پُرکار ۔۔۔ ریتو گھوش


پُرکار

(ریتو گھوش)


میرا پورا خاندان آسنسول میں رہتا ہے ۔ بابا، ماں، بہن، بھائی اور دیگر عزیز و اقارب سب کے سب آسنسول میں ہی ہیں۔ وہاں ہمارا آبائی مکان اور تھوڑی بہت زمین ہے، مگر زمین کی آمدنی اتنی نہیں ہے کہ ہمارے خاندان کے اخراجا ت پورے ہو سکیں۔ بابا ریٹائر ہو چکے تھے ، اس لیے وہی گھر اور زمین کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ بڑے بھائی کی شادی ہوچکی تھی اور وہ آسنسول میں ہی ایک دفتر میں نوکری کر رہے تھے۔ 
بی اے پاس کرنے کے بعد میری بھی یہی کوشش تھی کہ مجھے بھی آسنسول میں ہی کوئی اچھی سی ملازمت مل جائے، تاکہ گھر والوں کے ساتھ رہ سکوں۔ دو ایک پرائیویٹ کمپنیوں میں ملازمت ملی۔ لیکن میرے لیے ان میں کوئی کشش نہیں تھی۔ بس لگا بندھا دفتری کام تھا جس میں ترقی کی کوئی امید ہی نہ تھی، مگر میری قسمت اچھی تھی، اس لیے جلد ہی مجھے ایک سرکاری محکمے میں نوکری مل گئی۔ لیکن میری پوسٹنگ کولکتہ میں ہوئی تھی، چونکہ ملازمت اور تنخواہ اچھی تھی، اس لیے میں نے آسنسول سے باہر جانا بھی قبول کرلیا۔ ان دنوں کولکتہ میں رہائش کا مسئلہ آج کی طرح گمبھیر نہیں تھا۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں آج کی طرح گہماگہمی بھی نہیں تھی۔ مجھے بابا کے ایک پرانے دوست کے تعاون سے دو کمروں کا ایک چھوٹا سا فلیٹ کرائے پر مل گیا تھا، جو مجھ اکیلے کے لیے کافی تھا۔ مجھے تو صرف رات کو آکر سونا ہی تھا، کیونکہ سار ادن تو دفتر میں ہی گزر جاتا تھا۔ 
یہ ایک تین منزلہ عمارت تھی جس کی ہر منزل پر چھ فلیٹ ایک قطار میں بنے ہوئے تھے ۔ میں دوسری منزل پر تھا اور میرا فلیٹ عمارت کی لمبی راہداری کے آخری سرے پر واقع تھا۔ بالکل کونے میں ہونے کی وجہ سے دوسرے فلیٹوں میں رہنے والوں سے میری جان پہچان نہیں ہو سکی تھی ۔ ویسے بھی اس عمارت کے زیادہ تر فلیٹ خالی تھے یا تو وہ فلیٹ برائے فروخت تھے یا پھر ابھی انہیں کرائے پرنہیں چڑھایا گیا تھا۔ 
جب میں رہائش کے لیے وہاں گیا تھا تو میرے برابر والا فلیٹ بھی خالی پڑا تھا، جس کے بارے میں ایک دن چوکیدار نے مجھے بتایا تھا کہ وہ فلیٹ بِک چکا ہے اور جلد ہی اس کے مالک وہاں رہنے کے لیے آنے والے ہیں۔ 
تقریباً دس بارہ روز بعد ہی وہ رہنے کے لیے آبھی گئے۔ یہ کوئی رام شرم بابو تھے ۔ عمر پچاس سے کچھ اوپر تھی۔ درمیانہ قد، سانولا رنگ، سر پر کچے پکے چھوٹے چھوٹے بال، آنکھوں پر نظر کی عینک، چہرے پر ایک گہری سنجیدگی ، جس سے پتا چلتا تھا کہ وہ بہت سمجھ بوجھ والے شریف آدمی ہیں۔ اپنے فلیٹ میں وہ صرف دو ہی لوگ رہنے آئے تھے، یعنی ایک تو خود رام شرن بابو اور دوسری ان کی بیوی۔ ان کے ساتھ کوئی تیسری شخصیت نہیں تھی اور نہ ہی کوئی بچہ تھا۔ 
ان کی بیوی کی عمر بتیس پینتیس کے درمیان تھی۔ صحت اچھی تھی، رنگ صاف، لمبا قد اور چہرے کے نقوش بہت دل کش تھے ۔ میں نے کئی بار باہرہی سے انہیں آتے جاتے دیکھا تھا۔ لیکن میں نے کبھی اس خوبصوت عورت کو رام شرن بابو سے ہنس کر باتیں کرتے نہیں دیکھا تھا ۔ اس کی آنکھوں میں ہر وقت ایک گہری اداسی ہی منڈ لاتی ہوئی نظر آتی تھی ۔ یوں لگ رہا تھا جیسے اس کی کوئی قیمتی چیز کہیں کھوگئی ہو، جس کے دکھ نے اس کے ہونٹوں کی مسکراہٹ چھین کر اس کی آنکھوں میں اداسی بھر دی ہے۔ 
رام شرن بابو دھیمے لہجے کے ایک نفیس انسان تھے اور انہیں دیکھ کر یہ نہیں لگتاتھا کہ ان جیسا سیدھا سادہ آدمی اپنی بیوی پر ظلم کرتا ہوگا۔ لیکن اس کے باوجود ان کی بیوی کی اداسی اور سوگواری کی وجہ میری سمجھ سے باہر تھی ۔ خیر، میں نے اس کی وجہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کی۔ یہ ان کا نجی معاملہ تھا۔ لیکن ایک بات جو میں نے خاص طورپر نوٹ کی تھی وہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ رام شرن بابو کی بیوی ان کی موجودگی میں ہنستی مسکراتی نظر نہیں آتی تھی۔ البتہ جب وہ گھر میں نہیں ہوتے تھے تواس وقت وہ خوش و خرم ہشاش بشاش اور پھر تیلی نظر آتی تھی اور یہی ایک ایسی بات تھی جو مجھے اکثر یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی تھی کہ آخر اس کی وجہ کیا ہوسکتی ہے….؟
کبھی کبھی تو مجھے یہ بھی لگتا تھا کہ ان دونوں میاں بیوی کی عمر میں جو اتنا زیادہ فرق ہے وہی فرق ان کی بیوی کی اداسی کا سبب ہے۔ 
رام شرن بابو امپورٹ ایکسپورٹ کی ایک فرم میں کیشیر تھے اور شام کے بعد ایک اور کمپنی میں  پارٹ ٹائم اکاؤنٹ کا کام دیکھا لیا کرتے تھے ۔ اسی لیے صبح دس بجے گھر سے نکلنے کے بعد ان کی واپسی شام کے سات بجے سے پہلے نہیں ہوتی تھی۔ 
ان کی غیر حاضری میں کبھی کبھی آس پاس کے فلیٹوں میں رہنے والی خواتین اگر ملنے ملانے ان کے فلیٹ میں آجاتی تھیں تو مسز رام شرن بڑی خوش اخلاقی اور تپاک سے انہیں خوش آمدید کہتیں اور خوب ہنس ہنس کر ان سے باتیں کرتیں۔ ان کے ہنسنے اور باتیں کرنے کی آوازیں مجھے دیر تک سنائی دیتی تھیں۔ لیکن جیسے جیسے رام شرن بابو کے گھر واپس آنے کا وقت قریب آتاجاتا تھا ویسے ویسے مسز رام شرن کے ہونٹوں کی مسکراہٹ غائب ہونے لگتی تھی۔ 
پڑوسی ہونے کے ناتے تھوڑے ہی دنوں میں رام شرن بابو کے ساتھ علیک سلیک کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ خاص کرکے اتوار کی چھٹی والے دن وہ میرے فلیٹ پر بھی آجاتے تھے اور کبھی کبھی ہم بالکونی میں ہی کرسیوں پر بیٹھ کر گھنٹے دو گھنٹے تک اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہتے۔ ان کے میرے پاس آخر بیٹھنے کے تھوڑی دیر بعد ہی مسز رام شرن کی آواز سنائی دیتی تھی ۔ ‘‘چائے لے جائیے’’ اس آواز کے ساتھ ہی رام شرن بابو ‘‘ ابھی آیا ’’ کہہ کر چلے جاتے اور پھر چائے ناشتے کی ٹرے لے کر آجاتے۔ اس موقع پر میں اکثران سے کہتا کہ ہر مرتبہ آپ ہی مجھے چائے پلاتے ہیں ، جبکہ میں تو آپ کو چائے کے لیے پوچھ بھی نہیں سکتا۔ میری بات سن کر وہ ایک زبردست قہقہہ لگا کرکہتے۔ ‘‘ابھی ہماری یہ چائے آپ پر اُدھار ہے جب آپ کی شادی ہوجائے گی تو آپ بھی اسی طرح ٹرے اُٹھا کر لاتے رہیے گا۔ ’’ 
اکثر وہ مجھے اپنے فلیٹ کے اندر بھی بلا لیا کرتے تھے، اس طرح ہمارا ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا بھی ہوگیا تھا۔ جب میں پہلی بار ان کے فلیٹ میں گیا تھا تو گھر کی سجاوٹ دیکھتا ہی رہ گیا اور اسی سے مجھے اندازہ ہوا کہ مسز رام شرن کافی سمجھ دار، سلیقہ شعار اور صفائی پسند خاتون ہیں، انہوں نے اپنے چھوٹے سے فلیٹ کو جنت کا نمونہ بنا رکھا ہے۔ 
ان کے فلیٹ میں ضروریات کی ساری چیزیں موجود تھیں۔ فریج، ٹی وی ، ایئر کنڈیشنڈ ، واشنگ مشین کے علاوہ آرام دہ صوفہ سیٹ ، ایک خوب صورت سی گول میز جس کے گرد رکھی ہوئی چار قیمتی کرسیاں جو یقینا ڈائننگ ٹیبل تھی، ان کے چھوٹے سے ڈرائنگ روم کے صوفے کے اوپر دیوار پر آئل پینٹنگز کا ایک خوب صورت لکڑی کا فریم تھا اور کارنر ٹیبل پر شیشے کا ایک فریم رکھا تھا جس میں آٹھ دس سال کے ایک بے حد خوب صورت بچے کی تصویر تھی۔ یہ تصویر کارنر ٹیبل پر کچھ اس طرح رکھی ہوئی تھی کہ دروازے سے اند رداخل ہوتے ہی آدمی کی نظر سیدھی اس تصویر پر پڑتی تھی ۔ دوسری دیوار کے پاس کونے میں تصویروں کے دو اور فریم بھی رکھے تھے جن میں ایک تصویر تو رام شرن بابو کی جوانی کی تھی ، جب کہ دوسری تصویر میں رام شرن بابو کے ساتھ ان کی پہلی بیوی کا مسکراتا ہوا چہرہ نظر آرہا تھا ۔ 
ڈرائننگ روم کے برابر والا کمرہ ان کا بیڈ روم تھا ، جہاں ایک ڈبل بیڈ پلنگ اور چھوٹا سا ڈریسنگ ٹیبل رکھا ہوا تھا۔ ڈبل بیڈ پلنگ اس کمرے کے لحاظ سے کچھ بڑا تھا جس نے کمرے کی آدھی جگہ گھیر رکھی تھی ۔ پہلی بار ان کے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر جب میں نے رام شرن بابو سے بچے کی تصویر کے بارے میں پوچھا تھا تو میری بات سن کر وہ دیر تک خاموش رہ گئے۔ پھر بچے کی تصویر کی طرف دیکھتے ہوئے بولے۔
‘‘یہ میرے بیٹے کی تصویر ہے۔ ’’ 
‘‘تو کیا آپ کا بیٹا کہیں ہاسٹل میں ہے ….؟’’ میں نے پوچھا۔ 
 نہیں ….’’ انہوں نے ایک گہرا سانس لیا اور پھر بہت ہی گمبھیر سے لہجے میں بولے۔ ‘‘ میرا یہ بیٹا میری پہلی بیوی کی نشانی تھا جو اَب اس دنیا میں نہیں رہا۔ ‘‘ کیا….؟’’ میں اپنی جگہ سے اُچھل پڑا تھا ۔ 
‘‘ ہاں ….’’وہ اپنی گیلی آنکھوں پر انگلیاں پھیرتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں بولے اور تصویر کا وہ فریم اٹھا لیا جس میں ان کی اور ان کی بیوی کی تصویر تھی ۔ ذرا دیر تک وہ اس تصویر کو دیکھتے رہے پھر آگے بولے۔ 
‘‘میری بیوی سخت بیمار پڑی تھی، کافی علاج کے باوجود بھی صحتیاب نہ ہوسکی۔ اوپر والے کی یہی مرضی تھی۔ بیوی کی موت کے بعد میری زندگی کا واحد سہارا میرا بیٹا ہی تھا لیکن بھگوان کو یہ بھی منظور نہیں تھا، اس لیے بیوی کی موت کے چند مہینے بعد وہ مجھ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے روٹھ گیا….’’ بولتے بولتے ان کی آواز پھنس رہی تھی اور مجھے لگ رہا تھا کہ میں نے ناحق ان کی بیوی اور بچے کے بارے میں پوچھ کر ان کے زخم تازہ کر دیے ہیں۔ 
رام شرن بابو کی کہانی سن کر مجھے بڑادکھ ہوا تھا۔ وہ بے چارے اپنی بیوی کی موت کے غم سے باہر بھی نہ آنے پائے تھے کہ قدرت نے ان سے ان کا اکلوتا بیٹا بھی چھین لیا تھا۔ پھر کسی نہ کسی طرح ان کی زندگی کے دن گزرتے گئے اور پھر اپنی بقیہ زندگی گزارنے کے لیے انہوں نے دوسری شادی کرلی۔ لیکن ان کی دوسری بیوی پہلی بیوی سے زیادہ پڑھی لکھی اور خوب صورت تھیں۔ دوسری شادی کے بعد رام شرن بابو کی بے سکون زندگی میں کچھ خوشیاں لوٹ آئی تھیں۔ یوں تو ان کے پاس زندگی گزارنے کے لیے تمام ضروری سہولتیں موجود تھیں اور وہ پوری طرح آسودہ حال تھے۔ لیکن اس کے باوجود اولاد جیسی خوشی سے محروم تھے۔ دوسری شادی کو سات آٹھ سال کا عرصہ ہو چکا تھا  اور ابھی تک ان کے گھر کی دیوار یں کسی بچے کی قلقاریوں سے محروم تھیں ۔ شاید محرومی کے اسی احساس نے ان کی بیوی کے ہونٹوں سے مسکراہٹ چھین رکھی تھی۔ 
رام شرن بابو اپنی پہلی بیوی کے ساتھ کرائے کے جس مکان میں رہتے تھے وہ شہر سے ذرا دُور کچے علاقے میں تھا اور اس گھر میں بیوی کے انتقال کے بعد وہ اپنی دوسری دلہن لے آئے تھے۔ شادی کے سات سال اسی مکان میں گزارنے کے بعد اب انہوں نے یہ فلیٹ خرید لیا تھا اور اپنی بیوی کو لے کر یہاں آگئے تھے۔
  مجھے ان کے رہن سہن کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی تھی کہ انہوں نے اپنی دوسری بیوی کو خوش رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رکھی ہے، ضروریات زندگی کی تمام چیزیں ان کے گھر میں موجود تھیں۔ لیکن اس کے باوجود ایک کمی توبہر حال، تھی ہی اور جسے پورا کرنا   ان ے بس میں نہیں تھا۔ 
کبھی کبھی تو قدرت کی ستم ظریفی پر میرا دل بھر آتا تھا اور میں یہ سوچنے لگتا تھا کہ قدرت بھی بھی کیسے کیسے عجیب کھیل کھیلا کرتی ہے، جس گھر میں اولاد کی مزید ضرورت نہیں ہوتی وہاں ایک کے بعد دوسرا بچہ پیدا ہوتا ہے اور جس گھر میں اکلوتا ہی چراغ جل رہا ہوتا ہے وہ بھی اچانک بجھا دیا جاتاہے۔ آخر تقدیر اندھیرے اجالے کا یہ کھیل کیوں کھیلتی ہے ….؟
میں پورے ایک سال تک اس فلیٹ میں رہا، اس دوران اپنے پڑوسی رام شرن بابو سے میرے تعلقات بنے رہے اور سال بھر بعد آخر کار میری کوششیں رنگ لائیں اور میں اپنا تبادلہ آسنسول میں کرالینے میں کامیاب ہو گیا۔ گھر والوں کی بھی یہی خواہش تھی کہ میں شادی کرکے ان کے ساتھ ہی اپنے آبائی مکان میں رہوں۔ میں شرن بابو، ان کی بیوی اور دیگر پاس پڑوس والوں سے مل کر آسنسول آگیا تھا۔ اس دوران میں میری شادی بھی ہو گئی اور اور دھیرے دھیرے دو ڈھائی برس کا عرصہ گزر گیا ۔ 
میں رام شرن بابو اور اُن کی بیوی کو تقریباً بھول ہی چکا تھا ۔ مگر ایک دن اچانک ایک پرانے واقف کار سے آسنسول میں ہی ملاقات ہوگئی جنہوں نے مجھے رام شرن بابو اور ان کی بیوی کی یاد دلادی۔ یہ صاحب بھی کو لکتے میں اسی بلڈنگ میں رہتے تھے جس میں میں اور رام شرن بابو رہتے تھے۔ باتوں باتوں میں جب وہاں کی بات نکلی تو انہوں نے بتایا کہ چند ماہ قبل رام شرن بابو کا انتقال ہو گیا ہے ۔ پہلے تو انہیں تیز بخار آیا تھا اور پھر ان کے دماغ کی رگ پھٹ گئی تھی ۔ مجھے رام شرن بابو کی موت کی خبر سن کر بہت دکھ ہوا اور اس طرح میں دیر تک رام شرن بابو کی باتوں اور پرانی یادوں میں گم سم بیٹھا رہا۔ 
اس بات کے دو مہینے بعد ہی مجھے اپنے سسرال والوں کی ایک شادی میں شرکت کے لیے کولکتہ جانا پڑا۔ کولکتہ میں ہی ایک دن مجھے خیال آیا کہ جب یہاں تک آہی گیا ہوں تو کیوں نہ رام شرن بابو کی بیوی سے مل کر ان کی خیر خیریت پوچھ لوں۔ آخرایک سال تک میں ان کا پڑوسی رہ چکا تھا ، لہٰذاپُرسے کے لیے جانا بھی میرا فرض بنتا تھا۔ یہی سوچ کر دوسرے روز شام کے وقت میں وہاں پہنچ گیا۔ بیل کابٹن دبانے کے چند لمحوں بعد ہی دروازہ کھل گیا۔ میرے سامنے سفید ساڑھی میں ملبوس رام شرن بابو کی بیوی کھڑی حیرت سے مجھے دیکھ رہی تھیں۔ سفید سوتی ساڑھی میں ان کا حسن اب بھی اسی طرح دمک رہا تھا،البتہ آنکھوں کی اداسی اور چہرے کا سونا پن پہلے سے زیادہ گہرا نظر آرہا تھا۔ 
وہ چند لمحے تو حیرت سے مجھے دیکھتی رہیں۔ جیسے میری صورت شکل یاد کرنے کی کوشش کر رہی ہوں ۔ پھر اچانک ہی خوشی سے اچھل کر بولی۔
‘‘ارے آپ ….؟میں تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ آپ کبھی دو بارہ یہاں آئیں گے آئیےاندر آئیے ۔ ’’
میں نے جب ان کے چھوٹے سے ڈرائنگ روم میں قدم رکھا تو ذرا دیر تک دروازے پر ہی کھڑا رہ گیا۔ مجھے لگاکہ کمرے کا قیمتی فرنیچر اور ڈیکوریشن کی چند چیزیں اب وہاں موجود نہیں ہیں۔ تبھی میری نظر اندر کی جانب کھلنے والے دروازے کی طرف اُٹھ گئیں ۔ یہ وہی بیڈروم تھا جس میں ایک شاندار ڈریسنگ ٹیبل اور ایک بہت خوبصورت بڑا ساپلنگ میں نے دیکھا تھا۔ مگر اب وہ پلنگ غائب تھا اور اس کی جگہ تختے کی ایک سنگل چو کی رکھی ہوئی تھی ۔ ڈریسنگ ٹیبل وہی تھا ، مگر اس پر رکھی ہوئیں شیشیاں اور آرائش کی دوسری چیزیں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ ٹیوی سیٹ اپنی جگہ موجود تھا، مگر اس پر کپڑا پڑا ہوا تھا۔ 
‘‘ارے ، آپ کھڑے کیوں ہیں بیٹھیے نا۔ ’’ 
اچانک انہوں نے کہا تو میں چونک پڑا اور آگے بڑھ کر اس کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا اور اپنے ہاتھ میں دبے ہوئے مٹھائی کے ڈبے کو کونے والی تپائی پر رکھتے ہوئے بولا۔
‘‘مجھے احساس ہے کہ اس موقع پر مجھے مٹھائی لے کر نہیں آنا چاہیے تھا، مگر یہ میری شادی کی مٹھائی ہے۔ خالی ہاتھ آنا مناسب نہیں لگا اسی لیے ….’’
‘‘ارے ارے تو اس میں برائی کیا ہے ؟’’ رام شرن جی کی بیوی نے ہنستے ہوئے کہا۔ ‘‘یہ تو آپ نے بڑی خوشی کی خبر سنائی ہے۔ اس خبر کے ساتھ مٹھائی تو ہونی ہی چاہیے تھے ۔ آپ خالی ہاتھ آتے تو مجھے آپ سے شکایت ہوتی۔ ’’ 
‘‘دراصل مجھے رام شرن بابو کی موت کی خبر دو مہینے پہلے ہی ملی کسی نے دی تھی ….’’ 
انہوں نے جواب میں بڑی بے دلی سے کہا۔ ‘‘ایک نہ ایک دن تو سبھی کو جانا ہے۔ ’’ 
میں نے محسوس کیا کہ ان کے سپاٹ چہرے پر کسی قسم کے کوئی تاثرات نہیں تھے ، یوں لگ رہا تھا جیسے رام شرن بابو کی موت پر کوئی خاص دکھ نہیں ہے ۔ میں چپ چاپ بیٹھا ایک بار پھر کمرے کا جائزہ لینے لگا۔ سامنے کی دیوار پر لگی ہوئی آئل پینٹنگ وہی تھی ، مگر اب اس کا رنگ کچھ اُڑا اُڑا سا لگ رہا تھا ۔ کا رنر ٹیبل پر چند چھوٹی موٹی چیزیں بکھری ہوئی تھیں۔ اچانک مجھے یاد آیا کہ اسی کا رنر ٹیبل پر میں نے شیشے کا ایک فریم دیکھا تھا جس میں رام شرن بابو کے خوب صورت بیٹے کی تصویر لگی ہوئی تھی، لیکن وہ فریم وہاں نہیں تھا۔ اس کی تلاش میں ، میں نے دوسری جانب نگاہ ڈالی تو وہاں سے وہ دوسرا فریم بھی غائب تھا جس میں رام شرن بابو اور ان کی پہلی بیوی کی تصویر میں نے دیکھی تھی ۔ 
پھر اس سے پہلے کہ میں مسزرام شرن سے رام شرن جی کے بیٹے کے بارے میں کچھ پوچھتا تو خود انہوں نے ہی مجھ سے پوچھ لیا۔ 
‘‘ کلکتہ میں کتنے دن ٹھہریں گے ….؟’’ 
‘‘جی بس کل یا پرسوں چلا جاؤں گا۔ ’’ میں نے کہا۔ 
‘‘تو پھر اپنی دلہن کو بھی لے آتے….’’وہ مسکرا کر بولیں۔‘‘ وہ بھی کولکتہ گھوم لیتیں۔’’ 
‘‘ارادہ تو تھا’’میں نے کہا‘‘لیکن ماں جی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی ، اس لیے وہ ساتھ نہیں آسکی۔ ’’ 
‘‘او ہ….’’ کہہ کر وہ چپ ہو گئیں ۔ 
مجھے اس کی خاموشی اور کارنر ٹیبل کی خالی جگہ میں کوئی گہرا تعلق محسوس ہو رہا تھا۔ آخر تصویروں کے دونوں فریم یہاں سے کیوں ہٹا دیے گئے ….؟ 
وہ تو مرحومین کی یادگار تصویریں تھیں۔ میرا تجسس لمحہ بہ لمحہ بڑھتا جارہا تھا ۔ لیکن میں نے سیدھا سوال کرنے کے بجائے کہا ۔
 ‘‘رام شرن بابو کے چلے جانے کے بعد تو آپ بہت اکیلی ہوگئی ہوں گی….؟’’ 
‘‘نہیں کچھ خاص نہیں ’’ بے دلی سے کہہ کر وہ اٹھتے ہوئے بولیں۔ ‘‘میں آپ کے لیے کچھ چائے وغیرہ لاتی ہوں۔’’ 
‘‘ارے نہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔’’ کہہ کر میں نے انہیں روکنا چاہا، لیکن میری بات سنے بغیر وہ کمرے کے باہر جا چکی تھیں۔ میں نے محسوس کیا تھا کہ رام شرن بابو کے بارے میں وہ کچھ زیادہ بولنا اور سننا نہیں چاہتی۔ ذرا دیر بعد وہ چائے اور بسکٹ کی ٹرے لے کرآئیں۔ 
‘‘کبھی کبھی تو قدرت کے کھیل بھی بڑے عجیب لگتے ہیں’’ میں نے کہا۔‘‘ کم از کم آج اگر رام شرن بابوکا بیٹا زندہ ہوتا تو وہ آپ کے لیے بڑا سہا را ہوتا ….’’ 
‘‘بیٹا کون بیٹا….؟’’انہوں نے چائے کی پیالی میں شکر ڈالتے ہوئے بڑی دھار دار نظروں سے میری طرف دیکھا۔ 
‘‘جب میں پہلی بار اس کمرے میں آکر بیٹھا تھا تو اس کارنر ٹیبل پر ایک بچے کی تصویر رکھی تھی اور اس ٹیبل پر شرن بابو ار ان کی پہلی بیوی کی تصویر کا فریم تھا۔ ’’میں نے کہا ‘‘اس وقت انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ یہ ان کے بیٹے کی تصویر ہے جو اپنی ماں کی موت کے چند ماہ بعد ہی انتقال کرگیا تھا۔ ’’
‘‘تو انہوں نے یہ کہانی آپ کو بھی سنائی تھی….؟’’
‘‘ کہانی…؟’’ میں چونک پڑا۔ ‘‘کیسی کہانی….؟’’ 
‘‘اس بچے کی تصویر کی کہانی’’ مسز رام شرن نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ 
اس وقت ان کی آنکھوں کا رنگ بہت بدلا ہوا سا لگ رہا تھا اور وہ بے حد کاٹ دار لہجے میں کہہ رہی تھیں
‘‘اس بچے کی تصویر وہ ہمیشہ ایسی جگہ پر رکھتے تھے کہ ہر آنے والے کی نظر اس پر پڑ جائے اور وہ اسے بتا سکیں کہ یہ ان کے بیٹے کی تصویر ہے جو ان کی پہلی بیوی کی نشانی تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا کوئی بیٹا تھا ہی نہیں ۔ ’’ 
‘‘ کیا ….؟’’میں چونک پڑا۔ میرے لیے یہ ایک حیرت انگیز انکشاف تھا، اس لیے ذرا ٹھہرا کر بولا۔ ‘‘لیکن انہوں نے تو مجھے یہی بتایا تھا کہ یہ ان کے بیٹے کی تصویر ہے، بھلا انہیں جھوٹ بولنے کی ضرورت ہی کیا تھی ….؟’’ 
‘‘ضرورت تھی، انہیں اس کی ضرورت تھی، تاکہ دنیا والوں کے سامنے وہ اپنی ناک اونچی رکھ سکیں۔ ’’
 مسز رام شرن نے بڑے نفرت انگیز لہجے میں کہا اور پھر ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے آگے بولیں
‘‘مکاری، ریاکاری، جھوٹ اور فریب کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ مگر اپنی ناک کی خاطر وہ ان سب حدوں کو بھی پھلانگ چکے تھے، کیونکہ یہ سچ ہے کہ میری طرح ان کی پہلی بیوی سے بھی ان کی کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی….’’ 
‘‘اوہ….!’’ میں نے ایک گہرا سانس لیا اور بولا۔ ‘‘اگر یہ سچ ہے تو اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ وہ کسی بچے کی تصویر اپنے سامنے رکھ کر خود کو ہی فریب دے رہے تھے، لیکن کیوں….؟ کسی دوسرے کے بچے کی تصویر کو فریم میں لگا کر اسے اپنا بچہ بتانے کی وجہ میری سمجھ میں تو نہیں آتی۔ ’’ 
‘‘وہ تصویر انہوں نے خود کو فریب دینے کے لیے اپنے گھر میں نہیں سجائی تھی۔ ’’ مسز رام شرن نے گمبھیر سے لہجے میں کہا۔ ‘‘بلکہ انہوں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ ڈرامار چار کھا تھا۔’’
‘‘ ڈراما ….؟’’
‘‘ہاں مجھ سے شادی سے قبل انہوں نے میرے سیدھے سادے والدین کو بھی اپنی بیوی اور بچے کی موت کی کہانی سنائی تھی۔ پھر آٹھ سال قبل جب میں ان کی دوسری بیوی بن کر ان کے گھر آئی تو انہوں نے اس بچے کی تصویر اپنے بیٹے کی تصویر کہہ کر مجھے دکھائی۔ بچے کی تصویر مجھے اچھی لگی اور میں نے اسے فریم کروا کرکمرے میں رکھ دیا۔ لیکن حقیقت میں یہ ان کی ایک چال تھی ان کی پہلی بیوی بھی بے اولاد تھی اور شاید اسی غم میں وہ مر بھی گئی۔’’ 
یہاں تک کہہ کر مسز رام شرن نے ایک لمبا گہرا سانس لیا اور پھر ٹھہرے ٹھہرے سے لہجے میں آگے بولیں 
‘‘وہ اگر دس شادیاں اور بھی کرلیتے تو بھی ان کی کوئی اولاد ہونے والی نہیں تھی۔ اس لیے انہوں نے جھوٹ کا یہ ڈراما رچا رکھا تھا، تاکہ ان کے عیب پر پردہ پڑا رہے ۔ اس طرح بےاولاد ہونے کا سارا الزام مجھ پر ڈال دیا گیا۔ میں دنیا کی نظروں میں بانجھ ٹھہرائی گئی اور وہ مرتے دم تک مرد بنے رہے۔ ’’
وہ ذرا دیر تک چپ رہیں۔ پھر دھیمی مگر صاف آواز میں بولیں۔
 ‘‘جب تک وہ میرے ساتھ رہے، میں گھٹ گھٹ کر جیتی رہی۔ مگر اب میں بہت خوش ہوں، خوب ہنستی ہوں، خوب بولتی ہوں، کیوں کہ اب میں میں بے اولاد نہیں ہوں۔ میں اب بیسوں بچوں کی ماں ہوں ۔ خود کو تنہائی کے عذاب سے نکالنے کے لیے میں نے اس عمارت کے سامنے ایک چھوٹا سا اسکول کھول لیا ہے۔ وہ سب بچے مجھے اپنی ماں ہی سمجھتے ہیں ، میری زندگی اب سکون سے گزر رہی ہے ، کسی کمی کا احساس ہی باقی نہیں ہے۔ ’’
 اتنا کہہ کر انہوں نے دونوں ہاتھو ں میں اپنا چہرہ چھپا لیا اور گھنٹوں میں اپنا سر رکھ دیا۔ وہ سسک سسک کر رو رہی تھیں۔ میں نے انہیں چپ کرایا اور پھر اس سے اجازت لے کر باہر نکل آیا ۔ 

عمارت کی سیڑھیاں اترتے وقت میں یہی سوچ رہا تھا کہ کیا آدمی اتنا عیّار مکار اور فریبی بھی ہوسکتا ہے ….؟

(ریتو پارنو گھوش۔ بنگالی افسانہ نگار اور فلمی ہدایت کار) 

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: