کھیل تماشا ۔۔۔ عابد حسین عابد

کھیل تماشا

عابد حسین عابد

کتنے نازک موڑ پہ آکر پوچھ رہے ہو

کھیل مکمل کب ہونا ہے

ابھی کہانی رک جانے پر

آگے بھی بڑھ جائے گی

ابھی تو اس پردے کے پیچھے

کچھ کردار چھپے بیٹھے ہیں

اب تک گزرے کھیل کی بابت

دیکھو، سوچو، غور کرو تم

کس کے ذمے کیا لکھا ہے

کس نے کب تک چپ رہنا ہے

کوئی کہاں پر لب کھولے گا

کام مہارت سے کرتے ہیں

سب کردار نرالے

جاگتی آنکھوں دیکھ رہا ہوں

سارا کھیل تماشا

ابھی ابھی بازار کی رونق دیکھ کے

خالی ہاتھ آیا ہوں

گنتی کرنے کے ماہر کا

ٹی وی پر اعلان سنا تو

دل حیرت سے بیٹھ گیا

میری غربت ختم ہوئی اور

مجھ کو ہی معلوم نہیں

جھوٹ برابر بولتے رہنا

کھیل کا لازم حصہ ٹھہرا

تم جذبات میں آ کر اپنی

حالت کو دہرانا مت

بات اگرچہ سچی ہے ، پر

گستاخی کہلائے گی

گنتی کرنے والے ماہر

بھوک سے واقف کب ہوتے ہیں

سارا کچھ تقدیر سمجھ کر

ظلم خموشی سے سہنے والے

زندہ رہنے کی کوشش میں

گن گن سانسیں لینے والو

تم چاہو تو ہر جھوٹا کردار

تمہارے پاوں پہ جھک سکتا ہے

تم چاہو تو کھیل

ابھی رک سکتا ہے

کتنے نازک موڑ پہ آ کر پوچھ رہے ہو

کھیل مکمل کب ہونا ہے۔

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.