مصلوب ۔۔۔ نیلم ملک
“مصلوب” نیلم ملک میرے کمرے کی بستر کے سامنے والی دیوار جس پر کهڑکی ہے
“مصلوب” نیلم ملک میرے کمرے کی بستر کے سامنے والی دیوار جس پر کهڑکی ہے
نظمم جاوید جبار ہماری باتوں میں حیرت کے ساتھ غصے کا اظہار خوف اور وقتی
غزل شہناز پروین سحر غبارِ وقت میں اب کس کو کھو رہی ہوں میں یہ
غزل تنویر قاضی دھمال میں خُمار سا بنا لیا سو ہجر خوش گوار سا بنا
جانتے ہو اُم ِ عمارہ جانتے ہو میں جب بھی زمین پر کسی کو تکلیف
تنہا میر ساگر گھر سے گھر تک تنہا ہوں میں باہر تک تنہا ہوں دُھول
غزل فرح خاں تری دنیا سے باہر ہو گئ ہوں میں اب خود کو میسر
“اے میرے غم” اختر حسین جعفری جَلتے مہر، خُنک مہتاب کے رنگ سمجھتے، تارِ نظر
ناسٹیلجیا شاذیہ مفتی مجھے رستہ نہیں ملتا بھٹکتی پھر رہی ہوں راہداریوں میں کہیں روزن
میں حاضر ہوں خوش بخت بانو میں حاضر ہوں کیا کوئی کھلونا چاہیے کھیلنے کے