بات چیت ۔۔۔ وقار احمد ۔۔۔ رابعہ الربا ء

وقار احمد۔۔۔۔۔ لکیچراراسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور

رابعہ الرَبّاء : افسانہ نگار: شاعر: فری لانس رائٹر

انٹرویو

وقار:

مادام ادب کی دنیا میں آ پ کو رابعہ الرَبا ء کے نام سے جا نا پہچا نا جاتا ہے۔ اور جیسا کہ روایت رہی ہے قارئن اپنے پسند یدہ ادیب کی سوانح حیات سے آگاہ ہونا چاہتے ہیں۔ کہ آپ کہا ں اور کب پیدا ہوئیںاور آپ کا بچپن کیسا گزرا;

رابعہ:

پیدا تو لاہور میں ہی ہو ئی اور پچھلی صدی میں یہ واقعہ رونما ہوا۔ بچپن جیسا سب کا گزرتا ہے بہت اچھا گزرا۔ کیو نکہ یہ بادشاہت کا دور ہو تا ہے اور بادشاہت کس کو پسند نہیں ہوتی۔ اور اس کی یاد کس کو بھولتی ہے۔ تب ہم چھوٹے ہو تے ہیں۔ دنیا اور چیزیں بڑی ہو تی ہیں۔ جن کو تسخیر کرنے کے خواب در خواب ہمیں بڑا کر دیتے ہیں۔

اور جب ہم بڑے ہو جاتے ہیں تو وہی گھر وہی چیزیں جیسے سب کچھ چھوٹا ہو جاتا۔ مگر ہم یہ بات سمجھ نہیں پاتے کہ سب کچھ ویسے ہی ہے ارتقاء تو ہم میں آیا ہے۔ بادشاہی تو ہماری گئی ہے۔ بس وہی بادشاہی کی یاد مرتے دم تک نہیں بھولتی۔ اور ایک حسین خواب بن کر ہمارے ساتھ سفر کرتی رہتی ہے۔ سو میرے ساتھ بھی ایسا ہی حسین پچپن سفر کر رہا ہے۔

وقار:

انتظار حسین کا ذکر کرتے ہو ئے ’’قیوما کی دکان،،ذہن میں گردش شروع کر تا ہے آپ نے اپنا پہلا افسانہ کون سا اور کب لکھا;

رابعہ:

پہلا افسانہ لکھاشاید ’’ذرا پاس آ جائیے۔۔،، یہ ایک مزاحیہ افسانہ تھا۔ اور مزاق میں ہی لکھا تھا شاید۔ مگر جب میں نے منصورہ آپاں (منصورہ احمد) کو بھیجا تو شائع بھی ہو گیا۔ اور یہ بات ہے دوہزار چھ یا سات کی۔ جب میں ایم اے کے فائنل ائیر میں تھی۔ تب تک بھی مجھے نہیں لگتا تھا کہ میں لکھ سکتی ہو ں۔ مگر منصورہ احمد مجھے ایک سال سے کہہ رہیں تھیں ’’گڑیا میں تم میں کہا نی کا ر دیکھ رہی ہوں،،

میں ہمیشہ ٹالتی رہی کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ خیر اب سمجھ آ چکا ہے۔ جو ہونا ہو تا ہے وہ ہو ہی جاتا ہے۔ آ پ چاہیں یا نہ چاہیں۔ آپ کو سمجھ آئے یا نہ آئے

وقار:

ہر ادیب کی تحریر میں اس کے نفسیاتی عوامل اور ماحول کا اثر کارفرما رہتا ہے۔ آپ اپنے ماحول سے کتنا اثر لیتی ہیں  اور خیالی کہا نیاں کتنی ہو تی ہیں;

رابعہ:

وقار بہت ہی اچھا سوال ہے۔ یہ ایک فطری عمل ہے۔ اور اگر ہم کہیں کہ ماحول اور ہماری نفسیات کے میلاپ سے ہی ایک ادیب جنم لیتا ہے تو بھی بے جا نہ ہو گا۔ کیونکہ باقی سب بھی تو اسی ماحول میں زندہ ہیں اور خوش ہیں۔ لیکن ادیب اسی ماحول میں مس فٹ ہے۔ گویا پہلے نفسیات اور پھر ماحول مل کر انسان میں کچھ الگ پیدا ہوئے کو اجاگر کرتے ہین۔ اس الگ چیز کو ہی ادیب کہیں گے۔ یہ ’’تخلیقی اقلیت،،کہلاتی ہے، جو فنون لطیفہ کی طرف جاتے ہیں۔

لہذا مجھ پہ بھی نفسیات نے بھی اثر کیا اور ماحول سے تو بلکل بھی انکار نہیں کر سکتی۔ جب جہا ں تک رہا۔ ان دونوں عوامل کا کہانیو ں پہ اثر۔ تو شعوری طور پہ تو نہیں لا شعوری طور پہ یہ اثر زیادہ ہوا۔ تخیل کی پرواز پہ بھی اگر ہم کو ئی کہا نی لکھیں تو اسکا کردار ہم اپنے آس پاس سے ہی اٹھاتے ہیں۔ اور اگر کردار بھی تخیل کی کارفرمائی ہے تو ہم اپنے خواب بنتے ہیں۔ وہ خواب جو پورے نہیں ہو تے، یا وہ خواب جن کو تعبیر نہیں مل سکتی۔

میری کہا نیو ں میں بھی بلکل یو نہی ہیں۔ لیکن کرداد سب سماجی ہی ہیں۔ البتہ اگر تخیلاتی پرواز کی ہے تو وہ خواب ہے۔ جس کولفظوں میں تعبیر کیا ہو گا

وقار:۔

کسی ادیب کی سب سے اہم ذمہ داری کیا ہے

رابعہ:

ہر ادیب کا اس حوالے سے اپنا نقطہ نظر ہو گا۔ سو میرا بھی اپنا ہی نقطہ نظر ہے۔ ایک تو یہ کہ اپنا علم اپنے ساتھ قبر میں نہیں لے کر جائیں اس کو نئی نسل میں تقسیم کر دیں۔ دوم محبت کے بیج بوتے رہیں۔ محبت تقسیم کرتے رہیں۔ امن ہو جائے گا۔

وقار:۔

رات کی رانی شائع ہو نے کے بعد قارئین کی مجموعی تاثر کیا تھا

رابعہ:۔

پہلی کتاب کا تاثر ملا جلا ہو تا ہے۔ ویسا ہی تھا۔ کھٹا میٹھا۔ زیادہ تر افسانے ادبی رسائل میں شائع ہو چکے تھے۔ رسپانس تب ہی آ چکا تھا۔ اب تو بس کتاب میں افسانے اکھٹے ہو کر افسانو عی مجموعے کی صورت میں منظر عام پہ آ یا تھا۔ گویا صاحبہ کتاب والی صورت تھی شاید اور زیادہ کچھ یاد نہیں۔ لیکن بعد کے افسانو ں پہ زیادہ بات ہو ئی۔ شاید تب تک میں بھی سنجیدہ نہیں تھی۔

وقار:

آپ از خود کس ادیب سے متاثر ہیں  کیا اس ادیب کا اثر آ پ دوران تخلیق محسوس کرتی ہیں

رابعہ۔

سجاد حیدر یلدرم، چارلس ڈکنز، خلیل جبران سے بہت متاثر ہو ں۔ ان کا اسلوب مجھے بہت پسند ہے۔ لکھتے ہو ئے تو خیربلکل بھی علم نہیں ہو تا کہ آپ کیا لکھ رہے ہیں متاثر ہیں یا نہیں۔ کیو نکہ لکھنے کی کیفیت الگ ہو تی ہے۔ تخلیقی تحریر کیف کے عالم میں جنم لیتی ہے۔ البتہ کسی کے اسلوب یا رنگ میں ڈھل کے لکھنا، یا کمرشل، کسی مقصد کے تحت لکھنا الگ بات ہے۔

لہذا شعوری طور پہ مجھے کبھی محسوس نہیں ہوا کہ میرے آئیڈیل میرے لفظوں میں مسکراتے ہیں۔ مگر محمد ظہیر بدر صاحب نے ایک افسانے پہ تبصرہ کرتے ہو ئے یہ بات کہی تھی کہ سجاد حیدر یلدرم کا اثر موجود ہے۔

وقار:

ادب میں ہم عصر ی کی بہت بات کی جاتی ہے  ہم عصر اور ہم عمری ادیب کے حوالے سے کیا کہیں گی

رابعہ:

ہم عصر ادیبوں میں عمرو ں کا فرق بھی ہو تاہے۔ مگر ان کا زمانہ ایک ہی ہو گا۔ لیکن فرق یہا ں آ تا ہے کہ ہم عصری کو ہم عمر ایک طرح دیکھ رہے ہو تے ہیں،بڑے اور طرح دیکھ رہے ہو تے ہیں۔ چھوٹے اور طرح دیکھ رہے ہو تے ہیں۔

یعنی سب کا مشاہدہ،سب کا نقطہ نظر، اور تجربے کے اعتبار سے تجزیہ الگ الگ ہو تا ہے۔ یہی بات ہم عصری کو رنگ دیتی ہے۔

وقار:

ادب انسانی زندگی اور معاشرے کے لئے کتنا ضروری ہے ادب کے بغیر کیا انسان مطمین زندگی کزار سکتا ہے

رابعہ:

ادب اتنا ہی ضروری ہے، جتنی آج کے دور میں پڑھائی۔ ادب سے انسانی زندگیو ں میں ٹھہراءو آ تا ہے۔ شعور کی نئی راہیں روشن ہو تی ہیں۔ ذہین میں نئے سوال ابھرتے ہیں جن کے جواب کی تلاش انسان میں نکھار پیدا کر دیتی ہے۔ مگر ادب تمام فنون لطیفہ کا ایک حصہ ہے۔ فنون لطیفہ کے بنا تو انسان ادھورا ہے۔ ادب صرف فنون لطیفہ کا ایک حصہ ہے۔ اس لئے ضروری نہیں کہ یہ ہر انسان کو مطمین کر سکے۔ بلکہ ہر انسان اپنے مطابق فنون لطیفہ کے کسی بھی شعبے سے تسکین حاصل کر سکتا ہے۔ جس میں زیادہ تر لوگو ں کا رحجان کھیلو ں اور فلمو ں یا پھر کمرشل ادب کی طرف ہو تا ہے۔ سنجیدہ ادب جس طرح لکھا کم جاتا ہے یو نہی اس کا قاری بھی کم ہو تا ہے اور یو نہی یہ کم لوگوں کی تسکین کا باعث ہے۔ ورنہ بہت سے لوگ بے ادبی میں بھی مطمین زندگی گزار کر رخصت ہو جاتے ہیں۔ ادب سب کے لئے نہیں ہوا کرتا۔

وقار:

سکول اور کالج کی سطح پہ اردو لازمی کورس پڑھایا جاتا ہے۔ آپ اس کو کس نظر سے دیکھتی ہیں طلبہ میں اس کورس کی وجہ سے ادب میں لگا ءو پیدا ہو جائے گا;

رابعہ:

جہا ں تک میرا خیال ہے اردو لازمی اس لئے ہے کہ قومی زبان ہے۔ جس کا مقصد شاید ادب سے لگاءو پیدا کر نا ہی نہیں ادب سیکھانے کی ایک سعی بھی ہے۔ اور زبا ن سیکھانے کی کوشش بھی۔ کیونکہ ادب کی زبان سب سے عمدہ زبان ہو تی ہے۔ اور طلبہ میں زبان کی عمدگی پیدا کر نا شاید زیادہ اہم مقصد ہے۔

سب میں ان کا لگا ءو نہ تو کوئی کورس پیدا کر سکتا ہے، نہ ہی یہ فطرت کے مطابق ہے۔ نظام قدرت کو چلانے کے لئے ہر شعبہ زندگی کی اہمیت ہے۔ اور بد قسمتی سے جس ملک میں ادب روز گار کا ذریعہ نہیں۔ وہا ں ہم اس کو کیسے بہت زیادہ اہمیت دے سکتے ہیں۔

فکر معاش، فکر فردا سے اہم مسلہ ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے لکھاری کسی خاص مقام پہ آ کر لکھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ فکر معاش میں پڑ جاتے ہیں۔ اور لکھاری سے قاری بھی نہیں رہتے۔ یہ المیہ ہے۔

وقار:۔

ہمارے معاشرے میں ادبی شخصیات گروہو ں میں تقسیم ہو چکی ہیں۔ اس گروہ بندی کے ادب پہ مثبت اثرات ہو نگے یا منفی

رابعہ:

یہ گروہ بندی آج سے نہیں ہے ہمیشہ سے ہے اور ہر جگہ ہے اور رہے گی بھی۔ اکثر اس کے منفی اثرات ہی ہوا کرتے ہیں۔ اور آئندہ بھی ہو تے رہیں گے۔ مگر اس میں دل برداشتہ ہو نے والی کوئی خاص بات نہیں ہے۔ وقت، نصیب اور حالات کا کچھ علم نہیں ہو تا کیا سے کیا بن جائیں۔ حلقہ ارباب ذوق کتنے کئی حصو ں میں بٹ گیا، انجمن ترقی پسند ادب میں کیا کچھ نہیں ہوا۔ آسکفورڈ ادبی میلے اور اس کے بعد ہم نے ان گروہو ں میں مزید گروہ دیکھے۔ یہ سب چلتا رہتا ہے۔ مگر اس میں بے سکونی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ وقت کا خدا ضروری نہیں زندہ بھی رہ جائے۔

وقار:

اردوافسانے پہ نتقیدی اور تحقیقی حوالے سے کافی کام ہو چکا ہے۔ آپ کی کتاب ’’اردو افسانہ عہد حاضر میں،، کی کیا انفرادیت ہے۔

رابعہ:

یہ بات بلکل درست ہے کہ نتقید پہ کافی کام ہو چکا ہے۔ مگر اصل تحقیق میں ابھی نا کا فی کام ہوا ہے۔ اور جو ہوا ہے۔ اس میں بھی بہت معیاری کام کم ہے۔ اس میں ابھی کام کی بہت گنجائش ہے۔ ہم تحقیق ڈگری کے لئے کرتے ہیں۔ جس میں تحقیق کم،کاپی پیسٹ ورک زیادہ ہو تا ہے

اب رہی ’’اردو افسانہ عہد حاضر میں،، تو یہ تحقیقی کام ہے۔ جس کو مکمل کرتے آٹھ دس سال کا عرصہ لگ گیا۔ یہ افسانے کا انسائکلو پیڈیا ہے۔ جو اسے قبل کسی نے ابھی تک تا حال مرتب نہیں کیا۔ اور اس میں ایک انفرادیت یہ بھی ہے کہ ہر گروہ سے آزاد کام ہے۔ ہر گروہ کے افسانہ نگارو ں کو شامل کرنے ی کوشش کی گئی ہے۔ ہر ملک اور دور کے قصبوں تک سے بھی افسانہ نگاروں کو شامل کرنے کی ہر ممکن سعی ہے۔ تاکہ پو ری دنیا ہی نہیں، پو رے ملک کی بھی پریزنٹیشن موجود ہو۔ میرے لئے یہ کام کا ایک عالمی اورقومی ادبی باغ ہے۔ جس میں ہر رنگ و نسل کے پھول موجود ہیں

اس میں افسانو ں نگارو ں کے رابطہ نمبرز، تعارف، تصویر اور افسانہ سب شامل کئے گئے ہیں۔

وقار۔

آپ ایک ہی وقت میں شاعری بھی لکھ رہی ہیں، افسانہ، تحقیق، تنقید بھی، یہ مختلف جہتیں سب کیسے ساتھ ہو جاتی ہیں۔

رابعہ۔

یہ جہتیں مختلف ہیں مگر ایک ہی والدین کی اولاد کی طرح ہیں۔ جیسے ایک گھر میں سب بہن بھائی پل جاتے ہیں۔ ویسے ہی یہ بھی ایک ہی چھت تلے آسانی سے پروان چڑھ جاتی ہیں۔

بس آپ جس موڈ کے اسیر ہو جائیں۔ قلم اس راہ کو سفر کر نے لگتا ہے۔ یہ سب اپنا وقت اور رستہ خود لے کر آتے ہیں۔ سو جس کی آمد ہو، ہم اس کو خوش آمدید کرتے ہیں۔ مگر چونکہ سفر برسوں عشروں کا ہو تا ہے۔ اس لئے ہمیں جہتوں کے الگ ہو نے کاگما ن شاید گھیر لیتا ہے۔

وقار:

کہا جاتا ہے کہ محقق خشک مزاج ہو تا ہے۔ نقاد سخت مزاج، تخلیق کار نرم مزاج َ۔ آپ اس خشکیو ں، سختیو ں سے ہو تے ہوئے نرم مزاج کیسے ہو جاتی ہیں

رابعہ۔

ارے لڑکے غالب انکل نے فرمایا ہے، ” مشکلیں اتنی پڑیں ۔۔۔۔۔ “،

باقی یہ جو سب باتیں ہیں۔ یہ ہمارے محدود سماجی روئیے ہیں۔ جو ہم نے ایک ایکٹر کی طرح اپنا لئے ہیں۔ اور سوچ لیا ہے کہ اگر یہ رویے نہیں ہو گے تو ہم شاید نقاد یامحقق نہیں رہیں گے۔ ہم نے ان رویو ں میں اپنے اندر کے انسان کو مار دیا ہے۔ جیسے وکیل کی نشانی کالا کوٹ یا ڈاکٹرکی نشانی سفید کوٹ ہے یو نہی ہم نے نقاد اور محقق کی بھی نشانی بنا لی ہے اور پھر اپنا بھی لی ہے۔ جس سے کم از کم ہم بغاوت کرتے ہیں۔ یا شاید ہمارا تخلیق کارزیادہ ڈومینیٹ کرتا ہے۔ مگر مجھے مسکراتے، ہنستے نرم مزاج لوگ، سلیقے سے دھیمہ و شستہ بولنے والے لوگ پسند تھے۔ اور اب بھی ہیں۔ لہذا کوشش ہو تی ہے کہ اپنے اندر کے انسان اور بچے کو پالتی رہوں۔ روایتی لکھاری کی طرح سنجیدگی نہیں اوڑھنا چاہتی۔ اللہ مجھے اس بات پہ قائم رکھنے والے معاملے کرے آ مین

وقار۔

عموما ادب سے وابستہ لوگو ں کو محبت کا علمبردار سمجھا جاتا ہے اور یہ انسانی جبلت میں شامل جذبہ بھی ہے۔ آپ کے خیال میں اس مادہ پرست دنیا میں محبت یا عشق کیا ہے  اور کیا اس مادیت پرستی میں یہ دونوں جذبے ممکن ہیں

رابعہ:

ادب سے وابستہ لوگو ں کا محبت کا علمبرادار ہونا دو طرح کا ہے۔ ایک ان کا انسانیت سے محبت کا جذبہ۔ وہ انسانو ں سے بلا تخصیص رنگ و نسل و مذہب محبت کر تے ہیں۔ ان کی بھلائی چاہتے ہیں۔ انسان کو آپس میں محبت کا درس دیتے ہیں۔ ادیب جواز اس لئے تلاشتا ہے کہ اس کا حل نکا ل کر امن اور محبت کا ماحول بن جائے۔

آپ دیکھئے آپ اگرکسی سے نفرت، حسد، کرتے ہیں، کسی کو بڑاسمجھتے ہیں تو اس شخص کا کچھ نہیں جا رہا ہو تا۔ آپ کی زیادہ توانائی ضائع ہو رہی ہو تی ہے۔ ادیب اس باریک نقطے کو سمجھتے ہو ئے محبت برائے محبت کا درس دیتا ہے۔

دوسرا جنس مخالف کی طرف کشش۔ جو ایک فطری عمل ہے مگر چونکہ ادیب اس فطری جذبے کو اپنے لفظوں سے رنگ دے لیتا ہے لہذا ہم نے اس کو ادیب سے خصوصی منسلک کر دیا ہے۔ جب اس کے باقی محسوسات کی دنیا زیادہ وسیع ہے تواس جذبے کے رنگ بھی زیادہ رنگین ہے۔ جن کووہ سلیقے سے کاغذ کے سینے پہ اتار دیتا ہے۔ اور یو ں وہ اصل میں ان سب کے محسوسات کی ترجمانی بھی کر رہا ہو تا ہے۔ جو محسوس تو کر سکتے ہیں مگر اپنی کیفیت کو رقم نہیں کر سکتے۔

باقی ممکن نہ ممکن اور مادہ پرستی والی بات ہے تو نا ممکن تو کچھ بھی نہیں ہے۔

البتہ مادہ پرست دور میں محبت نے بھی مادہ پرستی کا جو چھوٹا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔ اسے انسان ضرور مایو س ہوا ہے۔

لیکن محبت کی تو ایک خوشبو ہو تی ہے۔ اگر اصلی ہے تومعشوق تک خود پہنچ جاتی ہے۔ عشق کے بارے میں تو ویسے ہی کہا جاتا ہے یہ چھپائے نہیں چھپتا۔ اور یہ سچ ہے کیو نکہ عشق میں انسان بے خود ہو جاتا ہے۔ مجنون ہو جاتا ہے۔ اور جنونیت شدت ہے۔ یہ یو نہی ہے جیسے سمندر میں طوفان آ جائے۔ آسمان سے بارش ہو جائے تو چھپ نہیں سکتے۔

وقار:

’’درویشوں کا ڈیرا،، کیا ہم اس کتاب کو فلسفہ حیا ت سمجھیں یا آٹو بائیو گرافیاس میں آپ نے زندگی کے عجب فلسفوں پہ بہت کھل کر بات کی ہے۔ جس کا شاید ابھی ہماراسماج اجازت نہیں دیتا۔ ایسا کیوں;

رابعہ۔

اس کو آپ فلسفہ کہہ لیں یا آ ٹوبائیو گرافی، بات ایک ہی ہے۔ کیونکہ فلسفے بھی تو زندگیو ں سے ہی جنم لیتے ہیں۔ اوراس فلسفے نے بھی اسی زمین سے بیج لے کو پھل پھول اگائے ہو نگے ناں۔

دوسری بات کہ سماج اجازت نہیں دیتا۔ مگر مجھے تو سماج کی اجازت کی ضرورت بھی نہیں۔ ہماری مذہبی کتاب میں زندگی کے تمام فلسفوں پہ جب اوپنلی بات کی گئی ہے تو ہم انسان حقیقت یا سچ کی ایسی صورت سے کیو ں شر ماتے ہیں۔ اور اگر ہم اتنے ہی پارسا ہیں تو ایسی سچائیو ں کے لئے تنہائی یا موقع کیو ں تلا ش کر رہے ہو تے ہیں۔ اسی منافقت نے ہمیں ڈپریشن کا مریض اور مجرم بنایا ہوا کہ۔ یہ وہی بات ہے لوگ کیا کہیں گے۔ اس لئے ہم نے یہ نہیں کر نا، وہ نہیں کرنا۔

سو مجھے جو سچ لگتا تھا میں اس کو کھل کر سچ لکھا ہے۔

وقار:

عالمی ہم عصروں میں کس ادیب سے متاثر ہیں اور کیوں ؟

رابعہ:

الف شفق اور ارون دتی رائے، کیونکہ ان دونوں نے روایتی لکھاری عورت کے روایتی امیج کو توڑا۔ اور ہم ایک نئی طرح کی لکھنے والی عورت سے متعارف ہو ئے۔ جو ہنس بھی سکتی ہے۔ جو لکھ بھی سکتی ہے، جو سٹایلش بھی ہو سکتی ہے۔ جوانسانیت سے محبت کرتی ہے،جو سوچ بھی سکتی ہے۔ جو ری ایکٹ بھی کر سکتی ہے۔ جوایک انسان بھی ہے۔ اور اس سچ کو قبولتی بھی ہے جو کڑوا ہے مگر سچ ہے۔ اور سب سے اہم بات کڑوی باتو ں کو سشتہ انداز میں کہتیں ہیں۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

November 2020
M T W T F S S
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
30  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: