دعوتوں کی ایک لسٹ وہ تیار کررہی تھی۔ لاہور کے مڈل کلاس علاقے میں اس کا سات مرلہ کا مکان تھا ۔ باپ ملک سے باہر تھا ۔ جبکہ آئمہ کی ماں کے اپنے دوست تھے ۔ آئمہ کی ماں آزاد خیال عورت تھی ۔ اس کا شوہر کئی سال پہلے ملک سے باہر گیا تو آئمہ کی ماں خالدہ بیگم نے اپنی جوانی کو صبر کے بھینٹ چڑھا کر ضائع کرنا مناسب نہ سمجھا ۔ مرد دوست بنالیے اس کی زندگی رنگین ہوگئی -شامیں حسین ہوگئی ۔ آئمہ بھی ماں کے نقش قدم پر چل پڑی ۔ پیسے کی کمی نہیں تھی ۔ دونوں کا مقصد عیاشی تھی ۔ آئمہ کے دوستوں اور عاشقوں نے دھوم دھام سے اس کی سالگرہ منائی ۔ جب پارٹی ختم ہوگئی آئمہ سونے کے لیے اپنے کمرے میں چلی گئی تو دوسرے صوبے سے آیا ہوا اس کا ایک سر پھرا عاشق آئمہ کے گھر کے باہر آ پہنچا ۔ اسے آئمہ نے سالگرہ کی پارٹی میں مدعو کیا تھا ۔ فراز نامی عاشق کو تو آئمہ سے پارٹی نہیں کچھ اور درکار تھا ۔ تحائف لیے وہ آئمہ کے کمرے میں رات کے اندھیرے میں چھپتا چھپاتا پہنچ گیا ۔ آئمہ کا کمرہ پہلی منزل پر تھا ۔ اس نے آئمہ کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی ۔ آئمہ کی مزاحمت پر اس نے آئمہ کو گولی مار دی ۔ پسٹل پر سائلنسر لگا ہوا تھا ۔ کسی کو خبر نہ ہوسکی _مجرم موقع واردات سے خاموشی سے فرار ہوگیا ۔ چند گھنٹے بعد آئمہ کے گھر والوں کو خبر ہوئی ۔ آئمہ کی ماں خالدہ بیگم کے تو ہوش اڑ گئے ۔ اکلوتی اولاد کا قتل اسے زندہ درگور کر گیا۔ تھانے میں مقدمہ درج کروایا گیا ۔ تفتیش شروع ہوگئی ۔ آئمہ کا والد بھی پاکستان آگیا ۔ خاندان کی بہت بدنامی ہوئی ۔
_________________ سرمد دو سال سے بے روز گار تھا ۔ جوتیاں چٹخاتے چٹخاتے وہ تھک گیا تو ایک دوست نے اسے پیسہ کمانے کے لیے سیکس ورکر بننے کا مشورہ دے دیا ۔ شکل و صورت سرمد کی اچھی تھی دراز قد اور خوبرو نوجوان تھا ۔ چالیس پچاس سال کی خواتین جن کے شوہروں کے پاس بیگمات کے لیے وقت نہیں تھا ۔ وہ سرمد کی گاہک بن گئی ۔ سرمد کا یہ دھندا چل گیا ۔ اسے پیسے بھی ملتے اور کسی بیگم سے تحفہ بھی مل جاتا ۔ تنہائی کی ستائی ہوئی یہ بیگمات دولت سے مالا مال تھی ۔ بچے ان کے اپنی زندگیوں اور سرگرمیوں میں مصروف تھے ۔ انکے تھکے ہوئے بدن سکون کے لمحات کی تلاش میں تھے ۔ انکے شوہر انکو چھوڑ کر کال گرلز کے ساتھ راتیں گزارتے ۔ یہ جلتی کلستی رہ جاتی ۔ توجہ اور اہمیت سے محروم یہ خواتین سرمد کی رومانوی باتوں اور تعریفوں سے بہت خوش ہوتی ۔ _______________ شمسہ کی ساتھی لڑکی فروا ایک ندیم نامی نوجوان کی لچھے دار باتوں میں پھنس گئی ۔ ندیم کے محبت کے جھانسے میں آکر وہ ندیم کے ساتھ بھاگ گئی ۔ میڈم زیبا نے انسپکٹر کی جیب گرم کی ۔ انسپکٹر نے مستعدی کا مظاہرہ کرکے ندیم اور فروا کو پکڑ لیا ۔ دونوں کو میڈم زیبا کے کہنے پر حوالات میں ٹارچر کیا گیا ۔ جب دونوں کے کس بل نکل گئے تو فروا واپس اڈے پر اور ندیم اپنے باپ کے گھر پہنچ گیا ۔ ———– شہر شب ماہ تاب کی یہ بے چین جادوگرنیاں ، خوبصورت لڑکیاں دشت ِبے وفا کی ہرنیاں ہیں – اپنوں کی نظروں سے اوجھل ، سرد کالی راتوں میں نم چہروں کے ساتھ بہتے اشکوں سے تر رخسار لیے یہ اپنے جادو کے طلسم سے اجنبی شوقین مزاج مردوں کو گھائل کرنے کے لیے مشہور ہیں ۔ لیکن ان کا جادو انکے اپنے کام نہیں آتا۔