ننگے پیر ۔۔۔ سارا شگفتہ
ننگے پیر سارا شگفتہ آنکھ ! تیرے بادبان کورے لٹھے کے بنے ہوئے ہیں مٹی
ننگے پیر سارا شگفتہ آنکھ ! تیرے بادبان کورے لٹھے کے بنے ہوئے ہیں مٹی
لاشہ نمرہ وارث ہر صبح یہ لاشہ، یہ بستر آنکھیں، جو ہمیشہ کھلی رہتی ہیں
اشعور احمد ہمیش (سفید پانیوں کے نام) میں سو گیا تو زندگی علامتوں کی کھوج
غلط پتہ پر پہنچنے والی لڑکی صفیہ حیات وہ کالی چادر اوڑھے درگاہ کے ستون
غزل ماہ نور رانا ترے فقیر کا تیور خراب ہونے تک عدو کی مِلک ہے
پوسٹ مارٹم نیراد پٹیل انہیں اس کی ناف سے مشک نہیں ملی اس کی چمڑی
وہ کہتا ہے ۔۔۔۔ احیا زہرا ایک مدار سے دوسرے مدار کوچ کرنے کے لیے
نظم مہجوربدر ماں میں ابھی مرنا نہیں چاہتا تھا بہت سے کام ادھورے تھے بہت
غزل فرح خاں دریا کے پاس جا کے ارادہ بدل گیا ہونٹوں پہ ٹھہری پیاس
وصال کی صبح سرمد سروش گجر دم اٹھا ہوں، الارم سے پہلے مگر آج روئی