رُتبہ ۔۔۔۔ ثمینہ تبسم

رُتبہ

(ثمینہ تبسم)

اُسے کم زور مت سمجھو
وہ بیچاری نہیں ہے
اُسے تقدیر کی گردش نے جب گردش میں ڈالا ہے
ہر اک مُشکل کو سر کر کے
خُود اپنےپاؤں پہ چل کے
ہر اک طُوفاں سے نکلی ہے
وہ غم کے ساحلوں سے سییپیاں چُنتی ہے خُوشیوں کی
وہ دُکھ کے بادلوں میں سائباں بن کے اُبھرتی ہے
اُسے کمزور مت سمجھو
وہ بیچاری نہیں ہے
دکھاؤ مت اُسے تُم خواب جنت کی بہاروں کے
ڈراؤ مت اُسے تُم ذکر کر کر کے جہنُم کا
اُسے خُود خالق ـ تقدیر نے تخلیق کے فن سے نوازہ ہے
وہ دامن میں لئے پھرتی ہے اس دُنیا قسمت کو
وہ اپنے نرم آنچل میں پناہ دیتی ہے نسلوں کو
اُسے کمزور مت سمجھو
وہ بیچاری نہیں ہے
یہ گُزرے کل کی باتیں ہیں کہ جب رسمُوں رواجوں کے
بھییانک ناگ اُس کو خُوں رُلاتے تھے
یہ گُزرے کل کی باتیں ہیں کہ جب کردار پہ تہمت لگا کے
تُم اُسے اُس کی نگاہوں سے گراتے تھے
یہ گُزرے کل کی باتیں ہیں کہ سمجھوتے کی چادر میں لپیٹی کاٹھ کی پُتلی سمجھ کے
تُم اُسے اپنے اشاروں پہ نچاتے تھے
یہ گُزرے کل کی باتیں ہیں
وہ اپنے عزم و ہمت سے
اب اپنی راہ میں حائل انا کے بُت گرا دے گی
وہ بے نام و نشاں رستوں کو سنگ ـ میل کردے گی
اُسے کمزور مت سمجھو
وہ بیچاری نہیں ہے

 

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

November 2020
M T W T F S S
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
30  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: