نگاہیں ۔۔۔ انتونیو پونتے

نگاہیں

انتونیو حوزے پونتے (کیوبا)

مترجم : محمد فیصل (کراچی)

’’اس نے گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کیے، بہت چھوٹے‘‘۔

’’اس کے اپارٹمنٹ کی طرح‘‘۔

’’ہاں! اور تم جانتی ہو کہ اسےاُس چھوٹے سے اپارٹمنٹ کے کچن میں گوشت کاٹتے دیکھ کر میں نے کیا سوچا‘‘۔

’’مجھے اندازہ ہے‘‘۔

’’میں نے سوچا کہ ہمارابیٹا سگھڑاپے میں کسی بیٹی سے کم نہیں‘‘۔

دونوں عمر کے اس حصے میں تھے جہاں ایک دوسرے کے بغیر گزارا ممکن ہی نہ تھا۔ بیٹے کے جانے کے بعد دونوں ایک دوسرے کا بچوں کی طرح خیال رکھتے تھے۔

’’شکر ہے کہ ہمارا ایک بچہ ہے‘‘۔

’’اس نے کیلوں کو ایک جیسے گول ٹکڑوں میں کاٹا اور پھر ہر ٹکڑے سے چھلکا علیحدہ کیا۔ تم نے تو کبھی ایسا نہیں کیا‘‘۔

’’نہیں‘‘۔

ماں نے اشتیاق بھرے لہجے میں دریافت کیا۔

’’اس کے اپارٹمنٹ کے بارے میں بتائو، وہ کتنا بڑا تھا،سجاوٹ کی کہ نہیں‘‘۔

باپ نے اس کے اپارٹمنٹ کے کمروں کے بارے میں بتانا شروع کیا۔ کمرے تھے بھی کتنے۔ ایک بڑا کمرہ، ایک چھوٹا، ایک کچن اور اس کے باہر تھوڑی سی جگہ جہاں دو افراد بیٹھ کر کھانا کھا سکیں۔ باپ نےساری تفصیل بیان کرنے کے بعد اتنا کہا۔

’’بس یوں سمجھ لو کہ اس کا پورا اپارٹمنٹ ہمارے ڈرائنگ روم میں سما سکتا ہے‘‘۔

ماں نے دل میں سوچا کہ وہ اِس بڑے گھر کی کمی تو محسوس کرتا ہوگا۔اس نے باپ سے سوال کیا

’’اس نے گوشت کھایا یا نہیں‘‘۔

گوشت ان دونوں نے اپنے بیٹے کے لیے بھیجا تھا۔

’’اس نے کچھ ٹکڑے پکائے اور ہم دونوں نے اکٹھے کھانا کھایا اور کھانے کے دوران اس نے اپنے کام کے بارے میں بتایا‘‘۔

’’اس نے تمھیں بتایا ہوگا کہ اسے کام کے سلسلے اب کسی اور شہر جانا ہے‘‘۔

’’تمھیں کیسے پتا‘‘؟

’’میں اس کی ماں ہوں، اس کے بہانے اچھی طرح سمجھتی ہوں‘‘۔

ماں کے لہجے میں تفاخر کی جھلک تھی۔

’’ہوں ! ایک لحاظ سے کہہ سکتے ہیں‘‘۔

’’اسے ہم سے دور رہنے کے لیے بہانے تراشنے پڑ رہے ہیں‘‘۔

ماں کی آواز میں غصہ اور بے چارگی چھلک رہی تھی۔اس نے دوبارہ سوال کیا

’’کیا وہاں ایسی چیز نظر آئی جو اس کی نہ تھی؟ میرا مطلب ہے کہ کیا وہ اکیلا رہ رہا تھا‘‘؟

’’ہمارے علاوہ وہاں کوئی نہ تھا اور نہ ہی مجھے کوئی غیر معمولی چیز نظر آئی۔ ہاں البتہ ایک بات مجھے تھوڑی عجیب لگی‘‘۔

’’وہ کیا‘‘؟

’’اس نے گوشت کوتلنے کی بجائے بھونا، اور اسے اچھی طرح چبا کر کھایا‘‘۔

’’اور تم نے‘‘!

’’میرے گوشت کھانے کا انداز تو تمھیں معلوم ہی ہے‘‘۔

’’کھانے کے بعد کیا کیا‘‘؟

’’کھانے میں تھوڑا سا وقت لگ گیا۔ گوشت کے ٹکڑے اچھی طرح بھونے نہ جاسکے۔ کھانے کے بعد اس نے مجھ سے میرا پروگرام پوچھا ۔ ریل کی روانگی میں ابھی تین گھنٹے باقی تھے۔اس نے کہا کہ ہم اس وقت کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں‘‘۔

’’رکو مت! بتاتے رہو‘‘!

’’اس کے اپارٹمنٹ کے پاس ایک دو سینما گھر اور ایک بڑا شاپنگ پلازہ تھا۔ مگر میں نے کہا کہ ہم ساحل پرکچھ چہل قدمی کریں گے‘‘۔

’’اوہ! ساحل پر چہل قدمی۔ یہ کیوں نہیں کہتے کہ وہاں اپنی سہیلیوں سے ملنا چاہتے تھے‘‘۔

ماں مسکراتے ہوئے بولی۔

باپ بھی خوش دلی مسکرایااور بولا۔

’’ارےوہ پرانی باتیں ہیں۔ انھوں نے مجھے اب وہاں کہاں ملنا تھا۔ وہ تو میری طرح کھنڈر ہو چکی ہوں گی‘‘۔

’’اچھا یہ بتائو،اسے پتا تھا کہ تم کن چکروں میں ہو‘‘۔

’’نہیں۔ اس نے مجھے بس اتنا کہا کہ اس وقت ساحل پر جانا ٹھیک نہیں، ساحل اس وقت ویران ہوگا‘‘۔

’’وہ کیوں‘‘؟

’’وہ چودھویں رات تھی اور لہریں بے قابو ہو کر ساحلی دیوار سے ٹکڑا رہی تھیں۔اس وقت ساحل پر چہل قدمی کامطلب تھا کہ آپ سمندر ی پانی میں نہا لیں‘‘۔

’’مگر تم پھر بھی وہاں گئے‘‘؟

’’ہاں ! تھوڑی دیر سڑکوں پر آوارہ گردی کی او ر پھر ساحل کی طرف بڑھے‘‘۔

’’وہاں تمھیں کوئی ملا‘‘۔

’’وہاں تین چار لڑکیاں موجود تھیں مگر ان کی ساری توجہ وہاں آہستگی سے گزرنےوالی گاڑیوں پر تھی۔ جیسے ہی کوئی گاڑی سست ہوتی ، وہ اس کی طرف لپکتیں‘‘۔

’’انھوں نے تمھاری طرف نہیں دیکھا‘‘؟

مجھ بوڑھے کی طرف۔ مجھے دیکھ کر انھوں نے کیا کرنا تھا۔

’’اوہو! میرا مطلب ہے اس کی طرف‘‘۔

’’ایک لڑکی نے اس کی طرف دیکھا تھا۔ ہاں ایک لڑکی نے، چند ثانیوں کے لیے۔وہ اسے دیکھ کر ٹھٹکی جیسے وہ اسے کوئی اور سمجھ رہی تھی مگر پھر اسے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہو‘‘۔

’’اور پھر‘‘؟

وہ دوبارہ گاڑیوں کی طرف لپکنے لگی۔

’’بولتے رہو‘‘!

’’بس اس کے بعد ہم اس کے اپارٹمنٹ واپس آگئے۔ دونوں نے کافی پی۔ مجھے بہت سکون ملا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ اس نے غور کیا کہ وہ لڑکی اسے دیکھ کر ٹھٹک گئی تھی۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا‘‘۔

’’اس سمے یقین مانو، مجھے بالکل بھی عجیب نہیں لگا کہ میں اپنے بیٹے سے کس موضوع پربات کر رہا ہوں۔ ہم دونوں اس کے چھوٹے مگر پُر آسائش اپارٹمنٹ میں آتش دان کے سامنے گرم گرم کافی پی رہے تھے اور وہ عورتیں سردی میں سڑکوں پر خوار ہو رہی تھیں‘‘۔

باپ چپ ہوگیا۔ کافی دیر تک دونوں ہی خاموش رہے۔آخر ماں نے خاموشی کو توڑا

’’دوبارہ بتانا‘‘!

’’کیا دوبارہ بتائوں‘‘؟

’’اس لڑکی نے اسے کن نگاہوں سے دیکھا تھا‘‘؟

مصنف کا تعارف:

انتونیو حوزے پونتے

Antonio José Ponte

-1964

_____________

انتونیو پونتے اپنی مرصع اور دل چسپ نثر سے زیادہ حکومت پر سخت تنقید کی وجہ سے زیادہ مشہور ہیں۔ وہ نہ صرف ناول، افسانے لکھتے ہیں بلکہ انھوں نے بے شمار مضامین اور ٹی وی/تھیٹر/فلم کے لیے مکالمے بھی تحریر کیے ہیں۔ ان کی دو کتب شائع ہو چکی ہیں۔

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

June 2024
M T W T F S S
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930