بے ثمر عذاب ۔۔۔رشید امجد

بے ثمر عذاب

( رشید امجد )

میں اپنی تاریخِ پیدائش بھول گیا ہوں اور اب تذبذب کی سیڑھیوں پر کھڑا اپنی عمر کا تعیّن کر رہا ہوں۔ کبھی لگتا ہے کہ زندگی کے مٹیالے کاغذ پر بنا ہزاروں سال پرانا نقش ہوں۔ تاریخ کے پھڑپھڑاتے صفحوں کے ساتھ سانس لینے کی کوشش، حال کی چار دیواری پھلانگ کر ماضی کے دھند لکے موسموں میں دیر تک مسلسل بھیگنے کی خواہش، مگر یہ تو تذبذب کی سیڑھی ہے اور میں اپنی عمر کا تعیّن کر نے کی کوشش کر رہا ہوں۔ کبھی لگتا ہے، ابھی ابھی بس ایک ہی لمحہ پہلے پیدا ہوا ہوں ، چوسنی منہ میں ہے، چوسنی منہ میں نہیں ہے۔ وہی سیڑھی ہے اور میں ہوں اور عمر کا تعیّن کرنے کی کوشش، تو میری تاریخِ پیدائش گم ہو گئی ہے۔ شاید کوئی تاریخ ہو ہی نہ، تو میں پیدا کب ہوا؟ شاید ہوا ہی نہ ہوں۔ مگر میں موجود ہوں ، اپنے جسم کو چھوتا ہوں ، لمبے لمبے سانس لے کے ہونے کا احساس کرتا ہوں۔

تو میں ہوں۔ بس میری عمر معلوم نہیں ، عمر دس ہزار سال بھی ہو سکتی ہے۔ پانچ ہزار بھی۔ ایک ہزار بھی۔۔۔ اور ایک لمحہ بھی۔

تاریخ کھولتا ہوں ، صفحے پھٹے ہوئے ہیں ، شاید میں نے خود ہی انہیں پھاڑ دیا ہے۔ تو میری عمر صرف ایک ہزار سال ہے۔ لیکن فوراً ہی احساس ہوتا ہے کہ ہزاروں سال ہونے کے باوجود میری جڑیں زمین میں نہیں ، تو میری جڑیں کہاں ہیں ؟

گھبرا کر سارے وجود کو ٹٹولتا ہوں۔

حیرت ناک انکشاف۔۔۔ میر ی جڑیں ہی نہیں۔

تو زندہ کیسے ہوں۔

معلوم نہیں زندہ ہو ں بھی کہ نہیں ؟

پھر سارے وجود کو ٹٹولتا ہوں۔۔۔ ایک ایک پور کو چھوتا ہوں ، درد، احساسِ حرارت، سب موجود ہیں۔ مگر جڑیں نہیں ، تو جڑیں کہاں ہیں ؟

شاخیں ، شاخوں پر پتے، پتوں پر چہچہاتے پرندے۔

کاغذ پر بنے نقش۔

شاخیں ، شاخیں نہیں۔

پتے، پتے نہیں۔

پرندے، پرندے نہیں۔

سب کچھ ان جیسا ہے، شاخیں شاخوں جیسی، پتے پتوں جیسے، پرندے پرندوں جیسے، چہکار، اگر یہ چہکار ہے تو چہکار جیسی اور میں خود۔

ہزار سالہ وجود پر انگلیاں پھیرتا ہوں۔

بھر بھری مٹی، تڑخی ہوئی زمین، لکیریں ہی لکیریں ، مسخ عبارتوں کے پھٹے اوراق، بوسیدہ عمارت جو نہ تو موجود ہے اور نہ ہی نا موجود۔

ذرا زور لگاتا ہوں ، ساری عمارت کھسک کر دوسری طرف چلی جاتی ہے۔

تاریخ کے شروع کے تو سارے ورق پھٹے ہوئے ہیں ، میں نے خود ہی پھاڑ دئیے ہیں۔ ان پھٹے اوراق میں ہزاروں سال سسک رہے ہیں۔ دھندلاہٹوں میں بیل گاڑیوں کے قافلے نظر آتے ہیں۔

ہریالے میدانوں کو روندتے سبزوں کو چاٹتے قافلے مجھے دھکیل دھکیل کر جنگلوں میں پھینک دیتے ہیں۔

میٹھے پانیوں کی لذت، لہلہاتے کھیتوں کے ذائقے بانہیں سمیٹ لیتے ہیں۔

گھنے جنگل میں اکیلے ہونے کا دکھ۔

مگر میں نے تو یہ صفحات پہلے ہی پھاڑ ڈالے ہیں ، رشتے ٹوٹ گئے ہیں تو میرے پاس بے معنی چپ لفظوں کا ڈھیر رہ گیا ہے۔ جو نہ بولتا ہے، نہ دیکھتا ہے۔

لفظوں کی زبانیں کٹی ہوئی ہیں۔

میں نے خود ہی کاٹی ہیں۔

میں اپنی عمر ہزار سال سے آگے نہیں لے جانا چاہتا، اس سے آگے مجھے احساسِ کمتری ہونے لگتا ہے۔

تو میں ہزار سال کا ہوں۔

اس سے پہلے میری کوئی تاریخ ہے نہ جغرافیہ، نہ وجود کی پہچان۔

تاریخ کے صفحات میں دیمک، جغرافیہ پر بھاری بوٹ، چیونٹیاں رینگ رینگ کر دانہ دانہ اکٹھا کرتی ہیں۔

تو دراصل میں ایک چیونٹی ہوں۔

چیونٹیوں کی لمبی قطار میں چاول کا آدھا دانہ اٹھائے اپنے سوراخ کی طرف دوڑا جاتا ہوں۔

چاول کا آدھا دانہ ہزار سالہ زندگی کا انعام

بوسیدہ عمارت کی کھڑکی سے سر نکال کر چیختا ہوں۔۔۔ ’’میری عمر ہزار سال ہے۔‘‘

چیونٹیاں سر ہلاتی، کورس میں گاتی ہیں۔۔۔ ’’ہزار سال، ہزار سال۔‘‘

درخت کی شاخ پر بیٹھا الّو دیدے نچاتا ہے، ’’میری عمر بھی ہزار سال ہے۔‘‘

’’تو کیا تم نے بھی اپنی پرانی تاریخ پھاڑ ڈالی ہے؟‘‘ میں اس سے پوچھتا ہوں۔

وہ ہنستا ہے۔۔۔ ’’میں نئی تاریخ بناؤں گا، بغیر جغرافیے کے۔‘‘

جغرافیے کے بغیر تاریخ بنانے کے جنون میں ہی تو میں نے سارے صفحے پھاڑ ڈالے ہیں۔

آتے جاتے موسموں کی پھوار۔

الّو، عمارت میں سب منجمد ہو جاتے ہیں۔

بوسیدگی کا ایک ڈھیر، جس کی کوئی تاریخ، کوئی جغرافیہ نہیں۔

تو میری عمر صرف ایک ہزار سال ہے اور میری جڑیں نہیں۔

میں اپنے وجود کو اٹھا کر لکیر کے دوسری طرف لے جاتا ہوں۔

گملے کو جہاں مرضی لے جائیں۔

تو میں جیسا اس طرف تھا ویسا ہی اس طرف بھی ہوں۔

زمین کا پیار، مزاج، پانیوں کا ذائقہ اور ہواؤں کی تبدیلیوں سے مجھے کچھ نہیں ہوتا۔

میں نہ بڑھتا ہوں ، نہ پھولتا پھلتا ہوں۔

دس ہزار سال کی تاریخ کو میں نے پھاڑ دیا ہے۔ رہ گئے ہزار سال، تو انہیں دیمک چاٹ گئی ہے۔ دیمک کے چاٹے ہوئے مٹیالے پن میں ہاتھیوں کا جلوس، نقار خانوں کا شور، تلواروں کی گونج۔۔۔ بھائی بھائی کو قتل کرتا اور باپ کو قید کرتا ہے۔ مار دھاڑ کے ان ہزار سالوں کے تقدس کے لیے میں نے پچھلے دس ہزار سال پھاڑ دئیے ہیں اور ان ہزار سالوں کو بھی دیمک چاٹ گئی ہے۔

میری عمر ایک لمحہ ہے۔

میں ابھی ابھی پیدا ہوا ہوں اور ابھی ابھی مر گیا ہوں۔

شاید میں پیدا بعد میں ہوتا ہوں ، مر پہلے جاتا ہوں۔

شاید میں ابھی پیدا ہی نہ ہوا ہوں۔

تو پھر یہ کون ہے۔۔۔ یہ وجود۔۔۔ میں اپنے بدن پر ہاتھ پھیرتا ہوں۔

’’کیا یہ وجود ہے؟‘‘ میں خود سے سوال کرتا ہوں۔

الّو شاخ سے اڑ کر میرے کاندھے پر آن بیٹھتا ہے۔ میری بات سن کر ہنستا ہے۔

’’یہ وہم اور وجود کا ملغوبہ ہے۔‘‘

تو میں موجود ہی نہیں ، پھر تاریخ پیدائش بھولنے کا مطلب؟

میری ساری عمر میرا اپنا واہمہ ہے۔

ہزار سال کا ہونا بھی میرا اپنا تصور ہے۔۔۔ ایک لمحہ کا ہونا بھی میرا اپنا قصور۔۔۔ تاریخ میری کو تو دیمک نے چاٹ لیا ہے۔

ہزار سال بھی ختم ہوئے۔

تو بات اس لمحہ میں سمٹ گئی ہے۔

میں ابھی ابھی پیدا ہوا ہوں۔

میں بلک بلک کر رونے لگتا ہوں۔

ماں دوڑی دوڑی پنگھوڑے کے پاس آتی ہے اور جھک کر میرے گالوں کو تھپتھپاتی ہے۔

’’میرا پپو! بھوک لگی ہے۔‘‘

میں کہتا ہوں ، ’’میری چوسنی لاؤ۔۔۔ فیڈر بھی لاؤ۔‘‘

ماں چیخ مار کر پرے ہٹ جاتی ہے۔

’’کیا ہوا۔۔۔ کیا ہوا؟‘‘ سارے لوگ اردگرد اکٹھے ہو جاتے ہیں۔

’’یہ۔۔۔ یہ‘‘ ماں خوف زدہ ہو کر پنگھوڑے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

’’یہ۔۔۔ یہ بول رہا ہے۔‘‘

’’تو اس کا مطلب، یہ پیغمبر ہے۔‘‘

وہ سارے عقیدت اور احترام سے جھک جاتے ہیں۔

’’یہ پیغمبر ہے۔۔۔ اور اس سے پہلے کہ ہم پر عذاب آئے، آؤ اس کے ہاتھ پر بیعت کریں۔‘‘

وہ آگے بڑھ کر میرا دایاں ہاتھ اٹھاتے ہیں۔

میرا دایاں ہاتھ نہیں ہے۔

وہ میرا بایاں ہاتھ اٹھاتے ہیں۔

میرا بایاں ہاتھ بھی نہیں ہے۔

یہ تو لُنجا ہے۔

میں کچھ کہنے کی کوشش کرتا ہوں مگر غاں آں۔۔۔ غاں آں کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔

گونگا بھی۔

گونگا اور لُنجا۔

وہ سب دھاڑیں مار مار کر روتے ہیں۔

اور ان سب کے درمیان پنگھوڑے میں لیٹا میں اپنی تاریخ پیدائش یاد کر رہا ہوں اور یہ بھی کہ کب سے گونگا اور لُنجا ہوں۔

دس ہزار، پانچ ہزار، ایک ہزار سال سے۔۔۔ یا ابھی ابھی اسی لمحہ سے۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: