سبز قانون کی ممتا ۔۔۔ ثمین بلوچ
سبز قانون کی ممتا ثمین بلوچ چھوٹی کلائیوں میں چھوٹی چوڑیاں اچھی لگتی ہیں ایک
سبز قانون کی ممتا ثمین بلوچ چھوٹی کلائیوں میں چھوٹی چوڑیاں اچھی لگتی ہیں ایک
ٹوٹے دندانوں والا کنگھا مسعود قمر ہم پھٹی بدبودار جرابیں نہیں بدلتے ہم پھٹی بدبودار
ہم ملنا چاہتے ہیں مہجوربدر ہم ملنا چاہتے ہیں ہر سانس کے آنے جانے میں
بے جنم تعبیروں کا اسقاط صنوبر الطاف عورتیں طلوع ہوتی ہیں جکڑے جسموں کے ساتھ
اداسی نادیہ عنبر لودھی ملگجے اندھیرے میں کمرے کے ایک کونے میں چھپی ہوئی اداسی
] کھڑکیاں گُل جہاں میں کائنات اور اپنی عمر گن چکا مگر ابھی تو انگلیوں
حج ِ اکبر سلمان حیدر کورے لٹھے کی ان سلی چادر میں میں نے اپنی
تکمیل سے پہلے کا ایک دن مسعود قمر ایک نامکمل شخص سے کوئی محبت نہیں
سکارف کی گرہ میں بندھی محبتیں مسعود قمر پرندہ ہوا کو چیرتا اپنی اڑان کا
کتاب مسعود قمر میرے لیے کتاب ہی کافی ہپے جو تنہائی کو مجھ سے تنہا