آٹھ مارچ ۔۔۔ اقصیٰ گیلانی

8 مارچ

اقصیٰ گیلانی

چولہے پہ چاول چڑھاتی ہوئی عورتیں

جن کے چہروں کا سارا حسن، دلکشی

گرم چولہے سے اٹھتی تپش کی نذر ہو گئی

گاؤں کی بچیاں جن کے بھائی پرائیویٹ کالج میں پڑھتے رہے

اور انہیں پانچویں تک پڑھا کر سلائی کڑھائی سکھائی گئی

قتل بیٹا کرے ڈنڈ بیٹی بھرے

وہ جنہیں دس برس کی عمر میں بیاہا گیا

جن کو پردے میں بھی نوچا، کھایا گیا

جن کو مر کے بھی سکھ نہ میسر ہوا

جن کا مردا قبر سے نکالا گیا

جو ہمیشہ ہی تسکیں کا ذریعہ بنیں

بہکی ہوئی نا سمجھ بچیاں

جن کی لاشوں کو کوڑے کے ڈھیروں پہ پھینکا گیا

داغی اور پھولے بدن والیاں

جن کی ساری نزاکت نئے پھول جننے میں ضائع ہوئی

جنہیں گولڈ میڈل ملے نوکری کی اجازت نہیں

جنہیں بعد مرنے کے ستھرا کفن تو ملے

ماہواری کے دوران کپڑا نہیں

وہ کپاس کے بیج بوتی ہوئی حور عورت

وہ مِل کی مشینوں پہ جھکتی ہوئی کوئی مزدور عورت

جس کی پسینے میں بھیگی ہوئی چھاتیاں

تیز نظروں کی چھریوں سے کاٹی گئیں

جس کے شوہر نے دوجا بیاہ کر لیا اور وہ زندگی روز مر مر کے جیتی رہی

جس نے شوہر کو بھرپور جنسی آسودگی تو عطا کی مگر اس کو اولاد کا تحفہ نہ دے سکی

بانجھ ہونے کا احساس جس کی رگوں کو زھر بن کے کھاتا رہا

جو ساس کو اس لیے نہ جچی کے جہیز اس کا کم تھا

جس کے شوہر نے کونڈم کے پیسے بچا کر اسے بارہ بچوں کا ریوڑ دیا

وہ بھوکی پیاسی عمر بھر وہ ریوڑ چَراتی رہی اور بکھرتی رہی

جس کا محبوب وعدے نبھا نہ سکا

جس نے ابا کی مرضی سے زندہ بدن اس سوداگر کو سونپا

جسے زندہ مردہ سے تھا کوئی مطلب نہ کوئی غرض تھی

وہ اس کے لیے پالتو جانور تھی

جس نے بچوں کی خاطر اک اجنبی سے گزارا کیا

جس نے وٹے میں بیاہے ہوئے بھائی کی شادمانی کی خاطر

ہمیشہ مظالم سہے، چپ کا روزہ رکھا

اور بھائی نے بیوی کی باتوں میں آ کر کبھی جس کو ہنس کر بھی دیکھا نہیں

جس کے ابا نے بیٹے کی خواہش میں چھے بیٹیاں پیدا کیں

اور چھ بیٹیوں کی وراثت بھی بیٹے کی جیبوں میں ڈالی

جو اسپتالوں میں سرکاری نرسوں سے سو گالیاں کھا کے چپ چاپ بستر پہ لیٹی رہیں

جنہیں پرائیویٹ سکولوں  نے چھ چھ ہزاروں پہ نوکر رکھا

جن کو اجرت، گواہی وراثت میں تو حصہ آدھا ملا

مگر زندگی کی پٹاری سے نکلے غموں کا مکمل وزن جن کو کاندھوں پہ لادا ملا

جن کے برقعے بدن کو چھپا نہ سکے

کنجریاں جن کو روٹی نچاتی رہی

وہ جو جنت میں بھی ایسا مال غنیمت ہیں جن کی پیشانی پہ باندی لکھا ہے

جھانسی کی رانیاں جو نسل کو بڑھانے میں الجھی رہیں

نہ بنیں فلسفی نہ نبی ہو سکیں

جو ہمیشہ سے ہیں اور کہیں بھی نہیں

ایسی سب عورتوں پہ کروڑوں سلام

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.