نظم ۔۔ مایئکل کریچٹون
نظم Michael Crichton ترجمہ :: طاہر راجپوت کیا انسان واقعی با شعور اور آگاہ مخلوق
نظم Michael Crichton ترجمہ :: طاہر راجپوت کیا انسان واقعی با شعور اور آگاہ مخلوق
“دوئی کیسی؟” کوثر جمال تو کائنات ہے اور میں میں ہی نہیں تو بھی ہے
برٹش میوزیم میں بھوک کی نمائش کب ہو گی؟ اقصیٰ گیلانی جب دھرتی پر گندم
رعایت سپنا بھٹ/تصنیف حیدر رسوئی گھر میں ایک دم ٹھیک مقدار میں ذائقے کا خیال
غزل محمد بوٹا انجم (ملایشیا) شناسائی سے اگلے مرحلے کا ۔۔۔۔۔کام کرتے ہیں متاعِ جِسم
غزل شہناز پروین سحر غبارِ وقت میں اب کس کو کھو رہی ہوں میں یہ
نسل در نسل کملا داس(مترجم۔ یاسمین حمید) ہم نے اپنی جوانی بے ضرر گناہوں میں
استعارے ڈھونڈتا رہتا ہوں ……… سرمد صہبائی استعارے ڈھونڈھتا رہتا ہوں میں دھوپ میں اڑتی
یوم ِ ابتلا سرمد سروش آزمائش کا ہنگام آیا تو میں ۔۔۔۔ جو کہ بعد
بے چار گی ناجیہ احمد رات چاند کانٹوں میں الجھ گیا تھا اسے چھڑانے کی