ایک تصویر خدا کے بغیر ۔۔۔ فارحہ ارشد

ایک تصویر خدا کے بغیر

فارحہ ارشد

وہ ایک لمحہ تھا

 تصویروں کی رنگ برنگ دنیا سے پرے

سیاہ لمحہ جس کے نقطے میں پوری زندگی سمٹ گئی تھی

“میرے خدا کا انکار کرتی ہے ۔۔۔۔ تیری تو۔۔۔۔”

 وہ ماں کے ساتھ خریداری کر کے شاپنگ مال سے باہر نکل رہی تھی جب کسی نے اس کے سر کے اوپر پہنچ کر چیختے ہوئے  اس کے اوپر کوئی مائع چیز پھینکی۔ وہ چلتے چلتے ٹھٹھک کر ر کی اور اس سے پہلے کہ اس مائع پھینکنے والے کوٹو کتی وہ ماچس پر تیلی رگڑ کر اس کی طرف پھینک چکا تھا۔ یہ سب اتنا آنا فانا ہوا کہ جب تک تیل کی بدبو اس کی حس شامہ کو چھوتی، ایک الاو بھڑکا اور تیزشعلوں نے لباس کے ساتھ ہی اس کی جلد کو بھی پکڑ لیا۔

 شدید جلن اور خوف کے احساس سے وہ ایک آدھ قدم بھاگنے میں گر پڑی ۔ دل کو بند کر دینے والی چبھن نے اس کے حواس چھین لیے۔ وہ مدد کے لیے چیخ رہی تھی مگر اسے لگا کہ آواز اس کےحلق میں گولہ بن کر پھنس گئی ہے۔  اس کی آنکھوں کے آگے گہرا بھیانک اندھیرا چھانے لگا۔ گہرا سکوت اور سیاہ اندھیرا۔۔۔۔

 اس نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر نادیدہ قبر کے اندر جھانکنے کی کوشش کی

 قبر تھی نہ اس کا وجود ۔ ایک سیاہ خلا تھا ۔۔۔۔ دور دور تک پھیلا ہوا

 وہ کہیں نہیں تھی تو پھر وہ کہاں تھی ؟

 اس کا دماغ ایک تیز سنسناتی ہوئی سرد لہر کی کپکپاہٹ سے سکڑنے لگا۔ جانے کتنا وقت یوں ہی منجمد اور ساکن رہا۔ اس برفیلی کپکپی اور گھور اندھیرے سے باہر نکلنے کی ایک آخری کوشش میں اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کی کنپٹیاں پھول کر غبارہ بن چکی ہیں۔ وہ اس پھیلتے اور سکڑتے  ہوئے دماغ کی یادداشت کے اس حصے میں جاگری جہاں ہر طرف غمگین سی فضا تھی اور وہ جلتے ہوئے چیخ رہی تھی۔

 دماغ کی برفیلی لہر نے تیز برقی لہروں کا جھنجھناتا ہوا احساس اختیار کر لیا اور کنپٹیوں کے پھولے ہوئے غبارے پھٹ کر ان لہروں سے چپک گئے۔

آہ !

 جلے ہوئے گوشت میں گھلی ہوئی فینائل یا اسپرٹ  کی بھاری بو بھی اس کے نتھنوں سے ہوتی اس کے دماغ کی برقی لہروں کوچھوتی پھیلنے لگی تو لہریں سمٹیں اور گچھےکی شکل میں دماغ کی دیواروں سے لپٹ کر حسیات کو جگاتی گیئں۔

اس نے  جسم کو ہلانا چاہا مگر اسے محسوس ہوا کہ اس کا جسم سر کے ساتھ نہیں ہے۔ خوف سے اس نے پوری طاقت سے آنکھوں کے پٹ وا کیے۔ سفید چھتری نما قبر میں اس کا ہڈیوں کا بے حس ڈھانچہ یوں پڑا تھا جیسے کسی نے اس کی زندگی کو سفید چونے سے موت کے لیے نشان زدہ کر کے چھوڑ دیا ہو۔

 ہڈیوں  تک گلی سڑی جلد کو دیکھ کر وہ صدمے سے نڈھال ہونے لگی اور جس قوت سے اس نے آنکھیں کھولی تھیں اس سے دوگنی طاقت لگا کر بند کر لیں اور خود کو شعور و تحت الشعور کے حوالے کردیا۔

 سوچ کی مٹھیوں نے کسی دیوانے کی طرح بچپن سے ہی اس کے ذہن کو جکڑ رکھا تھا اور چاہنے نہ چاہنے کے باوجود وہ ان مختلف قسم کی سوچوں سے پیچھا نہ چھڑا پاتی۔

 وہ غیر معمولی حد تک تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال تھی۔آرٹ کی جماعت میں نئی نئی کہانیاں تصاویر کی مدد سے بناتی رہتی اس کی ہم عمر لڑکیاں جب پہاڑوں ندی نالوں اور پہاڑوں کے وسط میں چھوٹے چھوٹے ہٹس کی خوش نما تصاویر بنانے میں مگن تھیں اس نے پھولوں کے جھنڈ کے بیچ ایک ایسی  دنیا بنائی جہاں تتلیوں کو سزا کے طور پر انسان بنادیا گیا تھا۔

” تم اسے سزا کیوں کہہ رہی ہو۔ ؟  شہرزاد۔ ” ٹیچر نےحیران ہوتے ہوئے پوچھا تھا۔

” اس لیے کہ آپ جو نہیں ہوتے وہ بننا مشکل اور تکلیف دہ ہے۔”

 ٹیچر دس سالہ بچی کی تصویر دیکھ کر تو حیران تھی ہی، اس کی بات سن کر پریشان ہو گئی۔  تصویر بنانے کا سفر شروع ہوا تو پھر کہیں نہ رکا۔اس کے تصورات میں دبدبہ تھا، تسخیر کر لینے کا یقین تھا،  تازگی تھی اور سب سے بڑی بات کہ ان پینٹنگز کے تصورات لوگوں کی مروجہ سوچ سے بر سر پیکار تھے۔

 عام سا پس منظر رکھنے والی اس لڑکی کی تصاویر خاص نظریات اور تصورات کا احاطہ نہیں کرتی تھیں۔ اس کے اپنے ہی نظریات تھے جو اتفاقاً پہلے سے موجود کسی نظریے کی توسیع ہوتے یا تردید۔ مگر ان میں ایک نیا پن ہوتا جوکسی نئی بات یا سوچ کا در وا کرتا چلا جاتا۔

وہ ایک چھوٹے سے قصبے کے ہائی سکول کے ریاضی کے ماسٹر کی بیٹی تھی جو محکمہ تعلیم کی طرف سے دیئے گئے اس ایک کمرے پر مشتمل کوارٹر نما مکان میں رہتی تھی جس کے دروازے اور کھڑکیاں نیلے رنگ کی تھیں۔صحن کچا اور دیواریں  پھولوں سے بھری ہوئی تھیں۔ اسکول کے احاطے میں بنے ان چند کوارٹروں کے سامنے اس نے باپ سے سیکھی جیومیٹری کی لایئنوں کو کب شکلوں میں ڈھال دیا وہ نہیں جانتی تھی مگر اسے اتنا یاد تھا کہ درختوں اور گھنی جھاڑیوں کے بیچوں بیچ اس نے ایک صاف جگہ منتخب کر رکھی تھی جہاں گل و بلبل سے اپنے تصورات کا اظہار کرتے وہ بڑی ہوئی تھی ۔

اپنی ماں کی طرح وہ بظاہر ایک خاموش لڑکی تھی جو اپنے  ہم عمروں سے الگ تھلگ اس جھنڈ کے درمیان رنگ، ایزل اور کینوس لے کر بیٹھ جاتی۔ جوں جوں گاؤں کی پن چکی کی ھُو ۔۔ ھُو  اور کوئل کی  کُو۔۔۔کُو۔۔۔ کی آواز اس کے کانوں میں رس گھولتی، اس کا برش تیزی سے کینوس پر نت نئےتصورات بکھیرنے لگتا۔

 شہر کے تعلیمی ادارے میں اعلی تعلیم کے لئے جانے سے پہلے اس کی تصاویر کا قصبے کے ہائی سکول میں ہی ایک نمائش کا اہتمام کیا گیا جس میں محکمہ تعلیم کے بڑے عہدے داران ،دانشور اور صحافیوں کے علاوہ بہت سارے مصور اور ادیب مدعو کئے گئے ۔ اس کے پیچھے اس کے والد اور ہیڈ مسٹریس کی کوششوں کا عمل دخل تھا جو جان چکے تھے کہ وہ غیر معمولی ذہانت کی مالک ہے۔ اور اس کے  تصورات ضائع کر دیے جانے والے نہیں ہیں۔

 پریس اور الیکٹرانک میڈیا نے اس کے انٹرویوز، تصاویر کے موضوعات پر مبنی دستاویزی فلمز بنائیں اور مضامین پوری دلچسپی سے شائع کیے۔دانشور اور ادیب اس کے تصورات کو لے کر نہ صرف خوش تھے بلکہ حیران بھی تھے کیونکہ  یہ کسی عام میٹرک کی طالبہ کے تصورات جیسے نہ تھے۔

” یہ عمراور ایسے تصورات ۔۔۔۔آپ زیست کرنے پر کتنا یقین رکھتی ہیں ” ؟ ایک سفید بالوں والا ادیب مسکرا کر پوچھ رہا تھا۔

“جو ہم جی رہے ہیں وہ تو سامنے ہے۔ اسے پینٹ کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟” اسکے جواب نے ادیب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا لیکن وہ خود مطمئن نہیں تھی۔

 تو گویا اب ان تصورات کو زیست بھی کرنا ہوگا ۔۔۔ جینا  بھی ہوگا ؟ میرا تو کوئی ایک تصور نہیں ؟  میں کیا کیا جیوں گی ؟  یہ سوچتے ہوئے وہ آگے بڑھ گئی ۔

اسکی چند تصاویر کےتصورات پہ چینلز نے باقاعدہ سنجیدہ بحث کا اہتمام کیا۔

” ہم عوام کے لیے ہیں ” کے عنوان کے تحت ایک تصویر بنائی گئی تھی۔بڑی بڑی کرسیوں کی ٹانگیں بچوں کی کتابوں،  روٹیوں اور دوائیوں پہ یوں  رکھی گئی تھیں کہ بچے زمین پر بکھرے ان کرسیوں کی ٹانگوں کے نیچے سے کتابیں دوائیاں اور روٹی نکالتے ہوئے نڈھال اور بے بسی سے بکھرے پڑے تھے۔ ان کرسیوں  کی لمبی ٹانگوں کے ساتھ بوٹ اور ہتھیار بھی بچوں کے ناتواں جسموں اور گردنوں پہ رکھے تھے جہاں بچے کتاب روٹی اور دوا بھول کر اپنی گردنیں بچاتے ہوئے لہولہان ہو رہے تھے۔

 اس تصویر کے ساتھ ایک اور تصویرنے جس میں عورت آگ کو چاٹ رہی تھی، فیمنسٹ دانشوروں کو بھی متوجہ کیا۔جبکہ تیسری تصویر میں یوٹرس میں پڑے بچے کو ساؤنڈ سسٹم لگا کر مختلف مذاہب کے خداوں کا پاٹ پڑھایا جا رہا تھا۔ تصاویر نے میڈیا اور سوشل میڈیا پہ باقاعدہ بحث چھیڑ دی۔

 انٹرویوز اور بحثوں میں بلانے کے علاوہ دانشوروں اور نسواں تنظیموں نے اس سے رابطے شروع کر دیے۔ ہر ایک  اس کے دماغ میں اپنا تصوراتی منڈل سجائے جانے کو بے قرار تھا مگر وہ تو سب سے بے نیاز تھی اس کا کہیں پڑاؤ کا ارادہ نہ تھا۔ یوں بھی وہ خود کو کسی ایک خانے میں بند کرنے کی قائل نہ تھی۔ وہ کسی بھی طرح کے “ازم” میں خود کو قید نہیں کر سکتی تھی۔

 اس کی پینٹنگز کی ہر سال نمائش لگنے لگی اور ہر بار اس کی چند تصاویر کے تصورات بنیادی اورروایتی فرسودہ تصورات سے یوں ٹکرا تے کہ ان کی گونج پریس، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا سے نکل کر پوری دنیا میں سنائی دینے لگتی۔

 والد گو کہ خود بھی اس کی تصاویر کی نمائش میں پیش پیش تھے  مگرجب سے انہیں عجیب و غریب قسم کے خطوط اور فون پر دھمکیاں ملنا شروع ہوئیں وہ خوفزدہ ہوگئے تھے۔

” شادی کی عمر گزر جائے گی آپ کے ان کارناموں میں ۔۔۔”ماں تو پہلے ہی باپ بیٹی کو سناتی رہتیں۔

وہ دونوں سنی ان سنی کر کے آئندہ منصوبے کی تیاری میں لگ جاتے مگر اب ان دھمکیوں کے بعد تو ماسٹر صاحب بھی کچھ خوفزدہ سے ہو گئے اور بیوی سے کہہ دیا کہ رشتہ کرانے والی ماسی سے کہو کہ ہماری بیٹی کے لیے اچھا تعلیم یافتہ اور بر سر روزگار لڑکے کا رشتہ تلاش کرکے لائے۔

 دماغ کی برقی لہریں تیزی سے سکڑ اور پھیل رہی تھیں۔ ماضی کے اوراق کسی فلم کی طرح صفحہ در صفحہ اس کی زیست  کے واقعات کو پلٹتے جارہے تھے۔ جسم سے درد ذہن کی طرف منتقل ہو چکا تھا۔ فینایئل اور اسپرٹ اور دوائیوں کی بو کے ساتھ جلے ہوئے ماس کی ، حسیات کو تکلیف دینے والی بو صدمہ بن  کر شعور کے ہی کسی گوشے میں صف  ماتم بچھا کر بین کرنے لگی تھی۔

 آہ

رائیگانی کا دکھ ذہن میں  تیز تیز پھرنے والی برقی رووں جیسی لہروں کو یاس ونامرادی کی لپیٹ میں لے چکا تھا۔

 بجز لہو کوئی محلول کام نہ آنے کا وقت آن ٹھہرا تھا۔

 انسانیت سے محبت کا قرض چکانا تھا۔

 خطرناک تصورات کے باوجود وہ اپنی زندگی میں انتہائی سادہ لڑکی تھی۔ غنودگی،کاہلی،دانشورانہ چالیں اور ظاہری عزت کمانے کے طریقے اس کے نزدیک ڈھکوسلے تھے۔  وہ ہر چیز میں دلچسپی لینے کے باوجود انہیں قطعیت کے ساتھ قبول کرنے کو تیار نہ ہوتی

 اس روز جب وہ  “خدا اور عورت ” سیریز کے لیے  دو تصاویر بنا کر بیٹھی ہی تھی کہ اس کی ایک مصور دوست آگئی۔  اس نے دونوں تصاویر اسے دکھائیں۔

” یاداشت سے جھانکتا جہان ” ۔ ایک ایسی تصویر جس میں عورت خدا کو جنم دے رہی تھی ۔ایک تصویر ” ہر خدا کا دوزخ ” کے نام سے وہ تصویر تھی جس میں ہر ایک خدا کے دوزخ میں  دوسرے خداؤں کے لوگ جلتے دکھائے گئے تھے۔

” سنو شہزاد۔ !”

” ایسے موضوعات کیوں اٹھاتی ہوں جنہیں سوچ کر ہی جھر جھری آ جائے ۔ توبہ۔ میرا تو دم گھٹنے لگتا ہے۔ تم خوبصورت اور دھیمے انداز کے خیالات پر بھی تو پینٹنگ بنا سکتی ہو۔  کتنے ایسے موضوعات بکھرے پڑے ہیں۔ “

 ” تصویریں کب آئینوں سے  جھانک سکتی ہیں کہ انہیں اپنا آپ خوبصورت یا بد صورت دکھائی دے۔ وہ تو  تخلیق ہیں جو غیب سے اترتی ہے اور میں تو اس تخلیق کو کینوس پر اتارنے کے لئے محض ایک آلہ کار ہوں۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔

 اور یہ سچ تھا کہ اس نے کبھی نہیں سوچا کہ مشاہدے میں آنے والے موضوع کے ساتھ اسے کیا کرنا ہے۔ وہ محض ایک نکتے پر کھڑی ہوتی اور جن ان دیکھی سمتوں کی طرف اس کی تخلیقی قوت لے جاتی وہ شعوری رو میں بہتی چلی جاتی ۔ وہ اس بات سے خائف ہوتی نہ خوش کہ کون اس کے تصورات پر خوش ہو گااورکون ناراض۔

 انہی دنوں این سی اے ( نیشنل کالج آف آرٹس ) کی ایک طالبہ نے میڈیا پر بات کرتے ہوئے بیان دیا کہ وہی گھسے پٹے پرانے موضوعات یعنی کلچر اور مذہب کے خلاف۔ یہ تو  اب کلیشے بن چکے ہیں۔ شہزاد کے پاس نیا کیا ہے ؟ وہ تحیر سے اس کی باتیں سنتی رہی۔

  • نیا کیا ؟ کسی نئے سیارے پر جا بسا جائے ۔۔۔۔ کسی نئے کلچر پر بات کی جائے۔۔۔؟  اس نے لب کاٹے۔ وہ ہمیشہ  ایسے لوگوں کو پسند کرتی جو نئی بات سے خوف زدہ نہ ہوں۔ اور نئی بات قبول کرنے کے لیے کسی حد تک فرزانگی  کا دامن چھوڑنا پڑتا تھا ۔
  • دیوانگی مگر ہر ایک کے حصے میں کہاں ؟ وہ دکھ سے سوچتی۔
  • وہ کسی نئی جہت کی تلاش میں گوشہ نشینی سے باہر نکل آئی۔ ان دنوں اس نے تصاویر کی فروخت سے جو بھی کمایا وہ مشاہداتی سفر پر لگا دیا۔  اس سفر کی مسافت میں اس نے گھر سے باہر کھڑے بھکاری سے لے کرکوڑا چننے والوں، جہاز کے عرشے پر کام کرنے والے مزدوروں سے لے کر جسم کی مزدوری کرنے والی طوائفوں تک،حکم برداروں  سے لے کر غلاموں تک کا مشاہدہ اور مطالعہ کر ڈالا۔  بہت سی بین الاقوامی مصوروں کی پینٹنگز بھی دیکھیں۔ ہر جگہ طاقتور اور کمزور آمنے سامنے آ کھڑے ہوتے۔  ثقافت اور مذہب کی فرسودہ روایات صدیوں سے منہ کھولے سب کچھ ہڑپ کرتی جا رہی تھیں ۔۔۔۔ بالآخر تھک ہار کر وہ واپس پہنچی اور اس نکتے پر بات ٹھہری کہ وہی تصورات جنہیں کلیشے کہہ کر رد کیا جارہا ہے انہیں میں سے نئے راستے نکالنے ہیں۔ وہ چاہے  کتنا ہی لہو لہان کر دینے والے کیوں نہ ہوں۔
  • ایسے کئی عجیب وغریب تجربات اسے اس سفر کے دوران ہوئے کہ وہ خود بھی دنگ رہ گئی۔
  • ایک روز جب وہ ایک طوائف کے حوالے سے تصویر بنا رہی تھی تو اس سے رہا نہیں گیا اور بالآخر اس نے ہیرا منڈی کا رخ کیا۔
  • ” لوگ آتے ہیں پوچھنے لگتے ہیں کیا کبھی تمہیں گناہ کا احساس نہیں ہوتا ؟ ” لمحے بھر کو وہ عورت چپ ہوئی پھر اس نے کہا مولوی صاحب ایک بار یہاں آئے تو میں نے کہا مولوی صاحب آپ کو گناہ نہیں ہوگا تو انہوں نے بتایا کہ فانی دنیا میں کئے گئے گناہوں کی سزا  لافانی نہیں ہو سکتی ۔ تو جب مولوی صاحب کے گناہ کی سزا ختم ہوسکتی ہے ایک نا ایک دن تو میری بھی ہو جائے گی ۔ “وہ حیرانی  سے اسے دیکھے گئی۔
  • تھیوری آف ریلیٹیوٹی کے ایک موضوع پر ہوئی ایک دوست سے بحث یاد آگئی۔ ” ہر ایک کا سچ اس کا اپنا سچ ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ وہی دوسرے کا بھی سچ ہو۔ ایک کا جھوٹ دوسرے کا سچ اور دوسرے کا سچ اول الذکر ذکر کا جھوٹ ہو سکتا ہے۔”
  • وہ حیرت سے مولوی صاحب اور طوائف کا جواز سنتی رہی۔
  • سفر کے دوران اسے دو چار بار ایسا لگا کہ کوئی ایک ہیولا سا اس کا ایک حد تک تعاقب کرتا اور ایک انجانے خوف کی صورت آس پاس رہتا ہے۔ جب بھی وہ پلٹ کر واپس دیکھتی ہے تو وہاں کوئی موجود نہیں ہوتا۔ اسے لگتا ہے کہ کوئی ہے جو شاید کچھ کہنا چاہتا ہے۔ کوئی عاشق یا پھر کوئی جنونی۔  اگر کوئی ہے تو سامنے کیوں نہیں آتا ؟ شاید کوئی نہیں ہے۔ یہ محض واہمہ ہے۔ دماغی خلل ہے اور پھر اپنے خیال کی نفی کرتے ہوئے اگلے تجرباتی سفر پر روانہ ہو جاتی لیکن  ایک بے نام خوف کا سایہ اس کے قریب جم کے بیٹھا رہتا اور جب وہ اس کی طرف نہ دیکھتی تو اٹھ کرچلنے لگتا۔
  • اس کی اگلی تصویر کی سیریز خدا اور عورت تھی ۔اس سیریز کے تحت بنائے جانے والی تصاویر میں سے چند ایک نے تو عوام و خواص کی توجہ کھینچی۔
  • اسے رنگوں سے کھیلنا پسند تھا جبکہ خدا کا کوئی رنگ نہ تھا مگر وہ ہر رنگ میں موجود تھا۔
  • ” ایک تصویر خدا کے بغیر” بناتے ہوئے اسے درگاہ پر بیٹھی اس عورت کی بات جانے کیوں یاد آتی رہی جس نے بڑے سادہ سے الفاظ میں کہا تھا
  • “خدا کا ہونا میرا سہارا ہے، اگر میں یہ مان لوں کہ کہیں بھی خدا نہیں تو میری تو آس ہی ٹوٹ جائے ۔”
  • اس لئے تصویر ادھوری چھوڑ دی تھی
  • کیا خدا کے بغیر کوئی منظر ہو سکتا ہے ؟

اور آخری وہ تصویر جس کے بعد سوشل میڈیا اور چینلز پر اس کے خلاف فتوے دیے گئے جس میں ایک گنبد اور صلیب کے علاوہ دیوتاؤں اور آگ جیسی علامات کے نشانات کے عین اوپر نیم برہنہ رقص کرتی عورت دکھائی گئی جس کی چیخ سے ان سب نشانات میں دراڑیں پڑ گئیں۔ وضاحت کچھ یوں کی گئی کہ ہر خدا اور اس کے ماننے والوں کے ذہنوں پر عورت ہی رقص کرتی رہی اور با لآخر وہی معتوب ٹھہری۔

 یہ تصویر بناتے ہوئے ایک خوفزدہ سی تتلی اس کے اورکینوس کے درمیان آ کے اڑنے لگتی مگر اس نے اسے ادھورا نہیں چھوڑا۔

 اس بار نکتہ نہیں بلکہ ذہن سے درد اٹھا تھا جو تصویر میں ڈھلا اور اس کے وجود کو ہی نکل گیا۔

 ذہن کی برقی لہروں نے سکڑنےاور پھیلنے کا عمل تیز کردیا۔

تیزی سےچلتی فلم کا ایک منظر وہ بھی آیا جس میں اس کے ہونے والے سسرال کا منگنی کی انگوٹھی واپس کرتے ہوئے کہنا تھا  کہ ہم نے بیٹے کی اگلی نسل کے لئے ماں لانی  ہے۔  بیہودہ خیالات والی عورت نہیں۔

 اور اس چلتی ہوئی فلم کی ریل کا آخری منظر۔۔۔۔۔ جہاں  خریداری کر کے نکلتی ہوئی ماں بیٹی نظر آئیں اور پھر ایک جلتی ہوئی لڑکی کے گرد کھڑا  بے حس مجمع اور ماں کی اندوہناک چیخیں۔

نرسز میں سے کسی کے فون پر چلتی کسی چینل پر ہونے والی بحث اس کی سمعی حس سے ٹکرائی۔

” اس کا انجام یہی ہونا تھا۔” ایک بھاری آواز والا کہہ رہا تھا۔

” یہ ظلم ہے ہم اس پر شدید احتجاج کرتے ہیں۔ روشن خیال لوگوں کو ہم کب تک دار پر لٹکا تے رہیں گے”۔ ایک اور آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی۔

 وہ تو ان دونوں انتہاؤں والوں میں سے نہ تھی۔ وہ تو محض سوچتی تھی اور مختلف سوالات سے اس کا دماغ بھرا رہتا تھا۔

آہ۔۔۔!

 ایک  گرم آنسو آنکھ سے نکلا اور بائیں سرد گال سے پھسل کر بالوں میں جذب ہو گیا۔ اب شاید چینل تبدیل کیا گیا تھا جہاں ایک لڑکی شدت جذبات میں ڈوبی آواز میں کہہ رہی تھی ۔ “شہرزاد ہماری آئیڈیل ہیں۔ میں  ان ہی کی ایک نا مکمل تصویر پر کام کر رہی ہوں” وہ طالبہ کسی چینل کے رپورٹر کو بتا رہی تھی۔

کسی نے روشنی اور ہوا کی طرف کھلنے والی اس کھڑکی کے پٹ وا کر دیے تھے جہاں تتلی اپنے جہان میں خوش تھی اور کسی نے اسے انسان نہیں بنایا تھا۔

 برقی رووں  کا عمل اور تیز ہو گیا۔

باہر شام کا اندھیرا پھیلنے لگا ۔ سیاہ اماوس  کی رات اتر آئی تھی اور قدیم قبرستانوں کی سی خاموشی  ماحول پہ طاری ہو گئی تھی۔

 یاداشت کے آخری منظر میں ایک چھوٹی سی لڑکی پن چکی کی’ ہو ہو’ پر برش کوکینوس پر تیز تیز  چلا رہی تھی اور کوئل کی کوک اس کی مدھم  ہوتی سماعتوں  میں کسی مغموم گیت پر اداس گت  بجانے لگی تھی۔

کتنی  ادھوری تصویریں اس کی بند آنکھوں کی پتلیوں میں آ کر ٹھہر گئی تھیں۔ طوفان کے گزر جانے کے بعد کی ویرانی فضا پر چھا چکی تھی۔

 اس نے ایک اداس نظر اپنے جلے ہوئے جسم پر ڈالی۔

 ماں نے اسے پلکیں کھولتے دیکھا تو آگے بڑھی۔ ماں کے چہرے پر آنسوؤں کے نشانات کھدے تھے اور دکھ  کی ایسی داستان لکھی تھی جیسے اس کے ہاتھوں سے قیمتی چیزگرتی جا رہی ہواور وہ بے بسی سے ا سے گرتا دیکھ رہی ہو۔ جانے کتنی چیخیں اس کے بند لبوں کے پیچھے گھٹ کر رہ گئی تھیں۔

 وہ ایک ٹک اسے دیکھتی رہی۔

ماں کے کندھوں کے پیچھے سے ایک اور چہرہ نمودار ہوا ۔جھکے ہوئے شانوں والا باپ کتنا بوڑھا لگ رہا تھا۔

” ماں ۔۔۔۔ بابا ۔۔۔۔” اس کے لب تھر تھرائے۔Stop

  • باپ نے آگے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ ان کا وجود ہولے ہولے کانپ رہا تھا ” میری بچی ۔۔۔۔” وہ ان لرزتے بوڑھے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھام کر انہیں تسلی دینا چاہتی تھی مگر جلے ہوئے ہاتھ بے جان سے بیڈ پر پڑے رہے ۔وہ انہیں  بتانا چاہتی تھی کہ اسے جلتے ہوئے بہت  درد ہوا تھا مگر وہ کچھ نہ کہہ پائی۔ زبان تالو سے چپک گئی تھی اور الفاظ کہیں گم ہو گئے تھے۔ جسم بےبسی کی چادر میں لپٹا بے حس پڑا تھا۔
  • اس نے ایک آخری نظر ماں اور بابا کے غم سے نڈھال، صدمے سے لرزتے جسموں پر ڈالی۔ وہ اشکوں سے لبریز آنکھوں سے اسی کی جانب دیکھ رہے تھے۔ کتنی بے بسی تھی ان  آنکھوں میں۔
  • اس سارے منظر میں خدا کہاں تھا ؟ ۔۔۔۔۔ آہ
  • خدا تھا ۔۔۔۔؟
  • خدا کہیں نہیں تھا۔۔۔؟
  • خدا آسمانوں میں گم ہو چکا تھا اور ‘خدا والے’ زمین پر دھاوا بول چکے تھے۔ قرآن طاق نسیاں پر رکھ دیا گیا تھا اور ان کے ہاتھوں نے لوگوں کی زندگیاں اپنے ہاتھوں میں لے لی تھیں۔
  • کچھ غلط ہو چکا تھا ۔اس نے ماں بابا کےنحیف اور کانپتے جسموں پر نظر ڈالی
  • تصویر سچ بولتی تھی مگر تصویر کے اندر بہت کچھ غلط ہو چکا تھا ۔
  • یہ کون لوگ تھے ؟ ۔۔۔۔۔۔ خدا کے بھیجے ہوئے ؟ ۔۔۔۔
  • زندگیوں کو موت میں بدل دینے والا پاٹ پڑھنے والے لوگ نبیوں  اور ان کی کتابوں سے انحراف کرکے اپنی وحی بنا لائے تھے ۔۔۔اور خدا کو آسمانوں کے اس طرف بھیج کر خود خدا بن بیٹھے تھے۔ یہ کون تھے۔
  • خسارے والے ؟
  • خدا نے کہا بھی تھا۔ ہاں یہی کہا تھا ان کے بارے میں ۔۔۔۔خسارے والے ۔خدا نے یہی کہا ہے۔۔۔ بتاؤ انہیں۔۔۔۔
  • رنگوں کی خوشبو جلے ہوئے ماس  کے بھاری پن  میں بدل چکی تھی۔۔۔
  • تصویر ابھی نا مکمل تھی۔ رنگوں سے اٹے ہاتھوں  والی ایک چھوٹی سی بچی اس تصویر سے ہیولہ بن کر ابھری اور تیزی سے دوڑتی ہوئی نیلے آسمانوں کی جانب اڑنے لگی۔
  • اس کا دماغ  ایک بار پھر سنسناتی ہوئی سرد لہر کی کپکپاہٹ سے اکڑنے لگا۔ تیز برفیلی لہروں نے اسے منجمد کرنا شروع کر دیا اور وہ سب سے ہاتھ چھڑا کر چل دی۔ تصویر پر اس کے خون کے چھینٹے تھے۔
  • خدا کہیں نہیں تھا ۔۔۔۔۔ !!!!

Fareha Arshad
Fareha Arshad
READ MORE FROM THIS AUTHOR

Fareha Arsha is a young new generation story writer from Lahore, pakistan. She is known for stories of coercion and protest. Her most famous poems are ‘Aman Hoo Monkhay Kaari Kare Marenda,’ ‘Bi Baana Aur Zoee Darling,’ and ‘Toba Se Zara Pehle.’

Read more from Fareha Arsha

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: