خاموشی کی وراثت ۔۔۔ فرید آذر
خاموشی کی وراثت
فرید آذر
بچپن میں لفظ لبوں تک آتے،
پر دروازے پر پہرا بٹھا دیا جاتا،
“چپ رہو! بڑے بول رہے ہیں” —
یوں ہر جملہ اندر ہی اندر
سانس توڑ دیتا۔
کبھی کھلونے نہیں چنے،
کبھی کپڑے، نہ جوتے—
فیصلے سب کے سب
ان ہاتھوں نے باندھ دیے
جو ہمیں آزاد کرنے کا دعویٰ کرتے تھے۔
وقت گزرا،
قد بڑھا، آواز گہری ہوئی،
مگر دل میں وہی ہچکچاہٹ رہی۔
اب جب کوئی پوچھتا ہے:
“تمہاری رائے کیا ہے؟”
تو اندر خلا سا بھر جاتا ہے۔
الفاظ آتے ہیں،
پر ایک دوسرے سے الجھ جاتے ہیں،
سوچ آتی ہے،
پر خود اپنے ہی قدموں میں گر جاتی ہے۔
ہاں، ہمارے پاس اب صرف
بے بسی ہے،
تذبذب ہے،
اور ایک لمبی چپ—
جو وراثت میں ملی تھی۔
ہم سیکھ ہی نہ پائے
کہ اپنی مرضی کو آواز کیسے دی جاتی ہے،
ہم بس اتنا جان پائے
کہ زندگی دوسروں کے فیصلوں کے
ٹانکوں سے سی جاتی ہے۔