کمہار کا چاک ۔۔۔ ماریہ مہ وش

کمہار کا چاک

ماریہ مہ وش

من کا باغی کمھار۔۔۔۔۔۔۔ جانے کب سے

معبد خانے کی دہلیز پہ پہ بیٹھا ۔۔۔۔۔ منتظر ہے

آسمان سے اترنے والے پاکیزہ ۔۔۔۔ انقلابی خیال کا

جو اس کے چاک کا رزق بنے

اور وہ اسے بار بار۔۔۔۔ گوندھ کر نئ شکل دے

آسمان سے اترا پاکیزہ ۔۔۔۔۔ انقلابی خیال کا لوتھڑا

اب اس کے چاک پہ دھرا پڑا ہے

اور من کا باغی کمھار اب خود سے لڑرہا ہے

کہ۔۔۔۔ معبد میں بیٹھ کر وہ کیسے

انقلابی خیال کو تخلیق دے

شام ہوچلی ہے۔۔۔۔۔ جنگ جاری ہے

ڈوبتے سورج کے ساتھ ہی

جنگ میں جیت آسمان والوں کی ہوئی

مین کے باغی کمھار نے اپنے خیال کا لوتھڑا نوچ کر

اس پاکیزہ ۔۔۔۔ انقلابی خیال میں گوندھ دیا

اور

چاک پہ دھرا چھوڑ دیا

Similar Posts:

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

January 2022
M T W T F S S
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31