کہانی ایک شہر کی/جواز جعفری/انجلا ہمیش
کہانی ایک شہر کی
جواز جعفری کی طویل نظمیں
انجلاء ہمیش
شہر جو غاصبین نے برباد کیے:
میں نےآسمان کا بلاوا مسترد کردیا
میری جڑیں
میرے لیے زنجیر بن گئ (سلام اس شہر پر)
انسانی تاریخ بھری ہے غاصبین سے جنہوں نے اجنبی زمینوں پر قابض ہو کے خون بہاے۔
البتہ شاعر جو انسانیت کا علمبرار ہے:
خون کی بارش میں
میں نے امید اور مزاحمت کے گیت لکھے
(سلام اس شہر پر)
شاعر ، غاصب بن کر نہیں بلکہ محبت اور امن کی تلاش میں سفر در سفر کرتا ہے :
میں نے دنیا کے مسرور ترین شخص کی تلاش میں
اجنبی سرزمینوں کے سفر کیے
(میں نے چہار باغ ایجاد کیا)
جواز جعفری کی نظم “انبیا کے جلا وطنی کے دن” کسی ایک زمین کے لیے نہیں بلکہ ہر اس زمین کے لیے ہے جس کے باسی کسی غیر قوم کے قبضے میں چلے گئے ان سے ان کی شناخت چھین لی گئ انہیں ان کی زمین پر بے یارو مددگار کردیا گیا۔
میرے حصے کے روشن دان
زمین پر اترنے سے پہلے بجھ گئے
آسمان کے کنارے بیٹھی رات
مردہ چراغوں کی قبروں پہ بین کرتی ہے
میری گندم کے سنہرے خوشے
اجنبی دسترخوانوں کی زینت ہوئے
جواز جعفری کی نظموں میں علامتی پیراے میں جدید دینا کی پیجیدگیوں کی بات کی گئ ہے۔یہ دیکھیے کہ :
میرے چہرے پر مکڑی جالا بنتی ہے
World wide web
نے انسانی زندگی پہ کتنے اثرات ڈالے ہیں ۔web ایک ایسا جال جس میں انسان پھنس چکا ہے۔ اس کی ڈئزائن اور مقصد مکڑی کے جال کی طرح ہے ۔انسان کو گمان ہے کہ وہ خوراک لیتا ہے ۔دراصل وہ خود خوراک بن چکا ہے۔اس کا وجود مکمل طور پہ web کی جکڑ میں ہے ۔یہاں تک AI نے تخلیقی ذہن کو بھی خشک کردیا ہے .
موجودہ گلوبل ویلیج میں لوگ اس طور رہ رہے ہیں کہ دنیا میں بڑی سے بڑی جنگ کسی ایک جگہ لڑی جارہی ہے تو اس کا شکار دنیا کے کسی دوسرے کونے میں بیٹھا ہوا وہ بالکل عام شخص ہورہا ہے جو فقط دو وقت کے لیے دھکے کھارہا ہوتا ۔نہ اس سے کسی بڑی جنگ پہ راے پوچھی جاتی ہے نہ وہ احتجاج کرسکتا ہے ۔بس وہ گلوبل ویلج کا حصہ ہونے کے ناطے صرف پستا ہے:
وگ آزادی پہ اصرار کرنا ترک کرچکے
وہ اپنے غمگسار دوستوں کی موت کے تمنائی ہیں
(مغائرت کی دیوار سے پرے)
مغائرت کی دیوار سے پرے ، جواز جعفری نے گلوبل ویلج کے نام پہ اس دھوکہ کی عکاسی کی ہے کہ لگتا ہے کہ آپ کا قریبی تعلق آپ کے ساتھ ہے مگر دراصل وہ آپ کے ساتھ نہیں ہوتا۔
وہ عورت
جو میرے برابر لیٹی موبائل فون پہ چیٹ کررہی ہے
میں اسے قریب سے دکھائی نہیں دیتا
ہمارے مابین صدیوں کی مسافت ہے
جسے ہم نے مشترکہ بستر کی سرد شکنوں سے ایجاد کیا
مغائرت کی دیوار سے پرے
اس عورت کی رسائی دور افتادہ ستاروں تک پے
(مغائرت کی دیوار سے پرے)
ڈاکٹر جواز جعفری کی یہ طویل نظمیں بیداری و آگہی کا استعارہ ہیں۔انہیں موجودہ تناظر میں سمجھنا ناگزیر ہوگیا ہے۔