قیامت کا انتظار ۔۔۔ آغآ سہیل

قیامت کا انتظار

( آغا سہیل )

ابو داود نے سر منبر خطبہ دینے والے کو بغور دیکھا۔ پھر مجمعے پر نگاہ ڈالی اور بے یقینی میں سر ہلایا۔ عبا سمیٹی اور صحن ِ مسجد سے نکل آیا۔ اسے سخت کوفت تھی کہ اولیٰ الامر بات نہیں کہہ رہا تھا جو اسے کہنا چاہیے اور مجمع وہ بات نہیں سن رہا تھا جس کی توقع میں وہ یہاں جوق در جوق کھنچ کر آیا تھا لیکن بات جس ڈھب سے کہی جا رہی تھی اس میں ایسی مڑک تھی کہ کوئی مطلقا دم نہیں مار سکتا تھا۔ آمنا صدقنا کہنے پر ہر ایک مجبور تھا لیکن یہی تو وہ منافقت تھی جسے انتہائی ہوشیاری اور کمال مکاری سے حاکم نے لفظوں کے الٹ پھیر میں چھپا دیا تھا۔ مجمع کے ایک ایک فرد نے اس مکر کو سمجھ لیا تھا اور جس مکر سے بات کہی گئی تھی وہ اسکی تہہ تک پنچ گئے تھے مگر وہ خود بھی منافق تھے۔ انہیں اپنی جان اپنا مال اپنی عزت عزیز تھی اور گو وہ زبان سے اقرار کرتے تھے کہ ہمیں ایمان سب سے زیادہ عزیز ہے لیکن در اصل ان کا ایمان وہ نہ تھا جو وہ ظاہر کرتے تھے بلکہ وہ تھا جس کا وہ اظہار نہیں کرتے تھے اور نہ کر سکتے تھے اور حاکم وقت کا یہی حال تھا جو کہ وہ ظاہر کرتا تھا، وہ نہ تھا جو وہ چھپاتا تھا۔ دراصل وہ وہی تھا گویا حاکم اور محکوم دونوں ایک دوسرے کے دلوں کے بھید جانتے تھے لیکن دونوں نے مکر سے اپنی اپنی بات پر منافقت کا پردہ ڈال رکھا تھا اور ایکدوسرے کی گھات میں لگ گئے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ کس کا پردہ پہلے چاک ہوتا ہے اور کون پردہ قائم رکھنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

ابو داود مرد قلندر تھا، سچا تھا، اندر باہر سے یکساں تھا، مکر اور منافقت نہیں کر سکتا تھا اس لیے اٹھ کر چلا آیا۔ رات کے اندھیرے میں کنکروں پتھروں سے ٹھوکریں کھاتا چلا جا رہا تھا، پیچ و تاب کھاتا اور جی ہی جی مین کھولتا ہوا منہ ہی منہ میں بڑ بڑا رہا تھا۔

” اے رب کریم، دیکھا تو نے یہ تجھ سے بھی کتنے منافق ہین۔ یہ دنیا کی فانی دولت عزت اور شہرت کے خواہاں ہیں۔ یہ اندر ہی اندر لات و ہبل کے پرستار ہیں۔ یہ تیرے نام کی آڑ میں اپنی خواہشوں کو پورا کرنے والے ہیں۔ یہ بنگان ہوا و ہوس ہیں اے رب کریم کیوں مجھے اس گروہ میں پیدا کیا۔ ” معا کچھ لوگ دوڑے ہوئے آئے اور عقب سے اسے جا لیا، سیاہ عباوں میں لپتے ان چاروں نے جلدی جلدی تعارف کرایا۔ ” بخدا ابو داود۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم ابو اسد، ابو سعد ، عبدالرحمن، مناف۔۔۔” ابو داود بولا، ‘ جاو جاو مجھے دق نہ کرو، اکیلا چھوڑ دو۔ “

قسم ہے اس رب کی جس نے یہ اندھیری رات بنائی اور قسم ہے اس رب کی جو چمکتے سورج سے رات کے اندھیرے کو ختم کر دیتا ہے کہ ہم حاکم اعلی صرف اللہ کو سمجھتے ہیں اور اسی کی حاکمیت کو بر حق جانتے ہیں اور ہم اطیعو اللہ و اطیعو الرسول کے بعد اطیعو الاولیٰ لامر پر اسی حالت میں یقین رکھتے ہیں کہ جب حاکم خود بھی اللہ اور رسول کی اطاعت کرتا ہو ” ان میں سے ایک نے کہا اور ابو داود کی عبا پکڑ کر اسے روک لیا، ” ابو داود بخدا ہم تم کو اپنا رہبر مانتے ہیں۔ ‘

ابو داود نے کہا، ” ابو اسد، ابو سعد، عبد الرحمن اور مناف، سنو اور کان کھول کر سنو کہ دنیا کی دولت اور ہوس نے سینوں کی فراخی ختم کر کے دلوں کو تنگ کر دیا ہے۔ ہر شخص اپنے اپنے اعمال اپنی اپنی قبر میں لے کر جائے گا۔ میرا راستہ وہی ہے جو خدا اور رسول کا پسندیدہ ہے۔ میں کسی کو مجبور نہیں کرتا، بخدا نہیں کرتا۔ “

” آو۔ ہم اس ٹیلے پر چڑھیں جہاں کجھور کے درختوں کے سیاہ سائے موجود ہیں اور زمین پر جھکتے ہوئے آسمان کے ستارے چمک رہے ہیں ، کچھ دیر میں چاند نکل آئے گا، ہم بیٹھ کر باتیں کریں گے اور شب بیداری کی حالت میں کوئی حل تلاش کریں گے”۔ ابو اسد نے کہا مگر ابو سعد نے جواب میں کہا، ” نہیں ، وہ ہمیں سازشی سمجھ کر گرفتار کر لیں گے، عبدالرحمن گھر چلو، پہاڑ کی کھوہ میں چھپا ہوا گھر ہے۔ محفوظ ہے۔ “

مگر ابو داود نے زچ ہو کر کہا، ” بھایئو۔ اپنے اپنے گھروں کو جاو اور اپنے اپنے طور پر سوچو۔ کل رات عشا کے بعد ہم اسی جگہ ملیں گے اور پھر کسی کے گھر میں مھفوظ ہو کر مباحثہ کریں گے کہ کچھ حل نکل آئے ۔ “

پانچوں اسی جگہ منتشر ہو گئے اور دوسری شب عشا کے بعد اسی جگہ یکجا ہوئے اور عبد الرحمن کے گھر پہاڑ کی کھوہ میں جمع ہو گئے اور ان میں سے ایک نے کہا، ” قسم ہے اپنے رب کی جس کے قبضے میں ہماری جانیں ہین کہ کل سے ہماری آنکھوں کی نیند حرام ہے اور ہم سمجھ رہے ہیں کہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ “

دوسرے نے کہا، ” اے ابو داود۔ کیا نہیں دیکھا تم نے کہ ہماری آنکھوں کے گرد حلقے پڑ گئے ہیں اور سوچتے سوچتے ہمارے دماغ ماوف ہو گئے ہیں نان شعر کا ایک ٹکڑا، کجھور کا ایک دانہ بھی ہمارے حلق سے نیچے نہیں اترا۔ “

ابو داود نے کہا، ” یہ تو کچھ بھی نہیں ہے بھایئو۔ ڈرو اس وقت سے کہ رزق کی کھوج میں در بدر پھریں گے کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ رزق ان قوموں سے چھن جاتا ہے جو ملت کے مفادات کو ذاتی مفادات پر قربان کر دیتی ہیں۔ جو بیت المال کو اپنا جیب خرچ بنا لیتی ہیں اور اے بھایئو۔ تمہاری آنکھوں مین وہ چمک میں دیکھ رہا ہوں جو ملت کے مفادات قربان کر دینے کے جذبے سے پیدا ہوتی ہے۔ “

سب نے ایکدوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر قسمیں کھایئن ، عہد کئے اور رات کے اندھیرے میں بچھڑ گئے۔ دوسرے روز نماز عشا ء کے بعد وہ ایک ساتھ مسجد سے نکلے اور انہوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں اس چمک کو دیکھ کر اپنے اپنے عہد دوہرائے اور اپنے اپنے گھروں میں پہنچ گئے۔ اپنے اپنے انداز سے سوچنا شروع کیا اور سوچنے کے عمل میں شب بیداری ان سب کا معمول بن گیا۔

ایک رات ان پانچوں میں سے ایک کے گھر ایک سرکاری کارندہ آیا اور سونے کے دیناروں کے توڑے دے کر رخصت ہو گیا اور کہا کہ خلیفہ نے کہا ہے کہ اس بات کا کسی سے ذکر نہ کیا جائے۔ دوسرے روز شام کو عشا ء کے بعد وہی شخص ان دوستوں سے یہ کہہ کر رخصت ہوا کہ آج اس کا مزاج نا ساز ہے۔ دوسرے روز دو آدمیوں کا اور تیسرے روز تین آدمیون کا مزاج ناساز ہوا۔ آخر میں ابو داود تنہا رہ گیا تو خلیفہ کا آدمی سونے کے دیناروں کے توڑے لے کر آیا اور اس سے بھی یہی بات کہی اور ابو داود نے توڑے واپس کردیے اور کہا کہ ، ” میں اس راز کی ضمانت دینے سے قاصر ہوں کیونکہ  یہ بیت المال کا ایک جزو ہے اور اسکے مالک عوام الناس ہین۔ خلیفہ کو اس کا اختیار نہیں ہے۔ “اگلے روز عشاء کے بعد ابوداود نے تمام دوستوں کو روک کر یہ بات بتائی تو اس نے دیکھا کہ آج ان کی آنکھوں میں وہ چمک نہین ہے جو پہلے روز تھی بلکہ اسے ان آنکھوں میں اجنبیت کی ایک ایسی چمک نظر آئی جو پہلے نہ تھی اور جو صاف صاف چغلی کھا رہی تھی کہ ان کے معاہدے میں دراڑ پڑ چکی ہے۔ ان کے قلوب بدل چکے ہیں۔

ابو داود نے کہا، ” دوستو۔ تم بدل گئے ہو۔ تمہارے قلوب کی روشنی بجھ چکی ہے ۔ تمہاری آنکھوں میں دنیا داری کی چمک اور طمع جھلک رہی ہے۔ اور سنو کہ جب حسین کو اپنے قاصد جناب مسلم کی شہادت کی اطلاع ملی تھی تو راوی نے کہا تھا کہ حضرت لوگوں کے دل تو آپ کے ساتھ ہیں مگر تلواریں یزید کے ساتھ ہیں اور سنو کہ حسین نے پھر بھی سفر ترک نہ کیا تھا۔ میں تن تنہا بھی اس راستے پر چلنے کو تیار ہوں، کل بھی تیار تھا اور آج بھی تیار ہوں کیونکہ یہی صراط مستقیم ہے۔ “

ان چاروں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ اپنی اپنی عبا سمیٹی اور کچھ کہے سنے بغیر ابو داود کو اکیلا چھوڑ کر چلے گئے۔ پس ابو داود نے اس روز سے تن تنہا شہر پناہ کے درے پر ایک سنگ گراں کو اپنا مستقر قرار دے کر جا بیٹھنے اور بیٹھے رہنے کو معمول بنا لیا۔ وہ نہ کسی سے بولتا نہ کسی سے کچھ کہتا کہ ایک روز حاکم وقت اپنے راہوار پر بیٹھا ابو اسد، ابو سعد، عبدالرحمن اور مناف کی معیت میں ادھر سے گزرا اور ان سبھوں نے ابو داود کا استہزا کیا اور خوب قہقہے لگائے اور اپنے عمل سے ثابت کیا کہ ابو داود گویا دیوانہ یا سودائی ہے۔ حاکم وقت نے پوچھا، ” اے ابو داود تو شہر پناہ کے درـے پر بیٹھا روزانہ کس کا انتظار کرتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے کوئی آیا چاہتا ہے۔ اب آیا کہ جب آیا، گویا اسکے پیروں کی چاپ کی آواز تیرے کانوں میں آ رہی ہے ۔”

ابو داود نے کہا، ” اے اولی لامر تو نے صحیح کہا، بخدا اسکے پاوں کی چاپ میں سن رہا ہوں”

حاکم نے پوچھا، ” وہ کون ہے ؟ “

ابو داود نے مسکرا کر کہا، ” وہ وہی ہے جسے تو بھی جانتا ہے اور میں بھی اور یہ سب بھی بلکہ ہر ایک جانتا ہے مگر تیرے خوف سے کوئی اسے زبان پر نہیں لاتا اور تجھے معلوم ہے کہ اس کا آنا برحق ہے۔ “

یہ جواب سن کر سب نے قہقہے لگائے اور چلے گئے صرف ان کے قہقہوں کی باز گشت دیر تک فضا مین مرتعش رہی اور ابو داود کا ذہن ماوف رہا۔ ذہن کے پردے پر دھند چھائی رہی۔ بمشکل تمام گرتا پڑتا وہ اپنے غار تک پہنچا ۔ اسکی بیٹی نے کہا، ” کیا بات ہے میرے باپ۔ میں آج آپ کو خستہ اور مضمحل دیکھ رہی ہوں ؟ ” ابو داود نے کہا، ” بیٹی ذرا یہ تو بتا کہ کیا میں اپنی حرکات اور سکنات سے دیوانہ یا مجنوں یا سودائی نظر آتا ہوں ؟ ” بیٹی نے باپ کو بغور دیکھ کر بہ تحقیق کہا، ” مطلقا نہیں میرے باپ۔ ” ابو داود ہنسا اور بولا، ” لا ریب ۔ تو سچی ہے ۔ میں دیوانہ نہیں ہوں لیکن ونقریب دیوانوں کی صف میں بٹھا دیا جاوں گا

کچھ روز کے بعد حاکم وقت نے ابو داود کو بلایا اور بھرے مجمع میں ایک بلند مقام پر کھڑا کر کے لوگوں کو بتایا، ” ابو داود باغی ہے اور اولی لامر کی اچاعت میں سرکشی اور تمرد سے کام لیتا ہے اور اسکی آنکھوں میں جو چمک ہے وہ اس کی بغاوت کا پتہ دیتی ہے۔”

پس قاضی نے آنکھیں پھوڑنے کا فتوا دیا اور آنا فانا ابو داود کی آنکھیں پھوڑ دی گیئں۔

ابو داود گرتا پڑتا اپنے غار میں پہنچا اور درد اور کراہ سے سارا غار گونجنے لگا۔ اسکی بیٹی نے بہت ماتم کیا اور باپ کی تیمارداری میں لگ گئی۔ بارے مدت کے بعد ایسا ہوا کہ ابو داود ٹٹول کر چلنے پھرنے لگا۔ ایک روز اس نے اپنی بیٹی سے کہا، ” اے جان پدر۔ مجھے شہر پناہ کے درے پر لے چل۔ ” وہ لے گئی۔ ابو داود نے ٹٹول کر اس چٹان کو پہچانا اور اس پر جا بیٹھا اور بیٹی سے کہا کہ اب وہ جائے اور شام کو اسے واپس لینے آ جائے۔ بیٹی نے کہ، ” ار میرے باپ۔ آپ یہاں بیٹھ کر کیا کریں گے۔ آپ کی آنکھیں بجھ چکی ہیں ۔ آپ تو کسی آتے جاتے کو دیکھ بھی نہیں سکتے۔ “

ابو داود نے کہا، ” تو سچ کہتی ہے جان پدر۔ مگر میں سن تو سکتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ آنے والے کے قدموں کی چاپ سن کر میں تجھے بلکہ سب کو بتا سکتا ہوں کہ جس کا انتظار ہے وہ پہنچ گیا۔ اور یاد رکھ اسے ضرور آنا ہے اور میں اس کا استقبال کروں گا انہی اندھی اور بے نور آنکھوں سے ، میں اسکے پیروں کی چاپ پہچانتا ہوں ، اندر میرے دل کی آنکھیں اسے دیکھ رہی ہیں۔ “

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: