خاموشی کی وراثت ۔۔۔ فرید آذر
خاموشی کی وراثت فرید آذر بچپن میں لفظ لبوں تک آتے، پر دروازے پر پہرا
خاموشی کی وراثت فرید آذر بچپن میں لفظ لبوں تک آتے، پر دروازے پر پہرا
سب ہم نے سویئکار کیا فارحہ نوید من مندر ما دِیپ جلایا , خُوب سجی
غزل شہزاد تنویر صوفی نظام خوف کا ایسے نہیں بنایا گیا قدم قدم پہ ہمیں
1۔ مفلس زندگی نازیہ نگارش منتظر نہیں ۔۔۔۔۔ !!ا مگر اہل نظر کی نگاہ راستوں
شب بسری عبیرہ احمد پلکوں سے پانی کا آخری ریلا کب کا گزر چکا ہے
روشنی کا ذائقہگل جہاں روشنی کا کوئی ذائقہ یاد ہے تو بتاؤ اس آواز کا
غیر متیعن راہ انجلاء ہمیش کائنات کے نظام میں اضطراب ہے ایک چیونٹی پاوں کی
شہزاد احمد جسے بار ہا ملے تھے تم، وہ میرے سوا کوئی اور تھا میرے
کچھ چیزیں مجھ سے باتیں کرتی ہیں (چائے کی ٹوٹی پیالی) احمد ہمیش مجھے اٹھا
غزل ثمین بلوچ وہ شخص سلیقے سے بچھڑتا بھی نہیں ہے اور وصل کی بانہوں