لفظ لفظ تصویر ۔۔۔ مظہر الا سلام

لفظ لفظ تصویر

(مظہر الاسلام)

شام میں اترنے میں ابھی کچھ وقت باقی ہے. تھکا ہارا سورج سامنے بڑی عمارت کے اوپر والے فلیٹوں میں دن بھر کی بچی کھچی روشنی سمیٹ رہا ہے۔ ہوا میں جاتی گرمیوں کیٹھنڈی شام کا ذائقہ رچا ہوا ہے۔بوڑھا ڈاکیہ تیز تیز قدم اٹھاتا گھر لوٹ رہا ہے اس کی پگڑی کے بل ڈھیلےہوگئے ہیں اور چپل کی گھسی ہوئی ایڑھیوں کے کیل زمین سے لگ کر گھسر گھسر کی آوازیں چھوڑتے ہیں۔ ڈاکیے کا ایک کندھا جھکا ہوا ہے اس لیے کہ اس کے سہارے چمڑے کا بیگ لٹک رہا ہے۔ ایک ہاتھ میں دو تین خط ہیں جو اس کے ہاتھ کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔ اور یوں احساس ہوتا ہے جیسے وہ پیدا ہوا اس وقت بھی یہ خط اس کے ہاتھ میں تھے. ڈاکئے کے  قدموں کی گھسر گھسراب خاصی دور چلی گئی ہے.. اب لوگ کم اور آوازیں زیادہ ہیں ۔شریر اور معصوم آوازوں کے جتھے کانوں کے گرد چہل قدمی کر رہے ہیں ۔ایک لمبی چیخ  ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو کر گزری ہے۔ سائیکل کی گھنٹی نے ٹیلی فون کی گھنٹی کے گریبان میں ہاتھ ڈال دیا ہے.بچے کے رونے کی آواز نے ادھیڑ عمر مرد کی آواز کو اچک لیا ہے۔ کار کی آواز ریڑھےکے نیچے آ گئی ہے. کنڈکٹر کی وسل ڈبل ڈیکر کے پاوں کے نیچے آ گئی ہے اور اس کی آواز مر گئی ہے ۔ شہرکو ہچکی لگی ہوئی ہے اور کالے سیاہ گدھ سورج کے سر پر ٹھونگے مار رہے ہیں۔.

سامنے بڑی عمارت کے نیچے والے فلیٹ کی بالکنی میں ایک عورت لمبےبال جھٹک جھٹک کر سکھا رہی ہے اسے صبح ہی نہا لینا چاھئے تھا لیکن وہ اب نہائی ہے اور ابھی تھوڑی دیر بعد  پھر نہانے والی ہو جائے گی ۔وہ بالوں میں انگلیاں ڈال کر انہیں جھٹکتی ہے اس کا بھرا جسم بری طرح تھر تھرایا  ہے جیسے دودھ سے بھرے ہوئے ڈولے کو چھلکا لگا ہو۔. قطرے میرے چہرے پر گرے ہیں۔ میں نے  سے منہ صاف کر لیا ہے اور اب وہ بالوں کی اڑچنیں کھول رہی ہے. اس کا چہرہ پوری طرح نظر نہیں آرہا لیکن اس کے تیز چلتے ہاتھوں کی بے چینی سے انتظار ٹپکتا ہے. پیچھے اندھیرے کمرے کی دیوار پر کلاک کی چمکتی سویاں تیز تیز حرکت کر رہی ہیں. نیچے مینٹل بیس پر کچھ اور چیزیں بھی چمک رہی ہیں جنہیں پہچاننا مشکل ہے۔.

ساتھ والے فلیٹ کے دونوں کمرے میں بتی جل رہی ہے.. ایک بچہ بری طرح رو رہا ہے اور اس کی ماں بلب کے گرد منڈلاتے ہوئے پتنگے دکھا کر اسے بہلانا چاہ رہی ہے. ایک لڑکی جو رونے والے بچے کی بہن ہے باورچی خانے میں پکتی ہنڈیا کی مرچیں چکھ رہی ہے منٹل پیس پر کپڑے کے دو خرگوش ایک دوسرے کی آنکھوں مین  آنکھیں ڈالے بیٹھے ہیں بچہ ابھی تک رو رہا ہے اس کے کی آواز نے بالکنی سے چھلانگ لگا دی ہے اور کچھ دوسری آوازیں اس کے گرد. جمع ہو گئی ہیں۔

اس عمارت میں کئی فلیٹ ہیں۔ ایک دو تین چار پانچ دس بیس اکیس بایئس تیئس اور ایک آدھ اوپر دوسری منزل کے کونے والے فلیٹ میں لڑکی سا منے کمرے میں تخت پوش پر بیٹھی فریم گھٹنوں پر رکھے پھول کاڑھ رہی ہے. اس کی ماں ذراپرے ہٹ کر بیٹھی کچھ چھیل رہی ہے. غور سے دیکھو تو پتہ چلتا ہے کہ آلو ہیں۔ پلنگ پر ایک ادھیڑ عمر آدمی انگریزی اخبار پڑھ رہا ہے اوپر کے فلیٹ سے ایک عورت رسی سے بندھی ٹوکری نیچے لٹکاتی ہے. بالکنی میں لہراتی ہوئی ٹوکری دیکھ کر آلو چھیلنے والی عورت آلو چھوڑ کر بالکونی میں آتی ہے. تھوڑا سا باہر کی طرف جھکتی ہے اور منہ اوپر اٹھا کر ٹوکری لٹکانے والی عورت کی طرف دیکھتی ہے. وہ پیاز مانگ رہی ہے۔ آلو چھیلنے والی عورت اندر جاکر دوپیاز لائی ہے اور اب ٹوکری میں رکھ رہی ہے.. ٹوکری آہستہ آہستہ اوپر اٹھنا شروع ہوگئی ہے۔

ساتھ والے فلیٹ میں الماریاں کتابوں سے بھری پڑی ہیں اور بے شمار اخبار ادھر ادھر بکھرے ہوئے ہیں. پنکھا تیز سپیڈ پر ہے اور ٹیوب لائٹ گرد آلود فضا میں لرز رہی ہے,. کوئی آدمی دکھائی نہیں دیتا۔ سامنے دیوار پر لگی تصویر کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ کسی نے چھپکلی کو فریم کروا لیا ہے۔. یوں بھی اس فلیٹ میں چھپکلیاں بہت ہیں جو لفظوں کو کیڑے سمجھ کر ان کے گرد منڈلاتی رہتی ہیں۔. اس وقت ایک چھپکی ٹیوب لائٹ کے نیچے کیلنڈر کی کسی تاریخ کے ہندسے کو اچکنے کے لیےداو لگائے بیٹھی ہے. ایک الماری پر پھر رہی ہے  اوردوسری الماری سے ذرا پرے اپنے جسم کا پچھلا حصہ دیوار کے ساتھ اور اگلا حصہ اوپر اٹھانے کسی تاک میں ہے۔.

ساتھ والے فلیٹ میں بھی ایک بچہ رو پڑا ہے. اوپر والے فلیٹ کی بالکنی سے ایک لڑکی خطرناک جسم خطرناک حد تک نیچے لٹکا کر پوچھتی ہے، ” کیا ہوا منے کو؟” منے کی ماں اپنی بالکنی میں آ کر اوپر والی بالکنی پر جھکی ہوئی لڑکی کو دیکھ کر کہتی ہے،” کچھ نہیں. چھری سے کھیلتا تھا میں نے سوچا ہاتھ کاٹ لے گا واپس لی تو بگڑ گیا۔” . لڑکی بالکونی سے پرے ہٹ گئی ہے.. بڑا سجا ہوا فلیٹ ہے. کوئی بھی گھرکا سامان دیکھ لے تو اسے اندازہ ہوجائے کہ اللہ کا فضل ہے۔ گھر کی بڑی عورت فرج سے کچھ نکال رہی ہے بڑی محتاط اور کنجوس عورت ہے.. ابھی دن بھر کا حساب کرے گی اور سونے سے پہلے سب دروازے اور تالے اپنے ہاتھوں سے بند کرے گی۔

درمیان والے فلیٹ میں کافی چہل پہل ہے۔ مہمان آئے ہوئے ہیں.. گھر ہر سائز کے مردوں عورتوں اور بچوں سے بھرا پڑا ہے. ایک مہمان عورت زیورات سے لدی ہوئی ہے دوسری عورتیں کبھی کبھی چور نگاہوں سے اس کے گلوبند کو دیکھتی ہیں.. وہ ہاتھ اٹھا کر باتیں کرتی ہے تو سونے کے کنگن آپس میں بچتے ہیں۔ خاصے بےپروا لوگ ہیں۔

اس گھر کی عورت. تو اکثر رات کو دروازہ بند کرنا بھی بھول جاتی ہے۔ چوروں کے لئے گھر بڑا مفید ثابت ہوسکتا ہے پر جانے کیوں کسی چور کی آج تک اس گھر پر نظر نہیں پڑی۔ بچوں نے آفت مچا رکھی ہے ایک نے دوسرے کی قمیض پھاڑ دی ہے اور اب دونوں ایک دوسرے کو نیچے گرانے کی کوشش کر رہے.ہیں۔ ایک لڑکا اٹھ کر انہیں چھڑانے لگا ہے. لیکن وہ تو جیسے ایک دوست سے چپک کر رہ گئے ہیں۔

اوپر فلیٹ کی بالکنی میں ایک اونچے قد کی بکری تھوتھنی اٹھائے میری طرف دیکھے جا رہی ہے۔ کمرے میں ایک ٹیوب اور زیادہ طاقت کا بلب بھی روشن ہے۔ چھتی پرچم چماتے ہوئے برتن سجے ہیں عورت چارپائیوں پر کھڑی ہو چھتی میں رکھے پیالےمیں اپنے کانٹے رکھ رہی ہے.. اسکا ہاتھ مولی کنڈے ( کدو کش ) سے ٹکرایا ہے۔ مولی کنڈا پرات سے لگا ہے اور دھن دھڑ دھڑ پرات اس چارپائی کے پائے پر لگ کر  دور تک لڑھکتی چلی گئی ہے اور کرسی کے نیچے دو تین پھیرے لے کر زمین سے چپک گئی ہے. مرد جلدی سے پرات پکڑنے کے لئے اٹھا ہے۔ اب اس نے پرات اٹھا لی ہے اور چارپائی پر چپ کھڑی عورت کی طرف دیکھ رہا ہے۔ اس کی گردن اذان دیتے ہوئے مرغے کی طرح اکڑی ہوئی ہے۔

ساتھ والے فلیٹ کی بالکنی میں تین پنجرے لٹکے ہوئے ہیں ایک میں طوطا دوسرے میں رنگین چڑیا تیسرے میں خمرے ہیں ۔ طوطا چپ ہے مگر چڑیوں کی چوں چوں سارے گھر میں پھدکتی پھر رہی ہے۔ عورت لیٹی ہے اور مرد اس کے کان میں دوائی ڈالتا ہے.. اب وہ پیچھے ہٹ گیا ہے. عورت نے اٹھ کر دوائی اس کے ہاتھ سے لی ہے. حیرت سے اس کی آنکھیں تن گئی ہیں اور اب وہ کان میں انگلی ڈال کر مرد سے جھگڑ رہی ہے.مرد نے اس کے کان میں کف سیرپ ڈال دیا ہے۔

اسی فلیٹ سے آگے کونے والے فلیٹ کی بالکنی میں چڑیوں اور جنگلی کبوتروں نے گھونسلے بنارکھے ہیں۔ یہاں سے ابابیلوں کا گھوسلہ بھی نظر آرہا ہے۔لو  وہ ایک ابابیل گھونسلےسے نکل کر فضا میں بلند ہوگی۔کسی نے کمرے کا پردہ کھینچ دیا ہے لیکن کھڑکی میں سے ایک تصویر صاف نظر آرہی ہے۔ چلئے  بتی بھی بچ گئی لیکن پردے کے پیچھے حرکت کرتے سایے واضح دکھائی دے رہے ہیں۔.

اس فلیٹ اور اس سے اوپر والے فلیٹ کے درمیان ایک پیپل اگا ہوا ہے. پیپل کے ساتھ سوراخ ہےجس میں جنگلی کبوتروں کا گھونسلہ ہے اس وقت کبوتری گھونسلے میں اور کبوتر پیپل پر بیٹھا ہے اور چونچ سے پروں میں خارش کر رہا ہے۔

اوپر والے فلیٹ میں گھر کے سب لوگ مل کر بیٹھے کھانا کھا رہے ہیں لیکن سالن تُھڑ گیا ہے اور سب سے چھوٹا بچا پلیٹ ہاتھ میں پکڑے مزید سالن کے لئے بار بارماں کے گھٹنے سے ٹکرا رہا ہے۔. باپ آخری برکی سے پلیٹ صاف. کر رہا ہے ماں نے بچے کو گود میں اٹھا لیا ہے اور چینی کا ڈبہ لینے باورچی خانے میں چلی گئی ہے۔

ساتھ والے فلیٹ میں مینٹل پیس پر ایک تصویر پڑی ہے جس کے قریب ریڈیو رکھا ہے۔ کلی پر بستہ ٹنگا ہے۔… آدھا پردہ نیچے لٹک رہا ہے۔ بوڑھی اماں اپنا بٹوہ گھتلی میں ڈال رہی ہے. بوڑھی اماں نے صندوقوں میں بھی بہت کچھ چھپا کر رکھا ہے جن کی چابیاں اپنے ازاربند کے ساتھ باندھ کر رکھتی ہے. اب وہ نماز پڑھنے کے لئے جانماز ڈھونڈ رہی ہے۔

. یہ رونے کی آواز اس سے اوپر والے فلیٹ سے آرہی ہے. رونے والی عورت یہاں سے صاف دکھائی نہیں دیتی اس نے اپنا چہرہدوپٹے میں چھپارکھا  ہے گھر میں دوسرا کوئی نظر نہیں آتا. گلدان میں بڑے بڑے سرخ پھول سجے ہیں جن کی سرخی پورے گھر میں پھیلی ہوئی.. یہاں بھی وہی تصویر دیوار پر لگی ہوئی ہے جو دوسرے فلیٹوں میں بھی تھی۔

ساتھ والے فلیٹ میں کمرے کی سامنے دیوار پر چیونٹیون کی قطار چھت کو جا رہی ہے نئی نئی سفیدی ہوئی ہے اس لیے چیونٹیوں کی قطار گہرے رنگ کی لکیر لگ رہی ہے.. بچہ ایک ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا اور دوسرے ہاتھ میں امرود اٹھائے بڑے غور سے چیونٹیوں کی قطار کو تک رہا ہے۔ اب اسکی ماں بھی  آگئی ہے اور وہ اسے جانگیا پہنانے کے لئے جھکی, باپ ادھر بالکنی میں آگیا ہے اور سگریٹ سلگا رہا ہے. مینٹل پر وہ لمبا ٹیبل لیمپ چمک رہا ہے جو صرف خوبصورتی کے لئے ہوتا ہے اور جس میں مچھلیاں تیرتی ہیں۔ دیوار پر لگے کلاک کی ٹک ٹک میرے دل کی دھڑکنوں میں گھونسلہ بنا رہی ہے۔

سات والے فلیٹ میں کتا بالکنی پراگلی ٹانگیں رکھے لگاتار بھونک رہا ہے. اندر ایک نوجوان ٹیبل لیمپ کے قریب جھکا کچھ پڑھ رہا ہے۔اس کی بہن دودھ کی پیالی میں میٹھا گھولتی اس کی طرف آ رہی ہے۔ دیوار پر  اخبار سے کاٹی ہوئی چھوٹی بڑی تصویریں بے ترتیب ہوچکی ہیں اور بڑی خوبصورت لگ رہی ہیں ان میں سے پہلے والے فلیٹوں والی تصویر بھی ہے۔ کتے کی غراہٹ میری زبان تلے آگئی ہے۔

اوپر والا فلیٹ خاصاسجا ہوا ہے۔ انگیٹھی پر پھول بنا رکھے ہیں جس پر ہاتھی گھوڑے شیر ببر شیر ہرن گیننڈے اور جانے کیا کیا سجا ہوا ہے. مجھے اپنا آپ ان جانوروں میں گھرا ہوا محسوس ہوتا ہے. میں مینٹل پیس پر ادھر ادھر بھاگتا ہوں۔ شیر سے جان چھڑاتا ہو تو سامنے ہاتھی آجاتا ہے۔ ہاتھی سے بھاگتا ہوں تو چیتا راہ روک لیتا ہے۔ میری سانس پھول گئی ہےاور ٹانگیں کھڑے کھڑے کانپنے لگی ہیں۔

ساتھ والے فلیٹ میں شیر کی کھال اور بوڑھے مرد کی بندوق لٹکی ہے جواب صرف ڈیکوریشن پیس بن کر رہ گئی ہے۔ ایک نوجوان آرام کرسی پر نیم دراز کچھ سوچ رہا ہے ابھی ایک ادھیڑ  عمر مرد ساتھ والے کمرے سے نکلا ہے اور باتھ روم میں گیا ہے بیڈ روم  کی کھڑکی ادھ کھلی ہے اور اندر ایک عورت بستر کی چادر تبدیل کر رہی ہے۔ .

اوپر والے فلیٹ کے سارے کمروں کی بتیاں بھجی  ہیں.. اندھیرا اندھیرے کی کلائی پکڑے طاقت آزمائی کر رہا ہے۔ سونے کے  کمرے میں ہلکی بتی جل رہی ہے اور وہ دونوں ۔۔۔۔ بتانے کی بات نہیں ۔۔۔ بس وہ دونوں۔۔۔۔ پرندوں کی لڑائی دیکھ رہے ہیں۔.

ساتھ والے فلیٹ والے سو چکے ہیں۔ ہلکی روشنی میں  بلی چھپکے میں رکھا دودھ پی رہی ہے۔ ننھی کی گڑیا اوندھے منہ میز پر پڑی ہے۔ایک سایہ سونے والے کمرے سے نکل کر بیٹھنے والے کمرے کی طرف گیا ہے۔ .

دادی اماں کا ہاتھ سب سے چھوٹے بچے کو تھپک رہا ہے۔ . اسی ترتیب کے کونے والے.  پاس بیٹھے نوجوان نے سر اٹھا کر. ” گھوڑوں کے شہر میں اکیلا آدمی “والی کہانی کے کسی حصے کی وضاحت طلب کی اور دادی کا جواب سن کر پھر گہری سوچ میں ڈوب گیا ہے. بڑا بچہ کان دادی کی طرف لگائے سرہانے پر کڑھے ہوئے طوطے اور شیر کے دھاگوں سے کھیل رہا ہے۔

. اوپر والے فلیٹ میں گھپ اندھیرا ہے.کچھ نظر نہیں آتا ۔کیونکہ یہ سب سے اوپر والی ترتیب کا درمیان والا فلیٹ ہے اس لیے اس کی پیشانی پر بل کے نیچے. 786 لکھا ہوا صاف نظر آرہا ہے۔

. ساتھ والے فلیٹ کاکونہ  کچھ شکستہ نظر آرہا ہے اور اس کی اینٹیں آگے سے بھرگئی ہیں۔

. کونے والے فلیٹ میں مکمل اندھیرا ہےاور ایک طرف سے اس کی کچھ اینٹیں نکلی ہوئی ہیں اور کچھ بُھرگئی ہیں. اور جگہوں پر بھی ایسے ہی نشانات ہیں۔ شایداس عمارت کوپھر سٹون کینسر ہو گیا ہے۔ اب ساری عمارت اندھیرے میں ڈوب گئی ہے۔ کچھ نظر نہیں آتا. کلاک کی ٹک ٹک میرے دل کی دھڑکنوں  میں گھونسلہ بنا رہی ہے۔ میری نظریں ایک اندھیری بالکنی سے دوسری اندھیری بالکنی میں پاوں رکھتی نیچے اترتی ہیں. اندھیرا ..۔۔ کالا سیاہ اندھیرا ۔۔۔ کلاک کی آواز ایک بجاتی ہے۔ عمارت کے عقب سے میرے ساتھی نمودار ہوئے ہیں..وہ سامان سے لدے ہوئے ہیں چوری کی واردات بڑی کامیاب رہی ہےلیجئے ہم چلے۔ اب عمارت جانے اور عمارت والے۔

.

Read more from Mazhar-ul-Islam

Read more Urdu Stories

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: