کور چشم ولدیت ۔۔۔ صفیہ حیات
عالمی یوم خواتین کور چشم ولدیت صفیہ حیات میں نے کوکھ میں پلنے والے ابدان
عالمی یوم خواتین کور چشم ولدیت صفیہ حیات میں نے کوکھ میں پلنے والے ابدان
کھارے پانی کی برف مسعود قمر کھارے پانی کی برف اس محبت کی طرح ہوتی
ایک لمحہ کا دکھ انجلا ء ہمیش خوشی بہت معصوم ہوتی ہے ایک بلی کے
ایک چھوٹے شاعر کی آخری نظم عاصم جی حسین “وہ نہیں آیا” دہلیز پہ پڑی
سن باتھ سلمان حیدر تمہارے ہاتھ کی خوشبو مرے الجھے ہوئے بالوں سے لپٹی ہے
کھیل تماشا عابد حسین عابد کتنے نازک موڑ پہ آکر پوچھ رہے ہو کھیل مکمل
خاموشی کی وراثت فرید آذر بچپن میں لفظ لبوں تک آتے، پر دروازے پر پہرا
سب ہم نے سویئکار کیا فارحہ نوید من مندر ما دِیپ جلایا , خُوب سجی
غزل شہزاد تنویر صوفی نظام خوف کا ایسے نہیں بنایا گیا قدم قدم پہ ہمیں
1۔ مفلس زندگی نازیہ نگارش منتظر نہیں ۔۔۔۔۔ !!ا مگر اہل نظر کی نگاہ راستوں