درد کہانی ۔۔۔ عائشہ اسلم

 درد کہانی

( عائشہ اسلم )

پیروں کی اِیڑھیوں کا درد

 میرے سفر کی گواہی تو ہے

 یا پھر ٹھہرے رہنے کا اِشارہ

 مُجھے یہیں رُکنا ہو گا

 بائیں ہاتھ کی اُنگلیوں کا درد

 اُس کا راز ہے کیا

 سوچتی ہوں

 پورا بدن اِک پیڑھ ہو جیسے

 ہاں تھکن ہانپتی ہے

 کُچھ کہنا بھی چاہتی ہے

 مگر حرف اِنکاری

 مدد کو پکارتی ہوں

 رُوح بھیتر اَن چاہے ناموں کا

 ورد بھی کیے جاتی ہوں

 بچپن کی دُعائوں کو بھی یاد کرنے لگتی ہوں

 جو ماں سے سُنی تھیں

 آس پاس بھی آوازیں

 لیکن چُپ بھی گُنگ ہوئی

 سکھیاں کہاں کہ دل کی بات

 میں اُن سے کہتی

 سوچا چھت پر جا کے

 ہوا کو سب سُنائوں گی

 لیکن پائوں کی اِیڑھیوں کا درد

 جان نکالے جاتا ہے

 ساز بھی کوئی ہاتھ نہیں

 نہ کوئی گھنٹی پاس میرے

 جو گونجے تو سب سُن لیں

 وقت کے بھید نہیں معلوم

 اور اُستاد زمانہ ہے

 کوئی اِنسان نہیں چھل کپت ہے نا

 مہا منتر پُھونکے گا

 تو کیا میں مر جائوں گی ؟

 اِتنی پیڑھیں

 جن سے مُکت ہوا چاہتی ہوں

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: