ایک خاتون کی تصویر ۔۔۔ خوشونت سنگھ

ایک خاتون کی تصویر

( خوشونت سنگھ )

میری دادی ماں ، کسی اور کی دادی کی طرح ، ایک ضعیف خاتون تھیں۔بیس سال سے میں نے انھیں ضعیف اور جھریوں سے بھری ہوئی ہی جانا۔لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ کبھی جوان اور خوبصورت تھیں ، اور شوہر بھی رکھتی تھیں۔لیکن میرے لیے یقین کرنا مشکل تھا۔ویسے میرے دادا کی تصویر ڈرائینگ روم میں آتشدان کے اوپر ہمیشہ لٹکتی رہتی______بڑی سی پگڑی، ڈھیلے کپڑے ، سینہ تک لٹکتی سفید داڑھی ،عمر تقریباً سو برس۔وہ ایسے شخص تو نہیں لگتے تھے کہ ان کے بیوی اور بچے ہونگے۔ بلکہ وہ تو بہت سارے پوتے ،پوتیوں اور نواسے ، نواسیوں والے دکھائی دیتے تھے۔جب کہ میری دادی ماں ، جوان اور خوبصورت ، حقیقت سے بغاوت والا خیال تھا۔وہ ہمیں ان کے بچپن کے کھیلوں کے بارے میں بتایا کرتیں جو وہ اپنے بچپن میں کھیلا کرتی تھیں ۔ ویسے ہمیں یہ مضحکہ خیز اور ان کے وقار سے کم درجہ کا محسوس ہوتا لیکن ہم اسی لحاظ اور عزت کے ساتھ سنتے جیسے ہم انکے کہے ہوے نبیوں کے واقعات سنا کرتے تھے۔

وہ ہمیشہ چھوٹے قد کی، فربہ اور کچھ جھکی ہوئی خاتون تھیں۔ چہرہ پوری طرح سے جھریوں سے بھرا تھا۔ہمیں یقین تھا کہ وہ ہمیشہ سے ایسی ہی تھیں جیسے ہم نے انھیں جانا۔ بہت زیادہ بوڑھی ، اتنی بوڑھی کہ شائد اس سے زیادہ بوڑھی ہو نہیں سکتی تھیں۔اور وہ گذشتہ بیس سال سے اسی عمر کی رہی تھیں۔ہو سکتا کہ وہ کبھی دلکش نہ رہی ہوں لیکن وہ ہمیشہ خوبصورت تھیں۔سفید بے داغ کپڑے پہنے ، ایک ہاتھ سے اپنی جھکی کمر کو سہارا دیتے ہوے اور دوسرے ہاتھ سے تسبیح کے دانوں کو پھیرتے ہوے سارے گھر میں قدرے لنگڑاتے ہوے گھومتی رہتی تھیں۔ان کی چاندی جیسی سفید بالوں کی لٹیں انکے بے رونق چہرے پر پھیلی رہتیں اور ہونٹ مسلسل ناسنائی دینے والی دعاؤں میں مصروف ہوتے۔ وہ سرما میں پہاڑوں کے درمیان دکھائی دینے والے ایک دلکش قدرتی منظر کی طرح تھیں ، ایک وسیع خالص سفید طمانیت کا مجسمہ ، امن اور سکون کی سانس لیتے ہوے۔

میری دادی ماں اور میں اچھے دوست تھے۔میرے والدین نے مجھے دادی ماں کے ساتھ چھوڑ دیا تھا جب وہ شہر میں رہنے چلے گیے۔وہ مجھے صبح نیند سے جگا دیتیں اور اسکول کے لیے تیار کردیتیں۔مجھے نہلاتے ہوے اور کپڑے پہناتے ہوے اپنی صبح کی تلاوت ایک ہی ڈھنگ میں گنگناتی رہتیں تاکہ میں انھیں زبانی یاد کرلوں۔میں اس لیے بھی سنتا تھا کہ مجھے ان کی آواز بہت پیاری لگتی تھی ، لیکن سیکھنے کی کبھی زحمت نہیں کی۔پھر وہ میری لکڑی کے فریم میں لگی تختی ، چھوٹی سی مٹی کی دوات اور لکڑی کا قلم ، سب کو یکجا باندھ کر مجھے دے دیتیں۔رات کی بنی روٹی ،مسکہ اورشکر لگا کر ناشتہ کرنے کے بعد ہم اسکول چلے جاتے۔رات کی بنی بہت ساری روٹیاں وہ ساتھ رکھ لیتیں تاکہ دیہات کے کتوں کو کھلا سکے۔

دادی ماں میرے ساتھ ہی اسکول چلتیں ، کیونکہ اسکول سے لگا ہوا مندر تھا۔پجاری بچوں کو زبان کے ابتدائی عناصر (حروف تہجی) اور صبح کی عبادت سکھاتا۔جب بچے برآمدہ میں دونوں جانب قطاروں میں بیٹھے حروف تہجی اور عبادت ایک آواز میں گارہے ہوتے ، میری دادی ماں اندر بیٹھ کر صحیفہ پڑھتی رہتیں۔ہم دونوں اپنی اپنی پڑھائی ختم کرنے کے بعد ، دونوں مل کر واپس گھر آجاتے۔ اس وقت دیہات کے کتے ہمیں مندر کے دروازہ پر ہی انتظار کرتے ہوے مل جاتے اور ہمارے پیچھے غراتے ہوے اور ایک دوسرے سے ان روٹیوں پر جھگڑتے ہوے جو ہم ان کی طرف پھینکتے ، ہمارے پیچھے چلتے رہتے۔

جب میرے والدین شہر میں اچھی طرح سے سکونت پذیر ہو گیے تو انھوں نے ہمیں بھی وہاں بلوا لیا۔وہ ہماری دوستی کا ایک اہم موڑ تھا۔اگر چہ کہ ہم اب بھی ایک ہی کمرہ میں رہتے تھے ، لیکن میری دادی ماں میرے ساتھ اسکول نہیں آتی تھیں۔اب میں انگلش اسکول بس میں جاتا تھا۔یہاں سڑکوں پر کتے نہیں ہوتے تھے۔اب دادی ماں شہر والے گھر کے پچھلے صحن میں چڑیوں کو کھلایا کرتیں۔

جیسے جیسے سال گذرتے رہے ، ہم دونوں کے تعلقات بھی کم ہوتے چلے گیے۔کچھ دن تو وہ مجھے صبح جگاتیں اور اسکول کے لیے تیار کرتی رہیں۔ واپسی پر پوچھتیں کہ ٹیچر نے کیا سکھایا۔میں انھیں بتاتا انگلش الفاظ ، مغربی سائینس اور دیگر علوم ، قانون تجاذب ، اصول ارشمیدس ، ہمارے اطراف کی دنیا وغیرہ۔ ان سب باتوں کو سن کر وہ خوش نہیں ہوتیں۔وہ اب میری پڑھائی میں میری مدد نہیں کر پاتیں۔وہ انگلش اسکول کی پڑھائی سے ناخوش اور پریشان تھیں کہ وہاں خدا اور مذھبی کتابوں کے بارے میں کچھ نہیں پڑھایا جاتا۔ایک دن میں نے بتایا کہ ہمیں موسیقی بھی سکھائی جارہی تھی ، تو وہ بہت پریشان ہو گئیں۔ان کے نقط نظر سے موسیقی کا تعلق عیاشی سے تھا۔وہ طوائفوں اور فقیروں کا دھندہ تھا نہ کہ شریفوں کا۔اس کے بعد وہ مجھ سے کم ہی بات کرتی تھیں۔

جب میں یونیورسٹی گیا تو وہاں مجھے میرا اپنا کمرہ دیا گیا اور دوستوں سے سارے تعلقات قطع ہو گیے۔دادی ماں نے اپنی تنہائی کو قناعت کے ساتھ قبول کر لیا تھا۔بہت کم وہ اپنے چرخہ کوچھوڑ کر کسی سے بات کرلیتیں۔طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک وہ عبادات ، دعاؤں اور مناجات پڑھتے ہوے اپنا چرخہ چلاتی رہتیں ۔صرف دوپہر میں تھوڑا وقت نکال کر چڑیوں کو دانہ ڈالنے کے لیے باہر برآمدہ میں آکر بیٹھ جاتیں اور روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنا کر وہاں ڈالتیں تو بےشمار چھوٹی چھوٹی چڑیاں جمع ہو کر اپنی چہچہاہٹ سے واقعی انتشار پیدا کردیتیں۔کچھ ان کے پیروں پر اور کچھ ان کے کندھوں پر بھی بیٹھ جاتیں۔یہاں تک کہ کچھ تو ان کے سر پر بھی بیٹھ جاتیں۔دادی ماں مسکراتی رہتیں اور کبھی انھیں شو شو کہہ کر بھگاتی نہیں۔یہ آدھے گھنٹہ کا وقت ان کے لیے سب سے زیادہ خوشی کا موقع ہوا کرتا تھا۔

جب میں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک جانے کا فیصلہ کیا تو مجھے پورا یقین تھا کہ دادی ماں بہت پریشان ہونگی۔کیونکہ مجھے پانچ سال کے لیے جانا تھا اور عمر کے جس حصہ میں وہ تھیں ، کچھ کہا نہیں جاسکتا تھا۔لیکن میری دادی ماں بہت ہمت والی تھیں ، جذباتی بالکل بھی نہیں تھیں۔وہ مجھے الوداع کہنے کے لیے ریلوے اسٹیشن آئیں لیکن کوئی جذباتی مظاہرہ نہیں کیا۔ ان کے ہونٹ دعائیں کرنے میں مصروف تھے اور ذہن عبادت میں ڈوبا ہوا جبکہ ان کی انگلیاں تسبیح کے دانوں کو پھیرانے میں مصروف۔خاموشی سے میرا ماتھا چوما ، جو میرے لیے میرے اور دادی ماں کے درمیان جسمانی تعلق کی بے حد عزیز نشانی بنی رہی۔

پانچ سال کے بعد جب میں واپس گھر آیا تو دادی ماں اسٹیشن لینے آئیں۔وہ بالکل ویسے ہی تھیں جیسے وہ میرے جانے سے پہلے تھیں۔بات تو اب بھی نہیں کر رہی تھیں ، البتہ جب انھوں نے مجھے اپنی بانہوں میں لے لیا تب مجھے ان کی تلاوت کی آواز سنائی دی۔میرے پہنچنے کے پہلے دن بھی ان کے لیے سب سے زیادہ خوشی کے لمحات چڑیوں کو کھانا کھلانا تھا ، ویسے کبھی ان کے ستانے پر خفیف سی سرزنش بھی کر دیا کرتیں۔

البتہ شام میں دادی ماں میں ایک تبدیلی نظر آئی۔انھوں نے عبادت نہیں کی۔انھوں نے پڑوس کی عورتوں کو جمع کیا ، کہیں سے پرانا ڈھول لے آئیں اور بجاتے ہوے گانے لگیں۔کئی گھنٹوں تک اس شکستہ ڈھول کو بجاتے ہوے گاتی رہیں جیسے جنگ کے سپاہیوں کی واپسی پر انھیں خوش آمدید کہتے ہوے ان کا استقبال کیا جاتا تھا۔ہم سب انھیں روکنے کی کوشش کرتے رہے تاکہ انھیں زیادہ تناؤ نہ ہو جاے۔جب سے میں نے انھیں جانا ،یہ وہ پہلا موقع تھا جب انھوں نے عبادت نہیں کی۔

اگلے دن وہ بیمار ہو گئیں۔ بس ہلکا سا بخار ہوگیا تھا۔ڈاکٹر نے کہا کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں تھی۔ لیکن دادی ماں کے سوچنے کا انداز مختلف تھا۔ان کے مطابق ان کا آخری وقت بہت قریب تھا۔اور کہنے لگیں کہ موت سے چند گھنٹوں قبل انھوں نے اپنی عبادت نہیں کی لہٰذا وہ مزید وقت ان سے باتیں کرنے میں گنوانا نہیں چاہتی تھیں۔

ہم نے کافی مخالفت کی لیکن انھوں نے سب نظرانداز کردیا۔بڑے پرسکون انداز میں بستر پر لیٹے وہ تلاوت کرتی رہیں اور تسبیح کے دانوں پر ورد کرتی رہیں۔اس سے پہلے کہ ہم کچھ سمجھتے ، ان کے ہونٹ ساکن ہو گیے اور ان کی بے جان انگلیوں سے تسبیح گر پڑی۔پرسکون چہرے پر ہلکی زردی چھا گئی ۔دادی ماں اس دنیا سے رخصت ہوچکی تھیں۔

رواج کے مطابق ہم نے انھیں بستر سے اٹھا کر زمین پر لٹا دیا اور سرخ کفن سے ڈھک دیا۔کچھ دیر سوگ منانے کے بعد ہم انھیں اکیلا چھوڑ کر ان کے کریا کرم کے انتظامات کرنے میں مصروف ہو گیے۔

شام میں ہم ان کے کمرہ میں اسٹریچر کے ساتھ داخل ہوے تاکہ ان کے بےجان جسم کو سپرد آگ کرنے کے لیے لیجائیں۔غروب آفتاب کا وقت تھا اور ان کا کمرہ اور برآمدہ سنہری روشنی سے منور ہوچکا تھا۔ہم صحن میں تھوڑی دیر کے لیے رکے تو دیکھا کہ سارے برآمدہ میں اور کمرہ میں جہاں ان کا بے جان جسم سرخ کفن میں لپٹا رکھا تھا ، ہزاروں کی تعداد میں چڑیاں جمع ہو کر ہر طرف پھیل گئی تھیں۔وہ بالکل بھی چہچہا نہیں رہی تھیں۔ہم سب کے دل بھر آے۔میری ماں کچھ روٹیاں لے آئیں اور چھوٹے ٹکڑے کر کے ، جیسے میری دادی ماں کیا کرتی تھیں ، چڑیوں کی طرف پھینکا لیکن چڑیوں نے ان کی طرف دیکھا بھی نہیں۔جب ہم دادی ماں کی لاش اٹھا کر جانے لگے ، ساری چڑیاں خاموشی سے اڑ گئیں۔اگلی صبح ملازمہ نے جھاڑو لگا کر سارے روٹی کے ٹکڑے کچرے کے ڈبہ میں ڈال دیے۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: