زمانہ ۔۔۔ فہمیدہ ریاض

“زمانہ بھی انسان کو کیا سے کیا بنا دیتا ہے۔”

( فہمیدہ ریاض )

          منصورہ اپنے خیال میں غرق، زمیں دوز ریل میں بیٹھی چلی جا رہی تھی۔ وہ ابراہیم بھائی صاحب کا سوچ رہی تھی جو پاکستان جانے والے تھے… فیصل آباد، جہاں اس کی بوڑھی ماں اور باپ رہتے تھے۔ دو دن پہلے ابراہیم بھائی صاحب نے اس سے کہا تھا:

          “ناں بھئی ناں، یہ پیسے میں تیرے ماں باپ کو نہیں دے سکتا۔ یوں بھی ہمارے پیارے وطن میں بیٹی کی کمائی کوئی نہیں کھاتا۔ ارے بیٹی کے گھر تو پانی بھی نہیں پیتے بہت سے لوگ۔”

          منصورہ دل مسوس کر رہ گئی تھی۔ اشفاق سے چھپا چھپا کر اس نے سلائی سے کی گئی خود اپنی کمائی سے جو سو پاؤنڈ جمع کیے تھے وہ اس کے ہاتھ میں لرزتے رہ گئے تھے۔ اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کے قطرے خاموشی سے لڑھکتے ہوے گردن پر گرتے رہے تھے… آنسو جو خود اس کے گریبان میں جذب ہو گئے تھے۔ اس کے منھ سے سسکی کی طرح نکلا تھا:

          “کیا میں ان کی بیٹی نہیں؟ … ان کا مجھ پر حق نہیں؟”

          ابراہیم بھائی صاحب نے سر ہلا کر کہا تھا:

          “لو یہ بھی کوئی بات ہوئی! نسل تو مرد سے چلتی ہے۔ اب الله تعالیٰ کی یہی مرضی تھی کہ تمھارے والدین کے گھر اولادِ نرینہ نہ ہو تو اس کی رضا۔ الله کے راز وہ ہی جانتا ہے۔ یا حق!” انھوں نے تسبیح پھیرتے ہوے نعرہ سا لگایا تھا۔

          ایک اسٹیشن پر گاڑی رکی تو منصورہ نے گھبرا کر باہر نظر ڈالی۔ لیسسٹر اسکوائر آ گیا تھا۔ یہاں سے اسے آکسفورڈ سرکس کے لیے ٹیوب بدلنی تھی۔ وہ جلدی سے اٹھی اور اپنے بیٹے گڈّو کو ہاتھ پکڑ کر کھینچتی ہوئی، دوسرے ہاتھ سے اس کی پُش چیئر سنبھالے، لوگوں کی بھیڑ چیرنے کی کوشش کرنے لگی۔ ایک انگریز عورت نے گڈّو کو ٹرین سے نیچے اتار دیا۔ منصورہ جلدی سے خود بھی اتری اور دلی تشکر سے کہا:

          “تھینک یو!”

          عورت مسکرائی۔ ٹرین کا خودکار دروازہ بند ہو گیا۔ دھندلے شیشے کے پار اس عورت کا مسکراتا چہرہ اور سنہری بال غائب ہو گئے۔

          منصورہ نے سانس درست کی اور گڈو کو پش چیئر میں بٹھا کر اسٹریپ باندھا۔ پھر وہ بجلی کی سیڑھیوں کی طرف چل دی۔ پلیٹ فارم بدل کر وہ سنٹرل لائن کی ٹرین کا انتظار کرنے لگی۔

          کرسمس کا زمانہ تھا اور آکسفورڈ اسٹریٹ پر سیل لگی ہوئی تھی۔ سیل تو خیر برکسٹن میں بھی لگی تھی جو کلیپ ہیم ساؤتھ سے زیادہ دور نہیں تھا، مگر اشفاق کا اصرار تھا کہ اس کے رشتہ داروں کے لیے شاپنگ آکسفورڈ اسٹریٹ سے ہی کی جائے جہاں زیادہ ویرائٹی ہے۔ لسٹ اس کے پاس تھی۔ اشفاق کے سب بھائیوں کے لیے پتلونیں اور قمیصیں، اس کی ماں کے لیے سویٹر، باپ کے لیے کارڈیگن اور بہنوں کے لیے ہینڈ بیگ خریدنے تھے۔ یہ سب سامان ابراہیم بھائی صاحب اپنے ساتھ فیصل آباد لے جانے والے تھے۔

          پانچ سال پہلے منصورہ فیصل آباد سے بیاہ کر لندن آئی تھی۔ اشفاق صرف مہینے بھر کی چھٹی پر آیا تھا۔ اس ایک مہینے میں اس کی بات پکی کر کے شادی کر دی گئی تھی۔ لندن میں رہنے والے داماد کے عوض اس کے بوڑھے ماں باپ نے اشفاق کے گھر والوں کو اپنے مکان کا پلاٹ دے دیا تھا جس کو اس خاندان نے بےحیائی سے قبول کرتے ہوے اس پر مکان بھی بنوا لیا تھا۔ شادی کے وقت منصورہ فیصل آباد کے لڑکیوں کے کالج میں انٹر میں پڑھتی تھی۔ شادی امتحانوں سے پہلے ہو گئی تھی۔ تب سے وہ ایک بار بھی پاکستان نہیں گئی تھی۔ اب تو گڈو بھی چار سال کا ہو گیا تھا۔ اس عرصے میں اس کی چھوٹی بہن نے بی اے، بی ٹی کر لیا تھا۔ اس کی شادی ہو گئی تھی مگر اس مہنگائی کے زمانے میں ایک فرد کی آمدنی سے ماں باپ بہن بھائیوں والے خاندان کیسے چلتے۔ ٹیچرز ٹریننگ کی وجہ سے اس کی بہن رضیہ کو ایک پرائیویٹ اسکول میں چار ہزار کی نوکری مل گئی تھی۔ کچھ پیسے وہ ٹیوشن پڑھا کر بھی حاصل کر لیتی تھی۔ اس کی آمدنی کا ایک ایک پیسہ اس کا شوہر لے لیا کرتا تھا۔ رضیہ تڑپتی رہ جاتی لیکن اپنی ماں اور باپ کی ذراسی مدد نہیں کر سکتی تھی۔ صرف اس کی نہیں، یہ تو اس کے دیس کی ساری عورتوں کی کہانی تھی۔ غسل خانہ صاف کرنے والی مہترانی سے لے کر اس کی ان تمام سہیلیوں تک کی جو اب برسوں سے ملازمتیں کر رہی تھیں۔ ان کا اپنی کمائی پر کوئی حق نہیں تھا۔ کبھی کبھی وہ سوچتی، “میرے پیارے وطن پاکستان کے کیسے مرد ہیں یہ… سب اپنی بیویوں کی تنخواہیں اپنی ہتھیلی پر رکھوا لیتے ہیں یا گھر کی جنت نامی دوزخ میں جھونک دیتے ہیں… اپنی خوشی سے وہ اپنی کمائی کا دھیلا بھی کیوں خرچ نہیں کر سکتیں؟”

          لیکن پاکستانی مرد ہی کیا، ہندوستانی مردوں کی بھی یہی کہانی تھی۔ کلیپ ہیم ساؤتھ میں بیسیوں ہندوستانی اور پاکستانی خاندان بستے تھے۔ بہت سے ہندو اور سکھ گھرانوں کی عورتیں بھی اسی گارمنٹ فیکٹری میں بجلی کی مشینوں پر سلائی کرتی تھیں۔ سب کے شوہر دیہاڑی کا ایک ایک پیسہ وصول کر لیتے تھے۔ اس کی دوست کلونت کور چپکے چپکے اس سے کہتی:

          “بڑا سُنیا سی پاکستان پاکستان! ایتھے آ کے پتا چلیا کہ ایہہ تے بالکل ہندوستانیاں جیہے ہوندے نیں۔ رج کے کھانا تے بتی وسا کے ساڈے اُتّے چڑھ جانا…”

          کلونت کور کھلی ڈُلی موٹی تازی عورت تھی۔ وہ بڑے زور کا قہقہہ لگاتی اور کہتی:

          “بڑے گورے چٹّے، لمبے چوڑے ہیں ہمارے مرد! تین منٹ میں فارغ ہوتے ہیں تین منٹ میں…”

          منصورہ کی اس سے بڑی دوستی ہو گئی تھی۔ کلونت کور کا گلا بھی بڑا میٹھا تھا۔ اور مزےدار بات یہ تھی کہ وہ خود ہی سکّھوں کے لطیفے سناتی رہتی تھی۔ منصورہ نے اس سے سبزیاں پکانی اور آلو گوبھی کے پراٹھے بنانے سیکھے تھے۔ کلونت لندن میں اچار تک اپنے گھر میں ڈالتی تھی جو شاید کسی معجزے سے دو تین مہینے میں لندن کی مٹ میلی دھوپ میں ہی تیار ہو جاتے تھے۔

          آکسفورڈ اسٹریٹ سے شاپنگ کر کے بےشمار تھیلوں کے بوجھ میں دبی منصورہ حیران و پریشان کھڑی تھی۔ یہ سب شاپنگ اسے برکسٹن لے جانی تھی جہاں ابراہیم بھائی صاحب رہتے تھے۔ برکسٹن تک کوئی ٹرین نہیں جاتی تھی۔ کلیپ ہیم نارتھ سے پیدل جانا پڑتا تھا۔ اب وہ ان تھیلوں کو اٹھائے، گڈو کو سنبھالے کہ پُش چیئر پکڑے! ایک بار تو دل میں آئی کہ ٹیکسی ہی کر لے لیکن پھر خیال آیا کہ اشفاق تو قتل کر دے گا۔ ٹیکسی! یہاں کسی بھی پاکستانی ہندوستانی گرھستن کا ٹیکسی پر بیٹھنا ایسا گناہ تھا جو وہ کبھی نہیں کرتی تھیں۔

          اور تب ایک عجیب واقعہ ہوا۔ کسی کار پارکنگ سے نکلتا اسے مارک نظر آ گیا۔ مارک نے اُسے دیکھ کر پہلے گاڑی دھیمی کی اور پھر روک لی۔ اس نے کہا:

          “وانٹ ٹو کم؟ … کم!”

          سخت سردی میں منصورہ پسینے میں نہا گئی۔ وہ پانچ سال سے لندن میں تھی لیکن اس نے کسی گورے سے بات تک نہیں کی تھی۔ مارک اس کے ہی محلّے میں رہتا تھا اور اسے پہچان گیا تھا۔ اَور کوئی وقت ہوتا تو منصورہ ایک منٹ بھی سوچے بغیر “نو تھینک یو!” کہہ کر آگے بڑھ جاتی، لیکن شاپنگ کے یہ تمام تھیلے، گڈّو اور اس کی پش چیئر مل جل کر کچھ ایسا مسئلہ بن چکے تھے کہ دوسرے ہی لمحے وہ تمام تھیلے پچھلی سیٹ پر رکھ کر گڈو کی پش چیئر  فولڈ کرتے ہوے کہہ رہی تھی:

          “یس تھینک یو!”

          گڈو کو گود میں لیے مارک کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھے ہوے اس نے ہمت کر کے مارک پر نظر ڈالی۔ یہ دیکھ کر وہ دھک سے رہ گئی کہ مارک اسے چوری چوری دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ منصورہ کو کیا پتا تھا کہ سامان کے تھیلوں سے کشتی لڑتے لڑتے یہ جو اس کا چہرہ گلابی ہو گیا تھا، بالوں کی سیاہ لٹیں جو چوٹی سے نکل نکل کر بکھر گئی تھیں اور بھرے بھرے بدن سے جو جوانی کی خوشبو پھوٹ پھوٹ کر نکل رہی تھی، وہ سب کیسی قیامت ڈھا رہے تھے۔ اسے کب پتا تھا کہ وہ ایک بہت خوبصورت عورت ہے۔ سترھویں میں لگی تھی کہ شادی ہو گئی۔ اٹھارویں میں گڈو آ گیا۔ پاکستانی اور ہندوستانی شوہر اپنی بیویوں سے یہ کب کہتے ہیں:

          “تم ایک بہت خوبصورت عورت ہو۔”

لیکن اس آئرش مزدور کی آنکھیں اس سے یہی کہہ رہی تھیں۔ منصورہ گھبرا گئی۔ اسے یوں لگا جیسے اس سے جھوٹ بولا جا رہا ہے۔ وہ تقریباً برا مان گئی۔ اس نے پھر مارک کی طرف دیکھا۔ پچیس چھبیس برس کا رہا ہو گا؛ معمولی قد و قامت، بچوں جیسا معصوم چہرہ، مگر نیلی نیلی آنکھوں میں شرارت کی چمک۔ دور سے انگریزوں کے چہرے اسے ہمیشہ کارڈ بورڈ پر بنی تصویروں جیسے نظر آتے تھے۔ شروع شروع میں تو سب گورے ایک جیسے لگتے تھے؛ اس کے لیے انھیں الگ الگ پہچاننا بھی مشکل تھا۔ سال بھر میں کہیں جا کر آنکھوں کو عادت پڑی تھی۔ اور آج… ایک گورے کے اتنے پاس بیٹھی تھی وہ۔ اچانک اسے مارک کے جسم کی مہک محسوس ہوئی… ایک مرد کے جسم کی مہک۔ منصورہ کا دل دھڑکنے لگا۔

          “ہاؤ یو گیٹ پارکنگ؟” منصورہ نے اجنبی آواز میں پوچھا۔

          مارک ہنس پڑا۔ اس نے کہا:

          “اوہ، آئی ایم اے پلمبر۔ آئی گو ٹو فِکس تھنگز۔ آئی گیٹ پارکنگ۔”

          پھر اس نے کلیپ ہیم ساؤتھ کی طرف گاڑی موڑ دی۔ منصورہ نے گھبرا کر کہا:

          “پلیز ڈراپ می ایٹ برکسٹن…” اس نے جلدی سے ابراہیم بھائی صاحب کے مکان کا نمبر دہرایا۔

          “فائن!” مارک نے کہا اور اسے برکسٹن کی طرف لے چلا۔

          ابراہیم بھائی صاحب کے گھر جاتے ہوے گڈو منصورہ کی گود میں سو گیا۔ منصورہ کو پھر ابراہیم بھائی صاحب کا خیال آیا۔ وہ انھیں بچپن سے جانتی تھی۔ اس کے محلّے میں ہی ان کا گھر تھا۔ وہ صرف ایک خوش شکل نوجوان نہیں تھے بلکہ بڑے ذہین بھی مشہور تھے۔ وہ کہانیاں لکھتے تھے جو سچ مچ رسالوں میں چھپتی بھی تھیں۔ ان میں “چرواہا” نام کی ایک کہانی کو خاصی شہرت بھی حاصل ہوئی تھی۔ اُس زمانے میں ان میں انسانیت تھی اور چہرے پر اُمنگ کی چمک رہتی تھی۔ وہ لندن انگریزی ادب پڑھنے کے ارادے سے ہی آئے تھے۔ کہتے تھے، بس کچھ دن محنت مزدوری کر لوں؛ پھر میں ہوں اور ادب ہے۔ لیکن ظالم وقت نے ان کی یہ خواہش پوری نہ ہونے دی تھی۔ کچھ دنوں بعد انھوں نے حلال مِیٹ کی دکان کھول لی جو خوب چل نکلی۔ ایک نہایت کم شکل انگریز عورت سے انھوں نے شادی بھی کر لی۔ حلال گوشت نے ابراہیم بھائی صاحب کو پہلی بار خوشحالی سے روشناس کرایا تو ان پر پیری مریدی کا غلبہ طاری ہو گیا۔ مذہب ہی کی وجہ سے تو لندن میں حلال مِیٹ خریدا جاتا تھا۔ پیری مریدی سے آمدنی میں اور اضافہ ہو گیا۔ انھوں نے انگریز بڑھیا کو بھی کلمہ پڑھا کر مسلمان کر لیا تھا۔ وہ بھی شلوار قمیص پہنے ان کے ساتھ گروسری اسٹور پر بیٹھی حلال مِیٹ بیچا کرتی تھی۔ لیکن برکسٹن کے لوگ جانتے تھے کہ کئی برس سے اس اسٹور پر کچھ اور بھی بِکتا تھا __ کوئی ایسی چیز جو انسان کی عقل خبط کر دیتی ہے۔ ابراہیم بھائی صاحب سے پوچھنے کی کوشش کون کرتا۔ پاکستانی ایسوسی ایشن پر ان کا گہرا رعب تھا اور ان کو ٹوکنے کا مطلب کمیونٹی کی ناراضگی مول لینا تھا۔ ابراہیم بھائی صاحب کے دو بیٹے بھی جوان ہو گئے تھے۔ انھوں نے دونوں کو بمشکل اسکول میں ڈالا تھا اور پھر سکیورٹی گارڈ بنوا دیا تھا۔ ان دونوں کے لیے بیویاں وہ فیصل آباد سے ہی لے کر آئے تھے۔

          ابراہیم بھائی صاحب اکثر منصورہ کے گھر آیا کرتے تھے۔ اب انھوں نے لمبی سی داڑھی رکھ لی تھی۔ وہ تسبیح گھماتے رہتے تھے اور بالکل ایسی آئیں بائیں شائیں باتیں کرتے تھے جن کا کوئی سرپیر نہ ہوتا۔ ان کی ان باتوں سے لندن میں اپنے کلچر کے لیے ترسی ہوئی لندن کی کم خواندہ کمیونٹی نے انھیں پیر مان لیا تھا۔ وہ بھی ان سے چپکے چپکے کہتے:

          “ذرا سی چسکی لگاؤ، شراب وراب سب بھول جاؤ گے۔ چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔ یہ بُوٹی بھی خدا نے بنائی ہے۔ کہاں کی عقل، کہاں کی سائنس۔ یہ بجلی، یہ ٹرینیں، یہ ہوائی جہاز… یہ ملعون انگریز کی ایجادات شیطانی ہیں۔ ہمیں دیکھو، ایک پیر کی کرامات سے بے پر کے اڑتے ہیں اور بے پر کی اڑاتے ہیں۔ ہو حق!” وہ نعرہ لگاتے۔

          مگر جیساکہ مثل ہے، دیوانہ بکارِ خویش ہشیار، ان کی دولت میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔

          “واٹ آر یو  ڈوئنگ دِس ایوننگ؟”

          مارک کی آواز نے اسے چونکا دیا۔ وہ گڑبڑا گئی۔ اس نے کہا:

          “می؟ … نتھنگ۔ … وائے؟”

          مارک نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوے انگریزی میں کہا:

          “تم میرے ساتھ شام کو یہاں کیوں نہیں آتیں؟”

          منصورہ نے کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھا۔ ایک خالی شو وِنڈو میں ایک پوسٹر لگا تھا جس میں گجراتی، ہندی، اردو اور انگریزی میں کسی میٹنگ کی دعوت تھی۔

          “نسل پرستی کے خلاف… آج شام سات بجے…”

          منصورہ سانس روک کر بیٹھی رہی۔ پھر اس نے لمبی سی سانس چھوڑ کر دکھتے دل سے سوچا:

          “میں اور باہر جاؤں؟ … کسی میٹنگ میں جاؤں؟”

          “یہ تم لوگوں کے حق میں ہے،” مارک نے کہا۔

          وہ “رائٹ” کا مطلب سمجھتی تھی۔ رنگ دار لوگوں کے “حقوق” کا مطلب سمجھ سکتی تھی۔ لیکن رائٹ یا حق وہ لفظ نہ تھا جو اس کے یا اس جیسے دوسرے گھروں میں کبھی بولا جاتا ہو، اور وہ بھی عورتوں کی زبان سے __ یہ تو سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔

          اسی لندن میں ایسے ہندوستانی اور پاکستانی بھی تھے جو اپنی بیویوں اور بہنوں کے ساتھ ان میٹنگوں میں آتے تھے، جو نسل پرستی کے خلاف لڑ رہے تھے، لیکن… وہ تو انگریزی اخبار پڑھنے والے لوگ تھے… ان پر تو مغرب کا رنگ چڑھ گیا تھا… وہ تو روی شنکر کا ستار سننا چاہتے تھے۔ منصورہ جس حلقے میں رہتی تھی وہاں ان لوگوں کو غدّار اور “مغرب” کا غلام سمجھا جاتا تھا۔ اسی لندن میں ایسے مسلمان، ہندو اور سکھ بھی تھے جو یونیورسٹیوں میں اسلام، ہندومت اور سکھ مذہب اور تہذیب و تمدّن پر تحقیق کر رہے تھے، جن کے مضامین انگریزی اخباروں میں چھپتے تھے اور جن کی اس معاشرے میں بہت عزّت تھی، لیکن منصورہ کے حلقے میں انھیں “کالا صاحب” کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔

          مارک نے گاڑی ابراہیم بھائی صاحب کے گھر کے سامنے کھڑی کر دی اور پچھلی سیٹ سے شاپنگ بیگ اتار اتار کر دروازے کے سامنے رکھنے لگا۔ پھر اس نے سامنے کا دروازہ کھول کر گڈو کو منصورہ کی گود سے لے لیا۔ منصورہ نے گاڑی سے اتر کر دروازہ بند کیا اور کال بیل بجائی۔ دروازہ شلوار قمیص والی انگریز بڑھیا نے کھولا۔ اس کے پیچھے ابراہیم بھائی صاحب کھڑے تھے۔

          “آؤ بھئی آؤ…” انھوں نے کہا، لیکن منصورہ کے پیچھے گڈو کو گود میں لیے مارک کو کھڑے دیکھ کر وہ ششدر رہ گئے۔ الفاظ ان کے حلق میں اٹک گئے۔ بالاخر انگریز بڑھیا نے گٹ پٹ کرتے ہوے ان کے لیے راستہ بنایا۔ منصورہ شاپنگ بیگ لے کر اندر آئی تو مارک بھی گڈو کو سنبھالے اندر آ گیا۔ اس نے اپنا تعارف کرایا اور ابراہیم بھائی صاحب سے مصافحہ کیا۔

          منصورہ نے اپنے پرس میں سے ایک لفافہ نکالا۔ اس کی آواز ضبطِ گریہ سے رُندھ رہی تھی۔ اس نے بڑی مشکل سے کہا:

          “ابراہیم بھائی صاحب، رضیہ کا فون آیا تھا۔ اماں جی کو دمے کی بڑی تکلیف ہے۔ میں نے بڑی مشکل سے ایک پاکستانی ڈاکٹر کو راضی کر کے اپنے لیے نسخہ لکھوا کر یہ دوائیں حاصل کی ہیں۔ آپ کم از کم یہ تو میری امّاں کو پہنچا دیجیے۔ الله شفا دے گا۔”

          ابراہیم بھائی صاحب نے اسے قہر آلود نظروں سے دیکھ کر کہا:

          “میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ تو گورے کے ساتھ میرے گھر آئی کیسے؟ … تیری اتنی ہمّت! … یا الله! ہماری عورتوں میں اتنی بےحیائی!”

          “ابراہیم بھائی صاحب، یہ آپ کہہ رہے ہیں؟ یہ تو میرا پڑوسی ہے۔ بچارا ہمدردی میں لے آیا۔ لیکن آپ کی تو بیوی انگریز ہے… آپ کے بچے ہیں اس سے…” منصورہ نے غصّے اور نفرت سے کہا۔

          ابراہیم بھائی صاحب زمین پر تھوک کر بولے:

          “میں تو مرد ہوں۔ میرا کیا ہے! نسل تو عورتیں چلاتی ہیں۔ تب ہی تو وہ ہماری غیرت ہیں۔ یا حق!”

          منصورہ نے زہر خند کیا اور کہنے لگی:

          “میں نسل پرستی کے خلاف میٹنگ میں جا رہی ہوں آج شام۔ آپ بھی چلیے۔” پھر اس نے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں کہا: “یس مارک؟ وی گو ٹو میٹنگ دِس ایوننگ…”

          مارک ابراہیم بھائی صاحب کو میٹنگ کے اغراض و مقاصد سمجھانے لگا۔ ابراہیم بھائی صاحب مجبوراً سر ہلاتے رہے، پھر معذرت کر لی۔ پھر چپکے سے اردو میں بڑبڑائے:

          “کیا خرافات ہے… بکواس… اپنی نسل کی حفاظت تو کتے بلی بھی کرتے ہیں۔”

          منصورہ کا دل چاہا کہ پوچھے: آپ کتا ہیں یا بلّی؟ لیکن وہ ہونٹ کاٹ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ آخرکار ابراہیم بھائی صاحب اس کی ماں تک دوائیں پہنچانے پر راضی ہو گئے تھے اور وہ اسی کی خیر منا رہی تھی۔

          وہ جانے کے لیے تیار ہوئی اور گڈو کو بھی جگا دیا۔ گڈو کچی نیند سے اٹھ کر آنکھیں ملتا ہوا مارک کے ساتھ اگلی سیٹ پر جا بیٹھا۔ منصورہ ان کے پیچھے پیچھے آ رہی تھی۔ اچانک ابراہیم بھائی صاحب کا ہاتھ اس کی رانوں سے ٹکرایا۔ منصورہ گھبرائے گھوڑے کی طرح بِدکی۔ ان کا ہاتھ دوسری بار اس کی ران پر رُکا، پھر اس کی کمر سے نیچے کولھوں پر ایک چٹکی…

          ابراہیم بھائی صاحب کے گھر کا دروازہ بند ہو گیا۔

          ذلّت اور کراہت سے لرزتی ہوئی منصورہ مارک کی گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی۔ “گڈو، کم ہیئر!” اس نے گڈو کو پیچھے کھینچ لیا اور اپنے سینے سے زور سے لپٹا لیا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ اپنے اندر سے کسی زہر کو دور کرنا چاہتی ہو۔ ماں کے سینے کی گرمی پا کر گڈو پھر نیند کی آغوش میں چلا گیا۔

          مارک نے پیچھے مڑ کر اسے دکھا۔

          “وِل یو ریئلی کم؟” اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔

          “نو…” منصورہ نے آہستہ سے کہا۔

          وہ پتھریلا چہرہ لیے کھڑکی سے باہر گزرتے ہوے منظر دیکھ رہی تھی۔ گلیاں، مکان… پھر اَور مکان…

          اس کا گھر آ گیا۔

          وہ مارک کی گاڑی سے نکلی۔ پرس سے چابی نکال کر اپنے گھر کا دروازہ کھولا اور اندر چلی گئی۔ مارک حیرانی سے اسے دیکھتا رہا۔ پھر اس نے سوتے ہوے گڈو کو اٹھایا اور گاڑی میں تالا لگا کر اس کے پیچھے گھر میں داخل ہوا۔

          “سنو پیاری…” اس نے کہا، “تمھارا بچہ…”

          “اسے لٹا دو،” دوسرے کمرے سے منصورہ کی آواز آئی۔

          مارک گڈو کو لٹا کر آواز کے پیچھے دوسرے کمرے میں گیا۔

          منصورہ پوری جان سے کانپ رہی تھی۔

          مارک کی نیلی آئرستانی آنکھیں چمک رہی تھیں۔

          “اب یہ بتّی بجھا کر مجھ پر چڑھ کیوں نہیں جاتا؟”

          لیکن مارک اُس پر چڑھ نہیں رہا تھا۔ وہ تو نہ جانے کیا کر رہا تھا… اپنے ہاتھوں سے، اپنے ہونٹوں سے… نی ہائے، کلوَنتے! کِس… ایسے کرتے ہیں کِس؟ اشفاق نے تو کبھی کیا ہی نہیں! تو اَور کیا! کوئی مشرقی مرد اپنی بیویوں کو کِس کرتے ہیں۔ چھی چھی! یہ تو خواہ مخواہ وقت کا زیاں…

          مارک جو نہ گورا رہ گیا تھا نہ کسی اَور رنگ کا، پھر بھی پاکستانی نہیں تھا۔ ہندوستانی بھی نہیں، جو اس کی بے باکی پر حیران ہو کر کہتا: ارے یہ رنڈیوں والی حرکتیں کہاں سے سیکھیں؟ ازل اور ابد کے بیچ بھٹکتے کسی لمحے میں منصورہ نے اسے کارڈ بورڈ کا پُتلا بنا لیا تھا جو اس کے ساتھ نہ جانے کیا کیا کر رہا تھا اور جس کے ساتھ وہ من مانی کر رہی تھی۔ وہ فیصل آباد میں تھی، اپنے بستر میں اکیلی… سسکیاں دباتی ہوئی… امّاں نہ سن لے، ساتھ سوئی بہن نہ سن لے… وہ کسی مزار پر تھی اور اسے حال آ رہا تھا… وہ ایک گہرے خواب میں تھی… وہ صرف اپنی اور مارک کی چیخوں سے چونکی اور دنیا میں واپس آئی اور اپنی ہونکتی چیخ سنی۔

          زندگی میں پہلی بار… ایک بچے کی ماں نے زندگی میں پہلی بار، کھل کر ہانپتے ہوے، گلے میں گھٹتی چیخ نکل جانے دی تھی۔ ہائے کلونت! کیا مجھے اس گورے سے پیار ہو جائے گا؟ میں تو… اسے جانتی بھی نہیں…

          چپ نی چپ! کلونت کور پیٹ دبائے، جھکی ہوئی، سرگوشیاں کرتی ہوئی۔ وہ زور سے اس کا ہاتھ بھینچنا۔ آہ! یہ صدیوں پرانی راز داریاں دو مشرقی عورتوں کی… کاٹ کے رکھ دیں گے… جنم جلی! بس جو ہوا سو ہوا…

          کیا وہ پھر آئے گا؟

          پتا نہیں… شاید نہیں آئے گا…

گڈو جاگ گیا تھا۔ الٹے سیدھے کپڑے پہن کر منصورہ نے اسےزور سے اپنے ساتھ بھینچ لیا۔ مارک نہ جانے کب چلا گیا، اُس کے گلابی ہونٹوں کا بوسہ لے کر… ان کے دانت ٹکرائے تھے۔

          منصورہ دیر تک اپنے بیٹے کو چومتی رہی۔ شکتی کی ایک لہر تھی جو اس کے رگ و پے میں دوڑ رہی تھی۔

          “جو لوگ پیار کر سکتے ہیں…” کلونت کور نے سوچ سوچ کر کہا، “عورت سے… وہ شاید… پیار کر سکتے ہیں… سب سے… مرجانی!”

          دور، کہیں بہت دور، امّاں تھی، اور ابّا۔ اور منصورہ کے پرس میں دوردیس کی مُہروں والا خط جس میں فیصل آباد میں بینک کی ایک چھوٹی سی برانچ کے ایک کھاتے کا نمبر تھا۔ ایک معمولی سا نمبر جس پر سترہ برس کی مامتا اور شفقت کی چھاؤں تھی، اور پانچ برس کی جدائی، ذلّت اور احساسِ کمتری کی کڑی دھوپ تھی۔ دوسرے دن گارمنٹ فیکٹری سے ایک گھنٹے کی چھٹی لے کر منصورہ نے اس نمبر پر چھتری تان لی۔

          منصورہ نے خاوند کی مرضی جانے یا پوچھے بغیر قریبی بینک میں اپنا علیحدہ، پرسنل اکاؤنٹ کھلوا لیا۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: