کنواری ۔۔۔ عصمت چغتائی

اس کی سانس پھولی ہوئی تھی۔ لفٹ خراب ہونے کی وجہ سے وہ اتنی بہت سی سیڑھیاں ایک ہی سانس میں چڑھ آئی تھی۔ آتے ہی وہ بےسدھ پلنگ پر گرپڑی اور ہاتھ کے اشارے سے مجھے خاموش رہنے کو کہا۔

میں خود خاموش رہنےکے موڈ میں تھی۔ مگر اس کی حالتِ بد دیکھ کر مجھے پریشان ہونا پڑا۔ اس کا رنگ بے حد میلا اور زرد ہو رہا تھا۔ کھلی کھلی بےنور آنکھوں کےگرد سیاہ حلقے اور بھی گہرے ہوگئے تھے۔ منہ پر میک آپ نہ تھا۔ خاص طور پر لپ اسٹک نہ ہونے کی وجہ سے وہ بیمار اور بوڑھی لگ رہی تھی۔ مجھے معلوم ہوگیا کہ میرے بتائے ڈاکٹر کا علاج تسلی بخش ثابت ہوا۔ اس کا پیٹ اندر کو دھنسا ہوا تھا اور سینہ سپاٹ ہوگیا تھا۔ مجھے معلوم ہوا کہ اس قتل کی میں بھی کچھ ذمہ دار ہوں۔ مگر میں ڈاکٹر کاپتا نہ بتاتی تو کوئی اور بتادیتا۔ بن بلائے مہمان کو ایک دن نکالا تو ملنا ہی تھا۔

’’ایک مشورہ لینے آئی ہوں۔۔۔‘‘ سانس قابو میں آتے ہیں اس نے کہا۔

’’جمعہ جمعہ آٹھ دن بیتے نہیں اور مردار کو پھر مشوروں کی ضرورت آن پڑی،‘‘ میں نے چڑ کر سوچا، مگر نہایت خندہ پیشانی سے کہا، ’’لو، ضرور لو۔ آج کل بہت مشورے میرے دماغ میں بجبجا رہے ہیں۔‘‘

’’آپا، میں شادی کرلوں،‘‘ اس نے بڑی لجاجت سے پوچھا۔ گویا اگر میں نے اجازت نہ دی تو وہ کنواری ارمان بھری مرجائے گی۔

’’مگر تمہارا شوہر؟‘‘

’’موت آئے حرامی پلےکو۔ اسے کیا خبر ہوگی۔‘‘

’’یہ بھی ٹھیک کہتی ہو۔ بھلا تمہارے شوہر کو تمہاری شادی کی کیا خبر ہوگی،‘‘ میں نے سوچا۔ ’’مگر تمہاری شادی کے چرچے اخباروں میں ہوں گے۔ آخر اتنی بڑی فلم اسٹار ہو۔‘‘

’’فلم اسٹار کی دُم میں ٹھینگا۔‘‘ اللہ گواہ ہے مجھے نہیں معلوم کہ یہ گالی ہوئی کہ نہیں۔ مدن ایک سانس میں تین گالیاں بکنےکی عادی ہے، مجھے تو اس کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ گالی جیسا سنائی دیتا ہے۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ سوائے چند عام فہم گالیوں کے یہ کل کاریاں میرے پلے نہیں پڑتیں۔

’’بھئی ایک بات میری سمجھ میں بالکل نہیں آتی،‘‘ میں نے بات کی لگام ایک دم دوسری سڑک پر موڑ دی۔ ’’تم شادی شدہ ہو تو تمہارا بچہ حرامی کیسے ہوا؟‘‘

’’اوہ، آپا۔ اللہ کا واسطہ، کبھی تو سمجھا کرو۔ کمبخت شادی تو شبو دو سال کا تھا تب ہوئی تھی۔‘‘

’’شبو کے باپ ہی سے نا،‘‘ میں نے سہم کر پوچھا۔

’’اونہوں، تمہیں یاد تو کچھ رہتا نہیں۔ بتایا تو تھا۔۔۔ وہ کمبخت۔۔۔‘‘

’’اچھا۔۔۔یاد آگیا۔۔۔ وہ تمہیں گرہستی کا شوق چرّایا تھا،‘‘ میں نے اپنی کند ذہنی پر شرمندہ ہوکر کہا۔

’’بھوسا چرّایا تھا۔ ماں کے خصم نے دھندا کرانا شروع کردیا۔‘‘ ماں کا خصم رشتہ میں کیا ہوا؟

’’اونہہ، چھوڑو اس نامراد شادی کاتذکرہ۔ نئی شادی کا ذکر کرو۔ اللہ رکھے کب کر رہی ہو۔ کون ہے وہ خوش نصیب؟‘‘

’’سندر!‘‘ اور وہ قہقہہ مار کر قالین پر لوٹ گئی۔

ایک ہی سانس میں اس نے سب کچھ بتا ڈالا۔ کب عشق ہوا۔ کیسے ہوا۔ اب کن مدارج سے گزر رہا ہے۔ سندر اس کا کس بری طرح دیوانہ ہو چکا ہے۔ کسی فلم میں کسی دوسرے ہیرو کے ساتھ لوسین (Love Scene) نہیں کرنے دیتا اور وہ خود بھی اسے کسی دوسری ہیروئن کے ساتھ رنگ رلیاں نہیں منانے دیتی۔

’’آپا، یہ فلم والیاں بڑی چھنال ہوتی ہیں۔ ہر ایک سے لنگر لڑانے لگتی ہیں،‘‘ اس نے ایسے بھولپن سے کہا جیسے وہ خود بڑی پارسا ہے۔ ’’آپا، کوئی چٹ پٹی سی کہانی لکھو۔ ہم دونوں اس میں مفت کام کریں گے۔ مزا آجائے گا،‘‘ اس نےچٹخارا لیا۔

’’سنسر سب کاٹ دے گا۔‘‘

’’سنسر کی۔۔۔‘‘ اس نے موٹی سی گالی سنسر کی قینچی پر داغی۔ ’’شادی کے بعد کام تھوڑی کروں گی۔ سندر کہتاہے اپنی دلہن کو کام نہیں کراؤں گا۔ چمبور میں بنگلہ لے لیں گے،‘‘ خوابوں کے جھولے میں پینگ لیتے ہوئے کہا اور ایک دفعہ تو مجھے بھی یقین ہوگیا کہ اس کی دنیا بس جائے گی۔ چمبور بنگلے میں وہ بیگم بنی بیٹھی ہویگی۔ بچے اسے چاروں طرف سے گھیرے ہوں گے۔

’’اماں کھانا۔ اماں کھانا،‘‘ وہ چلائیں گے۔

’’اےہے ذرا صبر کرو۔۔۔ آلو تو گل جانےدو،‘‘ وہ کفگیر سےانھیں مارے گی۔ تب بچوں کا باپ مسکرائے گا، ’’بیگم کیوں مارتی ہو۔ ابھی بچے ہیں۔‘‘

’’بس ایک لونڈا ہوجائے پھر سالے کو شادی کرنی پڑے گی۔‘‘

’’تو کیا ابھی شادی نہیں ہوئی؟‘‘ خوابوں کی بستی سےلوٹ کرمیں نےپوچھا۔ میرا دل بیٹھ گیا۔ جیسے میری اپنی کنواری کی بارات دروازے سے لوٹ گئی۔

’’نہیں آپا۔ حرامزادہ ہے بڑا چالاک۔ نہ جانے کیا کرتاہے۔‘‘ وہ دیر تک سندر کو پھانسنے کی ترکیبیں پوچھتی رہی۔ نہ جانے کیوں یہ بات اس کےدل میں بیٹھ گئی تھی کہ اگر بچہ ہوگیا تو سندر کے پیر میں بیڑیا پڑجائیں گی۔

’’اور پھر بھی اس نے شادی نہ کی تو؟‘‘

’’کرے گا کیسے نہیں، اس کا تو باپ بھی کرے گا۔‘‘

’’خیر، باپ کا ذکر فضول ہے، وہ مر بھی چکا۔‘‘

’’حرامزادے کی چھاتی پر چڑھ کر خون نہ پی جاؤں گی۔‘‘

’’شبو کے باپ کی چھاتی پر چڑھ کرکے کیوں نہ خون پی گئیں؟‘‘

’’جب میری عمر ہی کیا تھی۔ الٹی چور سی بن کے بیٹھ گئی۔ بس تم کوئی ایسی ترکیب بتاؤ کہ سالے کی ایک نہ چلے اور۔۔۔‘‘ جو ترکیبیں وہ مجھ سے پوچھ رہی تھی ان سے مجھے وحشت ہو رہی تھی۔

مدن کئی بار سندر کو لے کر میرے ہاں آئی۔ سندر اپنے نام کی طرح حسین اور نو عمرتھا، مدن سے کسی طرح بڑا نہ معلوم ہوتاتھا۔ نیانیا کالج سے آیا تو بھوکے بنگالی کی طرح چومکھے عشق لڑانے شروع کردیے۔اسی چھین جھپٹ میں مدن اسے اڑالائی۔ اچھے گھرانے کاقہقہہ باز اور باتونی لڑکا پہلی ہی دفعہ گھر میں ایسا بے تکلف ہوگیا جیسے برسوں سے آتا جاتا ہے۔

اسے دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ کیوں مدن اسے دل سے بیٹھی۔ اس کی صحبت میں ایک لمحہ بھی اداس نہیں گزرتا تھا۔ مدن جیسی پٹی پٹائی، غم نصیب لڑکی کے لیے ذرا سی نرمی بھی چھلکا دینے کو کافی تھی۔ وہ سندر کے ہر حملے پر بے تحاشہ قہقہے لگاتی۔ وہ بات پر نہیں، اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ پر، لبوں کی جنبش پر مسحور ہوکر کھکھلا پڑتی۔ مسرت کی اچھلتی کودتی موجیں اسے جھکول ڈالتیں۔ سندر کے لب ہلتے اور وہ قہقہہ مارتی، پانی پیتی ہوتی تو اُچھّولگ جاتا، کھانا کھاتی ہوتی تو منہ کا نوالہ سامنے بیٹھنے والے کے اوپر چھڑک دیتی۔

وہ دونوں نہ جانے اپنا گھر چھوڑ کر میرے ہی ہاں کلیلیں کرنے کیوں آتے تھے، بچوں جیسی شرارتیں کرتے، قلابازیاں کرتے، کبھی روٹھتے، کبھی منتے۔ انھیں دیکھ کر مجھے بکری کے دو کھلنڈرے بچےیاد آجاتے تو پرائے کھیت میں پھدکنے آجاتے ہیں۔ کیا دندناتا ہوا عشق تھا دونوں کا! بے پروں کے ہوا میں اڑے جاتے تھے۔

جنگلی ہرنیوں جیسے چوکڑیاں بھرتے ہوئے پیار نے مدن کی کایا پلٹ کردی۔ وہ ایک دم بے حد حسین اور جاذب ِنظر بن گئی۔ جلد کے نیچے دیے روشن ہوگئے۔ سوئی ہوئی آنکھیں جاگ اٹھیں، ہزاروں جادو سرگوشیاں کرنےلگے۔ سپاٹ سینہ کھل اٹھا ۔کولہے لہرانے لگے۔ سندر سے کشتیاں لڑ لڑ کر وہ پھرتیلی بن گئی۔

سندر کی اور مدن کی جوڑی بن گئی، جن فلموں میں وہ سندر کے ساتھ نہ تھی،انھیں ڈفرانا شرع کردیا۔ سیٹ سے بڑے معرکے کےسین میک اَپ روم میں ہونے لگے۔ وہ فلمیں جو آدھی ہوگئی تھیں، چیتھڑا ہوگئیں، مدن نے پہلی بار کسی نوجوان کو دل دیا تھا۔ سب کچھ بھول کر وہ اسی میں ڈوب گئی۔

سندر اس کے بڑے لاڈ سہتا۔ اس کے چھچھور پر ہنستا۔ اس کے اجڑے ہوئے گھر میں جان ڈال دیتا۔ نانی کو اماں اماں کہہ کر مسکا لگاتا۔ خالہ سے بیٹھ کر غپیں مارتا۔ بھائی کو وھسکی پلاتا۔ بچوں کے ساتھ دھما چوکڑی مچاتا۔ اسے مدن کے جسم سے مطلب تھا۔ اس کی آمدنی اسی طرح منہ بولے رشتہ داروں کے تنور میں جھونکی جاتی تھی۔ شبو کو وہ بہت پیار کرتا۔۔۔ مدن نے اس بدنصیب بچہ کا حال اسے سنادیا تھا۔ وہ اسے بیٹا کہہ کر گود میں بٹھا کر گھنٹوں پیار کی باتیں کیا کرتا۔

’’آپا، شبو نگوڑے کو بیٹاکہتا ہے۔ بس تم ہی سمجھ لو کیا بات ہے،‘‘ وہ جھوم کر کہتی اور میرے کانوں میں مدن کی بارات کے ڈھول گونجنے لگتے۔ دیکھنے میں سندر کیسا اوبالی سا تھا۔ مگر بچوں کے معاملہ میں اس کا رویہ حیرت انگیز تھا۔ آتے ہی بچے اسے مکھیوں کی طرح کھیر لیتے۔ اس کی جیبیں کیا تھیں، عمر عیار کی زنبیل تھیں، رنگین پنسلیں، پٹاخوں کی ڈبیاں، کاغذ پر اتارنے کی تصویریں، چاکلیٹ، میٹھی گولیاں، نہ جانے کیا الا بلا نکال کر بانٹنے لگتا۔ ایک دن بچی نے میری سینٹ کی شیشی توڑدی۔ میں نے اسے مارنا چاہا تو میرے ہاتھوں سے اسے جھپٹ کر لے گیا۔

’’آپ ماریں گی تو اسے اپنے گھر لے جاؤں گا۔‘‘ وہ اسے کندھے پر بٹھا کر بولا۔

’’اس نےمیری شیشی توڑی ہے۔ ضرور ماروں گی۔‘‘

’’ہاتھ توڑ دیے جائیں گے مارنے والوں کے۔ یہ لیجیے اپنی شیشی،‘‘ اس نے جیب سے نئی منہ بند ویسی ہی شیشی نکال دی۔ ’’مگر انھیں پوری شیشی نہیں دیں گے۔ آدھی تھی تو آدھی ملے گی،‘‘ اس نے شیشی کھول کر خوب بچوں کے بساندے کپڑوں اور میلی ہتھیلیوں پر چھڑکی۔ آدھی رہ گئی تو میرے سامنے ڈال دی۔ جب وہ بچوں کو بٹور کر دوسرے کمرے میں چلاگیا تو مدن نے روکر میرے شانے پر سرڈال دیا۔

’’آپا، ایسے اوٹ پٹانگ آدمی کےساتھ کوئی پیار کیسےنہ کرے؟‘‘

اور پھر مدن کی زندگی نے ایک نیا جھٹکا کھایا۔ سندر کے گھر سے تار آیا کہ ماں سخت بیمار ہے، فوراً آجاؤ۔ مدن ساتھ جانے کے لیے مچل گئی۔ اس نے اپنے ترکش کے سارے تیر استعمال کرڈالے۔ شام سے ہی اس کے لیے وھسکی کی بوتل لے کر پہنچی۔ اسے دُھت کردیا۔ بڑے نازک لمحوں میں ساتھ لے جانے کی قسمیں دیں۔ مگر سندر ٹس سے مس نہ ہوا۔ وہ ساری رات جاگتی رہی۔ نہ سوئی، نہ سونے دیا۔ مگر صبح ہوتے ہی پرندہ ساری تتلیاں جھٹک کر اڑگیا۔

ایروڈروم سے سیدھی میرے اوپر نازل ہوئیں۔ مجھے اس قسم کے مریل عاشقوں سے بڑی کوفت ہوتی ہے۔ مگر اسے یوں تباہ حال دیکھ کر میرا جی پسیج گیا۔ جیسے برسوں کی بیمار۔ ایک ہی رات میں آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے۔ منہ پر پھٹکار۔ یہ اسے ہوکیا گیا ہے،میں دیر تک سوچتی رہی۔

میں کیوں اس کمبخت کے بارے میں سوچوں۔ دنیا میں کتنے بڑے بڑے مسئلے ہیں جن میں جی الجھا ہواہے۔ پھر آخر میں اس کاخیال کیوں کرتی ہوں۔ میں یہ سب کچھ کیوں لکھ رہی ہوں۔ مدن اس لائق نہیں۔ مجھے اپنا جی ہلکا کرنےکے لیے ہی سہی، اس بوجھ کو بانٹنا ہوگا۔

کتنےدن سے جب میں قلم اٹھاتی ہوں، مدن کا خیال مجھ سے آکر کہتا ہے، ’’میں زندہ ہوں۔ میرے سینے میں دل دھڑک رہاہے۔ میری رگوں میں خون دوڑرہا ہے۔۔۔ رائے دو۔۔۔مجھے بتاؤ، میں کیوں ہوں اور کب تک رہوں گی؟‘‘ اچھا ہے، میرا قلم ایک بار مدن کو اگل دے۔ پھر متلیاں آنی بند ہوجائیں گی۔

’’آپا، ایک تار لکھو،‘‘ اس نے تھوڑی دیر سوکھی سوکھی آہیں بھر کر کہا۔

’’کیسا تار؟‘‘

’’کم سون، ڈائنگ۔۔۔ یعنی جلدی آؤ، مر رہی ہوں۔‘‘

’’مگر ابھی تو وہ پہنچا بھی نہ ہوگا،‘‘ میں نے ٹالناچاہا۔ پھر جان کو آگئی تو لکھ دیا۔ ڈائنگ نہ لکھا۔

شام کو ہانپتی کانپتی آئی، بڑی شرماتی ہوئی تکیے میں منھ چپھاکر ہنسنے لگی۔ میں نے کہا، ’’خیریت؟‘‘

’’تار لکھ دو۔‘‘

’’صبح تو لکھا تھا۔‘‘

’’صبح مجھ نصیبوں جلی کو کہاں معلوم تھا،‘‘ وہ پھر شرمائیں۔ ’’ابکائیاں آرہی ہیں آپا لیموں منگوا دو۔‘‘

’’اوہو۔۔۔ یہ بات ہے! مبارک ہو۔‘‘ میرے سر سےبوجھ سا اتر گیا یہ بس پھٹکی کامیاب رہی۔ ’’ڈاکٹر کے پاس گئیں؟‘‘

’’وہیں سےتو آرہی ہوں۔ ڈاکٹر حرامی پِلا کیا جانے۔ کہتا ہے دو دن چڑھ جانے سےکچھ نہیں ہوتا۔۔۔ کچھ نہیں ہوتا کا بچہ۔۔۔ آپا! کپڑے وغیرہ تو سلوا دوگی۔۔۔ ہنک، ہنک۔ بھئی ہم سے تو نہیں پلے گا۔ تم پال دو گی؟‘‘ وہ ٹھنکنےلگی۔ میں نے حامی بھرلی۔

’’تو پھر تار لکھونا۔‘‘

’’کیا لکھوں؟‘‘

’’لکھو۔۔۔ سن بَورن۔ کم سون۔‘‘

’’گدھی ہو تم۔ ابھی کہاں سے سن بورن؟‘‘

’’اچھا تو سن بورن ہونے والا لکھ دو۔‘‘

’’چلو سٹرن۔ اس کےآنےکا انتظار کرو۔ اور کیا معلوم۔ شاید لڑکی ہو۔‘‘

’’واہ، لڑکی چھنال کاہے کو ہوگی۔ میری طرح سڑنےکو۔ میرا جی کہتاہے لڑکا ہی ہوگا،‘‘ پھر تھوڑی دیر سوچ کرایک دم بولیں۔

’’مرجائے اللہ کرے۔‘‘

’’کون؟‘‘ میں نےچونک کر پوچھا۔

’’سُندر کی ماں، الو کی پٹھی۔ بیمار ویمار کچھ نہیں۔ سسری نےاپنے یار کو بلانے کے لیے ڈھونگ رچایا ہے،‘‘ اس نےنہایت پرمغز قسم کی پھولدار گالیاں ٹکائیں۔

’’احمق ہو تم، کیسے معلوم؟‘‘

’’ارے میں خوب جانتی ہوں ان میت پیٹوں کو۔‘‘ جب سے مدن کی زندگی میں سندر آیا تھا اس نے گالیاں بکنا بند کردی تھیں۔ سندر کےپیار نےرستے زخموں پر پھائے رکھ کر غلاظت کا منہ بندھ کر دیا تھا۔ اس کی آنکھ اوجھل ہوتے ہی کچے زخموں کے منہ کھل گئے۔ پیپ بہنےلگی۔ اس کے منہ سے پرھ وہی گالیاں سن کر میرا جی بیٹھ گیا۔ مارے غصے کے رن پٹاخوں کی لڑی بن گئی۔

’’اس کاتعلق ہے۔‘‘

’’کس کا؟‘‘

’’اس کی اماں بہنیا کا۔ سچی آپا، بہت سی عورتیں ایسی ہوتی ہیں بچپن ہی۔۔۔‘‘

’’لعنت ہو تمہاری زبان پر۔‘‘

’’اللہ قسم آپا۔۔۔ ہمارے پڑوس میں ایک بیوی رہتی تھیں۔ اپنے سگے بھائی سے۔۔۔‘‘

’’میں نے اسے روک دیا۔ ’’للہ تفصیلوں میں نہ جاؤ۔ میرا قلم پیٹ کا بڑا ہلکا ہے۔ کل کلاں کو منہ سے بات نکال بیٹھا تو لوگ مجھے الاہنا دیں گے۔‘‘

دوسرے دن ماتم کناں پھر ٹوٹ پڑیں۔ کل جیسے ڈاکٹر کا کہنا ہی ٹھیک نکلا۔ دن چڑھ گئے تھے، سو اتر گئے۔ ساتھ ساتھ مدن کی کمان بھی اتر گئی۔ ایسی بلک بلک کر روئیں جیسے جوان بیٹا جاتا رہا ہو۔ یہ عورت ہے یا لطیفہ۔ کل جس بلا کے خوف سے بوکھلائی پھر رہی تھی۔ آج اس کی بلاکی آرزو میں جان دیے دیتی ہیں۔ لگیں مجھ سے ترکیبیں پوچھنے۔ بھلا میرے پاس کوئی جادو کی چھڑی ہے جو چوہے کو گھوڑا بنادوں۔ڈاکٹر نے کچھ اشارہ تو کیا تھا کہ آئندہ ایسی مصیبت سے پالا نہیں پڑے گا۔ میں اسے باوجود کوشش کےنہ بتا سکی کہ سندر کو پھاسنے والی چال کے پیر مفلوج ہو چکے ہیں۔

صبح ،شام مدن نے تاروں کی ڈاک بٹھادی۔ کام پر اس نے لات ماردی۔ ایک پروڈیوسر نےکورٹ میں لے جانےکی دھمکی دی تو وہ ناک پر ڈھیر سامرہم تھوپ کر پرگئی۔ میں بھی مرہم کی مقدار دیکھ کر ہل گئی۔۔۔ گئی ناک، میں نے سوچا۔ مگر جب پروڈیوسر چلا گیا تو مزے سے ناک پونچھ کر ہنسنےلگی۔

’’مگر مجھے بے وقوف کیوں بنایا تم نے؟‘‘ میں نے چڑ کر کہا اور چلی آئی۔

اخباروں میں اسقاط کی خبریں چھپنے لگیں۔ مدن نے ذرا شرماکر تصدیق کردی، میں نے پوچھا، ’’یہ کیوں؟‘‘

’’سور کو پتہ چلے گا تو بہت کڑھے گا۔ میں کہہ دوں گی، میں سمجھی تم چھوڑ کر چلے گئے۔ بدنامی کے ڈرسے گولیاں کھالیں۔مردبچہ ہے کچھ تو دل کو ٹھیس لگے گی۔‘‘

ایک دن حواس باختہ روتی ہوئی آئی۔

’’تم نےمجھے نہیں جانےدیا۔ یہ دیکھو،‘‘ وہ اخبار جس میں سندر کی منگنی کی خبر تھی، دکھاکر لڑنے لگی۔

’’چہ خوش، میں نےکب منع کیا،‘‘ میں نےجل کر کہا۔ ’’جاؤ میری بلا سے جہنم میں۔‘‘ اور وہ شام کے ہوائی جہاز سے جہنم کی طرف اڑگئیں۔

گیارہ بجے رات کو جب وہ سندر کے گھر پہنچیں تو گھر میں سوائے بوڑھے دادا اور توتے کے کوئی نہ تھا۔ سب کے سب سندر کی کوئی فلم دیکھنےگئے تھے۔ سندر کے دادا فلم لائن کے ویسے ہی خلاف تھے۔ انہیں معلوم تھاکہ ان فلم والوں کے چال چلن کچھ یوں ہی ورق سے ہوتے ہیں، پھونک ماری اور غائب۔ آنکھیں پھاڑ کر وہ مدن کو گھورنے لگے۔ مدن بمبئی سے گرم کپڑے بھی لے کر نہیں گئی تھی۔ بھوک الگ لگ رہی تھی۔

بارہ بجے کے بعد سندر بہن بھائیوں کی ٹولی میں ہنستا قہقہے لگاتا آیا تو مدن روپڑی۔ کیا وہ بھی کبھی یوں خاندان میں گھل مل کران کی اپنی بن سکےگی۔ اس کے بھی دیور جیٹھ ہوں گے، نندیں اور دیورانیاں ہوں گی۔

’’بہو، لڑکا رو رہا ہے، بھوکا ہے،‘‘ ساس کہے گی۔ اس نے پکا ارادہ کرلیا۔ وہ اپنی ساس سے کبھی نہیں لڑے گی۔ نندوں کی خوب خاطر کرے گی۔ دادا کا حقہ بھرے گی، اور توتے کو بھیگے چنے کھلائے گی۔ سندر کو دیکھ کر اس کا جی چاہا کہ دوڑ کر اسکےچوڑے چکلے سینے سے لپٹ جائے اور اسے مٹھیوں سے کوٹ ڈالے۔ اس کے بھورے گھنے بالوں میں انگلیاں ڈال کو نوچ ڈالے۔ مگر ساس نندوں کی شرم نےاس کے پیر تھام لیے۔

اسے دیکھ کر سندر کے حلق میں قہقہہ لوہے کا گولا بن کر اٹک گیا۔ ماں بہنوں کے سامنے اپنی داشتہ کے وجود سے شرم کے مارے پانی پانی ہوگیا۔ مصنوعی خوش مزاجی سے بولا، ’’ارے آپ!‘‘

’’آپ کے بچے!‘‘ مدن نے دانت پیسے۔ مگر سندر کی گھبراہٹ پر ترس کھاگئی۔

’’جوہری سےکچھ زیور بنوائے تھے۔ چاندنی کندن کا کام دلی جیسا بمبئی میں نہیں ہوتا۔ سوچا دلی کی سیر بھی ہوجائے گی اور زیور بھی دیکھ لوں گی۔‘‘ سندر ،مدن کی اعلیٰ ایکٹنگ کا قائل تھا۔ آج تو لوہا مان گیا۔

جب اس کو سندر کی بہنوں کے کمرے میں سلایا گیا تو وہ بہ مشکل گالیوں کی زنجیر کو نگل سکی جو اس کےحلق میں الجھنے لگی۔ خیر جب سب سوجائیں گے تو سند راس کے پاس آئے گا۔۔۔ سب سوگئے اور وہ سندر کے پیروں کی چاپ کےانتظار میں پڑی رہی۔ اس کا جسم سندر میں جذب ہونے کے لیے ترس رہاتھا۔ راستے بھر کیسے کیسے خوابوں کے جال بنتی آئی تھی۔ سندر سو رہا ہوگا۔ وہ چپکے سے پہلو میں رینگ جائے گی۔ اسے محسوس کرکے سندر جھوم اٹھے گا۔ پہلے وہ خوب ترسائے گی، خوب روٹھے گی۔ پھر دونوں مان جائیں گے۔ ساری کسک، ساری دوری مٹ جائے گی۔ سارے راستے وہ اسی حادثہ کو دل میں دہراذکرذچٹخارے لیتی آئی تھی۔ اسی لیے تووہ اپنی جھاگ سی نائٹی لیتی آئی تھی جو ہاتھ کے لمس سے دھویں کی طرح پگھل کر غائب ہوجاتی تھی۔

مدن سندر کے پیروں کی چاپ سننے کے لیے بے قرار ہمہ تن گوش بن گئی۔ دبے پیروں سے وہ پلنگ سے اٹھا ہوگا، اس نے منظر نامہ تعمیر کرنا شروع کردیا۔ اس کی طرف کھنچا چلا آرہا ہوگا۔ ایک، دو، تین، چار، پانچ، اس نے اندازے سے وہ سارے قدم گن ڈالے، جو اس کے اور سندر کےدرمیان حائل تھے۔ گنتے گنتے وہ تھک گئی۔ اگر وہ ہزار میل پر ہوتا تو بھی اب تک پہنچ چکا ہوتا۔ وہ روہانسی ہوگئی۔ احساس کے تناؤ سے کنپٹیاں بھیگے چمڑے کی طرح کرنے لگیں۔ شاید سندر کے بھائی جاگ رہے ہوں گے اور وہ ان کی موت کی دعائیں مانگنےلگی۔

سندر کی گلگوتھا سی بھولی بھالی بہنیں کیا میٹھی نیند سو رہی تھیں۔ ان کےخواب کتنےسہانے تھے۔ ان کے دلوں میں کسی بے وفا کے پیار کے زخم نہیں پڑے تھے۔ اسے غصہ آنے لگا۔ اے کاش، کوئی ان کا جہان بھی لوٹ لے، ان کے پیٹوں میں سانپ چھوڑ دے کہ یہ بھی گھور اندھیارے میں کسی کے پیروں کے نشان ٹٹولتے پھریں۔ پھر سندر کو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو۔

آخر کس جرم کی سزا میں اس کا بچپن اتنا ویران اور جوانی زخم زخم ہوکر رہ گئی تھی۔ اس سےزیادہ نہ ضبط ہوسکا۔ اور وہ سندر کےکمرے کی طرف چلنےلگی۔ جہاں وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ سو رہا تھا۔

وہ جیسے ہی باہر نکلی۔ توتا اجنبی صورت دیکھ کر آنکھوں کے لٹو گھمانے لگا۔

’’کون؟‘‘ دادا نے ہانک لگائی۔ وہ چوروں کی طرح کھمبے کے پیچھے دبک گئی۔ دادا اٹھے اور چبوترے پر کھڑے آدھ گھنٹے تک رفعِ حاجت کرتے رہے۔ ’’مرگیا بڈھا شاید، کہ ہلتا ہی نہیں۔‘‘ وہ سائے سائے پھر چلی، ایک پیڑھی سے پیر الجھا اور دھڑام سے گری۔ گھر میں جگار ہوگئی اور وہ پھر اپنے پلنگ پر جاکر دبک گئی۔

صبح موقع پاتے ہی اس نےسندر سےکہا، ’’سیدھی طرح بمبئی چلو بیٹا، ورنہ خون خرابے ہوجائیں گے۔‘‘

’’تم نے تار تو دیا ہوتا۔ کسی ہوٹل میں انتظام کرا دیتا۔‘‘

’’کیوں۔ کیا جاگیر میں ٹوٹا آیا جا رہا ہے۔۔۔؟ مرے کیوں جاتے ہو، کھانے کے پیسے لے لینا۔

’’داموں کی بات نہیں مری جان! میرے گھر والے بڑے نیرو مائنڈڈ ہیں فلم والوں کو پسند نہیں کرتے۔‘‘

’’تم بھی تو فلم والے ہو۔‘‘

’’میری اور بات ہے۔ تم شام کی گاڑی سے چلو، پرسوںمیرے بہنوئی آرہے ہیں۔ ان سے مل کر۔۔۔‘‘

’’تو میں بھی نہیں جاؤں گی۔‘‘ بڑی جھک جھک کے بعد یہ طے ہوا۔ مدن بظاہر بمبئی کے لیے روانہ ہوجائے۔ ایک اسٹیشن بعد نئی دہلی اتر کر کسی ہوٹل میں ٹھہر جائے۔ سندر وہیں آجائے گا۔ بڑی دھوم دھام سے سارا گھر مدن کو اسٹیشن پہنچانےگیا۔ وہ ایک دم فلم اسٹار بن گئی، چھوٹے بھائیوں نے تو ہار بھی پہنائے۔

نئی دہلی اتر کر وہ ہوٹل میں ٹھہر گئی۔

دو پیاسے انسان ایک دوسرے میں غرق ہوگئے۔ مدن کے سارے دکھ دور ہوگئے، وہ انتظار کی گھڑیاں، وہ لامتناہی فاصلہ سب سندر کے پیار نے پاٹ دیا مگر باوجود خوشامد کے سندر رات گزارنے پر راضی نہ ہوا۔۔۔ ’’میری ماں میرے بغیر رات بھر بنا کھائے بیٹھی رہے گی۔‘‘

’’تمہاری اماں کی۔۔۔‘‘ وہ موٹی سی گالی چبا گئی۔ سندر کی جان کو آگئی اس کے کپڑے چھپا دیے اس کےجوتے گود میں دباکر بیٹھ گئی۔ دس مرتبہ دروازے سے بارہا خدا حافظ کہنے کو بلایا۔ مگر جانے والے کو نہ روک سکی۔ وہ اسے سونے اجنبی بستر پر سسکیاں بھرتا چھوڑ کر چلا گیا۔

دوسرے دن سندر حسبِ وعدہ آگیا۔ مدن نے پورا بکس بیئر کی بوتلوں کا برف میں لگا کے رکھا تھا۔ آتش دان میں دھیمی دھیمی آنچ اٹھ رہی تھی۔ مدن کی نائٹی پگھل رہی تھی۔ سندر بیئر پیتا رہا۔ اور وہ اس کی آغوش میں بکھرتی رہی۔ کاش کوئی وقت کی لگامیں پکڑکے روک دیتا۔ یہ لمحے یوں ہی فضامیں معلق ہو جائے وہ اسی طرح سندر میں تحلیل ہوجاتی، دوری کا سوال مٹ جاتا۔ وہ پیتے رہے۔ سوتے رہے۔ پھر جاگ اٹھے اور پھر سوگئے۔

شام کو دونوں ننھے بچوں کی طرح ٹب میں چہلیں کرتے رہے۔ باہر کی دنیا ان کے لیے ختم ہو چکی تھی۔ گیلے بدن آتش دان کے پاس دو زانو ہوکر انھوں نے اپنی دنیا پالی تھی۔

دن بھر کی بیئر کا نشہ پھیکا پرنے سے پہلے وھسکی کا رنگ چڑھنے لگا۔ مدن کسی نہ کسی بہانے سندر کو لگائے رکھنا چاہتی تھی۔ اگر اس کا بس چلتا تو وہ اس کی ممی بناکر تکیہ پر سلا دیتی۔ اور پھر اس کے منہ پر منہ رکھ کر ابدی نیند سوجاتی۔ بس نہ تھاجو اسے ساری دنیا سے چھین کر اپنے دل کےکسی کونےمیں قید کردے اور ایسا زبردست تالا ڈالے کہ سر پٹکے، نہ کھلے۔

مگر بیئر نہ وھسکی، سندر کے جاتے قدم ڈگمگا نہ سکے۔ مدن پر بھوت سوار ہوگیا۔ سندر نے حسبِ معمول اس کی ٹھکائی شروع کی۔ اتنی زور سے اس کی پسلی میں لات ماری کہ آنکھیں نکل پڑیں۔ گھبرا کر اس نے پھر سے اسےبانہوں میں سمیٹ لیا۔ بس یہی اداتو مدن کے من کو بھا گئی تھی، اسے یوں بکھیرنے اور سمیٹنے ہی میں لطف آنے لگتا تھا۔ اس چار چوٹ کی مار ہی میں لذت ملنےلگی تھی۔ مدن تو چاہتی ہی تھی کہ وہ اسے اتنامارے، اتنامارے کہ ہڈیاں چکناچور ہوجائیں۔ تب وہ اسےچھوڑ کر نہ جا سکےگا۔

مگر خاندان والوں کی دہشت مدن کے پیار سے زیادہ مہیب ثابت ہوئی اور وہ چلا گیا۔ اور مدن صبح تک آہیں بھرتی رہی، تڑپتی رہی۔

کاش وہ لنگڑا، لولااوراپاہج ہوتا، اس کے سب جاننےوالے اسےبھول جائے اور وہ صرف اس کا ہوکر رہ جاتا۔ بمبئی میں سندر کو ایک مرتبہ بخارآیا تھا۔ دنیا کو لات مار کر وہ اس کی پٹی سے لگ کر بیٹھ رہی۔ نہ اس کے گھر خبر کی۔ نہ ملنے جلنے والوں کو آنے دیا۔ بیٹھی جسم سے لگ کر سورہی۔ خواب میں اس نے دیکھا گرم گرم سنہری آنچ میں وہ پگھلتی رہی ہے۔ اور وہ سندر کےجسم پر خول بن کر منڈھ گئی ہے۔ اس کے رشتہ دار کسی جتن سے بھی مدن کا پلستر نہ کھرچ سکیں گے۔ ڈاکٹر نے اسے ڈرایا کہ اگر وہ گھنٹے میں ہزار باراسے ٹٹولے گی تو وہ اچھا نہ ہوسکےگا۔

خدا خدا کرکے رات بیتی اور دن ہوا۔ سندر کہہ گیا تھا کہ شاید وہ دیر سےآئے۔ لمحے پہاڑ ہوگئے۔ دیوانی بلی کی طرح وہ ہوٹل میں چکر کاٹتی رہی۔ پھر تانگہ لے کرشہر کی خاک چھان ڈالی۔ دوجوڑے لائی تھی جو چیکٹ ہوگئے تھے۔ اس کی اجاڑ صورت پر کسی کو فلم اسٹار ہونے کاگمان بھی نہ تھا۔ ایک سنیماہال پر ٹھٹھ لگےہوئے تھے۔ وہاں مدن کی ہٹ فلم چل رہی تھی۔ اس کا جی چاہاتانگے پر کھڑی ہوکر ڈوپٹہ ہوا میں لہراکر وہی گیت گانےلگے جسے لوگ سننےکے لیے دس دس مرتبہ جاتے تھے۔ مگر اس نے ٹال دیا۔ گانےکی آواز تو لتا کی تھی۔ اس کی اپنی آواز تو رات بھر کی جگار سے پھٹا بانس ہو رہی تھی۔

کروڑوں کے دل کی ملکہ، خوابوں کی رانی کے بھرے شہر میں سنسان دل لیے تنہا وحشیوں کی طرح جب چکر کاٹتے کاٹتے پیر شل ہوگئے تو وہ کوئے جاناں کی طرف چل دی۔ مگر وہاں جاکر معلوم ہوا ساراخاندان امرتسر گیا ہوا ہے۔ منگنی کی خبر سچ ہی نکلی۔

سرجھاڑ جھنکاڑ، وہ سیدھی اسٹیشن سے میرے یہاں چڑھ دوڑی۔ نہ جانے کے دن سے نہ نہائی، نہ دانت مانجھے۔ اتنی بدصورت فلمی حور میں نےاس سے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ میں نے مدن سے بہت کہا، ’’نہا ڈالو۔ کچھ کھالو۔‘‘

’’اب تو اس سندر حرامزادے کی بھّتی ہی کھاؤں گی۔ بتاؤ آپا، کیا کروں؟ اس کمینے نے مجھے خراب کیا اور اب بیاہ رچا رہا ہے۔‘‘

’’اب بنو مت۔ تم پہلے ہی سے خراب تھیں،‘‘ میں نے جل کر کہہ دیا۔

’’آپا، تم بھی اب کہہ رہی ہو۔ تم تو بڑی روشن خیال ہو۔‘‘

جی چاہا اسی کے لہجے میں کہہ دوں۔

’’روشن خیال کی دم! بھلااس سے زیادہ روشن خیالی اور کیا کرسکتی ہوں کہ تمہاری اس نامراد زندگی کا الزام تمہاری محرومیوں اور امٹ تنہائی کے سر تھوپ دوں؟ کیا میں تمہاری بیتی ہوئی زندگی کے قدم پلٹ کر نئی راہ پر ڈال سکتی ہوں؟ کیا یہ زبردستی حلق میں اتارا ہوا زہر جو تمہاری رگوں میں جذب ہوگیا ہے۔ نچوڑ کر نتھار سکتی ہوں کہ تم الگ اور زہر الگ؟ نہیں، یہ زہر تو اب گرفت سے باہر ہو چکا ہے۔‘‘

’’تم نہیں جانتیں آپا،‘‘ اس نے ٹھنڈی سانس بھر کر کہا۔ اور میں نے سوچا۔ بے شک میں نہیں جان سکتی۔ تم جانتی ہو کہ وہ زندگی انسان کو کیا بنادیتی ہے۔ جہاں نہ ماں کا پیار، نہ باپ کی شفقت، نہ بھائیوں کے پیار بھرے گھونسے، نہ بہنوں کی میٹھی میٹھی چٹکیاں۔ تم تھوہڑ کا پودا ہو۔ نہ پھول نہ پھل۔

سندر سے ملنے کی ہر کوشش ناکام ثابت ہوئی۔ جن فلموں میں وہ کام کر رہے تھے وہ ایک دوسرے کی غیر موجودگی میں بننےلگیں۔

ایک دن نہ جانے کیسے سند رکے فلیٹ میں گھس گئی۔ وہ پچھلے دروازے سے نکل بھاگا۔ مارے غصے کے مدن دیوانی ہوگئی۔ اس نے پھاٹک پر اسے گریبان سے جا پکڑا۔

’’خون کردوں گی حرامزادے،‘‘ وہ غرائی۔ وہ بھیگی بلی بنا اس کے ساتھ کمرے میں چلا آیا۔

’’کیا چاہتی ہو،‘‘ اس نے بجائے مارنے پیٹنے کےنرمی سے کہا۔ کاش وہ مارتا پیٹتا تو یہ غیریت کی دیوار ٹوٹ جاتی، وہ اسے مار کر سمیٹ تو لیتا۔ مگر نہیں، وہ مارنا بھی اپنی ہتک سمجھ رہا تھا۔

’’مجھے نوکر سمجھ کر رکھ لو۔ تمہاری ماں کے پیر دھوکر پیوں گی۔ سندر، انھیں پلنگ پر بٹھاکر راج کراؤں گی۔ تمہارے نوکر کتنا پیسا چراتے ہیں۔ میں تمہاری نوکر بن کر رہوں گی۔‘‘

’’مگر۔۔۔‘‘ وہ ہکسایا۔ ’’سچی بات تو یہ ہے بھئی، میں شادی کے چکر میں نہیں پڑنا چاہتا۔‘‘ مگر مدن سمجھ گئی کہ اونچے گھرانے کا پوت ایک بیسوا سے بدتر عورت کو کیسے بیاہ سکتا ہے! وہ خود ہزار عورتوں کے ساتھ رہ کر بھی کنوارا ہے۔ اس کنواری سے بھی زیادہ پاک اور مقدس جس کا کنوار پن کسی حادثے کا شکار ہوگیا۔

مرد سدا کنوارا ہی رہتا ہے۔ سونےکےکٹورے کی طرح جس میں کوڑھی بھی پانی پی لے تو گندا نہیں ہوتا۔ اور مدن کچا سکورا تھی جو سائے سے بھی ناپاک ہوجاتا ہے۔

مدن کا خون کھول سا گیا۔ سارے زخم تازہ ہوکر چھل گئے۔ پہلے تو اس نےنہایت پھولدار قسم کی مغلظات سندر کے جنم جنم کو سنائیں۔ پھر سارے گھر کی چیزیں توڑ ڈالیں، تیل کی بوتل سے آئینے کے پرخچے اڑا دیے۔ الماری سے گلاس اور برتن نکال کر چھنا چھن بجا دیے۔ نئے سوٹ نکال کر بلیڈ سے دھجیاں اڑادیں، سوئٹر، مفلر موزے، بنیائن دانتوں سے کھسوٹ ڈالے، سارے شیشے ٹینس کے ریکٹ سے پھوڑ ڈالے۔ نئے قیمتی جوتوں کی قطار کی چاقو سے بوٹیاں اڑادیں، دیواروں سے فریم اتار کر جوتوں سے کوٹے۔ پھر سندر کی میلی قمیص میں منہ ڈال کر رونے لگی۔

سندر خاموش سب کچھ دیکھتا رہا۔ جب مدن نے منہ سے میلی قمیص ہٹائی تو وہ جاچکا تھا۔

مدن نے پھر میرے گھر پر چڑھائی کی۔ گھنٹوں مجھ سے سندر کو قتل کرنے کی ترکیبیں پوچھتی رہی۔ وہ اسے چٹ سے نہیں مارنا چاہتی تھی۔ رنجھاکر مارنا چاہتی تھی کہ ساری عمر سسکے اسی طرح۔

’’نامرد کردوں سور کے بچے کو؟‘‘

’’مجھے ایسی کوئی ترکیب نہیں معلوم،‘‘ میں نے چڑ کر کہا۔

’’اس کی آنکھوں میں تیزاب ڈال دوں۔ ساری عمر کو اندھا ہوجائے۔‘‘

مگر نہ سندر نامرد ہوا نہ اندھا، مہینےبھر کے اندر وہ کومل سی بہو بیاہ لایا۔ اچھوتی، کنواری، جسے فرشتوں نے بھی ہاتھ نہ لگایا تھا، مہینوں دولہن دولہا کی فلم انڈسٹری میں دعوتیں ہوتی رہیں۔

اگر صدمے سے مدن خودکشی کرلیتی یا گھل گھل کر مرجاتی تو میری کہانی کا کتنے سلیقے سے خاتمہ ہوتا اور پھر میں لکھتے وقت ذلت محسوس نہ کرتی۔ مگر وہ پیندے میں سیسہ لگے ہوئے کھلونے کی طرح لوٹ پوٹ کر کھڑی ہوگئی۔ ایسی ہی ایک دعوت میں وہ ایک پستہ قد نئے لڑکے کے ساتھ وہی اپنے ازلی کھردرے قہقہے لگارہی تھی۔ وہ لطیفے چھوڑ رہا تھا۔ مدن کو اچھو لگ رہے تھے اور منہ کے نوالے وہ پاس کھڑے ہونے والوں پر چھڑک رہی تھی۔ سندر بھی اسی میز پر اپنی شرمیلی دولہن کو خستہ سموسے کھلا رہا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی مدن نے میرے کان میں کھس پھسائی۔

’’آپا کیا رائے ہے۔ شادی کرلوں؟‘‘

’’کس سے؟‘‘ میں نے اکتا کر پوچھا۔

’’درشن سے، مرتا ہے حرامزادہ۔ کہتا ہے زہر کھالوں گا تمہارے لیے،‘‘ وہ نئی دلہن کی طرح شرمائی۔

’’ضرور کرلو۔ نیک کام میں دیر کیسی؟‘‘

اس بات کو کتنے سال گزر گئے۔ مگر اس وقت تک جب کہ میں یہ آخری سطریں لکھ رہی ہوں، مدن کنواری ہے، اس کے سہرے کی کلیاں منہ بند ہیں۔ چمبور میں بنگلہ لینے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوا۔ وہ خوبصورت سا بنگلہ جہاں مدن بیگم بیٹھی ہیں۔ بچے چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔

’’اماں کھانا دو۔ اماں کھانا دو،‘‘ اور وہ انھیں کفگیر سے مار رہی ہے۔ بچوں کا باپ مسکرا رہا ہے۔

’’مارتی کیوں ہو بیگم، بچے ہیں۔‘‘

 

Read more from Ismat Chughtai

Read more Urdu Stories

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: