کیسری چنی ۔۔۔ شہناز پروین سحر

کیسری چُنی

 شہناز پروین سحر

  عجیب دن ہوتے ہیں جب دعا مانگتے ہوئے لڑکیوں کی ہتھیلیوں میں کیسر جھلکنے لگتا ہے

اور آنکھوں میں ستارے

 آجا ساجن مورے نینن میں ، پلک ڈھانپ توہے لوں

 نہ میں دیکھوں اور کو ، نہ توہے دیکھن دوں

 ہتھیلیوں میں کیسر اور آنکھوں میں ستارے تھے

 خیر۔۔۔ اس نے سر جھٹک کے سوچا ۔۔۔ یہ سب میں سوچ ہی کیوں رہی ہوں

 جب وہ وہ وقت ہی گذر چکا ہے ۔

 وقت کی عادت پے ۔ گذر جاتا ہے ۔

فی الحال تو وہ سفید چادر پر بنے کالے پھولوں سے جھگڑ رہی تھی ۔

 ہمیشہ کسی سیاہ پھول کو کوئی دھبہ یا فالتو پڑی کوئی چیزسمجھ کر بار بار اُٹھاتی ، جھاڑتی اور جھلا جا جاتی ۔ کتنی بار سمجھایا ہے کہ یہ چادر میرے بستر پر مت بچھایا کرو لیکن نہیں ، انہیں تو وہی کرنا ہے جو ان کا جی چاہے ۔

 دو جوڑے کپڑوں کا یونیفام طے کر دیا گیا ہے میرے لیئے ، ایک دھل گیا ایک پہن لیا ۔ مجھے تو یہ بھی نہیں بتاتے کہ میرے سارے کپڑے اور سارے رنگ کہاں رکھ دیئے ہیں ان لوگوں نے ۔

کس سے گِلہ کر رہی ہوں میں ۔ گھر میں تو کوئی نہیں ہے ، صبح سے لیکر رات تک ، میرے پاس صرف میں ہوتی ہوں ۔ سو بی بی اب تم خود کو خود ہی بتاوْ کہ تم کیا چاہتی ہو ۔۔۔

 اس نے خود سے پوچھا

 ہاں تو سوال یہ ہے کہ میں کیا چاہتی ہوں ۔۔

 اُس نے بستر سے اتر کر آہستہ آہستہ دونوں ٹانگوں پر وزن ڈالا اور پھر وزن اُٹھانے سے انکاری اپنے قدموں پر کھڑی ہونے کی کوشش میں کامیاب ہو گئی ۔ پورا وجود لرز رہا تھا ۔ کچھ توقف کے بعد چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی وہ دروازے کی جانب بڑھی ، کانپتے ہوئے بیمار ہاتھوں سے آہستگی کے ساتھ دروازہ کھولا ۔

 اس کمرے میں تو نہ دن کا اجالا معلوم نہ رات کا اندھیرا ۔ سرہانے لگا بلب دن رات نہیں بتاتا صرف جلتا ہے ۔ دیوار کا کلاک بھی اس کمرے کو دن رات نہیں بناتا بس سوئیاں گھومتی ہیں دن اور رات کی تفریق جانے بغیر ۔ اب تو سونے جاگنے کے لیے وقت کی قید سے وہ باہر نکل آئی تھی ۔

باہر جھانک کر دیکھا ۔۔۔ سب کچھ کسی پینٹنگ کے جیسا لگ رہا تھا ۔

 یہ کیا چکر ہے . کیسری رنگ کی پینٹنگ میں ایک حسین زعفرانی سمفنی کی سنگت ، نرم دھوپ کا دلدار حُسن ، بالکل نیا انداز ، اُس کی تھکی ہوئی بے ثمر آنکھوں کا طلسماتی سواگت ہو رہا تھا ۔

 بند کھڑکی کے روشندان سے نرم سنہری پھوار اندر آنے کے لیئے بیقرار تھی باہر گہرے نارنجی رنگ کی چنری اوڑھے دھوپ کھڑی تھی میٹھی دھوپ جو شرارت سے اندر آنے کے لیئے مچل رہی تھی ، مسکرا رہی تھی ، شاید گنگنا بھی رہی تھی ۔۔

 اُس نے مزید ذرا سا آگے بڑھ کر باہر جھانکا ۔

 وہاں سورج تھا ۔ اپنا سنہرا تھال لیے ہوئے ، وہ سب دنیا کو روشنی بانٹ رہا تھا ۔ سورج راجہ آج کتنی مدت بعد تم کو دیکھا ہے ۔ ایک نحیف مسکان کے ساتھ اس نے سوچا .

 ہوا میں نمی تھی ۔ اچانک اُس کے بے بس وجود کے اندر ِاِس خوشگوار ماحول سے ملاقات کا وقت ختم ہونے کا بے رحم اعلان ہوگیا ۔۔۔ سردی اور تھکن کا احساس غالب آ چکا تھا ۔۔ وہاں رکے رہنے کی یا ، وہاں سے مزید آگے بڑھنے کی خواہش ڈھیر ہو گئی  اپنے ہارے ہوئے وجود کو اُنہی قدموں کے ساتھ وہ پھر واپس لے آئی ۔

 کمرے کی مانوس ویرانی میں بستر پر بیٹھی وہ اپنی اس چھوٹی سی مشقت پرہانپ رہی تھی ۔ یہ کمرہ ، اور یہ بستر ، جہاں سورج اپنی کوئی نارنجی کرن نہیں بھیجتا ۔ ایک آنسو اس کے گال پر لڑھک گیا ۔ یہ آنسوسورج کی اُس جاں بخش روشنی کے نام تھا جو اُس کے لیئے نہیں تھی ۔

 اس کمرے میں بھی چار موسم تھے ۔ بلب ، پنکھا ، ائیر کنڈیشنر اور ٹھنڈے پانی کا کولر ۔ نیچر کے نام پر کچھ پرندوں کی دوست آوازیں تھیں جو اس کی ساتھی تھیں ، باہر کسی منڈیر پر کوا اپنی کائیں کائیں اور چڑیا اپنی چوں چوں کے ذریعے سماعت پر دستک دیا کرتے تھے ۔ کبھی کبھی بارش کی آواز اور بادل کی گرج اپنی موجودگی کی اطلاع کر دیا کرتے تھے ۔ اُدھر کوئی بلی صحن میں زور سے روتی ۔ ساتھ والوں کا کتا چپ ہو جائے تو سر بجنے لگتا تھا ۔ جھینگر کا ایک ہی مستقل گیت ، ایک ہی سُر اور ایک ہی ردھم جو جانتا تھا کہ اور کوئی سنے نہ سنے وہ اسے سننے کی پابند ہے ۔

 ویسے اسے یہ علم نہیں تھا کہ یہ جھینگر ہی ہیں یا اس کے کان خود ہی مستقل بج رہے ہیں ۔

 ٹی وی سے رابطہ کسی ہنگامے سے زیادہ کچھ نہیں تھا ٹی وی کا نام بے ہنگم شور ہونا چاہیئے لیکن کوئی بات نہیں ، اس کا ریموٹ تھا اس کے پاس ۔ کچھ اور چیزیں جن کے ریموٹ ہونے چاہیئں  لیکن نہیں تھے جیسے بھوک پیاس اور اداسی کا کوئی ریموٹ نہیں تھا

جانے وقت نے پہلی بار کب گذرنا شروع کیا ہو گا پتہ نہیں کب سے گذر رہا ہے اور کب تک گذرتا رہے گا اسے ہم ریوائینڈ بھی نہیں کر سکتے ۔ خیر گذرے یا تھم جائے مجھے اس سے کیا لینا دینا ۔ اس نے یکلخت وقت سے مکمل لاتعلقی کا ارادہ کر لیا

 اسے تو صرف اتنا پتہ ہے چلتے چلتے اس کی زندگی میں سمے کی سوئی اچانک رک جاتی ہے ۔

 ہر انسان کے اندر ایک گھڑی چل رہی ہے ۔ ٹک ٹک دھک دھک

 ساری گھڑیاں چل رہی ہیں ۔

 لیکن اسکی گھڑی کی سوئی کانپ رہی ہے ۔ آگے نہیں بڑھتی ممکن ہے غیر محسوس طریقے سے بڑھ بھی رہی ہو ٹھیک سے کچھ معلوم نہیں لیکن یہ معلوم ہے کہ کبھی کبھی تھوڑی سی پیچھے کی جانب گر جاتی ہے ۔ کیا میری گھڑی کومے میں چلی گئی ہے اس نے سوچا ۔

 لیکن نہیں ، میں ابھی تک دیکھنے سننے اور سوچنے کے دائرے کی گردش میں موجود ہوں اس نے سوچا ۔

 اس دائرے کے باہر ۔۔۔ جو نارنجی تھال ہے ۔

 مجھے اس کے پاس جانا ہے

 لیکن چلنے کی تو سکت نہیں ہے ۔

 میں مجبور ہوں ، شاید تھال بھی مجبور ہے ۔

 اس کی کرنیں اس کمرے میں نہیں جھانک سکتیں ۔

 نہ میں جیوتی نہ مریو میں

 برہا مارو روگ

 بانوری بولیں لوگ

کیسریا بالم پدھارو مارے دیس

 اچھا زیادہ نہیں ۔۔۔

 کم بھی نہیں ۔۔۔۔

 صرف ایک نارنجی کرن

صرف ایک

 آج دھوپ کی چڑیا کیسر کے چند تنکے چونچ پہ لیے روشندان پر آ بیٹھی تھی

 پھر اُ ڑ گئی

وہ اپنا کیسر کمرے میں بکھیر گئی تھی

 دکھتے پاوْں سہلاتے ہوئے

 اُس نے سوچا

 مجھے اُٹھنا ہے

 اِس کیسر کو چننا ہے

 لہکن ہوا کیا

 ایک دن سب کچھ خاموش ہو گیا ۔۔۔ کلاک کی ٹک ٹک ، کوے کی کائیں کائیں ، چڑیا کی چوں چوں ، بارش کی چھم چھم بادل کی گرج ، صحن کی بلی ۔ ساتھ والوں کا کتا ، جھینگر کا گیت ، سب کچھ تھم گیا ۔۔

۔ وہ کمرے کی بجائے اپنے صحن میں آنکھیں بند کیئے لیٹی تھی ۔۔ دھوپ کی چڑیا اپنی چونچ میں بھرا کیسر اس پر گرا کر منڈیر پر جا بیٹھی ۔۔ اور سورج اپنے غروب کا کیسری سلام دے رہا تھا

، اب تم چاند کے ساتھ کھِلو گی اور سورج کے ساتھ اگ سکو گی ، پھولوں کے ساتھ مہکو گی اور پرندوں کے ساتھ اُڑو گی ،

 اس نے دیکھا دھوپ نے اُس کے لیئے کیسری چنی بنادی اور چاندنی نے بھی اپنے ستارے اس پر ٹانک دیئے تھے ، یہ ستارے ہیں یا جگنو ۔۔۔ لیکن سب اچھا ہے ۔

 بہت اچھا ہے ۔۔۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: