شجر ممنوعہ کی چاہ میں ۔۔۔ پرویز شہر یار

شجر ممنوعہ کی چاہ میں

پرویز شہریار

 نئی دہلی16- بھارت

اس نے کہا تھا۔

”ازدواج کی عارضی ادلابدلی سے فرسودہ رشتہ میں نئی بہارآجاتی ہے جس سے رشتے کی جڑ مضبوط ہوتی ہے اور محبت کے بوسیدہ شجر پر نئی کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں۔”

اس نے جھوٹ کہا تھا۔

”میں اس شجر ممنوعہ پر چڑھنا نہیں چاہتی تھی۔ مجھے اس سے کراہیت ہوتی تھی۔ لیکن اس کی خوشی کے لیےمیں نے خود کو سمجھا لیا تھا۔

اپنے دل کی ایک نہیں سنی تھی اور بے قرار دل پر پتھر رکھ کر اس کی باتوں میں آگئی تھی۔

مجھے نیچے سے دھکا دے کر جب وہ شجر ممنوعہ پر چڑھانے لگا، تب میرا ماتھا ایک دم سے ٹھنکا تھا۔ میں نے نیچے گہرا کنواں دیکھ لیا تھا۔ میرے ہاتھ پاؤں اور تمام اعضا جواب دینے لگے تھے۔ میں درخت سے نیچے گرنے ہی والی تھی کہ تبھی کسی نے اوپر درخت سے ہاتھ بڑھا کر میرا ہاتھ تھام لیا تھا۔میں نے دیکھا کوئی شخص پہلے ہی سے وہاں مجھے سہارا دے کر اوپر اٹھانے کے لیے موجود تھا۔ ایک پل کو مجھے لگا میرے تن پر ایک کپڑا نہیں ہے۔ دنیا مجھے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہی ہے۔ لیکن جب حواس ٹھکانے لگے اور غور سے دیکھا تو وہاں ہر طرف ہمارے ہی جیسے لوگ موجود تھے۔ شجر ممنوعہ کا سرسبزو شاداب نخلستان اور دور دور تک ریگستان کا لا متناہی گھپ اندھیرا۔ ہر درخت پر کوئی آدم زاد موجود تھا اور حواکی بیٹیاں شجر ممنوعہ پر زبردستی چڑھائی جارہی تھیں۔ درخت کے پھل کھاتے ہی احساس زیاں جاتارہا اور گہرے کنویں کا خوف بھی کافور ہوگیا۔ ہر طرف اٹکھیلیاں چل رہی تھیں اور خشک ریگستان کے ٹھیک بیچو بیچ قہقہوں کے قل قل کرتے چشمے پھوٹ رہے تھے۔

ہم محبت کے رس میں بھیگے ہوئے تھے۔ہمیں غیر مرد کی آغوش میں خود سپردگی کے لیے خود ہمارے شوہرآمادہ کر رہے تھے۔ ان کی مدد سے ہم اپنے لباسوں کی قید سے انتہائی حساس طریقے سے دھیرے دھیرے آزاد ہورہی تھیں۔ ہمارے جسم کے تمام رونگٹے کانٹے دار گرگٹوں کی طرح کھڑے ہوتے جاتے تھے ،جوں جوں مردانہ ہاتھوں کے لمس سے ہماری حساس جلدیں مس ہوتی جاتی تھیں۔ اوپر سے نیچے تک ہمارے اعضا بھی گرگٹ کی طرح رنگ بدل رہے تھے …کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کون سا ہاتھ اپنے اور کون سا پرائے مرد کا ہے۔ پورے بدن میں کپکپاہٹ سی دوڑ رہی تھی۔ ہم پر بے خود ی اس قدر طاری تھی کہ کچھ بھی سوچنے کا وقت نہیں تھا۔ ہر پل بلکہ ایک ایک پل کے ہزارویں حصے میں بھی احساس کی لاکھوں کونپلیں پھوٹ رہی تھیں۔ ہمارے جنسی غدودوں میں اس قدر ہلچل مچی ہوئی تھی کہ معلوم ہوتا تھا کہ پراکرتی اور پرش کے اس ملن نے فطرت کے کاموں میں دخل در معقولات کرکے جوالا مکھی، طوفان اور سیلاب تینوں کے گیٹ بیک وقت کھول دیئے ہوں۔ ہم خس وخاشاک کی طرح جنسی ہیجان کے سیل رواں میں بہتے جارہے تھے۔

ہوش جب آیا جب دھیرے دھیرے موسیقی کی دھن مدھم پڑنے لگی اور جلتی بجھتی برقی قمقموں کی رنگ برنگی روشنی ماند پڑنے لگی۔ جسموں کے ملن کا سنگم چھتری ہوئی پرچھائیوں کی اوٹ میں گم تھا۔ وہاں تو صرف لیزر بیم کی چھٹکتی روشنی میں کوئی مخصوص عضو روشن ہواٹھتے تھے۔ کون سا عضو کس کا تھا ،اسے دیکھنے کا ہوش کسے تھا۔

میرا شوہر شروع سے شہوت پرست اور حسن کا پرستار تھا۔ لیکن ہماری شادی شدہ زندگی میں جب چنگاریاں سرد پڑنے لگیں تو ایک دن، شام کی ملگجی روشنی میں اس نے سرگوشی سے میرا دل ٹٹولتے ہوئے کہا تھا۔ جان من! میں ایک ایسی جگہ جانتا ہوں جہاں جانے سے ہماری ازواجی زندگی کی خوشیاں پھر سے لوٹ آئیں گی۔”

میں اپنی پوری شدت سے اُسے اُس کے ارادے سے باز رکھنے کے لیے منع کرتی رہی…

لیکن مجھے معلوم تھا۔ وہ ایک بار کسی چیز کی ضد پکڑ لے تو اسے منع کرنا بہت ہی مشکل کام ہو جاتاتھا۔وہ احساس محرومی میں مبتلا ہوکر بہت زیادہ شراب نوشی شروع کرنے لگا تھا۔

رات میں گھر دیر سے آنے لگا تھا۔

مجھے طرح طرح سے یہ باور کرانے کی کوشش کرنے لگا کہ ”وہ صحیح” ہے اور میں اس کی بات مان جاؤں.آخر ایک دن اس کی ضد کے آگے میں جھک گئی۔ کیونکہ ،میں اسے زیادہ دنوں تک روٹھا ہوا نہیں دیکھ سکتی تھی۔ آخر کار ، ایک دن جب میں اچھے موڈ میں تھی تومیں نے اُس کے لئے حامی بھرلی۔

وہ خوشی سے ناچ اُٹھا۔ اُس کے دل کی مراد پوری ہوگئی تھی۔

وہ مجھے اُس پُر اسرار جگہ پر لے گیا۔

وہ جگہ کیا تھی، ایک خفیہ کلب تھا ۔جہاں زوج کی ادلا بدلی ہوتی تھی ۔ اصل میں وہ کلب کثیر جنسی سرگرمیوں کی آماجگاہ تھا۔

اس کے دونوں ہاتھ کھمبے کے ساتھ ریشم کی ڈورسے بندھے ہوئے تھے اور وہ مست ہاتھی کی طرح جھوم رہا تھا۔ نسائی ہاتھوں کی مخروطی انگلیوں کے لمس سے اس کی گردن، پیٹھ اور پہلوؤں میں متواتر سہرن سے دوڑ جاتی تھی ۔یہ جسم وجاں کے اندر موجودمثبت حیوانی توانائیوں کو ہوا دے کر اسے تسخیر کرنے کا عمل تھا۔ جسے عرف عام میں کالا جادو جگانے کے عمل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

اول اول مرد وزن خوشنما پوشاکوں میں ملبوس یہاں وہاں گھوم ٹہل رہے تھے۔ لیکن جوں جوں موسیقی کی دھن میں تیزی آتی گئی، ان کے جسم کپڑوں سے بے نیاز ہوتے چلے جاتے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ، مادر زاد انسانوں کا وہاں ایک جمگھٹا سا نظرآنے تھا۔ وہ سب کسی اور ہی دُنیا سے آئے ہوئے دُم کٹے جانور معلوم ہوتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ عریانیت کوئی معیوب چیز نہیں ہے۔ جب خدا گوڈ اور ایشور نے ہمیں اسی روپ میں بنایا ہے تو پھر اس پر سے یہ آورن کیوں اوڑھا جائے۔ ننگے رہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جب ہم دوسروں کی بیویوں کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہیں تو ہمارے اندر منفی توانائی پیدا ہوتی ہے جس کا انخلا ضروری ہے۔ اس طرح سے آزادانہ رہ کر ہم جس استری سے جی چاہے سنبھوگ کر سکتے ہیں ۔بشرطیکہ وہ استری بھی آپ کے اندر کشش محسوس کرتی ہو۔

اس عمل سے ہمارے اندر مثبت توانائی پیدا ہوتی ہے اور وقفے وقفے سے بطن اور دماغ میں مجتمع ہونے والی منفی توانائیوں سے ہمیں نجات ملتی ہے۔ ہم برے خیالات سے بچتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ ایشور ہمیں ایسے روپ میں زیادہ پسند کرتا ہے۔ ہاں! جس کے اندر شہوانی جذبات کو مہیج نہ ملتی ہووہ شانت رہ سکتا ہے۔ اسے اسی میں آنند آتا ہے لیکن جس کی ترشنا جتنی تیز ہوتی ہے ،وہ ترپتی کے لئے اتنا ہی زیادہ پریاس کرتا ہے ۔یہ فطری بات ہے۔ آپ پیاسے گھوڑے کو پانی پینے سے روک توسکتے ہیں لیکن جس گھوڑے کو پیاس ہی نہ لگی ہو اُسے آپ زبردستی پانی نہیں پلا سکتے۔ اسی طرح آپ کسی بھی کام کو زبردستی نہیں کرسکتے۔ اگر روچی نہ ہو تو کھانے سے ہاتھ کھینچ لینے ہی میں بھلائی ہے۔

میں نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔ اس وقت میری عمرچھیالیس سال کی ہوچکی تھی۔ لیکن میرے شوہر کی جیسے جیسے عمر بڑھتی جا رہی تھی، اس کی شہوانی خواہشات مزیدجوان ہوتی جارہی تھیں

. وہ مجھے اپنے ہاتھوں سے بناؤ سنگھار کرکے کلب لے جاتا۔ میں بہت گوری تھی ۔میرے جوبن کے اُبھار ابھی ماند نہیں پڑے تھے ۔لیکن اندر سے میں خود کو بوڑھی محسوس کرنے لگی تھی۔ میں اپنے شوہر کی خوشی کے لیے وہ سب کچھ کر رہی تھی جس سے کہ وہ خوش رہے۔ مجھے غیر مردوں کے ہاتھوں میں جھولنا، ان کی بانہوں میں مچلنا اور اپنے ہونٹوں کے زوایے میں ان کی زبان کی پھسلن محسوس کرنا کچھ مزہ نہ دیتا تھا۔ لیکن جب اپنے شوہر کے سامنے دوسرا مرد آپ کے وجود کو بھنبھوڑتا ہے تو یقیناً آپ کے اپنے مرد کے اندر رقابت اور حسد کا ایک شعلہ سا لپک اٹھتا ہے اور وہ اس کی تپش میں جھلس کر اپنے اندر کی گرمی دوسری عورتوں کے اندر جاکر ٹھنڈا کرتاہے۔ یہ شعلوں سے کھیلنے کا ایک غیر فطری عمل ہے۔ لیکن یہی کام میرے شوہر کے اندر ہر بار جینے کی ایک نئی امنگ پیدا کر دیتا تھا۔ کئی ماہ تک آنکھ مچولی کا یہ سفلی کھیل چلتا رہا۔ اس کے اندر تیزی سے تبدیلی آرہی تھی۔ یہاں تک کہ ہماری ازدواجی زندگی میں ایک ایسا بھی موڑ آیا جب مجھے اس کی خوشی سے حسد اور چڑ سی ہونے لگی۔

میرا شوہر بہت خوش قسمت تھا۔ اس نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر ریئل اسٹیٹ کا کاروبار شروع کیا تھا۔ اسے دن دوگنی رات چوگنی ترقی ملی۔گویا کوئی پارس پتھر اس کے ہاتھ لگ گیا ہو۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ایمپائر کھڑے کر لیے، فارم ہاؤس خرید لیے اور شہر کے گرد ونواح میں کئی ہوٹل کھول لئے۔ ہر ہوٹل میں باربی کیو اور ڈانس فلور بنوا رکھے تھے جہاں نوجواں جوڑیاں ڈنر سے پہلے بھوک بڑھانے کے لیے ڈانس کیا کرتے تھے۔ کبھی کبھی میں اپنے شوہر کے ساتھ جاتی تو ان کا دل رکھنے کی خاطر میں بھی کچھ اسٹیپس کر لیا کرتی تھی۔ وہ مزید ضد کرتا لیکن میں زیادہ ساتھ نہیں دے پاتی تھی۔

میری شادی جب ہوئی میں سولہویں سال کے میٹھے شباب کے دور سے گزرر ہی تھی۔ جب بالی عمر کی لڑکیاں سپنوں میں اپنے شہزادے کو گھوڑے پر آتا ہوا دیکھتی ہیں۔ میوئے کے رس سے جب انگ انگ مہک رہا ہوتاہے اور درد کے میٹھے چبھن سے سارا جسم ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔ ایسے میں من کرتاہے کہ کوئی آپ کو ٹوٹ کر چاہے، کوئی پیار کرے اور کوئی آپ پر اپنی جان نثار کرے۔ میں بھی چاہتی تھی کہ میں ایسے سپنوں کے راجکمار کے ہاتھوں میں اپنے حسن کے خزانے سونپ کر اس کی بانہوں میں سکھ چین کی بانسری بجاتی ہوئی عمر بسر کر دو ں۔

لیکن ایسا نہیں ہوا۔

جب میری شادی ہوئی۔میری شوہر کی عمر بیس سال تھی۔ اس کے ہاتھوں میں اپناکوئی کاروبار نہیں تھا۔ وہ اپنے مالدار بھائی کا شافر تھا۔ بھائی کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ وہ پیر وفقیر اور درگاہوں کی خاک چھان کر تھک چکے تھے۔ تبھی انھیں کسی نے مشورہ دیا کہ اپنے چھوٹے بھائی کی شادی کردو شاید اس کی قسمت سے اولاد کا سکھ نصیب ہوجائے۔ میرے شوہر کے ماں باپ پچپن میں ہی خدا کو پیارے ہوگئے تھے۔ وہ یتیم تھا۔ میں بیاہ کر آئی۔ گھر میں پھول جیسے دو بچے ہوئے۔ بڑے لاڈ پیار سے ان کی پرورش ہوئی۔ بڑے ہوئے، پڑھنے کے لیے یونیورسٹیوں میں چلے گئے۔تعلیم مکمل کی ملازمت ملی پھر وہیں کے ہوکے رہ گئے۔

ایک دن میرے شوہر نے اداسی بھرے لہجے میں کہا تھا۔

اتنی کم عمر میں شادی ہوئی۔ کیسے بچے ہوئے۔ کب پلے بڑھے کچھ پتہ ہی نہیں چلا۔ شادی تو گڈے گڑیے کا کھیل ہوگیا۔ جب تک سمجھ میں آیا کہ شادی کیا ہوتی ہے، کیوں ہوتی ہے اور زندگی کا لطف کیسے لیتے ہیں۔تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

میرے شوہر کے دماغ میں ازدواجی زندگی کی ایک تشنگی محسوس ہونے لگی تھی۔ بس، یہی فتنہ سا خیال تھا۔جس کے ابھرنے کے بعد کونپلیں متواتر پھوٹتی رہیں اور پھر ایک دن وہ ایک پورا تناور درخت بن گیا۔

ہاں ! وہی شجر ممنوعہ۔

اس شجر ممنوعہ کی جڑوں سے لگا ایک گہرا کنواں بھی تھا جسے دیکھ کے ڈر لگتا تھا۔ مگر اس درخت کے پھل نے مجھے اول اول ایسا مدہوش کیا کہ حواس ٹھکانے نہ رہے اور جب ہوش آیا تو میری دنیاپوری طرح سے اُجڑ چکی تھی۔

وہ کالی تھی۔

لیکن …اس کی بوٹی بوٹی چمکتی تھی۔

میراشوہر اس پر لٹّو تھا۔ اسے خوبصورت عورتیں اچھی لگتی تھیں۔ لیکن اس کے اندر اتنی کشش نہیں تھی کہ وہ انھیں اپنی طرف آکرشت کرسکے۔ وہ انھیں مخاطب کرنے سے ڈرتا تھا۔ کیوں کہ وہ ہکلاتا تھا۔ تبھی اسے اس کلب کا پتہ تھا۔ اس نے وقت ضائع کیے بغیر اپنے منصوبے کے مطابق مجھے شیشے میں ڈھال لیا تھا۔

اس نے جھوٹ کہا تھا۔

اس نے کہا تھا۔”ازدواج کی عارضی ادلا بدلی سے فرسودہ رشتے میں نئی بہار آ جاتی ہے جس سے رشتے کی جڑ مضبوط ہوتی ہے اور محبت کے بوسیدہ شجر میں نئی کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں۔”

اس نے سچ کہا تھا۔

محبت کے بوسیدہ شجر میں کونپلیں پھونٹنے لگتی ہیں۔

ہاں! کونپلیں تو پھوٹیں اور خوب پھوٹیں لیکن ساتھ ہی میری قسمت بھی پھوٹ گئی۔ وہ میرے سامنے اس کلموہی سے پینگیں بڑھاتا رہا اور میں گم صم دیکھتی رہی۔ اس چڑیل نے ناجانے کیا جادو کر دیا تھا۔ وہ سیاہ فام ڈائن مردوں کے ہاتھوں میں شراب سے لبریز پیمانے کی طرح گردش کرتی رہی۔ اس کے گرد مردوں کی لام لگی ہوئی تھی۔ ادھر میں اپنے ہاتھوں اپنے نصیب پر رو پیٹ کر بیٹھ چکی تھی۔میری حیثیت اُس چوسی ہوئی آم کی گٹھلی کی مانند ہوچکی تھی جو آدم زادوں کی ٹھوکروں کی زد پر ایک جگہ سے دوسری جگہ پر جاکر گر پڑتی ہے۔ جسے گدھے بھی سونگھ کے چھوڑ دیتے ہیں۔ میرا شوہر بھی بہت بڑا گدھا تھا۔ اس کا سر گدھے ہی جیسا لمبا تھا جسے وہ سنبھال کر اپنے قابو میں نہیں رکھ سکتا تھا۔ رفتہ رفتہ ، میرا شوہر مجھ سے دور ہوتا چلا گیا۔ وہ میرے پاس ہوتے ہوئے مجھ سے کوسوں دور ہوتا گیا۔ میں اپنی نظروں کے سامنے اسے اپنے سے دور ہوتا دیکھتی رہی۔ لیکن میری مت ماری گئی تھی۔ کلب کی پرچھائیوں نے اس کے سیاہ جسم کو خوب روشن کیا اور میری آنکھیں دھوکا کھاتی رہیں۔ میری نظروں کے سامنے وہ تاریکیوں میں غوطے لگاتا رہاہے، وہاں ڈوبتا رہا، ابھرتا رہا اور اس کے قہقہوں کی آواز میرے کانوں میں نہیں پڑ رہی تھی۔

آج، میں خود کو اکیلے پن کے ایسے گہرے کنویں میں گری ہوئی محسوس کررہی ہوں ،جہاں سے میری آواز باہر کی دنیا تک پہنچ نہیں سکتی ہے۔ میں اندر ہی اندرچیخ رہی ہوں لیکن میرے آس پاس مجھے کوئی سننے والا نہیں ہے۔

افسوس! میں نے یہ کیا کیا۔

شجر ممنوعہ کی چاہ میں!

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: