تصور بیگانگی۔۔۔کارل مارکس/صفدر میر

تصور بیگانگی

کارل مارکس

ّآخری قسط)

4۔ انسان کی انسان سے بیگانگی

مارکس کہتا ہے کہ انسان کی اپنی محنت سے بیگانگی، اس محنت کی پیداوار سے بیگانگی، پیداواری عمل سے بیگانگی، اپنی ذات اورنوع انسان کے جوہر سے بیگانگی ناگزیر طور پر انسان کی انسان سے بیگانگی کو جنم دیتی ہے۔ مارکس کے مطابق انسان کی اپنی ذات سے بیگانگی کا پہلا اظہار ہی اس کی دوسرے انسانوں سے بیگانگی کی صورت میں ہوتا ہے۔ ہمارے لئے ایک محنت کش کی دوسرے محنت کش سے بیگانگی کو سمجھنا تو آسان ہے لیکن انسانوں میں تو سرمایہ دار اور محنت کش دونوں شامل ہیں۔ تو کیا سرمایہ دار بھی بیگانگی کا شکار ہوتے ہیں حالانکہ وہ تو اپنی قوت محنت اجرت کے عوض کسی کو نہیں بیچتے ؟اس کا جواب ہاں میں ہے، کیونکہ سرمایہ دار کی شعوری سرگرمی بھی حقیقی معنوں میں آزاد یعنی ذات کے اظہار کے طور پر نہیں ہوتی بلکہ سرمائے کے نظام کے آہنی قوانین کے تابع ہوتی ہے۔ یعنی سرمایہ دار بھی نوع انسان کے جوہر اور خود اپنی ذات سے بیگانہ ہی ہوتا ہے۔ لیکن سرمایہ دار کی بیگانگی کئی حوالوں سے محنت کش کی بیگانگی سے مختلف بھی ہوتی ہے۔ ایک تو جہاں محنت کش کو بیگانگی(خود استحصال زدہ ہونے کی وجہ سے) بیگانہ سرگرمی کے کے طور پر محسوس ہوتی ہے وہیں سرمایہ دار(بیگانہ محنت کا استعمال کنندہ ہونے کی وجہ سے) اس کو محض ایک سماجی حقیقت کے طور پر محسوس کرتا ہے۔ دوسرا، چونکہ محنت کش پیداواری عمل میں شریک ہوتا ہے اور اپنی محنت کا استحصال کرواتا ہے، اسی لئے وہ بیگانگی کو ایک عملی مسئلے کے طور پر محسوس کرتا ہے جبکہ سرمایہ دار بیگانگی کو مجرد انداز میں دیکھتا ہے۔ تیسرا یہ کہ اگرچہ سرمایہ دار بھی سرمائے کے تابع ہونے کی وجہ سے اپنی ذات کے اظہار سے محروم ہوتا ہے لیکن مزدور کی طرح کسی اور کے ہاتھوں اس کی محنت کا استحصال نہیں ہو رہا ہوتا۔ اسی لئے بیگانگی کے ذہنی اور جسمانی اثرات جتنے مزدور کے لئے تباہ کن ہوتے ہیں اتنے سرمایہ دار کے لئے ہر گز نہیں ہوتے۔

اسی طرح محنت کش کی سرمایہ دار سے بیگانگی کی نوعیت بھی مزدور کی مزدور سے بیگانگی کی نوعیت سے مختلف ہوتی ہے۔ جب سرمایہ دار مزدور کی قوت محنت کو خرید لیتا ہے اور اس کے نتیجے میں مزدور کی محنت اور اس کی پیداوار مزدور سے بیگانی ہو جاتی ہے تو لازمی طور پر اس محنت کو استعمال میں لانے اور اس کی پیداوار پر ملکیت رکھنے والا شخص بھی مزدور کے لئے بیگانہ ہو جاتا ہے۔ اور بالکل ویسے جیسے مزدور بیگانہ محنت کی وجہ سے اپنی ہی پیداکردہ اشیاکے تابع ہو جاتا ہے، ان سے مرعوب ہو جاتا ہے، ان کے مقابلے میں اپنے آپ کو حقیر سمجھتا ہے، ویسے ہی وہ سرمایہ دار کو ایک ایسی ہستی کے طور پر دیکھتا ہے جو اس کے کنٹرول سے باہر ہے اور اس پر حاکمیت رکھتی ہے۔ وہ اس سے مرعوب ہوتا ہے اور اپنے آپ کو اس کے مقابلے میں نہایت حقیر جانتا ہے۔ حتی کہ خود پیداکنندہ ہونے کے باوجود وہ اپنی پیداکردہ اشیا کو سرمایہ دار کی ہی تخلیق اور ان پر اس کی ملکیت کو بر حق سمجھتا ہے۔

کموڈٹی فیٹشزم

سرمایہ کی جلد اول میں مارکس سرمایہ دارانہ سماج میں بیگانگی کے ایک اور پہلو کی بھی نشان دہی کرتا ہے۔ مارکس اسے کموڈٹی فیٹشزم( استصنام شے) کا نام دیتا ہے۔ آسان اردو میں ہم اس کا ترجمہ اشیا پرستی بھی کر سکتے ہیں۔ یہ ایک مشکل تصور ہے۔ آئیں اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سرمایہ داری، یونیورسل کموڈٹی پروڈکشن کا نظام ہے یعنی اس میں تمام پیداوار منڈی میں بیچنے کی غرض سے کی جاتی ہے۔ تمام تر پیداوار بکنے کے لئے کموڈٹیز کی صورت میں منڈی پہنچتی ہے جہاں ان کی قدر تبادلہ کی مناسبت سے یا تو ان کا آپس میں تبادلہ ہوتا ہے یا پھر قدر کے کسی آفاقی متبادل( پیسے) کے ساتھ۔ لیکن اشیا کی قدر تبادلہ کا تعین کیسے ہوتا ہے؟اشیا کی قدر ہی، تبادلے کے عمل میں، ان کی قدر تبادلہ کی صورت میں اپنا اظہار کرتی ہے۔ اور اشیا کی قدر کا تعین ان کو بنانے میں صرف ہونے والی مجرد انسانی محنت( جسے لازمی سماجی وقت محن کی صورت میں ماپا جاتا ہے)کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ منڈی میں اشیا کا تبادلہ درحقیقت پیداواری عمل میں شریک انسانوں کی محنت کے معروضی اظہار(اشیاکی صورت میں) کا تبادلہ ہوتا ہے۔ یہی امر کسی بھی انسان کی محنت کے سماجی کردار کو بھی عیاں کرتا ہے کیونکہ اس کی پیداکردہ شے کا منڈی میں تبادلہ صرف تبھی ممکن ہے جب وہ دوسروں کے لئے کوئی نہ کوئی قدر استعمال رکھتی ہو۔ اسی لئے منڈی میں اشیا کا تبادلہ انسانی محنت کے سماجی کردار کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ انسانی محنت کا یہ سماجی کردار ہی درحقیقت دو انجان انسانوں کے مابین موجود سماجی رشتے کی بنیاد بنتا ہے۔ مگر چونکہ سرمایہ داری میں محنت کش اپنی محنت کی پیداوار سے بیگانہ ہوتا ہے اور یہ پیداوار یعنی کموڈٹی اس کے کنٹرول، اس کی مرضی ومنشا اور حتی کہ اس کے علم کے بغیر تبادلے کے عمل میں آتی ہے لہٰذا انسانی محنت کے سماجی کردار سے جنم لینے والا انسانوں کے مابین موجود سماجی رشتہ منڈی میں اشیا کے مابین سماجی رشتے کا روپ دھار لیتا ہے۔ یہ انسان کی انسان سے بیگانگی کا ایک نہایت ہی خوفناک پہلو ہے جس میں انسانوں کے مابین سماجی رشتہ ختم ہو کر اشیا کے مابین ایک سماجی رشتہ بن جاتا ہے۔ یوں لوگوں کو اپنی ہی پیداکردہ اشیا پر اسرار ہستیوں کی مانند دکھتی ہیں جو خود سے اپنا ایک آزادانہ وجود، حرکت اور معروضی خصوصیات رکھتی ہیں۔ یوں بجائے اس کے کہ انسان کی پیداوار محنت اس کے تابع ہو، وہ اپنی ہی پیداکردہ اشیا کی پرستش کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اسی مظہر کو مارکس اشیا پرستی یا کموڈٹی فیٹشزم(استصنام شے) کا نام دیتا ہے۔ اس فیٹشزم کی انتہائی شکل ہمیں قدر کے آفاقی متبادل یعنی پیسے کی پرستش کی صورت میں نظر آتی ہے جو کہ بورژوا سماج میں کسی خدا سے بھی زیادہ طاقتور، آزاد اور پر اسرار حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ داس کیپیٹل کی پہلی جلد کے پہلے باب کے آخر میں مارکس نے اس عمل کو انتہائی تفصیل اور خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔ یہ حصہ اس باب کا سب سے مشکل حصہ بھی ہے۔ مارکس کہتا ہے کہ اشیا (کموڈیٹی)اگر ایک دوسرے سے باتیں کرسکتیں تو اپنی قدر کے متعلق کیا کہتی۔ انداز بیان سے بالکل ایسا لگتا ہے کہ اشیا زندہ ہو کر ایک دوسرے سے انسانوں کے متعلق گفتگو کر رہی ہیں۔

’’اگر اشیاء کو گویائی نصیب ہو جائے تو وہ کہیں کہ :ہماری قدرِ استعمال ہی ایسی چیز ہو سکتی جس میں انسان کو دلچسپی ہو۔ شے ہونے کے ناتے یہ ہماری خوبی نہیں۔ شے ہونے کی حیثیت سے ہماری خوبی در اصل ہماری قدر ہے۔ ہمارا اشیاء کی حیثیت میں فطری تبادلہ اسی بات کی دلیل ہے۔ ایک دوسرے کی نگاہوں میں ہم محض اقدارِتبادلہ کے اور کچھ نہیں۔ اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہ اشیا معیشت دانوں کی زبان سے کیا کہتی ہیں۔

’’قدر‘‘۔ (مراد قدرِ تبادلہ)’’ اشیاء کا خاصہ ہوتا ہے، اور دولت‘‘(مراد قدرِ استعمال)’’انسانوں کا۔ قدر کا تعلق، اس لحاظ سے، محض تبادلوں کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ دولت کا نہیں۔ ‘‘ ’’دولت‘‘ ( مراد قدرِ استعمال )’’ کوانسان ہی سے منسوب کیا جا سکتا ہے، اورقدر کو اشیاء کے ساتھ۔ ایک آدمی یا ایک گروہ دولت مندہوتا ہے، ایک موتی یا ہیرا قدر کے حامل ہوتے ہیں….۔ ایک موتی یا ہیرا قدر کے حامل ہوتے ہیں بالکل موتی یا ہیرے کے بطور۔  

کسی کیمیا دان نے بھی آج تک موتی یا ہیرے میں قدرِ تبادلہ دریافت نہیں کی۔ اس کیمیاوی عنصر کے وہ معاشی کھوجی، جنہوں نے بار بار تنقیدی بصیرت کے دعوے کئے ہیں، وہ بھی جان جاتے ہیں کہ چیزوں کی قدرِ استعمال کا شمار ان کے اپنے مادی خواص میں ہوتا ہے، جبکہ دوسری طرف ان کی قدر، ان کے شے(commodity )ہونے کی وجہ سے ان کا جزو بنتی ہے۔ اس اعتبار سے جو عنصر ان کی قدرِ استعمال کا تعین ان کے تبادلے کے بغیر ہی کرتی ہے، وہ مخصوص حالات ہیں جس کے تحت انسان اور چیزیں براہِ راست تعلق میں آتے ہیں، دوسری طرف ان کی قدر ان کے تبادلے ہی سے اخذکی جا سکتی ہے، یعنی ایک سماجی عمل کے تحت۔ یہاں ہمیں ایک بہترین دوست، ڈاگ بیری(Dogberry )یاد آ جاتا ہے جس نے اپنے ایک قریبی سکول کو یہ اطلاع بہم پہنچائی تھی کہ :’’خوش بخت انسان ہونا مقدر کی با ت ہے؛لیکن پڑھائی لکھائی ایک فطری صلاحیت ہے۔ ‘‘ (مارکس، سرمایہ، باب اول، جلد اول)

ما قبل از سرمایہ داری سماجوں میں چونکہ کموڈٹی پروڈکشن نہ ہونے کے برابر تھی اور پیداوار کا غالب ترین حصہ اپنے یا حکمران طبقے(جاگیر دار، غلام مالکان وغیرہ)کے براہ راست استعمال کے لئے پیدا کیا جاتا تھااور جو تھوڑی بہت پیداوار کموڈٹی کی شکل میں ابتدائی نوعیت کی منڈیوں میں آتی تھی، اسے بھی زیادہ تر پیدا کنندہ (ہنر مند، دستکار وغیرہ)خود بیچتے تھے، لہٰذا ان سماجوں میں کموڈٹی فیٹشزم کا مظہر بھی نا پید تھا۔

بیگانہ محنت اور نجی ملکیت 

چونکہ محنت کش ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت نہیں رکھتااور اسی لئے زندہ رہنے کے واحد ذریعے کے طور پر اپنی قوت محنت کو منڈی میں بیچنے پر مجبور ہے جبکہ سرمایہ دار ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت رکھنے کی ہی بدولت مزدور کی قوت محنت خرید کر اسے پیداواری استعمال میں لاتاہے لہذا بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ نجی ملکیت ہے جو بیگانہ محنت کا ابتدائی سبب بنتی ہے۔ لیکن مارکس کہتا ہے کہ حقیقت اس کے بالکل الٹ ہے۔ یہ درحقیقت اپنی ابتدائی اشکال میں( مثلاً قبیلے کے جنگجو افراد کا بزور طاقت یا بطور خراج دیگر افراد سے کام لینا یا ان کی پیداوار کو ہتھیا لینا، غلاموں کی آقاؤں کے لئے محنت وغیرہ)بیگانہ محنت تھی جس کا مجتمع شدہ مادی اظہار نجی ملکیت کی صورت میں سامنے آیا۔ ہاں لیکن ایک بار جب نجی ملکیت تاریخ میں نمودار ہو گئی تو پھراس کے اور بیگانہ محنت کے بیچ رشتہ دو طرفہ ہو گیااور دونوں ایک دوسرے کو بڑھاوا دینے کا سبب بننے لگیں۔ لیکن ان دونوں کے مابین موجود رشتے کی دریافت صرف نجی ملکیت کے ارتقا کی حتمی شکل یعنی بورژوا ملکیت کے نمودار ہونے کے بعد ہی ہو سکی۔ یہاں پر ایک سوال یہ جنم لیتا ہے کہ اگر بیگانہ محنت کسی نہ کسی شکل میں ماقبل از سرمایہ داری طبقاتی سماجوں میں بھی موجود تھی توکیا ان سماجوں میں بھی سرمایہ داری کی طرح بیگانگی ایک آفاقی مظہر کے طور پر موجود تھی؟ایسا نہیں تھا۔ چونکہ ماضی کے سماج واضح طور پر دوطبقات (ملکیت رکھنے اور نہ رکھنے والے)میں بٹے ہوئے نہ تھے بلکہ کئی طبقات ( بشمول آزاد کسان، ہنر مند، دستکار وغیرہ)پر مشتمل ہوتے تھے اسی لئے بیگانہ محنت بھی ان سماجوں میں 

ایک آفاقی مظہرکے طور پر موجود نہ تھی، اسی طرح نہ ہی یہ سماج یونیورسل کموڈٹی پروڈکشن پر مبنی تھے اور نہ ہی ان میں محنت کی کموڈیفیکیشن وجود رکھتی تھی لہذا بیگانہ محنت(اور نتیجتاً بیگانگی) کی کسی نہ کسی شکل اور مقدار میں موجودگی کے باوجود بیگانگی ان سماجوں میں ایک آفاقی مظہر کے طور پر موجود نہیں تھی۔

بیگانگی اور کمیونزم

بیگانہ محنت انسان کی ذات کی نفی ہے جو کہ تاریخی ارتقا کے ایک مخصوص مرحلے پر ظہور پذیر ہوئی اور آج محنت کی کموڈیفیکیشن کی صورت میں اپنی حتمی شکل کو پہنچ چکی ہے۔ صرف اس نفی کی نفی سے ہی انسان حقیقی معنوں میں انسان بن سکتا ہے۔ جدیدسماج میں اس بیگانہ محنت کا مجتمع شدہ مادی اظہار بورژوا نجی ملکیت کی صورت میں ہوتا ہے۔ یعنی اس نجی ملکیت کی نفی کرتے ہوئے ذرائع پیداوار پر محنت کشوں کی اجتماعی ملکیت اور جمہوری کنٹرول پر مبنی کمیونسٹ سماج کی تخلیق ہی جو ’’ہر ایک سے اس کی اہلیت کے مطابق کام لے، اور ضرورت کے مطابق دے‘‘، نوع انسان کو اس بیگانگی سے نجات دلا سکتی ہے۔ صرف تبھی انسان اپنی حقیقی منزل یعنی تسخیر کائنات کی جانب صحیح معنوں میں گامزن ہو سکتا ہے۔ مارکس کے دیرینہ دوست اور عظیم انقلابی استاد اینگلز کے الفاظ میں’’یہ نوع انسان کی عظیم جست ہو گی، جبر کی اقلیم سے آزادی کی اقلیم میں۔ ‘‘ 

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

February 2024
M T W T F S S
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
26272829