میوزیم ۔۔۔ جیلانی بانو

میوزیم

جیلانی بانو

آیئے آیئے ۔۔۔ میڈم جی ۔۔۔ چھوٹے بابا

آپ نے پورے شہر کی سیر کرلی مگر اس میوزیم کو دیکھے بغیر کینیڈا واپس مت جائیے۔

شام ہو گئی ہے۔

اجی میڈم، شام تو روز ہی ہوا کرتی ہے۔ روز مشرق سے بھاگ دوڑ کر کے سورج دنیا کو مغرب کی طرف گھسیٹ لاتا ہے اور روز مغرب اسے اندھیرے میں ڈبو دیتا ہے۔

ہا ہا ہا۔۔۔ آپ بے فکر رہیے۔ رات ہونے سے پہلے آپ اپنے ٹھکانے پر ضرور پائی جائیں گی۔اس  میوزیم میں دنیا کے ہر کونے سے نایاب چیزیں اکٹھی کی گئی ہیں۔

یہ لیجئے یہ اس میوزیم کی گائیڈ بک ہے اور یہ البم ہے میں اس کی قیمت نہیں لوں گا۔ آپ میرے بغیر اس میوزیم کونہیں دیکھ سکیں گی میڈم ۔ آپ کو ایک گائیڈ کی ضرورت ہے۔

ابھی آپ میوزیم کے اندر قدم مت رکھیے۔

وہ آپ کو سامنے بادشاہ کا دربار خاص نظر آ رہا ہے؟ آپ یہاں کھڑے ہو کر تالی بجایئے۔

پورے محل میں آواز گونج اٹھتی تھی ، ” کوئی فریادی آیا ہے؟” بادشاہ سلامت گھبرا کے اُٹھ جاتے تھے۔ مگر جھٹ پٹ سارے مصاحب ان کے آس پاس کھڑے ہو کر انہیں یقین دلاتے تھے۔ یہ

تو جھونکا ہوا کا تھا۔ بھلا ان کے راج میں کسی کو فریاد کرنے کی کیا ضرورت ہے..؟

اب ملاحظہ فرمائیے۔

یہ ایک نایاب گھڑی ہے. ایک صدی ہوگئی۔ ہر گھنٹے پر گھڑی کے اندر سے ایک غلام نکل

کر ڈرم پر ضرب لگا کر محل کے اندر سونے والوں کو جگانا چاہتا ہے۔

مگر ابھی تک بچارے کی آواز محل والوں تک نہیں پہنچ سکی ۔

ذرا ٹھہر یے۔ ابھی اندر مت جائیے ۔ پہلے دروازے پر رکھے ہوئے ان حبشی غلاموں کے اسٹیچو تو دیکھ لیجئے۔

آپ کا بیٹا ٹھیک کہہ رہا ہے میڈم …. ان غلاموں کی آنکھیں نکال دی جاتی تھیں اور انھیں

مردانگی سےمحروم کر دیا جاتا تھا۔ کیونکہ وہ بیگمات کے حرم سرا کی حفاظت کرتے تھے۔

یہ دیکھئے۔ محمل کے دروازے پر کتنی شاندار تو پیں رکھی ہوئی ہیں۔ آپ ٹھیک کہ رہے ہیں چھوٹے میاں۔

اگلے وقتوں میں جب راجہ کسی ملک پر چڑھائی کرتے تھے تو وہاں کے عوام کو سنگسار کیا جاتا

تھا۔ پھر تلواروں سے مارنے لگے ۔ پھر بندوقوں سے اور اب تو عوام کے سر پر ایٹم بم کا سوئچ دبایا جاتا ہے۔ہا ہا ہا

آئیے۔ اب میوزیم کے اندر چلتے ہیں …

یہ شہنشاہ بابر کے جوتے ہیں ۔ ان ہی جوتوں کو پہن کر وہ ہندوستان میں داخل ہوا تھا۔ آج

بھی سیاست کے میدان میں داخل ہونے والے ان جوتوں میں پاؤں ضرور ڈالتے ہیں۔ یہ وہ تاج ہے جو شہنشاہ جہانگیر نے انار کلی کے لیے بنوایا تھا۔ بعد میں انارکلی کا سر اس میں سے غائب کر دیا گیا۔

اب آپ یہ دیکھئے . یہ شہنشاہ اکبر کی تلوار کی میان ہے … جی نہیں بادشاہوں کی میان

میں تلوار کبھی نہیں رہی۔ وہ تو صرف میان ہی سے ڈراتے تھے۔ یہ ایک شہنشاہ کی خواب گاہ ہے۔ سونے کا چھپر کھٹ سونے کی جالیاں ۔ خواب گاہ کے

سامنے سات کنواریاں سر جھکائے کھڑی ہیں۔ کون جانے ۔ آج کس کے نصیب جاگ جائیں۔ یہ ایک بھکاری کا اسٹیچو ہے۔ اسے بھی ضرور کسی بادشاہ نے ہی بنوایا ہوگا۔ دونوں ہاتھ پھیلائے وہ بھیک مانگ رہا ہے۔  

اس کے بارے میں صحیح طور پر میں بھی نہیں بتا سکتا کہ یہ کون سا زمانہ تھا جب کسی بادشاہ نے اپنے آگے کسی ہاتھ پھیلانے والے کو نہ پا کر یہ اسٹیچو بنوایا ہوگا

یہ مرزا غالب کی ٹوپی ہے۔ ہاں اس کا سائز بہت بڑا ہے. بہت سے شاعروں نے اسے پہنے کی کوشش کی۔ مگر ان کا منہ چھپ گیا۔ ہاہاہا پہلے مرزا غالب کا قلمی دیوان بھی اس میوزیم میں تھا۔سنا ہے کچھ ضرورت مند ادیبوں نے اس کا نیلام کر دیا۔

اب آپ اس گیلری میں آئیے ۔

یہاں دنیا بھر کی نایاب پینٹنگس کا کلیکشن ہے میڈم

یہ دیکھئے ایک شاعر دربار میں بادشاہ کی شان میں قصیدہ پڑھ رہا ہے۔ اس شاعر کا منہ

موتیوں سے بند کر دیا جاتا تھا

اس زمانے میں ایوارڈ دینے کا یہی طریقہ تھا میڈم جی. یہ ایک اور شہنشاہ کا دربار ہے۔

سارے رتن سر جھکائے آنکھیں بند کیے کھڑے ہیں۔

جی؟ آپ کے بیٹے پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ پارلیمنٹ ہاؤس ہے۔ ہاہاہا ۔

 سنا ہے ان درباروں میں آنے والوں کا اگر قد اونچا ہوتا تھا تو ان کا سرکاٹ کر چھوٹا

کر دیتے تھے۔ یہ دنیا کی نایاب کتابوں کے مین اسکرپٹس ہیں۔ ان میں کیا لکھا ہے؟ یہ تو شاید ابھی کھول کر نہیں دیکھا گیا ہے۔

آپ پہلے یہ پینٹنگ دیکھ لیجئے میڈم ! سقراط کو سچ بولنے کے جرم میں زہر کا پیالہ پلایا جارہا ہے۔ ہاں چھوٹے بابو ! سچ بولنا آج کی طرح اس وقت بھی جرم تھا۔

یہ ایک اور بھی پینٹنگ ہے۔ نافرمانی کرنے والے کو سنگسار کیا جارہا ہے۔ چھوٹے میاں ! پرانے زمانے میں انہیں پتھروں سے مارتے تھے۔ پھر تلواروں سے مارنے لگے پھر بندوقوں سے نافرمانی کرنے والوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔ اب ان کے سروں پر ایٹم بم رکھ دیا گیا ہے۔

جی ہاں۔ دنیا مسلسل ترقی کر رہی ہے نا۔ یہ مصر کا بازار ہے نیم برہنہ حسینائیں۔ اپنے حسن اور جوانی کی جھلک دکھا کر امیروں اور شہزادوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہیں۔

نہیں چھوٹے بابو ! یہ کناٹ پلیس نہیں ۔ اس فریم کے اندر سونے کے حروف سے لکھا کسی شہنشاہ کا فرمان مبارک ہے۔ اس فرمان کی عبارت کا ترجمہ الگ رکھا گیا ہے۔

حرم سرا کی دوسورانیوں کے منصب کو دوگنا کر دیا گیا ہے۔

آزادی تمام وزیروں کے لیے۔

طلعت اور انعام تمام شہزادوں کے لیے۔

سزائیں اور جرمانے ۔ سوچنے والے نو جوانوں کے لیے

بائی اور سرکش عوام کو جہنم رسید کرنے کے لیے ظل سبحانی نے اپنے ملک میں ہی ایک دوزخ تعمیر کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ ملکہ عالم کے زیورات ہیں .

ی شہزادے کا سونے کا پالتا ہے۔

یہ شہنشاہ کے ہیروں موتیوں سے آراستہ جوتے ہیں۔ اس سیکشن میں دنیا کے نایاب اسٹیچوڑ ہیں میڈم !

ان سنگ تراشوں نے بڑے بڑے مہاتماؤں اور دنیا کی مشہور ہستیوں کو کس خوبی سے

پتھر میں ڈھال دیا ہے ملاحظہ فرمائیے بیگم صاحبہ بہن جی آپ ٹھیک کہ رہی ہیں ۔ پتھر کو پیار اور عقیدت کے ہاتھوں سے ڈھال تو بھگوان کا روپ دھار لیتا ہے۔ اور ہوس بھرے ہاتھ ایک عورت کو پتھر بنا دیتے ہیں۔ یہ دیکھئے یہ میرا بائی ہے۔

کہتے ہیں اس کے پتی نے اس کے ہاتھ سے اکتارہ چھین کر اس

کے منہ سے گیت بھی چھین لیے تھے ۔ آپ دیکھئے اب وہ اس میوزیم میں پتھر کی عورت نظر آتی ہے۔ … یہ دیکھئے فرعون راون مسولینی ہٹلر کے اسٹیچوز ہیں ۔ دور سے دیکھے تو ایسا

لگے گا جیسے سچ مچ کا فرعون کھڑا اپنی خدائی کا اعلان کر رہا ہے۔

اس کے بعد یہ سب اور بادشاہوں اور ہمارے لیڈروں کی قطار شروع ہو جاتی ہے۔ ان کو بھی خدا ہونے کا اتنا ہی یقین تھا۔

یہ ہمارے آخری راہ نما ہیں.

قریب آکر دیکھو چھوٹے بابا ! وہ ہاتھ میں ایٹم بم اُٹھائے اس سنسار کے خاتمے کا اعلان

کرنے والے ہیں ۔ مگر ایک اڑچن آگئی ہے..

ساری دنیا کوختم کر دیں گے تو انہیں نوبل پرائز کون دے گا ؟

اب سامنے دیکھئے۔

کتنا اونچا مہاتما بدھ کا مجسمہ ہے وہاں ۔

آپ چاہیں کسی طرف جا کھڑے ہوں ۔ بدھا کی نگاہیں آپ کا پیچھا کیے جائیں گی۔

میڈم جی ! کچھ دیر یہاں رُک جائیے۔ آنکھیں بند کر لیجئے اور غور سے سنیے

بدھا آپ سے کہہ رہا ہے۔

اتم جو کچھ کہ رہے ہو، اسے سنا بھی کرو “”

پینٹنگ یہاں پہلے نہیں تھی ۔ شاید ابھی آئی ہے۔

یہ کسی آج کے مصور کی آخری پینٹنگ ہے ۔ سنا ہے اس کی سب پینٹنگس جلا دی گئیں۔ اس کا ٹائٹل ہے پتھر کا شہزادہ۔

سوری میڈم یہ تو میں نہیں جانتا کہ مصور نے اس پینٹنگ کا یہ نام کیوں رکھا ہے ؟ شہزادے کو تو پیچھے پلٹ کر دیکھنے پر سزا ملتی تھی ۔ مگر اس شہزادے کو شاید آگے دیکھنے کے جرم میں پتھر بنا دیا گیا ہے۔

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.