بسم اللہ کا گنبد ۔۔۔ مسعود اشعر

بسم اللہ کا گنبد

مسعود اشعر

ایک رات میں سب کچھ بدل گیا تھا۔

اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے تکیے پرسررکھے رکھے ہی کھڑکی کی طرف دیکھا۔ کھڑکی میں سے جتنا آسمان نظر آرہا تھا وہ کچھ فاختئی فاختئی سا ہورہا تھا۔ چڑیوں کی آوازیں نہیں آرہی تھیں۔ ایک کوّ ے کی آواز آئی تھی۔ بس ایک آواز، اور وہ بھی ایسے جیسے اس نے غلطی سے آواز نکالی ہو، جیسے کوّ ے نے کھنکار کرگلا صاف کیا ہو۔ اس کے بعد پھر خاموشی چھا گئی تھی۔ یہ صبح صادق ہے یا صبح کاذب؟

اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ اسے یاد آیا کہ وہ داداجانی کے کمرے میں ہے۔ داداجانی نے ہی اسے بتایاتھا کہ ایک صبح کاذب ہوتی ہے اورایک صبح صادق ۔ اسنے پھر آسمان کی طرف دیکھا اور آنکھیں بندکرلیں۔اب وہ دادا جانی کے ساتھ ہی رہے گا۔ اس کا کمرہ اب اس کا کمرہ نہیں ہے۔ اس نے پھر آنکھیں کھولیں۔ سامنے دیوار پر ایک تصویرٹنگی ہوئی تھی۔ مگر ہلکے ہلکے اندھیرے میں وہ الٹی نظر آرہی تھی۔ سراوپر پیر نیچے۔ وہ گھور گھور کر اس تصویر کو دیکھنے لگا۔

ارے۔۔۔ابھی سے کیوں اٹھ گئے؟ سو جاؤ، سو جاؤ یہ داداجانی تھے جو غسل خانے سے نکل کرآرہے تھے۔ ’’تم رات بھر نہیں سوئے ہو‘‘۔انہوں نے کہا ’’کروٹیں بدلتے رہے ہو رات بھر‘‘۔

’’نہیں تو۔۔۔ میں تو۔۔۔‘‘ اس نے اٹھ کربیٹھنے کی کوشش کی مگر پھر لیٹ گیا۔

’’رات بھر کروٹیں بدلتے رہے ہو تم‘‘۔ داداجانی نے پھر کہا۔ جیسے اسے یاد دلارہے ہوں۔

’’مگر آپ۔۔۔؟‘‘

’’جب تم ہماری عمر کو پہنچو گے تو معلوم ہوگا، کتنی بار اٹھنا پڑتا ہے رات کو‘‘۔ وہ ہنستے ہوئے اس کے پاس آگئے تھے۔ ’’ہم جب بھی پیشاب کے لیے اٹھتے تو تمہیں کروٹیں بدلتے ہی دیکھتے‘‘۔

اب وہ اس کے بستر پر بیٹھ گئے تھے ۔ وہ بھی اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔ پھر انہوں نے ہاتھ بڑھایا اورا س کا گال تھپتھپایا۔ وہ جھینپ گیا اس نے پہلی بار دو دن پہلے شیو کیا تھا۔ اسے محسوس تو بہت پہلے سے ہورہا تھا کہ اس کے گالوں پر اور ناک کے نیچے جو بھورا بھورا رواں ہے وہ بڑا ہو گیا ہے۔ لیکن دو دن پہلے ہی وہ ڈسپوزیبل ریزر خرید کے لایا تھا اور پہلی بار وہ رواں صاف کیا تھا۔ بھائی کی شادی جو ہونے والی تھی۔ داداجانی نے اس کے گال پر ہاتھ رکھا تو اسے عجیب سا لگا۔ جیسے وہ چاہتا ہو کہ دادا جانی کو اس کے اس راز کا پتہ نہ چل جائے۔ داداجانی نے اب اس کا دوسرا گال بھی تھپتھپایا اورہنسے۔ ’’ہوںں۔۔۔ تو بھئی اب تم بڑے ہوگئے ہو۔ اب تو پردہ کرنے والے تم سے پردہ کریں گے ہی‘‘۔

’’مگر داداجانی میں تو بھائی ہوں‘‘۔ اس نے جھنجھلا کر انہیں دیکھا۔ ’’اور چھوٹا بھائی‘‘۔

’’بھائی نہیں، دیور‘‘۔ انہوں نے اسے زور سے اپنے بازوؤں میں دبوچا اور اس کے ماتھے پر پیار کیا۔ ’’اور وہ کہتے ہیں دیور بھی نا محرم ہوتا ہے۔ سمجھے؟‘‘ وہ ہنستے ہوئے اٹھے اور اپنے بستر پر چلے گئے۔ پہلے ان کا بستر کمرے کے بیچ میں ہوتا تھا۔ مگراب کمرے کے ایک کونے میں ان کا بستر تھا۔ دوسرے کونے میں اس کا بستر لگادیا گیا تھا۔

’’تو آپ سے بھی پردہ ہوگا؟‘‘

داداجانی نے قہقہہ لگایا ’’ارے بھولے میاں، ہم داداہیں، باپ دادا سے پردہ نہیں ہوتا۔ وہ نامحرم نہیں ہوتے‘‘۔

اس نے دیوار پر لگی تصویر کو پھر دیکھنے کی کوشش کی ۔ دھندلی دھندلی سی روشنی میں اسے یاد آیا کہ دادا جانی کی شادی کے وقت کی تصویر ہے۔ اس نے دیکھا تھا کہ وہ تصویر بلیک اینڈ وائٹ تھی۔ دادی جان نے ساڑھی باندھی ہوئی تھی اور دادا جانی تھری پیس سوٹ میں تھے۔ تصویر شہر کے مشہور پارک میں کھینچی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور تصویر بھی تھی۔ یہ گروپ فوٹو تھا۔ اس تصویر میں دادی جان اور دادا جانی کے ساتھ ان کے تین دوست بھی تھے۔ دادی جان اوردادا جانی آگے ایک بینچ پر بیٹھے تھے اوروہ تین دوست پیچھے کھڑے ہوئے تھے۔ سب مسکرا رہے تھے۔ جیسے فوٹو کھینچنے والے نے ان سے کہا ہو ’’کہو چیز۔۔۔‘‘ دھندلکے میں وہ تصویر بھی اسے الٹی نظر آرہی تھی۔

’’کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘ دادا جانی نے اسے ان تصویروں پر نظریں جمائے دیکھ لیا تھا۔

’’کچھ نہیں‘‘۔ وہ جھینپ سا گیا۔

گھر میں چار بیڈروم تھے۔ ایک نیچے تین اوپر۔ اوپرایک کمرہ امی ابو کا تھا۔ ایک کمرہ دونوں بہنوں کا اور ایک کمرہ دونوں بھائیوں کا تھا۔ نیچے کا کمرہ دادا جانی کا تھا۔ وہ دادی جان کے ساتھ بھی اسی کمرے میں رہتے تھے۔ اور ان کے انتقال کے بعد بھی یہ انہی کاکمرہ تھا۔ اب یہ اس کا کمرہ بھی تھا۔ اس کے بھائی کی شادی ہوئی تو دولہا دلہن کو بھائیوں کا کمرہ ہی دیا گیا۔ اوروہ اس کمرے سے نکالا گیا۔ شادی سے ایک دن پہلے ہی اس کا پلنگ داداجانی کے کمرے میں ڈال دیا گیا تھا۔ وہ اپنی میز، اپنی کتابیں اور اپنا لیپ ٹاپ وغیرہ بھی دادا جانی کے کمرے میں لے آیا تھا۔ اس انتظام سے اسے کوئی پریشانی نہیں ہوئی تھی۔ دادا جانی اس کے دادا ہی نہیں تھے ، اس کے دوست بھی تھے۔ وہ اسے اپنے برابر کا ہی سمجھتے تھے۔ اور وہ بھی ان کے ساتھ خوب بے تکلفی سے باتیں کرتا تھا۔ اپنے دل کی بات جو وہ اپنی امی ، ابو یابہن بھائیوں کو نہیں بتا سکتا تھا وہ دادا جانی کو بتادیا کرتاتھا۔ اسے جھٹکا اس وقت لگا جب شام کو دلہن گھر آئی تھی اوروہ دلہن کو سلام کرنے اس کی طرف بڑھا تھا۔

’’تم سے پردہ ہے دلہن کا‘‘۔ اس کی ماں نے ہنس کر کہا تھا اور پیار سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے پیچھے لے گئی تھیں۔ ’’دور سے ہی سلام کر لو بھابھی کو‘‘۔

اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس کی بھابھی اس سے پردہ کیسے کر سکتی ہیں۔ وہ تو دولہا کا بھائی ہے اورچار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا بھائی۔ دن بھر وہ سب کے ساتھ مل کر دولہا دلہن کا کمرہ سجاتا رہا تھا۔ بلکہ سب سے زیادہ کام اسی نے کیا تھا۔ اس نے تو اس دن اسکول میں کھیلے جانے والے ڈرامے کی ریہرسل بھی چھوڑ دی تھی۔ اس کے اسکول میں ڈرامہ The Crucible کھیلا جارہا تھا۔ اس ڈرامے میں وہ توخود کوئی کردار نہیں کررہا تھا، مگر اس کی ٹیچر نے سارے کاموں میں اسے اپنے ساتھ لگایا ہوا تھا۔ ’’تم نے تو دولہا دلہن کی مسہری ایسی سجائی ہے کہ وہ مسہری خود ہی دلہن بن گئی ہے‘‘۔ یہ اس کی منجھلی بہن نے کہا تھا، جو اس کے ساتھ کام کرتے کرتے تھک گئی تھی۔ وہ خوش تھا کہ بھائی جان اپنا کمرہ دیکھ کر خوش ہوں گے۔ اور وہ خوش ہوئے بھی تھے۔ انہوں نے کہا تھا تمہاری شادی ہوگی تو تمہارا کمرہ ہم سجائیں گے ۔ اس سے بھی اچھا۔ وہ سب سے بڑے تھے۔

’’اب تم اوپر آیاکروگے تو آواز دے کر آیا کرو گے‘‘۔ یہ اس کی بڑی بہن تھیں، جنہوں نے ہنستے ہوئے اس کے سر پرہلکی سی چپت لگائی تھی۔

’’اچھا۔۔۔‘‘ اس نے چڑ کرخوب زور سے کہا تھا۔

’’یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘ اسکے باپ نے اپنے کمرے سے نکلتے ہوئے کہا تھا۔

’کچھ نہیں، ہم اسے سمجھا رہے ہیں‘‘۔ اس کی بہن نے اسے سیڑھیوں کی طرف لے جاتے ہوئے جواب دیا تھا۔

’’ہاں ہاں۔۔۔ سمجھاؤ سمجھاؤ۔ سب کو سمجھاؤ‘‘۔ یہ کہہ کر وہ زور سے ہنسے تھے۔ اور امی نے گھورکرانہیں دیکھاتھا۔

بڑی بہن اسے لے کر نیچے آئیں تھیں اور دادا جانی کے کمرے میں آکر اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئیں تھیں۔ ’’اب تمہارا سامان یہاں آگیا ہے۔ میز، کتابیں،لیپ ٹاپ اور ہاں۔۔۔ شیو کا سامان بھی تو ہے‘‘۔ یہ کہہ کر وہ ہنسی تھیں۔

’’ہاں ہاں۔۔۔ آگیا ہے سب سامان۔ آپ جتا کیوں رہی ہیں؟‘‘ اس نے جھنجھلا کرکہا تھا۔

’’جتا نہیں رہی ہوں بتارہی ہوں‘‘۔

’’اور میرا گٹار کہاں ہے؟‘‘ اس کی جھنجھلاہٹ اور بڑھ گئی تھی۔

’’ارے ہاں۔۔ تمہارا گٹار تو میں بھول ہی گئی۔ وہ بھی آجائے گا۔ میرے کمرے میں ہے‘‘۔

پھر امی بھی آگئیں تھیں وہاں۔ وہ بھی اس کے پاس بیٹھ گئیں تھیں۔ ’’یہ تمہارا منہ کیوں پھولا ہوا ہے؟‘‘

’’میرا منہ تو نہیں پھولا‘‘ اس نے چڑ کر کہا تھا اور امی نے اس کا سر اپنے کاندھے سے لگالیا تھا۔ ’’منہ نہیں پھلاتے بیٹے‘‘۔

اس کا جی چاہا تھا کہ وہ چیخ کر کہے۔ میرا منہ نہیں پھولا ہوا ہے۔ مگر وہ خاموش ہوگیا تھا کہ اس کاچہرہ سچ مچ جھنجھلاہٹ سے تمتمارہا تھا۔

’’اوہو۔۔۔‘‘ اچانک امی کو یاد آیا تھا۔ ’’اوپر سے ٹی وی بھی تو نیچے لانا ہے‘‘۔

’’وہ ٹی وی نہیں دیکھتے‘‘۔

’’بھائی جان تو ٹی وی نہیں دیکھتے ، مگر کیا بھابھی بھی نہیں دیکھتیں؟؟‘‘ اس نے معصومیت سے سوال کیا تھا۔

’’کسی کو بلا کر ٹی وی نیچے لاؤنج میں لگوا دینا‘‘۔ امی نے اس کے سوال کا جواب نہیں دیا تھا۔ یہ بات انہوں نے بہن سے کہی تھی اورکمرے سے باہر چلی گئی تھیں۔

بھائی امریکہ پڑھنے گئے تھے تو بغیر داڑھی مونچھ کے تھے۔ واپس آئے تو داڑھی بھی تھی اور جینز کے پائنچے بھی دوہرے کر کے ٹخنوں سے اوپر کر لیے گئے تھے۔ سارا خاندان ان کی ذہانت کا قائل تھا۔ وہ فل برائٹ اسکالر شپ پرامریکی یونیورسٹی گئے تھے۔ ان کے لیے دلہن کی تلاش اسی وقت سے شروع کر دی گئی تھی جب وہ امریکہ میں ہی تھے۔ مگران کی شرط ایسی تھی جسے پورا کرنا گھر والوں کو مشکل نظر آتاتھا۔ شرط یہ تھی کہ دلہن ان کی طرح ہی مذہبی شعائر کی پابندہو۔ اپنے عزیزوں اور جاننے والوں میں ایسی لڑکی تلاش کرنا بہت ہی مشکل تھا۔ مگر بہت تلاش کے بعد آخر لڑکی مل ہی گئی تھی۔ اب یہ ان کی خوش قسمتی ہی تھی کہ لڑکی پاکستان کی سب سے بڑی پرائیویٹ یونیورسٹی کی پڑھی ہوئی تھی۔ وہ آنرز کے آخری سال میں مذہب کی طرف راغب ہوئی تھی۔ اس نے آخری سمسٹرز میں سوشیالوجی اور فلاسفی چھوڑ کر اسلامی علوم پڑھنا شروع کر دئیے تھے۔یونیورسٹی سے فراغت کے بعد اس نے درس نظامی کا وہ شارٹ کورس بھی کر لیا تھا جو لڑکیوں کے لیے وضع کیا گیا تھا۔ اس نے پردہ کرنا بھی یونیورسٹی کے آخری سال میں ہی شروع کیا تھا۔ جب اس نے پردہ کرنا شروع کیا تو اس کے ماں باپ اور اس کے چند استاد بھی حیران رہ گئے تھے۔ وہ سب اس سے اس تبدیلی کی وجہ معلوم کرنا چاہتے تھے۔ ان سب کے لیے اس کا ایک ہی جواب تھا۔ ’’میں نے پڑھ لکھ کراور سوچ سمجھ کر یہ راستہ اختیار کیا ہے‘‘۔ اس کے بعد سب خاموش ہوگئے تھے۔

شادی کی تقریب اتنی سادہ تھی کہ اس سے سادہ تقریب کا سوچا ہی نہیں جاسکتاتھا۔ مسجد میں نکاح ہوا۔ چند مہمان جوباہر سے آئے ہوئے تھے انہیں کھانا کھلادیاگیا۔ اور بس۔ اسے بتایا گیا تھا ولیمہ چونکہ سنت ہے اس لیے ولیمہ تو ہوگامگر اس میں بھی زیادہ لوگ نہیں بلائے جائیں گے۔ اس کے ابو اورامی نے پہلے ہی اپنے تمام رشتے داروں کوبتادیا تھا کہ ہرخاندان کاصرف ایک فرد مدعو کیا جائے گا۔ ولیمہ ہوگا مگر اسی سادگی کے ساتھ جس سادگی کے ساتھ نکاح ہوا تھا۔

’’تمہارے اسکول میں ڈرامہ اسٹیج کیا جارہا ہے؟‘‘ داداجانی اپنے بستر پر جاکرلیٹ گئے تھے۔

’’جی‘‘۔

’’کون سا ڈرامہ ہے؟‘‘

“The Crucible”

’’اچھا۔۔۔ ؟ آرتھر ملر کاڈرامہ؟‘‘

وہ خاموش رہا۔

’’کس کی پسند ہے یہ ڈرامہ؟‘‘

’’ہماری انگلش ٹیچر کروارہی ہیں‘‘۔

’’ہوں۔۔ ۔ تووہ زمانے کو سمجھتی ہیں۔ آج کل یہی تو ہورہاہے ہمارے ہاں بھی۔ کس کو بھی کوئی نام دواور مار دو‘‘۔

اس کے بعد دادا جانی خاموش ہوگئے۔ جیسے کچھ سوچ رہے ہوں۔ پھرایسے بولے جیسے اب بھی اسی سوچ میں ڈوبے ہوئے ہوں‘‘۔ ’’تمہیں یہ سب عجیب سا لگ رہا ہوگا؟‘‘ وہ اس کی طرف کروٹ لیے لیٹے تھے، دائیں بازو پرسر رکھے۔

اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ جواب بھی کیا دیتا۔ اس کے لیے تو یہ سب نئی باتیں تھیں۔

’’ہمارے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے‘‘۔ دادا جانی ہنس رہے تھے۔ ’’ہمارے بچپن میں ایسا ہی ہوتا تھا‘‘۔

’’کیسا ہوتا تھا؟‘‘ وہ سوال کیے بغیر نہ رہ سکا۔

’’یہی سب کچھ۔ ہماری دادی اماں ہمارے سگے پھپھا سے پردہ کرتی تھیں۔ پھپھا ہمارے گھر آتے تھے تو ڈیوڑھی میں آکرزور سے کھنکارتے تھے۔ سب کو معلوم ہوجاتا تھا کہ کون آیا ہے۔ پھپھا میاں ڈیوڑھی میں مونڈھے پر بیٹھ جاتے اوروہیں سے باتیں کرتے۔ یہ اس وقت ہوتا تھا جب ہمارے ابا میاں گاؤں گئے ہوتے تھے۔ اگر ابا میاں گھر پر ہوتے تو دوسرے مہمانوں کی طرح پھپھا میاں بھی مردانہ گھرمیں ہی چلے جاتے‘‘۔

’’انہیں برانہیں لگتا تھا؟‘‘

’’برا کیوں لگتا۔ اس وقت کا قاعدہ ہی یہ تھا‘‘۔

’’اورکس کس سے پردہ کیا جاتاتھا؟‘‘

’’چچازاد، پھوپھی زاد، اورماموں زاد اور بہن کے شوہروں سے بھی پردہ کیاجاتا تھا‘‘۔ دادا جانی اب چت لیٹ گئے تھے۔ انکی نظریں چھت پر ٹکی ہوئی تھیں۔ ’’محرم اور نا محرم کا بہت خیال رکھا جاتا تھا اس وقت‘‘۔ انہوں نے جیسے اپنے آپ سے کہا۔

تھوڑی دیر خاموشی چھائی رہی۔ پھر خودبخود ہی ہنسنے لگے۔ ’’اس پردے میں بڑے بڑے تماشے بھی ہوتے تھے۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں ہم نانا جان کے گاؤں جاتے تھے۔ ہمارا خاندان اکیلا ہی نہیں دونوں پھپھیوں کاخاندان بھی ہمارے ساتھ جاتا تھا۔ بہن بھائی، بھتیجے بھتیجیاں، بھانجے بھانجیاں سب کے سب۔ گاؤں دور تھا بیل گاڑیوں میں بھرکر سب جاتے تھے۔ ہم بچوں کے لیے وہ پکنک ہوتی تھی۔راستے میں ایک ندی پڑتی تھی۔ شاید وہ گنگا کی کوئی شاخ تھی۔ اس کے کنارے دور تک پھیلی سفید چمکتی ہوئی ریت اور اس ریت میں کھڑے جھاؤ کے پیڑ‘‘۔ اب وہ ایسے بول رہے تھے جیسے اپنے آپ سے باتیں کررہے ہوں۔ ’’ہم صبح منہ اندھیرے چلتے اور دوپہر تک اس ندی کے کنارے پہنچ جاتے۔ وہاں دوپہر کاکھاناکھایا جاتا۔ پراٹھے ، شامی کباب، آملیٹ، اور پتہ نہیں کیاکیا۔ وہاں تمام عورتیں اپنا پردہ وردہ سب بھول جاتی تھیں۔ خوب چھلانگیں لگائی جاتی تھیں ندی کے پانی میں۔ ہم بچے بھی خوب ڈبکیاں لگاتے تھے۔۔۔‘‘ وہ خاموش ہوئے، پھر ہنسے ۔ جیسے وہ منظر انکی آنکھوں میں ایک بار پھر زندہ ہو گیاہو۔’’ایک بار یہ ہوا کہ وہ سب عورتیں اسی طرح چھلانگیں لگارہی تھیں تو کسی نے کہا ’’ارے دیکھو، کچھ لوگ ادھر آرہے ہیں‘‘۔ ہماری اماں نے آنے والے لوگوں کو دیکھا اور سرجھٹک کر بولیں۔ ’’اے ہے، یہ تو گاؤں والے ہیں۔ ان سے کیاپردہ‘‘۔

’’تو پردہ شہروالوں سے کیاجاتا تھا؟‘‘ وہ اس لمبی کہانی سے اکتا گیا تھا۔

’’اب تو جو بھی سمجھ لو‘‘۔

’’تو کیا دولہا کے چھوٹے بھائی سے بھی پردہ ہوتاتھا؟‘‘

دادا جانی نے کچھ دیر سوچا، کھنکارکے گلا صاف کیا، پھر بولے ’’نہیں، ہمارے گھر میں توایسا نہیں ہوتا تھا ۔ مگر ۔۔۔‘‘

’’مگر آپ ہی تو کہتے ہیں، بھائی بھی نامحرم ہوتاہے؟‘‘ وہ دونوں گھٹنے اپنے بازوؤں میں جکڑے بستر پر بیٹھا تھا۔

’’ہاں۔۔۔ ہے تو۔۔۔‘‘ وہ پھرسوچ میں پڑگئے تھے۔

’’پھر۔۔۔؟‘‘

’’بس، ہم واپس جارہے ہیں۔ بند ہورہے ہیں ایک خول میں۔۔۔‘‘

وہ خاموش رہا۔ داداجانی بھی جیسے کچھ سوچنے لگے۔ ’’بسم اللہ کاگنبد ہے یہ ‘‘۔دادا جانی نے جیسے اپنے آپ سے کہا۔

’’جی۔۔۔؟‘‘ اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔

’’اچھا سو جاؤ۔ تم رات بھر جاگتے رہے ہو‘‘۔

اور کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ باہر بھی خاموشی تھی۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: