رُتبہ ۔۔۔۔ ثمینہ تبسم
رُتبہ (ثمینہ تبسم) اُسے کم زور مت سمجھو وہ بیچاری نہیں ہے اُسے تقدیر کی
رُتبہ (ثمینہ تبسم) اُسے کم زور مت سمجھو وہ بیچاری نہیں ہے اُسے تقدیر کی
غزل (اسد نذیر) پاس ھے مگر وہ ساتھ نہیں ھے ھاتھوں میں ھاتھ ھے مگر
فیصلے کا پل (صدف مرزا) مقدر اپنے سارے ہمارے ہی برہنہ پا کے ٹھہرے تھے
نظم پر نظم عائشہ شمع کا تعلق سندھ سے ہے مگر وہ کافی عرصہ سے
عورت اور ابارشن (اعجاز منگی) مرد عورت کو نہیں سمجھ سکتا کیوں کہ وہ حاملہ
غزل (جمال احسانی) خورشید ِ وصال اس کے اجالے کے لئے ہے اور ہجر کی
اے وطن سے خفا خفا لوگو (ارشاد عرشی ملک) محفلِ شب کے ہم نوا ،لوگو
سری لنکا میں سمندر کنارے (شازیہ محمود) سمندر کی لہریں میرے پاوں کی انگلیوں کے
غزل (اختر کاظمی) تھی مال و زر کی ہوس اضطراب بیچ آئے سوال لے کے
غزل شہناز پروین سحر ڈوب کر اُبھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے رات کے گذرنے