دانائی کی تلاش میں ۔۔۔ ڈاکٹر خالد سہیل

دانائی کی تلاش میں

ڈاکٹر خالد سہیل

500 قبل مسیح سے 2000 عیسوی تک :: علم کے سمندر سے ملے چند صدف اور موتی:

ڈاکٹر خالد سہیل ( سائکاٹرسٹ، ہیمنسٹ ) کے اختصار ِ قلم سے

1۔ کنفیوشس۔ 2۔ لاوز۔3۔ بدھا۔ 4۔ مہاویرا۔ 5۔ زرتشت۔ 6۔ سقراط۔ 7۔ افلاطون۔8۔ارسطو۔9۔بقراط۔10۔ جالینوس۔ 11۔ الکندی۔ 12۔ الفارابی۔ 13۔ الرازی۔ 14۔ بو علی سینا۔ 15۔ ابن رشد۔ 16۔ ابن تیمیہ۔ 17۔ ابن خلدون۔ 18۔ رینی ڈیکاٹ۔ 19۔ ڈیوڈ ہیوم۔ 20۔ جون روسو۔21۔ ایڈم سمتھ۔ 22۔ ایملی ڈر کھائم۔ 23۔ میکس ویبر۔ 24۔ فریڈرک ہیگل۔ 25۔ کارل مارکس۔ 26۔ اینٹونیو گرامچی۔ 27۔ لوئی التھوزر۔ 28۔ فریڈرک نطشے۔ 29۔ چارلس ڈارون۔ 30۔ سٹیون ہاکنگ۔ 31۔ سگمنڈ فرائڈ۔ 32۔ کارل یونگ۔ 33۔ ژاں پال سارتر۔ 34۔ ایرک فرام۔35۔ مارٹن لوتھر کنگ جونئر۔ 36۔ نیلسن منڈیلا

مسلمانوں کاسنہرا دور اور اس کے بعد۔۔۔۔؟؟؟

ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک تھی نا پسند

 گستاي فرشته ہماری جناب میں

مرزا غالب

جب ہم مسلمانوں کی تاریخ کا مطالعہ اور تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ایک وہ دور تھا جب مسلمان ساری دنیا میں معزز و معتبر تھے ۔ مشرق و مغرب میں وہ احترام کی نگاہ سے

دیکھے جاتے تھے۔ ان کی تحقیقات سے پوری انسانیت استفادہ کرتی تھی ۔ وہ دور مسلمانوں کا سنہرا دور THE GOLDEN PERIOD جانا جاتا ہے۔ اس دور میں چند ایسے مسلم دانشور پیدا

ہوئے جنہوں نے سائنس اور فلسفے، طب اور مذہب، شاعری اور موسیقی، نفسیات اور سماجیات کے علوم میں گرانقدر اضافے کیے۔ یہ دور نویں صدی عیسوی سے بارہویں صدی عیسوی کا دور ہے۔ ۔ اور اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔مسلمانوں کے سنہری دور کے پہلے دانشور ابو يوسف الكندي AL

– KINDI تھے جو ۸۰۱ عیسوی میں کوفہ میں پیدا ہوئے اور ۸۷۳ عیسوی میں فوت ہو گئے۔ انہوں نے بغداد میں اعلی تعلیم حاصل کی۔ ان کو اپنے غیر روایتی نظریات کی وجہ سے اپنی زندگی میں بہت سی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک دور ایسا بھی آیا جب روایتی مسلمانوں نے ان پر بہت سختیاں کیں ۔ انہوں نے الکندی کے گھر پر حملہ کیا اور ان کی لائبریری سے کتابیں لوٹ کر لے گئے۔

الکندی پہلے مسلم، فلسفی تھے جنہوں نے یونانی فلسفیوں سقراط، افلاطون اور ارسطو کی کتابوں کا عربی میں ترجمہ کرنا شروع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو سائنس فلسفہ اور طب کا مطالعہ کرنا

چاہئے تاکہ وہ دنیا میں ترقی کر سکیں۔ ان کی نگاہ میں مذہب اور سایئنس میں کوئی تضاد نہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سایئنس انسانوں کو خدا کے قریب لاتی ہے کیونکہ وہ خدا کی بنائی کائنات کے رازوں کو انسانوں پر منکشف کرتی ہے۔

کندی خدا کو مانتے تھے اور کہتے تھے کہ کائنات کا خالق خدا ہے۔ کائنات قانین فطرت سے چلتی ہے اور قوانین فطرت خدا نے بنائے ہیں۔

کندی چونکہ ایک طبیب تھے اسلیے سائنسی طرز فکر رکھتے تھے۔ وہ یونانی طبیبوں بقراط HIPPOCRATES اور جالینوس GALEN سے بھی بہت متاثر تھے

مسلمانوں کے سنہری دور کے دوسرے دانشور ابو بکر الرازی

AL RAZI تھے جو 854 عیسوی میں ایران میں پیدا ہوئے اور 932 عیسوی میں فوت ہو گئے ۔ الرازی بھی الکندی کی طرح طبیب بھی تھے اور ادیب بھی ۔ وہ بغداد میں طب کی پریکٹس کرتے تھے۔ وہ اتنے مشہور ہوئے کہ ساری دنیا سے طالب علم ان سے طلب کا علم سیکھنے آتے۔

ان طالب علموں میں سے ایک طالب علم چینی تھی جس نے عربی سیکھ لی تھی۔۔ الرزای نے اس طالبعلم کو جالینوس کی کتاب پڑھ کر سنائی اس نے اس کتاب کا چینی میں تر جمہ کر دیا اور پھر اس کتاب کو چینی طلبا و اساتذہ کے لیے چین لے گیا۔

الرازی نے خسرہ اور چیک MEASLES AND CHICKENPOX بیماریوں کی تشخیص اور علاج پر ایک اہم کتاب لکھی جس کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا اور اسے بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی۔

الرازی نے انسانی بیماریوں کو بھی دو حصوں میں تقسیم کیا۔ قابل علاج اور ناقابل علاج

الرازی کا موقف تھا کہ نا قابل علاج بیماریوں کی زمہ داری طبیب پر نہیں ڈائی چاہیے

الرازی نے طبیبوں اور دانشوروں کے ساتھ ساتھ عوام کے لیے بھی طب کی کتابیں لکھیں تاکہ وہ روزمرہ کی  بیماریوں کا خود علاج کر سکیں ۔ الرازی نے بچوں کی بیماریوں پر بھیپہلی کتاب لکھی اس لیے طب   کی دنیا میں وہ FATHER OF PEDIATRICS کے نام سے جانے

ہیں ۔

الکندی کی طرح الرازی بھی مسلمانوں میں سائنس، طلب اور فلسفے کی تعلیم عام کرنا چاہتے  تھے۔ وہ بھی مذہب اور سائنس میں کوئی تضاد نہ پاتے تھے۔

مسلمانوں کے سنہری دور کے تیسرے دانشور ابونصر الفارابی تھے۔ الفارابی نے الکندی اور الرازی کی روشن خیالی کی روایت کو آکی کتابوں کا عربی میں ترجمہ کیا۔ گے بڑھایا۔ وہ مغربی دنیا میںSECOND MASTER کے نام سے جائے جاتے ہیں کیونکہ مغربی فلسفی ارسطو کو MASTER  FIRST سمجھتے ہیں۔

الفارابی نے منطق کے علم میں گرانقدر اضافے  کیے ۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ نیا خیال پیش کرنا اور پھر اس خیال کا ثبوت فراہم کر نا دو مختلف چیزیں ہیں ۔ الفارابی نے موسیقی کے موضوع پربھی کتاب لکھی جس میں انہوں نے اپنا موقف پیش کیا کہ موسیقی ذہنی پریشانی کو کم کر سکتی ہے اور نفسیاتی مسائل کے مریضوں کو ذہنی سکون پہنچا سکتی ہے۔ انہوں نے موسیقی کی تھریپی کی روایت کو آگے بڑھایا

الرازی نے افلاطون کی خیالی اور مثالی ریاست REPUBLIC کی طرح ایک اور خیالی اور مثالی

ریاست کا تصور پیش کیا اور اس کا نام المدینہ الفضيله THE VIRTUOUS CITY رکھا

بوعلی سینا نے القارابی کو یہ کہہ کر خراج تحسین پیش کیا کہ انہیں ارسطو کی کتاب ما بعد طبیعات- METAPHYSICS کئی بار پڑھنے کے باوجود اس وقت تک سمجھ نہیں آئی جب تک انہوں نے الفارابی کی تفسیر نہ پڑھی۔

الکندی اور الرازی  کی کی طرح االفارابی  بھی سائنس طب اور فلسفے کی تعلیم کے حق میں تھے۔ : ان کا ایمان تھا کہ کا ئنات قوانین فطرت سے چلتی ہے۔ وہ ان فلسفیوں سے زیادہ متاثر تھے جو

اپنے اقوال پر عمل بھی کرتے تھے۔ ان کا موقف تھا کہ انسانی معاشرے کے لی فلسفی وہی حیثیت ۔ جو انسانی جسم کے لیے طبیب۔

مسلمانوں کے سنہری دور کے چوتھے دانشور بوعلی سینا AVICENNA تھے۔ ود الکندی اورالفارابی  کی طرح طبیب بھی تھے ادیب بھی تھے اور فلسفی بھی۔ وہ نو جوانی میں ہی ایک معتبرطبیب بن گئے تھے۔ وہ 980عیسوی میں ایران میں پیدا ہوئے اور 1037

عیسوی میں فوت ہو ئے۔ وہ ایران کے شہر ہمدان میں دفن ہیں۔ بو علی سینا نے طب کے بارے میں جو دو کتا بیں

CANNON OF MEDICINE

اورG THE BOOK OF HEALIN تخلیق کیں وہ کئی صدیوں تک یورپ کی

یونیورسٹیوں میں نصاب کے طور پر پڑھائی جاتی تھیں۔ بو علی سینا نے بھی الکندی، الرازی اور الفارابی کی طرح سائنس اور مذہب میں کوئی تضاد نہ پایا اور مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ ساری دنیا کے جدید علوم کا مطالعہ کریں اور اس سے استفادہ کریں۔ بو علی سینا نے نفسیات کے بارے میں بھی ایک کتاب لکھی جس کا نام ” کتاب النفس” تھا۔ اس کتاب میں انہوں نے ذہنی بیماری مالیخولیا کے بارے میں ، جو اب ڈیپریشن کے نام سے جانی جاتی ہے، ایک اہم باب رقم کیا۔ مغربی دنیا میں بو علی سینا کا اتنا احترام کیا جاتا ہے کہ وہ انہیں سقراط اور جالینوس کی طرح طب کا شہزادہ سمجھتے ہیں۔

مسلم دنیا میں ابو حمید الغزالی AL GHAZAL کے آنے سے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔  الغزالی 1058 عیسوی میں ایران میں پیدا ہوئے اور 1111 عیسوی میں فوت ہوئے۔ الغزالی ابھی بچے ہی تھے

کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا اور ان کی تربیت ایک صوفی بزرگ  نے کی۔ الغزالی نے اپنے دور کے ایک مشہور فلسفی الجوینی  سے مذہب اور فلسفے کی تعلیم حاصل کی۔  جب الجوینی فوت ہوئے

تو االغزالی  نے ان کی جگہ سنبھال لی اوربغداد کے مدرسہ نظامیہ میں پڑھانے لگے۔

1095 عیسوی میں الغزالی کو ایک شدید نفسیاتی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ کافی عرصے تک درس و تدریس سے کنارہ کش رہے۔ جب وہ اس بحران سےنکلے تو انہوں نے فلسفے اور سائنس کو ترک کر کے تصوف کو اپنا لیا۔ ۔ وہ ایک طویل عرصے تک ایک خانقد میں گوشہ نشینی کی  زندگی گزارتے رہے

تصوف کی راہ اختیار کرنے کے بعد انہوں نے اپنے نظریات اپنی کتاب تحافت الفلاسفہ INCOHERENCE OF PHILOSOPHERS میں پیش کیے۔ اس کتاب میں

انہوں نے مسلمانوں کو سائنس اور فلسفہ ترک کر کے تصوف اور طریقت اختیار کرنے کی دعوت دی۔ اس کتاب میں انہوں نے نہ صرف الفارابی اور بوعلی سینا کی مخالفت کی بلکہ ارسطو اور افلاطون کی تعلیمات کو بھی رد کر دیا۔ ان کا موقف تھا کہ دنیا کا ہر کام قوانین فطرت سے نہیں خدا کی مرضی GOD ‘ S WILL سے ہوتا ہے۔ اور خدا جب چاہے قوانین فطرت بدل ڈالے۔

جب ہم الغزالی کی زندگی کا نفسیاتی و نظریاتی تجزیہ کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے زندگی کے اوائل میں وہ فلسفے کے حق میں تھے۔ انہوں نے اس دور میں فلسفے کی حمایت میں ایک کتاب لکھی  تھی جس کا نام مقاصدفلسفہ  تھا لیکن نفسیاتی بحران کے بعد انہوں نے فلسفیانہ اور سائنسی علم کو ترک کر کے روحانیت اور طریقت کو کے علوم کو گلے سے لگا لیا۔ انہوں نے اپنے نفسیاتی بحران کی روحانی تشریح پیش کی  اور اپنی سوانح عمری میں لکھا کہ وہ اس بحران کے دوران بہت پریشان خیالی کا شکار تھے لیکن پھر ایک دن ان کے دل میں خدا کی روشنی DIVINE LIGHTداخل ہوئی جس کے سب اندھیرے چھٹ گئے اور ان پرحقیقت منکشف ہوئی۔ الغزالی کی مقبولیت اور شہرت کا

ایک ایسا دور بھی آیا کہ مسلمانوں نے انہیں ” حجتہ الا سلام ” PROOF OF ISLAM کا اعزاز دیا۔

بعض مورخین کا خیال ہے کہ مسلمانوں کے سائنس اور فلسفے سے دور ہونے اور روحانیت اور طریقت  کے قریب ہونے میں الغزالی کی شخصیت فلسفے اور کتابوں نے اہم کردار ادا کیا ۔  اسی  وجہ سے پچھلے چند سو سالوں میں مسلمانوں نے سائنسدان اورفلسفی پیدا کرنے چھوڑ دیے۔

الغزالی نے اس سوچ کو فروغ دیا کہ جدید علوم مسلمانوں کے ایمان کے لیے خطرہ بن سکتے

ہیں اور انہین دہریہ بنا سکتے ہیں۔

الغزالی کے بعد مسلم دنیا میں جس فلسفی نے بین الاقوامی شہرت حاصل کی وہ ابو الولید این رشد

تھے جو مغرب میں AVERROS کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔ ابن رشد 1126 عیسوی می کرڈوبا CORDOBA میں پیدا ہوئے اور 1198 عیسوی میں فوت ہو گئے ۔ ابن رشد نے بو علی سینا کی طرح طب کے بارے میں ایک اہم کتاب الكليات في الطب GENERALITIES لکھی جو بہت مشہور ہوئی۔

این رشد نے بہت کوشش کی کہ وہ مسلمانوں کو دوبارہ الکندی الرازی الفارابی اور بوعلی سینا کی سائنس فلسفے اور طب کی روایت سے جوڑیں اور ان میں دوبارہ روشن خیالی پیدا کریں لیکن وہ زیادہ کامیاب نہ ہوئے ۔ وہ الغزالی کے مسلمانوں کے ذہنوں پر گہرے اثرات کو زائل نہ کر سکے۔ انہوں نے الغزالی کی کتاب تحافت الفلاسفہ INCOHERENCE OF

PHILOSOPHERS کا مفصل اور مدلل جواب بھی لکھا اور اس کتاب کا نام تحافت التحافت INCOHERENCE OF INCOHERENCE رکھا ۔ ابن رشد کی انتھک

کوششوں کے با وجود مسلمانوں نے ان کے موقف کو زیادہ اہمیت نہ دی۔

دلچسپی کی  بات یہ ہے کہ ابن رشد نے ارسطو کی کتابوں کی جوتشریح او تفسیرلکھی  وہ مغربی دنیا بہت مقبول ہوئی ۔ مغربی مفکرین ابن رشد کے ممنون ہیں کہ وہ یونانی فلسفیوں اوریورپی

در میان ایک فلسفیانہ پل بنے ۔ مغربی دانشور ابن رشد کا تہہ دل سے احترام کرتے ہیں بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ مذہب اور سائنس لائے فلسفے اور روحانیت کی اس جنگ میں مغربی میں سائنس سنت اور فلسفہ اور مشرق میں مذہب اور روحانیت جیت گئے۔ مسلمانوں نے سائنس کو خدا حافط کہہ کر مذہب کو گلے سے لگا لیا۔

مسلمانوں کا سنہری دور جو نویں صدی عیسوی میں شروع ہوا تھا اور بارہویں صدی میں اپنےعروج تک پہنچا تھا تیرھویں صدی میں رو بہ زوال ہو گیا۔ اس دور کے ایک اہم فلسفی تقی الدین ابن تیمیہ تھے جو  1263 عیسوی میں پیار ا ہوئے اور 1328 عیسوی میں فوت ہو گئے ۔ ابن تیمیہ کے والد دمشق کی Great Mosque

کے امام تھے ۔ ابن تیمیہ نے نوجوانی میں ہی قرآن حدیث اور فقہ کی تعلیم حاصل کر لی تھی ۔ ان کے استاد شمس الدین المقصدی تھے جو اپنے عہد کے مستند قاضی تھے اورجنبلی مسلک کے فتوے دیا کرتے تھے۔

ابن تیمیہ کی عمر ۲۱ برس تھی جب ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلانا شروع کر دیا اور سکھر یہ مدرسے کے استاد بن گئے۔ و ہ مسجد میں  جمعہ کا خطبہ دیتے تھے۔ انتیس برس کی عمر میں ابن تیمیہ نے اپنی پہلی کتاب مناسک حج لکھی ۔ابن تیمیہ حنبلی مسلک کے مفتی تھے اور وہ مسلک حنفی شافعی اور مالکی مسالک کے مقابلے میں زیادہ روایت پسند مانا جاتا ہے۔

۱۲۹۳ عیسوی میں ابن تیمیہ کی زندگی میں اس وقت ایک سیاسی موڑ آیا جب ایک عیسائی پادری  عصاف النصرانی ASSAF AL NASRANI نے پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کی ۔ ابن تیمیہ نے فتوی دیا کہ اس کا سر قلم کر دیا جائے ۔ شام کے گورنر نے جب این تیمیہ کا فتوی سنا تو اس نے عصاف کو دعوت دی کہ وہ اسلام قبول کرلے۔ عصاف کے مشرف به اسلام ہونے کے با وجود ابن تیمیہ نے اپنا فتوی نہ بدلا۔ شام کا گورنر ابن تیمیہ کے فتوے سے اتنا برہم ہوا کہ اس نے ابن تیمیہ کو جیل میں ڈال دیا ۔ جیل جانے سے ابن تیمیہ کے مزاج میں اور بھی شدت پیدا ہوگئی۔

ابن تیمیہ نے جیل میں گستاخ رسول کی سزا موت کے موضوع پر کتاب لکھی۔ جس کا نام  الثارم المسلول الشاطم الرسول تھا۔

وقت کے ساتھ ساتھ ابن تیمیہ کے مزاج میں تندی تیزی سختی اور شدت پیدا ہوتی گئی۔ نہوں نے نہ صرف دہریوں اور مرتدوں کے بارے میں فتوے دینے شروع کیے بلکہ شراب بیچنے والوں کی دکانوں پر حملے کا بھی حکم دیا۔ تاکہ مسلمان شراب کی بوتلیں توڑ توڑ کر گلیوں، بازاروں  اور سڑکوں پر بہا دیں۔

این تیمیہ نے نہایت غیر یقینی سیاسی حالات میں زندگی گزاری۔  اس دور میں شام پر منگولوں نے کئی بار حملہ کیا۔ جب غزن خان ننے تیسری بار حملہ کیا تو ابن تیمیہ نے فتوی دیا کہ شام کے مسلمانوں پر جہاد فرض ہو گیا ہے۔ انہوں نے مرجل سفار کی جنگ میں خود بھی شرکت کی اور جہاد میں حصہ لیا۔

۔ اس طرح این تیمیہ نے اپنے فتوے سے مستقبل کے لیے مسلمانوں کے خلاف جہاد کا راستہ کھول دیا اور اسلام کے ایک مسلک کے مسلمانوں کا دوسرے مسلک کے مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیا۔

ابن تیمی حکومت کے کاروبار میں مذہب کو اتنا اہم سمجھتے تھے کہ انہوں نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی جس کا نام الکتاب السیاسی کی الشریعہ لکھی ۔ جس میں انہوں نے اپنے موقف کی وضاحت کی کہ

جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی ۔۔۔ علامہ اقبال

ابن تیمیہ نے نہ صرف دہریوں اور ملحدوں کے خلاف جہاد کیا بلکہ الغزالی جیسے تصوف کے پرستاروں کی بھی مخالفت کی کیونکہ ابن تیمیہ کی زندگی کا مقصد طریقت نہیں اسلامی شریعت کو فروغ دینا تھا۔

ابن تیمیہ کا موقف اتنا جارحانہ اور شدت پسند تھا کہ اس دور کے دوسرے

مسالک کے علما نے ان کے خلاف بیانات دینے شروع کر دیے جس کی وجہ سے انہیں کئی بار جیل جانا پڑا۔ آخر ابن تیمیہ نے جیل جانے کو بھی خدا کی رحمت A DIVINE BLESSING جانا اور جیل میں کئی کتابیں لکھیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جوں جوں مسلمان شدت پسند اور دہشت پسند ہوتے گئے ابن تیمیہ کے پیروکاروں اور پرستاروں میں پھیلی کئی صدیوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ بیسویں صدی شاہ قطب اور اسامہ بن لادن جیسے مسلم رہنماؤں اور اخوان المسلمین جیسی تحریکوں نے ابن تیمیہ کی تعلیمات کو اپنا مشعل راہ بنایا ۔ بیسویں صدی کی بہت کی تکفیری سلفی وہابی اور جہادی جماعتوں نے ابن تیمیہ کو اپنا نظریاتی رہنما مانا اور انہیں شیخ الاسلام کا خطاب دیا۔ جب عراق کے شدت پسند اور دہشت پسند مسلمانوں نے اردن کے ایک  ہوا باز موات القصاصبہ کو زندہ جلا دیا تو اپنے فیصلے کے حق میں ابن تیمیہ کے فتوے کا حوالہ پیش کیا۔ آج کے دور میں گستاخ رسول کو قتل کرنے اور زندہ جلانے کی روایت کئی صدیوں پہلے ابن تیمیہ کے فتووں سے جا ملتی ہے۔

بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی۔

اکیسویں صدی میں مسلمانوں کے ان گنت فرقوں اور مسلکوں کو نظریاتی اور نفسیاتی طور پر تین گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

پہلے گروہ کا سلسلہ الکندی، الرازی، الفارابی، بو علی سینا اور ابن رشد کی تعلیمات سے جا ملتا ہے۔ یہ گروہ مسلمانوں کو سائنس اور فلسفے ، شاعری اور موسیقی، نفسیات اور سماجیات کی تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے اور مذہب اور سائنس میں کوئی تضاد نہیں سمجھتا۔

دوسرے گروہ کا سلسلہ الغزالی کی تعلیمات سے جا ملتا ہے۔ یہ گروہ سائنس ، طب اور فلسفے کو رد کر کے تصوف، طریقت اور روحانیت کو گلے لگاتا ہے۔ یہ گروہ کوشش کرتا ہے کہ مسلمانوں کو جدید مغربی علوم سے دور رکھا جائے کیونکہ وہ علوم مسلمانوں کے ایمان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

تیسرے گروہ کا سلسلہ ابن تیمیہ کی تعلیمات سے جا ملتا ہے۔ یہ گروہ نہ صرف سائنس  اور فلسفےکو رد کرتا ہے بلکہ روحانیت اور تصوف سے بھی کناره کشی اختیار کرتا ہے۔ یہ گروہ طریقت کی بجائے بجائے شریعت کو گئے لگاتا ہے اور سلفی تکفیری وہابی اور جہادی مسالک کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔ اس گروہ کے پیروکار نہ صرف دہریوں اور ملحدوں کو قتل  کرتے ہیں، صوفیا کےمزاروں کو  بر باد کرتے ہیں بلکہ گستاخ رسول مسلموں اور غیر مسلموں کو زندہ جلانے کے بھی حق میں ہیں۔

وائے ناکامی منابع کارواں جاتارہا

 کا رواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

علامہ اقبال

Similar Posts:

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

July 2021
M T W T F S S
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
262728293031  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: