غزل ۔۔۔ حسن جمیل
غزل حسن جمیل کوئی مکاں ہو تو خود کو مکیں کریں ہم لوگ کسی قیاس
غزل حسن جمیل کوئی مکاں ہو تو خود کو مکیں کریں ہم لوگ کسی قیاس
نظم عبیرہ احمد عطر کی تیز مہک پر اک مدہم سی خوشبو کیسے غالب آجاتی
نظم احیا زہرا میں بے سر کا ایک جسم چہروں سے بھری اس دنیا میں
سرخ پوشاکیں کنیز باھو “اپنے ملک پہ سایہ فگن آسمان بھی اپنا ہوتا ہے” کچھ
غزل احمد ہمیش صبح فراق الاماں وصل کی شام الاماں عجیب ہے بساط عشق عجب
چلچلاتی دھوپ میں باسی ہوتا کیک مسعود قمر میں نے اور خرگوش نے بیکری سے
میں خاک میں گونجتا ہوں عاصم جی حسین میں خاک میں گونجتا ہوں اور درد
چنگاری صفیہ حیات تم میرا نام راکھ پہ لکھ کر تو دیکھو بجھی چنگاری بھڑک
گہری دھند فاطمہ مہرو درد راستہ نہیں دکھاتا ! یہ اندھا ہوتا ہے دھند کے
شب گزیدہ عمارہ عامر خٹک میں نے اپنی آنکھوں کی مشعلیں بجھا دی تھیں میں