کریدتے ہو جو اب ۔۔۔ خالد فتح محمد

کریدتے ہو جو ا ب

( خالد فتح محمد )

عمریں بتانا ضروری نہیں !

جب ہم ملے تھے تو وہ ایک نیم کھلے پھول کی طرح تھا؛اس کے گال سرخ اور آنکھوں میں مستی بھری شرارت تھی۔اس کی چال میں وقار بھرا ٹھہراؤ تھا جو عموماً اس عمر میں نہیں ہوا کرتا۔وہ عمر تو ایک باڑھ کی طرح پُر شور اورہنگاموں سے بھری ہوتی ہے لیکن وہ اپنے سبھاؤ میں ایک عجیب طرح کی طمانیت لیے ہوئے تھا جیسے سب کچھ پا گیا ہو۔مجھے اس کی اس نیند میں ڈوبی لاتعلقی پر حیرت بھی ہوتی لیکن یہ تو گمان ہی نہیں تھا کہ وہ اپنے اندر ایک طوفان لیے پھر رہا ہے ؛صرف اوپری سطح کا بہاؤ سکون میں ڈوبا ہواہے۔

میں چند دن اپنے آپ کو کھو دینے کا فیصلہ کرکے نتھیا گلی میں ایک کمرہ کرائے پر لے کر رہنے لگاتھا۔میں نے تب تک وہاں رہنا تھا جب اپنے آپ سے اکتا نا جاتا۔میں نے طے کیا ہوا تھا کہ اس دوران میں نا موبائل فون پر کسی سے رابطہ کروں گا اور نا ہی دنیا کی کوئی خبر رکھوں گا؛ میں شاید جان ماسٹرزکے ناول road past mandlayکے ہیرو کی طرح دنیا سے کٹ کر اپنے آپ کو بحال کرنا چاہتا تھاگرچہ مجھے اس جیسے مسائل نہیں تھے؛میں صرف زندگی کی اکتاہٹ دور کرنا چاہتا تھایا پھراکیلے رہ کر اکتانا چاہتا تھا۔

میں نے اپنے لیے نتھیاگلی کے واحد بازار کے شروع میں کپڑے کی دکان کے اوپر کمرہ لیا؛دکان کے اوپر وہ واحد کمرہ تھا۔دکان کے ساتھ سے سیڑھیاں اوپر جاتی تھیں: سیڑھیوں کے پاس کوفی کی مشین رکھی گئی تھی اور میرے خیال میں میَں ہی وہاں سے کوفی پینے والا واحد گاہک تھا۔میں جب پہاڑوں پر نکل جاتا تب شاید اور لوگ بھی خریدتے ہوں گے۔میں ناشتہ کرکے مری یا ایبٹ آباد کی طرف چل پڑتا اور پھر کسی پہاڑ پر چڑھنا شروع کر دیتا ۔میں ساٹھ کی دہائی میں والدین کے ساتھ نتھیا گلی میں ایک رات رہا تھا؛ہمارا قیام ایک خوب صورت چرچ کے نزدیک کسی سرکاری ریسٹ ہاؤس میں تھا اور اس مختصر سے قیام میں میرے چھوٹے بھائی اور مجھ پر متعدد پابندیاں تھیں جن میں پہاڑ پر چڑھنا بھی شامل تھا۔میں ساری شام پہاڑوں اور ہیبت ناک حد تک خوب صورت دیودار اور چیڑ کے درختوں کو دیکھتا رہا؛وہ مجھے اتنے پر اسرار لگتے رہے کہ میں پچاس برس ان کے اسرار میں گم انھیں دوبارہ دیکھنے کی اپنے اندر کہیں خوابیدہ سی خواہش لیے جیتا رہا۔

پہلی شام میں نے اس ریسٹ ہاؤس کو دیکھنے کا فیصلہ کیا۔اتفاق تھا کہ مجھے وہاں پہنچنے کا ایک دھندلا سا خیال تھا،کسی کھوئی ہوئی امید کی طرح۔میں کسی سے راستہ سمجھے بغیر خراماں خراماں اس طرف چل پڑا اور جیسے ہی سڑک پر عمودی چڑھائی شروع ہوئی،میری ٹانگیں جواب دینا شروع ہوگئیں اور میری سانس اتنی پھول گئی کہ مجھے اپنی موت اپنے اندر سے نکل کر حقیقت ہوتے نظر آنے لگی۔میری آنکھوں کے سامنے پر اسرار سی دھند چھا گئی اور میں نے اس دھند میں موت کے فرشتے کو دیکھنے کی کوشش کی لیکن اس نرم سے دھندلکے کے سوا مجھے کچھ نظر نا آیا اور میں ایک طرف ہٹ کر اپنی سانس اور طاقت کے بحال ہونے کا انتظار کرنے لگا۔مجھے اپنے بچپن کی ایک دھندلکی سی یاد کے تعاقب میں اپنی جان کو خطرہ لگا اور میں نے اپنی مہم کو وہیں پر ختم کرکے رہائش کی طرف مُڑ جانا عقل مندی جانا۔

میں جب کپڑے کی دکان میں پہنچا تو وہ وہاں بیٹھا ہوا تھا۔گو میری طاقت بحال ہو چکی تھی ،شاید میرے چہرے یاانداز میں اسے کوئی پریشانی یا الجھن نظر آئی ہو ؛مجھے محسوس ہوا کہ وہ مجھے ایسی نظر سے دیکھ رہا تھا جس میں دل چسپی کے ساتھ ایک طرح کی حیرانگی بھی تھی۔کیا وہ اس ناتجربہ کار عمر میں کسی کے اندر جھاتی لگا سکتا ہے ؟ اپنی خفت مٹانے یاوقت کے ہاتھ سے تھمائی ہوئی شکست کو چھپانے کے لیے میں نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا۔وہ کسی گاہک کی طرف متوجہ ہوگیا۔ off season کسی گاہک کا آنا ایک طرح کی انہونی ہوتی ہے اس لیے میں اٹھ کر کوفی کی مشین کی طرف گیا:

’’فارغ ہو کر آتا ہوں ،جی !‘‘اس کی آواز بھاری اورگونج لیے تھی جیسے خشک گلے میں سے آرہی ہو۔اس کا اشارہ کوفی مشین کی طرف تھا۔مجھے نہیں پتا تھا کہ مشین ان کی ہے۔میں نے اسے پہلے نہیں دیکھا تھا،شاید اس کے باپ سے ملاقات ہوئی تھی جو پہاڑ پررہنے والے کسی بھی آدمی کی طرح تھا،اس کی عمر کا تعین نہیں کیا جاسکتا تھا،کمر تھوڑا آگے کو جھکی ہوئی،دبلا جسم جو کسی بھی طرح کمزور نہیں تھا،چہرے پر سنجیدگی اور آنکھوں میں خوف زدہ کر دینے والی شدت۔چہرے پر جھریوں کا نام تک نہیں تھا لیکن پھر بھی وہ میرا ہم عمر ہی رہاہوگا کیونکہ بڑھتی ہوئی عمر آواز میں اپنا زنگ چھوڑ جاتی ہے۔

پہلے دِن نتھیاگلی پہنچنے پر بڑے بازار کی طرف چلاتوابھی سڑک کے دونوں طرف دکانوں کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھااور میں بائیں ہاتھ ہر دکان کو غور سے دیکھتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا کہ اس دکان کی ترتیب اور نفاست نے میرے قدم روک لیے۔میں دکان کے سامنے کھڑا اندر دیکھ رہا تھا اور مالک میری موجودگی سے بے خبر یا لاتعلق سڑک کے پارسامنے دیکھے جا رہا تھا۔

’’مجھے چند دنوں کے لیے کمرہ چاہیے کیا آپ میری مدد کر سکتے ہیں ؟‘‘میں نے اسے مخاطب کیا۔یا تو اس نے میری بات نہیں سنی اور اگر سنی تو اس نے کوئی توجہ نہیں دی کیوں کہ وہ تاثر کی کسی تبدیلی کے بغیر اسی طرح سڑک کے پار سامنے دیکھے جارہا تھا۔میں نے کچھ دیر اس کے جواب کا انتظار کیااور پھر آگے بڑھنے ہی والا تھا کہ اس کی چبھتی ہوئی تیز آواز نے میرے قدم روک لیے۔

’’اوپر کمرہ ہے ۔‘‘اس نے چھت کی طرف اشارہ کیا۔وہ اسی طرح سامنے دیکھے جا رہا تھا۔’’غسل خانہ بھی ساتھ ہے گرم پانی ملتا رہے گا صبح اور شام ۔‘‘ وہ اسی طرح سامنے دیکھے جا رہا تھا۔مجھے اچانک اس کے لاتعکق سے طریقے میں ایک طرح کی وابستگی کا احساس ہوا۔وہ شاید اتنا مغرور تھاکہ درخواست کرنا اسے ایک کمتر سا عمل لگا۔اسے ایک بے موسمے کرائے دار کی ضرورت تھی اور میں وہاں اس کی بات کے مکمل ہونے ہونے کے انتظار میں مجسمے کی طرح کھڑا تھا۔ ’’آپ کمرہ دیکھ لیں۔کمبل،رضائی ،دلائی ،تکیے اور چادر چارپائی پر ملیں گے۔کھٹمل کے لیے روز سپرے کیا جائے گا اور میرا ملازم آپ کی ضروریات کا خیال رکھے گا،’آپ کو صرف آواز دینے کی ضرورت ہے۔‘‘

یہ پہلی مرتبہ تھا کہ میں نے ملازم کا ذکر سنا !

گرجا گھر تک پہنچنے کی ناکام مہم کے دوران میں چڑھائی والی سڑک پر چلنے کی وجہ سے میرے منہ کا ذائقہ کڑوا ساہو گیا تھا،شاید مرنے سے پہلے بھی ہوجاتا ہو ،مرنے سے پہلے لوگ اسی ذائقے کو ذائل کرنے کے لیے غالباًتھوک نگلتے ہیں۔مجھے کوفی کی ضرور ت محسوس ہوئی اور میں اٹھ کر مشین کے پاس چلا گیا۔وہ کپ میں کوفی اور دودھ کو مشین کی بھاپ کے ذریعے مکس کرہاتھا۔میں نے مسکراتے ہوئے انگلی سے ایک کا اشارہ کیا، اس نے میری مسکراہٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے بے تاثر سے چہرے کے ساتھ میری طرف دیکھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایااور تھوڑی دیر کے بعد دو کپ لیے آگیا۔

یہ ہماری دوستی کا آغاز تھا۔اس کا لہجہ پہاڑوں پر رہنے والے لوگوں کا نہیں تھالیکن میں نے یہ پوچھنامناسب نہیں سمجھا۔بعد کے دنوں میں اپنے فالتو وقت میں وہ مجھے مختلف جگہوں پر گھمانے کے لیے لے جاتا۔ایک دن میں نے اسے اس ریسٹ ہاؤس میں لے کے جانے کو کہاجس کی میرے ذہن میں دھندلی سی یاد تھی۔ہم اسی سڑک پر چل پڑے۔ میں جب تھکنا شروع ہوتا تو وہ مجھے چند منٹ کے لیے سڑک کی باہری طرف بنی حفاظتی دیوار پر بٹھا دیتا۔اسی طرح چلتے ہوئے ہم اس ریسٹ ہاؤس تک پہنچ گئے جو اب خستہ حالت میں تھا۔بچپن کی رومانویت کسی یاد کو بڑھاپے تک پہنچتے پہنچتے ایک ناقابلِ فراموش واقعہ بنا دیتی ہے اور ایساہی کچھ میرے ساتھ ہوا۔اس ریسٹ ہاؤس میں گزارے ہوئے چند بے کار سے گھنٹے میری یادوں میں ایک دل فریب خواب کی طرح زندہ تھے اور جب میں نے اس ریسٹ ہاؤس کو دیکھا تو مجھے کچھ بھی یاد نہیں تھا۔مجھے اتنایاد تھا کہ میرا چھوٹا بھائی اور میں ادھر ادھر بھاگے پھرتے رہے تھے اور میں وہاں کھڑا ہونقوں کی طرح اس نامانوس سی عمارت کو بے یقینی اور کچھ شک کے ساتھ دیکھتا رہا،مجھے کچھ بھی یاد نہیں آرہا تھا۔اگر میں یہاں نا آتا تو وہ خوش گوار سی یاد میرے ساتھ شاید قبر میں ہی چلی جاتی۔

مجھے اونٹ والی کہاوت یاد آگئی جس میں اس نے ایک سوال کے جواب میں کہاتھاچڑھائی اور اترائی ہر دو لعنت ہیں۔یہ پہلی مرتبہ تھا کہ میں اتنی سخت جسمانی مشقت سے لطف اندوز ہوا ہوں۔اس کی وجہ میرا اس کی صحبت اور ماتحتی میں سفر کرنا بھی ہوسکتا تھا۔جب شام گہری ہوجاتی اور اس کے پاس وقت ہوتاتوہم بازار کا چکر لگاتے اور کسی پر سکون سی ایٹری پر کھاتے۔ہم اکٹھے گھومتے اور کھانا بھی ساتھ ہی کھاتے لیکن میں نے محسوس کیاکہ بہت کم ہوتا کہ اس نے کبھی گفتگو کا آغاز کیا ہو۔وہ خاموشی سے میرے زندگی کے تجربات سنتا رہتا جنھیں بیان کرنے میں مجھے ہمیشہ ایک طرح کا سکون ملتا۔ جیسے ہی رات گہری ہونے لگتی مجھے وہ بے چین ہوتا محسوس ہونے لگتااور اس کی بے چینی وقت کی رفتار سے تیزہوکے بڑھتی جاتی۔اس کا یہ اضطراب دیکھ کے میں کسی حد تک محظوظ ہوتا اور کبھی مجھے اس پر ترس آتا۔ایک رات وہ معمول کے مطابق بے چین تھااور میں نے اس کی اس اضطراری کیفیت سے لطف اندوز ہونے کے لیے اسے ایک انگریزی فلم کا قصہ سنانا شروع کر دیا جس میں ہیرو ایک عورت کے ساتھ ہم بستری کے لیے خواب گاہ میں داخل ہونے کے لیے کھڑکی میں سے اندر داخل ہوکے چپکے سے اس کے ساتھ لیٹ جاتا ہے۔ میرے خیال میں بعد کا منظر اس کے لیے جوانی کی دل چسپی کے کئی رنگ لیے ہوگا لیکن اس کی بے چینی اتنی شدید ہو گئی کہ وہ اچانک کھڑا ہوگیا جو مجھے سخت ناگوار گزرا۔میں نے برہمی سے پوچھا :

’’تمھیں کوئی مسئلہ ہے ؟‘‘اس نے زخم خوردہ سا میری طرف دیکھا۔مجھے اس کی نظر میں ایک التجا چھپی ہوئی نظر آئی۔

’’میں جانا چاپتا ہوں ۔‘‘وہ شاید اپنے آنسو روک رہا تھا۔

’’کیوں ؟‘‘میں اب متجسس ہوگیا تھا۔

’’دیر ہونے کی صورت میں مجھے سزا ملے گی۔‘‘

’’یہ کام کا وقت نہیں تو سزا کیسی ؟‘‘میں اسے اکسانے لگا۔

اس کے ہونٹ تھوڑا سا کپکپائے،پھر میری طرف دیکھتے ہوئے اس نے تھوک نگلا،شاید وہ کوئی فیصلہ کر چکا تھا۔

’’میں نے اس ساتھ سونا ہوتا ہے……… !ُ ُ‘‘

’’کس کے ؟‘‘میں نے اس کی بات کاٹی۔اس نے خوف اورگھبراہٹ سے ادھر ادھر دیکھا۔میں اس کی نظر کے تعاقب کے بجائے اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔

’’اس کے….. دکان ….. میرا مطلب جہان خان ۔‘‘اور وہ ایسے بھاگا جس طرح تازہ گرفتار شدہ پرندہ پنجرے سے نکلتے ہی اڑ جاتا ہے۔اس کے جانے کے بعد میں دیر تک سکتے کی حالت میں بیٹھا رہااور پھر جیسے جان لیوا حادثے میں سے گزرنے کے بعداوسان اور اعضا بحال ہونا شروع ہوتے ہیں ، اس کی بات میری سوچ میں جذب ہونے لگی۔کیا وہ جنسی تشدد کا نشانہ تھاَ ؟میں نے اپنی زندگی کے کسی دور میں سنا تھاکہ پہاڑوں پرہم جنسیت ایک روایت کے طور پر قبول کی جاتی ہے۔ وہ نیچے میدانوں سے یہاں روزگار کے لیے آیا ہوا ہے جب کہ یہاں سے نوجوان راول پنڈی اور اسلام آباد میں روز گار کے مواقع ہونے کے باوجود کم تنخواہ پر بھی وہاں کام کرتے ہیں تاکہ وہ بر سرِ روزگار رہیں اوراپنی علاقائی غربت کوسہارا دیے رکھیں۔

سیزن گزرنے کے بعد وہ یہاں کیوں کام کررہا ہے ؟میں اس پہلو پر سوچتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف چلا گیااوراسی گتھی کو سلجھاتے ہوئے سو گیا۔میں رات والے صدمے کے بوجھ تلے دبا مایوس سا جاگااور تمام پہلوؤں پر غور کرتے ہوئے واپس چلے جانے کا فیصلہ کرکے بستر سے اٹھا۔رات بھر لحاف کے نگھ نے جسم میں ایک طرح کی آلکس بھر دی تھی اور خوش گوار سی ٹھنڈنے مجھے چوکس کردیا؛مجھے اپنا فیصلہ درست لگا۔اپنے مختصر سے سامان کو ترتیب سے بند کرکے میں نیچے گیا تاکہ ناشتہ کرکے اپنی رہائش کا حساب کرلوں۔وہ آخری سیڑھی کے سامنے کوفی مشین کے پاس کھڑا تھا۔اس کے چہرے پرمعمول کی متانت کے بجائے شگفتگی کی چمک تھی اورآنکھوں میں پہاڑوں کی صبح کا شفاف اجا لا تھا۔میں حیرانی میں گم کچھ دیر اسے دیکھتا رہا۔وہ مسکرایا:

’’میاں صاحب ! آج میں چھٹی پر ہوں۔ ہم سیر پر جائیں گے۔میں نے ایک سوزوکی ڈبہ کرائے پر لیا ہے۔ ناشتہ کریں پہلے۔‘‘میں بے یقینی کے ساتھ اسے دیکھتا رہا۔پھر میں ردِعمل یا کسی ارادے کے تحت اس کے ساتھ ناشتے کی طرف چل پڑا۔ میں اس کی خوشی کو دیکھتے ہوئے اس کے ساتھ ہولیا،میں نے اسے اپنے پروگرام کی اطلاع بعد میں دینے کا فیصلہ کرکے خاموشی کو ترجیح دی۔اس نے جی بھر کے کھایا جب کہ میں پیٹ بھر کے کھانا چاہنے کے باوجود کھا نہیں پا رہا تھا۔مری کی طرف جاتے ہوئے ہم ایک موڑ پر رُکے جہاں بائیں ہاتھ پر پہاڑ میں سے چشمہ نکل رہا تھا۔ وہاں چند اورگاڑیاں بھی کھڑی تھیں۔اس نے بتایاکہ چشمہ کہیں دور سے آتا ہے اور اس کے پانی میں کچھ ایسی تاثیر تھی جو پیٹ کی تمام بیماریوں کو ٹھیک کردیتی ہے۔ وہاں کھڑے دوسرے گاڑیوں والے جیریکینوں میں پانی بھر رہے تھے۔اس نے بتایاکہ سیزن میں یہاں کاروں،ویگنوں اور دوسری کئی گاڑیوں کی بھیڑ ہوتی ہے اور لوگ بوتلوں اور جیریکینوں میں پانی بھر رہے ہوتے ہیں۔ میں سمجھ گیا کہ چشمہ کہیں دور سے آتے ہوئے پتھروں ،جھاڑیوں،جڑی بوٹیوں اور چٹانوں میں سے گزرتے گزرتے اپنے ساتھ جہاں بیماریوں کا علاج لاتا ہوگا وہاں وہی پانی کناروں پر جمی کائی بھی ساتھ لاتا ہوگاجو پیٹ کے لیے یقیناًنقصان دہ ہوگی۔میں نے ہمیشہ سائنس کو واحد حل جانتے ہوئے ایسے ٹوٹکوں میں کبھی یقین نہیں رکھا۔میں نفی میں سر ہلاتے ہوئے دلچسپی سے مسکرا دیا۔اس نے بتایا کہ اس جگہ کو دروازہ کَس کہتے تھے کیوں کہ چشمہ پہاڑ کے دروازے میں سے نکلتے ہوئے نیچے وادی کی طرف بہتا تھا۔

ہم ڈونگا گلی رُکے۔ اس نے پوچھا کہ اگر میں تقریباًچار کلومیٹر پیدل چل سکوں تو وہ گاڑی کو ایوبیہ بھیج دے جہاں ہم نے پہنچنا تھا۔ میں اب اپنی جسمانی قوتِ برداشت پر اتنا بھروسہ نہیں کرسکتاتھا جتنا چند سال پہلے مجھے خود پر اعتماد تھا۔انکار کرنا مجھے اپنی شکست لگا اور پھر میں اس کے ساتھ نتھیا گلی میں مقامی چڑھائیاں چڑھتا رہاتھا۔ اس کا ساتھ ہونا ایک طرح سے مجھے طاقت بھی دیتا تھاپھر بھی میں نے ایوبیہ ناجانے کا فیصلہ کیا۔

آغازاکتوبر کی وہ ایک خنک اورصاف صبح تھی۔اس نے بتایا کہ ہم مری واٹرپائپ لائن کے ساتھ کچھ دور تک جا کے واپس آجائیں گے۔وہ پہاڑ کے ساتھ ساتھ ایک کھلا ساراستہ تھا جس کے ایک طرف گہری وادی تھی ۔میں کچھ دیر مبہوت سا کھڑا وادی کے اوپر دیکھتا رہا۔صاف آسمان کے نیچے دیودار کے بلند درخت پہاڑ کی بلندی کو گھور رہے تھے۔نیچے گہرائی میں وادی دِن کی خاموشی میں کسی گہری نیند میں سوئی ہوئی لگ رہی تھی۔ہم سنگ ریزوں پر چہل قدمی کے انداز میں چل پڑے۔میں اپنی جسمانی قوت ِ برداشت کے بارے میں بھول کرراستے کی حیرت انگیز خوب صورتی سے لطف اندوز ہوتے چلتا رہا اور وہ بھی میری طرح اپنے خیالوں میں گم ،کچھ فاصلے پر میری رفتاراپنائے ہوئے تھا۔اس کے لیے شاید یہ سفر نیا نہیں تھالیکن میں نظارے کی ہیبت میں گم ہونے کے باوجود اپنی جسمانی اہلیت کو بھی نظر میں رکھے ہوئے تھا۔تھوڑے تھوڑے فاصلے پر یہ نوٹس لگے ہوئے تھے کہ جنگلی جانور اس رستے پر کبھی دیکھے جا سکتے ہیں اور ان کے معمولات میں دخل دینا خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔میرے جسم میں خوف کی ایک کپکپی سی دوڑ گئی جس سے مجھے ایک thrill کااحساس ہوا۔مجھے لگاکہ اگلے ہی موڑ پر کوئی چیتا میرا منتظر ہوگا۔ میں اپنے قدموں اور سانسوں کی ردھم پر چلتا رہااور ایک وقت آیا کہ میں بس چلے جارہا تھا جب کہ راستہ میرے آگے بچھا ہوا تھا۔غالباً نصف راستہ طے ہوچکا تھاکہ ایک موڑ پر نصب کیے گئے بنچوں کے پاس وہ کچھ جھجکا اور پھر مسکراتے ہوئے وہاں رُک گیا۔

’’کھانے کو کچھ لے آتے تو اس پرسکون جگہ پر کھانے کامزہ آتا۔‘‘

میں اس راستے پر چلتے ہی چلے جانا چاہتا تھاکہ اس کا رک جانا مجھے ناگوار لگالیکن وہ اس وقت میرا سینئر ساتھی تھااور ٹیم ورک ہمیشہ میری ترجیح رہی تھی۔میں نے ایک بنچ پر بیٹھ کر ٹانگیں آگے کو پھیلا لیں۔مجھے جلد ہی ٹھنڈ کا احساس ہونے لگا اور میری ریڑھ کی ہڈی میں ایک کپکپی سی دوڑ گئی۔وہ اپنی جگہ سے چھلانگ لگا کے اٹھااور میری ٹانگیں دبانے لگا۔ میں نے اپنی ٹانگیں سکیڑیں اور اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیے۔ اس نے ہاتھ چھڑائے بغیر میری طرف ایسی نظر سے دیکھاجس میں ایک سوال تھا اور مجھے کسی سوال میں دل چسپی نہیں تھی۔ نیچے وادی سکون میں لپٹی پُروقارخاموشی کے ساتھ پھیلی ہوئی تھی۔

میں نے اس کے ہاتھ کو پرے جھٹکا۔

’’میاں صاحب !رات آپ کو میراطریقہ پسند نہیں آیا تھااور میں آج اسی کی وضاحت کے لیے آپ کے ساتھ آیا ہوں ۔‘‘میں اسے کہنا چاہتا تھا کہ اتنی تکلیف کرنے کے بجائے وہ مجھے یہ ناشتہ کرتے ہوئے بھی بتا سکتا تھا؛ساتھ ہی مجھے خیال آیا کہ اس کا یہ فیصلہ قابلِِ تعریف تھاکہ مجھے اتنی خوب صورت جگہ دیکھنے کو مِل گئی۔میں نے شاید اس سے بھی خوب صورت جگہیں دیکھی ہوں گی مگر یہاں ایک طرح معصومیت بھرا وقار تھا جو اور کہیں دیکھنے کو نہیں ملا تھا۔

میں نے سر کے اشارے سے اسے بات کرنے کو کہا۔

’’ آپ کو تو شاید میرا نام بھی نہیں آتا پہلے تعارف کروا دوں۔میں گجرا ں والا کا رہنے والا ہوں۔‘‘مجھے چونکنا چاہیے تھا لیکن ہر آدمی کے اندر والے اداکار نے مجھے اپنے قابو میں رکھا۔

’’شہر کے ؟ ‘‘میں نے احتیاط بھری لاتعلقی سے پوچھا۔

’’نہیں۔شہر سے تھوڑے فاصلے پر قاضی کوٹ نامی ایک گاؤں ہے ،وہاں کا ہوں۔‘‘میرے ذہن میں فوراً قاضی کوٹ بم کیس آگیاجو انگریز سرکار کے خلاف بم تیار کیے جانے پر قائم ہوا تھا اور محمود احمد قاضی کا دادا جو یہاں کا رہنے والا تھا اورکسی کے ساتھ جھگڑے کے بعد اپنے خاندان کو لے کر مغل چک چلا گیا تھا۔ ’’میرا نام قاسم ہے اور میں سیزن میں یہاں آتا ہوں۔ تین سیزنوں سے میرا یہاں آنا ہے۔ سیزن میں کاروباردیر تک چلتے ہیں اس لیے تعلیم یافتہ نوجوان کسی نا کسی شفٹ میں کھپ جاتے ہیں۔پہلا سیزن میں نے ڈاکخانے سے تھوڑا آگے والے سٹور پر لگایا۔ پچھلے سال جہان خان نے مجھے اپنے یہاں رکھ لیا۔‘‘قاسم رکا۔اس نے ایک لمبی سانس لے کر بات جاری رکھی،’’جہان خان نے مجھے رات کا کھانا گھر میں کھانے اور وہیں سونے کی سہولت کی پیش کش کی تھی۔یہ ایک ایسی آفر تھی جس کا انکار حماقت تھی۔میں دکان سے فارغ ہوکے اس کے گھر چلاجاتا۔کبھی کبھار وہ کہتا کہ چوں کہ وہ تھک گیا ہے میں اس کی ٹانگیں دباؤں جو شروع میں مَیں ایک ذمے داری سمجھ کے کرتا ،بعد میں تفریح اور پھر ایک مجبوری بن گئی۔وہ مجھے آگے تک دباتے چلے جانے کا کہتا رہتا۔یہ عجیب سی سچوئشن ہوتی۔اس کے کج سے عضوکو چھوتے ہوئے متلی کا احساس ہونے لگتالیکن اسے ہررات چھونا،محسوس کرنا میری مجبوری تھی۔پھر وہ سوجاتا ۔سوتے میں وہ وقفے وقفے سے لمبی لمبی سانسیں لیتا۔بغیر مسواک کیے اس کے منہ کی بو میں سانس لیناایک تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ۔ اب میں اتنے عرصے کے لیے سانس روک لیتا ہوں۔‘‘وہ اآہستہ آہستہ ہنسنے لگا۔مجھے اس کی اس دل چسپی سے خالی ہنسی سے الجھن ہونے لگی۔’’اس کا گھر دوterraces پر ہے۔جب میں نے گھر پہلی مرتبہ دور سے دیکھا تو terraces کی وجہ سے خاصا بڑا لگا لیکن نزدیک آنے پر پہاڑوں کے عام گھروں جتنا ہی تھا۔‘‘قاسم نے وادی میں دور کہیں دیکھتے ہوئے سوچنے کا ناٹک کرتے ہوئے کہا،’’ وہ جب سوجاتا تومیرا انتظار شروع ہوجاتا ۔‘‘

’’اس کے جاگنے کا ؟‘‘میں نے اکتاہٹ سے پوچھا۔تقریباًدو کلومیٹر چلنے کے بعد جسم گرم ہوگیا تھااور کچھ دیر بیٹھنے کے بعد خون کی گردش معمول پر آنے کے بعدٹھنڈ لگنا شروع ہوگئی تھی۔میں نے سوچا کہ قاسم اگر چلتے ہوئے اپنے اعترافات سناتا جاتاتو مجھے شاید اس طرح کی اکتاہٹ نا ہوتی۔

’’ہاں ! اس کے جاگنے کا !‘‘اس نے دہرایا۔’’لیکن مقصد اب تبدیل ہوچکا ہوتا ہے۔‘‘

میری دل چسپی یک دم واپس آگئی۔قاسم کے کتنے مقاصد تھے ؟کیا وہ اتنا ہی معصوم ہے جتنا نظر آرہا تھا؟مجھے اب تجسس نے آن گھیرا۔

’’کیا تبدیلی آگئی تھی ؟‘‘میں نے اپنے تجسس کو چھپایا نہیں۔

’’میں تھوڑا آگے نکل گیا ہوں۔‘‘مجھے لگا کہ وہ میری بے چینی کو جان بوجھ کر قائم رکھنا چاہ رہا تھا۔’’جہان خان کی بیوی ہے شیریں،مجھ سے کوئی چھ برس بڑی اور جہان خان سے تقریباً تیس سال چھوٹی۔‘‘وہ خاموش ہوگیا۔اس کی آنکھیں بجھ سی گئیں۔اس کے چہرے سے سارے دن کی شگفتگی جاتی رہی اور کہیں سے پرانی اداسی اورلاتعلقی در آئی۔’’انھوں نے پسند سے شادی کی ہے۔جہان خان شادی شدہ تھا،اس نے پہلی بیوی کو طلاق دے کر شیریں سے شادی کی۔دونوں ایک دوسرے سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔‘‘وہ خاموش ہو گیا۔’’شیریں نماز کی پابند ایک خوش مزاج عورت ہے۔وہ جہان خان کے ساتھ صرف محبت ہی نہیں کرتی اس کی حد سے زیادہ عزت بھی کرتی ہے۔ان کے درمیان میں عجیب طرح کا رشتہ قائم ہوگیا ہے۔میں نہیں جانتا کہ یہ رشتہ میرے آنے سے پہلے بھی قائم تھا ؟جہان خان نے مجھے بھی اس رشتے میں ساجھی بنادیا ہے…… شاید میں پھر آگے نکل گیا ہوں۔‘‘وہ ابھی تک سنجیدہ تھا۔’’ہاں ….. تو میں کہہ رہا تھا کہ میں اس کے جاگنے کا انتظار کرتا ہوں۔جب وہ جاگ جائے تو یہ میرے لیے اشارہ ہوتا ہے کہ میں اٹھ کر شیریں کے پاس چلا جاؤں۔اس نے شیریں کے مشورے سے مجھے اجازت دی ہے کہ میں رات کا کچھ حصہ گھر کے اندر شیریں کے ساتھ گزاروں۔‘‘وہ خاموش ہو کے نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا کرہاتھ ملنے لگا۔’’جو مجھ سے چاہا گیا تھا اس کا آغاز کرنا میرے لیے بہت مشکل فیصلہ تھا۔ میں نے واپس چلے جانے کا بھی سوچالیکن یہاں مجھے تنخواہ اچھی مل رہی ہے اورناشتہ اور رات کا کھانا مفت ۔قاضی کوٹ میں میرے گھر کے حالات اچھے نہیں ہیں اس لیے یہاں ٹکے رہنا میری مجبوری تھی۔میرے دن اچھے گزر رہے ہیں لیکن مجھے اپنی زندگی کا یہ ڈھنگ پسند نہیں آیا۔شیریں جیسی عورت کے ساتھ میرا جو تعلق قائم ہوگیا ہے ہونا نہیں چاہیے تھا۔‘‘

میں اس کی باتیں دل چسپی اور کبھی عدم دل چسپی سے سنتے ہوئے اس کی نظر بچا کے دور تک پھیلے ہوئے نظارے کی خوب صورتی کو آنکھوں میں بھرنے کی کوشش بھی کرتا۔اس کے آخری فقرے سے میں چونک گیااور تیزی سے اس کی طرف دیکھا۔وہ سر جھکائے بیٹھا ہوا تھا،مجھے اسے اس طرح بیٹھے دیکھ کر کسی حد تک حیرت اور کسی حد تک دکھ ہوا۔ہم کچھ دیر یوں ہی بیٹھے رہے،جیسے خاموشی توڑنے سے خائف ہوں؛شاید نظارے کی گہری خاموشی ہمیں دبائے ہوئے تھی۔ایک دم میرا جی چاہا کہ کہیں دور یا نزدیک کوئی پہاڑی کوا ہی بولنا شروع کردے یا کوئی اور پرندہ شور کرنا شروع کردے یا جوبھار ہمیں دبائے ہوئے تھااس کو دور کرنے کے لیے کہیں سے ایک چیتا ہی آجائے۔

’’ختم کردو !‘‘میں نے ہمت کرکے خاموشی کو توڑا۔

وہ ایک تلخ سی ہنسی ہنسا،مجھے لگا کہ اس نے میرے سینے میں خنجر گھونپ دیا ہے۔

’’تھیوری کے حوالے سے آپ کی بات بالکل درست ہے لیکن عملی طور پر یہ ممکن نہیں۔میں شیریں کو اس طرح چھوڑ کر نہیں جاسکتاٍ …… ‘‘

’’کیوں ؟‘‘ میں نے اس کی بات کاٹی۔

’’وہ مجھے اچھی لگنا شروع ہوگئی ہے اور میں اسے اس لیے چھوڑ کر نہیں جاسکتا کہ جہان خان میری جگہ کسی اور آدمی کو لے آئے گا۔‘‘اس نے میری طرف رحم طلب نظر سے دیکھا۔مجھے اچانک قاسم اپنا ہم عمر لگنے لگا۔اس کے اندر کی یہ رقابت ایک نوجوان کی نہیں تھی؛میں جانتا تھا کہ نوجوان کی رقابت میں ایک طرح سے جوش ہوتا ہے جب کہ قاسم نے کسی حد تک منطق کا سہارا لیاتھا۔

’’میں آج جارہا ہوں،تم بھی میرے ساتھ چلو۔‘‘میں نے اپنی پیش کش کو مختصر لیکن پُر اثر بناتے ہوئے کہاَ۔اس نے عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھا؛میں نے محسوس کیاکہ وہ میرے چہرے کی سنجیدگی دیکھنا چاہتا تھا۔

’’نہیں ! میرے مہینے کی تنخواہ ہے جو جہان خان فوری نہیں دے گااور میں چھوڑ نہیں سکتا۔ قاضی کوٹ میں میرے گھر میں بھوک بھنگ کے پودوں کی طرح اگی ہوئی ہے۔‘‘مجھے قاسم کی بات نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا۔میں نے اسے ساتھ چلنے کے لیے مجبور نہیں کیا،بس خاموشی سے نظارے کو دیکھنے کی اداکاری کرتا رہا،مجھے اپنے اردگرد سے اب کوئی دل چسپی نہیں تھی۔’’میاں صاحب !آپ کو کچھ رقم دوں گا اگرمیری ماں کو پہنچا دیں تو میں ہمیشہ شکرگزار رہوں گا۔‘‘قاسم اٹھ کھڑا ہوا۔میں عجیب سی کیفیت میں قاسم کی تقلید میں بادلِ نخواستہ اٹھااور واپس چل پڑا۔مجھے اس سارے معاملے میں صرف شیریں کے ساتھ ہمدردی تھی،وہ اپنے خاوند سے محبت کرنے والی عورت تھی جو محروم ہوتے ہوئے محرومی کا شکار نظر نہیں آرہی تھی لیکن جہان خان نے اسے محروم بنادیا تھااور وہ ایک عورت سے جنس بن کر رہ گئی تھی جب جہان خان نے قاسم کو شب بسری کے لیے اس کے پاس بھیج دیا۔قاسم نے پہلی بار کسی عورت کو چکھا اور وہ اسٍ کے جسم کی محبت میں گرفتار ہوگیا۔ کیا اسے اپنی سے زیادہ عمر والی عورت کے ساتھ محبت تھی ؟

’’قاسم !‘‘میں نے اسے روک لیا۔

’’جی میاں صاحب !‘‘وہ مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔مجھے اپنا سوال پوچھنے میں ایک جھجک کا احساس تھا۔قاسم کی آنکھوں میں حیرت تھی اور وہ مجھے ایک الجھاؤسے دیکھتا تھا۔مجھے شک سا گزرا کہ وہ میرا سوال سمجھ گیا ہے ،میں نے پھر بھی سوال پوچھنا ہی مناسب سمجھا:

’’تمھیں اپنے سے زیادہ عمر کی عورت کے ساتھ محبت ہوگئی ہے ؟‘‘

اس کے ہونٹوں پرایک کپکپی تھی ،وہ مسکراہٹ کو چھپاتا ہوا بھی لگ رہا تھا۔ہم کچھ دیر کھڑے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے،گویا ہم ایک دوسرے کو تول رہے ہوں۔میرا اب اس پر ایک حق بھی بن رہا تھا،اپنے گھر تک پہنچنے کے لیے مجھے اس کے گاؤں کے پاس سے گزر کر جانا ہوتا ہے۔وہ اپنی ماں کو میرے ذریعے بچت بھجوانا چاہتا تھا۔

’’کوئی برائی ہے اس میں ؟‘‘

’’قطعاً نہیں۔لوگ ایسا کرتے ہیں۔‘‘میں ایک دم جارحیت سے دفاع پر آگیا۔اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے روکا۔

’’جہان خان عمر میں اس سے بہت بڑا ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ وہ اس سے کتنی محبت کرتی ہے۔وہ اپنے سے زیادہ عمر والے آدمی کے ساتھ محبت نہیں کرتی ؟‘‘اس نے سوال ،جواب دینے کے انداز میں پوچھا۔میں نے خاموش رہنا مناسب سمجھا،اس کی بات میں منطق تھی۔مجھے اس سارے معاملے میں دل چسپی لینی چاہیے ؟

’’تمھارا معاملہ ہے،میں اس میں کیوں الجھ رہا ہوں۔مجھے تم سے ہمدردی ہے۔‘‘میں نے ایک متوازی سے لہجے میں کہا۔

وہ مسکرایا اور سر جھکا کے چل پڑااور میں بھی۔ہم خاموشی سے واپس ڈونگہ گلی کی طرف چلنے لگے،اس طرح چلتے ہوئے مجھے ایک سکون کا احساس ہونے لگا،ایسے لگ رہا تھاکہ میں کسی خواب کی دھند میں گم ہوں۔مجھے شاید راستے کی تلاش تھی !میں یہاں چند دنوں کے لیے اپنی زندگی کے کھوئے ہوئے سکون کی تلاش میں آیا تھاکہ قاسم،شیریں اور جہان خان کی ایسی تکون میں گم ہوگیا جس کے زاویے مجھے ناپنے نہیں آتے تھے۔میں نے لوگوں کو محبت میں گرفتار ہوتے اور اس کے اثرات کی بھول بھلیاں میں اپنی تلاش کرتے تو دیکھا تھالیکن یہ تکون میری سمجھ سے باہر تھی۔کیا میں بوڑھا ہوگیا ہوں ؟جہان خان رات کے پہلے حصے میں جو کرتا ہے اس میں قاسم کے بجائے شیریں کو کیوں شامل نہیں کرتا ؟پھر میں نے سوچا کہ ان معاملات کو سمجھنے کے لیے جوان ہونا ضروری نہیں۔

ڈونگا گلی پہنچ کر اپنی سواری میں بیٹھ کے ہم نتھیا گلی کی طرف چل دیے۔راستے میں مَیں خاموشی کا بھار سہتا رہا اور نیچے وادی میں مری نظر ایسے ہی کچھ تلاش کرتی رہی۔

’’گاڑی کا کرایہ میں دوں گا ۔‘‘میں نے اچانک خود کو کہتے سنا۔میری آواز سے قاسم بھی اتنا ہی حیران ہوا جتنا کہ میں ہوا تھا۔اس نے خالی نظر سے میری طرف دیکھا۔’’تم نے اپنی ماں کو جو پیسے بھجوانے ہیں ان میں یہ بھی جمع کر لینا۔‘‘

’’میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گا ۔‘‘ اس نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔میں وجہ پوچھنا چاہتا تھا لیکن خاموش رہا۔زندگی کے ہر مرحلے میں واپسی کا عمل بوجھل اور غیر دل چسپ ہوتا ہے، ہمارا واپسی کا سفر بھی ایسے ہی تھا۔ ہم نے جو کہنا تھا وہ کہہ چکے تھے اور جن معاملات میں ساجھے داری ضروی تھی وہ بھی ہو چکی تھی۔اب شاید ہم ایک دوسرے پر بوجھ بن گئے تھے ،میں نے سوچا کہ ایسے موقعوں پر ایک دوسرے سے فاصلے پر ہوجانا ہی بہتر تھا۔جب ہم نتھیا گلی پہنچے توشام ٹھنڈی ہونا شروع ہو گئی تھی۔ مجھے تھکاوٹ کا بھی احساس ہونے لگا تھااور بستر کا نگھ ایسا بلاوا جسے نظر انداز کرناایک غلطی تھی۔گاڑی دکان کے سامنے رکی اور میں قاسم کو اپنے پیچھے نا آنے کا اشارہ کرتے ہوئے سیڑھیاں چڑھ کے بستر پر ڈھیر ہوگیا۔مجھے گہری نیند میں بھی جاگنے کا احساس ہوتا رہااور قاسم بے بسی، مکاری اور خود غرضی کے کئی رنگوں میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہا۔مجھے اس کے ساتھ ہمدردی تھی اور وہ مجھے پسند بھی نہیں تھا۔وہ ایسے حالات میں جکڑا گیا تھا جو اس کے تشکیل تو نہیں دیے ہوئے تھے لیکن ان کی نشوونمامیں اس کا ہاتھ تھا۔میں صبح جب جاگا تو مجھے لگا کہ میں رات جاگتا رہا ہوں۔ مجھے تیار ہوتے کچھ وقت لگا اور جب میں نیچے آیا تو جہان خان دکان کھول چکا تھا۔میں نے اسے کمرے کا کرایہ دیا اور باہر نکل کر مری جانے کے لیے ویگن سٹینڈ کی طرف چل پڑا !

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: