سولی سے عیسی اترے تو ۔۔۔ اختر حسین جعفری

سولی سے عیسیٰ اترے تو ۔۔۔۔

اختر حسین جعفری

سولی سے عیسیٰ اترے تو

تیز ہوا کا زور تھمے

قاتل ہاتھوں کا زخم بھرے

تخت سے عیسیٰ کب اترے گا

عہد ہمارا عہد ِ ملامت، عہد ِ خجالت

ایک اپاہج کی بیساکھی کتنے لنگڑوں کے کام آئے گی

ہم سب لنگڑے اور اپاہج

سب کے جسموں پر ناسور ہیں اور اس کے اعجاز کا مرہم کم مقدار

کم مقدار، صبر طلب اور گراں ہے

مریم جس کے بال کھلے ہیں

کب تک وہ بال اپنے پسر کے حرف ِ دعا کا پیش عدالت وِرد کرے گی

سحر ِ ملامت کب ٹوٹے گا

تخت سے عیسیٰ کب اترے گا

سولی سے عیسیٰ اترا تو گردن خم تھی

سولی سے عیسیٰ اترا تو اپنی خبر، اپنے الہام سے شرمندہ تھا

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: