خواب ِ گذشتہ ۔۔۔ محمد جمیل اختر

خواب گذشتہ

محمد جمیل اختر

آج پانچ تاریخ تھی اور اسکی جیب خالی تھی ، وہ سڑکوں پر یونہی بے مقصد گھوم رہا تھاوہ گھر جانے سے ڈررہا تھاکیونکہ گھر پر اس کے بچے اپنی سکول کی فیس کا انتظار کررہے تھے وہ پچھلے کئی دنوں سے روز صبح بچوں سے وعدہ کر کے گھر سے نکلتا تھا کہ شام کو فیس لے کرآئے گا، آج پانچ تاریخ تھی اور اس کی جیب خالی تھی ، یہ وقت بھی تو کہیں نہیں رکتاابھی کل ہی کی تو بات ہے جب اس نے پچھلے ماہ بچوں کی فیس جمع کرائی تھی ۔ وہ چلتے چلتے تھک گیا تو فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا۔
سب کچھ ویسا ہی تھا ، لیکن سب کچھ تو ویسا نہیں تھا۔۔ہاں پھول اب  بھی کھلتے ہیں، چاند اب بھی چمکتا ہے، بلبلیں اب بھی چہکتی ہیں اور کبھی کبھار کوئل کی مدھر آوازاب بھی کانوں میں رس گھولتی ہے ۔لیکن سب کچھ ویسا نہیں ہے ، جب وہ چھوٹاتھاتو یہی سب کچھ ۔۔۔کچھ اور طرح تھا۔
بچپن کی سوچیں اور منصوبے بہت معصوم ہوتے ہیں اس نے سوچاکاش کہ دنیا ویسی ہی سادہ اور دلچسپ ہوتی جیسا کہ اسے اپنے بچپن میں محسوس ہوتی تھی۔وہ سڑک کے کنارے بیٹھے بیٹھے اپنے ماضی کی طرف سفر کرنے لگا اور یہ سفر ۱۹۷۵ پر جاکر ٹھہرگیا جب وہ دوسری جماعت میں پڑھتا تھا یہ وہ دور تھا جب اسے نئے نئے لفظ پڑھنے آئے تھے پہلی پہلی دفعہ کے سارے کام اور طرح سے ہوتے ہیں اور یہ پہلی پہلی دفعہ کے کام اگر انسان کو بھا جائیں تو وہ ساری عمر ، ان کاموں کے سحر سے نکل نہیں پاتا۔ وہ ہر لفظ پڑھنے کی کوشش کرتا یہ ایک کمال کا کام تھا ہر جگہ اور ہر چیز پر کچھ نہ کچھ لکھا ہوتا انہی دنوں اسے پتہ چلا کہ صابن صرف صابن نہیں ہوتا وہ لائف بوائے صابن ہوتاہے اور اسی طرح ہر چیزکے نام ہوتے ہیں۔
انہی دنوں اسے کیلنڈر دیکھنا آیا برآمدے میں لگے کیلنڈر پر ہر وقت ۱۹۷۵ لکھا ہوتا اسے مہینوں کا علم نہیں تھا اسے یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ سال میں دن کتنے ہوتے ہیں وہ روز صبح اٹھتابرآمدے سے گزرتے ہوئے ایک نظر کیلنڈر پر ڈالتا کہ شاید رات کو سال بدل گیا ہو لیکن نہیں وہاں ۱۹۷۵ ہی لکھا ہوتا ۔۔۔۔ پھر اس نے کیلنڈر دیکھنا چھوڑ دیا وہ سمجھا کہ اب وقت شاید ٹھہرگیا ہے اور اب یہ ہمیشہ ۱۹۷۵ ہی رہے گا۔ لیکن جب وہ بڑا ہوا تو اسے معلوم ہوا کہ وقت تو ذرا بھی نہیں ٹھہرتایہ تو چلتا بھی نہیں یہ تو دوڑے جاتا ہے، ایک ہی رفتار سے بغیر ادھر ادھر دیکھے ۔ بعض دفعہ انسان چاہتا بھی ہے کہ وقت ٹھہرجائے لیکن وہ نہیں ٹھہرتا۔
سڑک پر ایک ٹرک ہارن بجاتے ہوئے گزرا اور اسکے خیالات کاتسلسل ٹوٹ گیا، اس نے ہاتھ پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھارات کے نو بجے تھے۔ بچے ابھی جاگ رہے ہونگے وہ یقنا ڈر رہے ہونگے کہ اگر انہوں نے فیس جمع نہ کرائی تو سکول والے انہیں ضرور سزا دیں گے،لیکن اسکی جیب خالی تھی وہ کہاں سے بچوں کی فیس لائے اور انہیں سزا سے بچائے ۔ وہ بہت دکھی ہوگیا اسے یاد آیا جب وہ سکول میں تھاتو اسے بھی ایک بار بہت سخت سزا ملی تھی
ان کے سکول میں ایک استاد بشیر ہوا کرتا تھا جو ذہنی مریض تھا لیکن غریب آدمی تھا سو پاگل ہونے کے باوجود ہیڈماسٹر صاحب نے انہیں سکول سے نہ نکالا ہیڈماسٹر صاحب بڑے رحم دل انسان تھے انہیں استاد بشیر کے چھ بچوں کا خیال آجاتاجن کا خیال استاد بشیر کو بھی نہیں تھا۔
استاد بشیر صبح سویرے آتے سکول کے ایک کونے میں کرسی پربیٹھ کر ’’ It’s good ‘‘ ، ’’No, it’s not good‘‘ کہتے رہتے ۔ کچھ لوگوں کاخیال تھا کہ انہوں نے بہت ذیادہ پڑھ لیا ہے جسکی وجہ سے انکی دماغی حالت خراب ہوگئی ہے ۔ پہلی بار جب یہ بات اس نے سنی تو وہ بھی ڈر گیا کہ وہ تو ہرصفحہ ہر دیوار ، ہر اشتہار پڑھتاتھاتو کیا وہ بھی پاگل ہوجائے گا؟اور لوگ تو یہ بھی کہتے تھے کہ استاد بشیرکو جب غصہ آتا ہے تو وہ چیزیں اٹھا اٹھا کے پھینکتے ہیں ۔اسے ان دونوں باتوں کا یقین نہیں تھا۔اسے لگتا تھا وہ پاگل نہیں ہیں 
ایک بارجب ان کی کلاس کے استادعمرہ کرنے گئے تو ہیڈماسٹرصاحب نے ا ن کی کلاس کو استادبشیر کے حوالے کردیا ۔
ان دنوں سارا دن وہ سارے بچے اپنا کام کرتے اور استاد بشیر اپنا کام۔ وہ بس دس از گڈ ، دس از ناٹ گڈ ہی کہتے رہتے ، بچوں کو وہ کچھ بھی نہیں کہتے تھے اور بچے بھی انہیں کچھ نہیں کہتے تھے اور سارا دن کلاس میں بنٹے کھیلتے رہتے ایک روز جب بچے بنٹے کھیل رہے تھے اور استاد بشیردس از ناٹ گڈ کہتے کہتے کھڑے ہوگئے تم میرے گھر پر قبضہ کرناچاہتے ہو؟ انہوں نے اسکی طرف دیکھ کر کہاتھا۔
وہ ڈر گیا اور کہا
جی ؟
اچھا ۔۔۔جی ؟؟؟
یہ کہہ کر انہوں نے اسے اٹھایا اور زمین پر پٹخ دیا
اس کا سر پھٹ گیا تھا اور خون نکلنے لگا تھا۔ 
انہوں نے پھر اٹھایا اور پھرپھینکنے لگے تھے کہ کمرے کے باہر ایک استاد کی نظر پڑگئی وہ بھاگ کے اند ر آئے اور اسے استاد بشیر سے چھڑایا۔
استاد بشیر کو یاد کرکے ایک کپکپی سے طاری ہوگئی کیا تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی اس نے خود سے سوال کیا ، نہیں ، نہیں ایسا نہیں ہوسکتا لیکن اس کی جیب خالی تھی، وہ پریشانی سے فٹ پاتھ سے اٹھا اورتیز تیز چلنے لگا۔
اب سڑک پر ٹریفک بہت کم تھی چلتے چلتے ایک سوڈا واٹر کی بوتل کا ڈھکن اس کے پاوں سے ٹکرایا اس نے ویسے ہی ڈھکن اٹھا کر دیکھا اسے یاد آیا کہ بچپن میں اسے ایک بارڈھکن جمع کرنے کا بھی شوق چرایا تھا
ان دنوں جب اس نے سڑکوں پر دوڑتی گاڑیاں دیکھیں تو اسے سوتے جاگتے گاڑی حاصل کرنے کے خواب آنے لگے، کبھی کبھی اسے خیال آتا کہ جب وہ گاڑی خریدے گا تو اس پر کراچی اور لاہور تک جائے گا۔ لیکن اس کے پاس گاڑی آئے گی کیسے۔۔۔۔
پھر ایک روز ٹی وی دیکھتے ہوئے ایک اشتہارمیں بتایا گیا کہ ایک مشروب والے گاڑی انعام میں دے رہے ہیں ۔
اسے لگتا وہ تھا کہ یہ انعام اس کا ہی انعام ہے ۔ سوڈا واٹر کی بوتل کے ڈھکنوں کی ایک سے دس تک گنتی مکمل کرنی تھی اور اس کے بدلے ایک گاڑی ملنی تھی ، وہ سمجھتا تھا کہ یہ کچھ ایسا مشکل کام تو نہیں ، صرف دس ڈھکن ۔۔۔۔
اسے روز رات کو خواب آتاکہ وہ گاڑی چلارہا ہے۔۔۔ وہ ایک عرصے تک ڈھکن جمع کرتا رہا لیکن اس کا لکی نمبر دس کبھی بھی نہیں نکلا اس کے پاس ایک سے نو تک سارے نمبر کے ڈھکن تھے سوائے نمبر دس کے۔ 
اس نے دس نمبر کو ڈھونڈھنے کے لیئے بہت محنت کی تھی ۔ گلیوں ، سڑکوں ، دکانوں کے باہر پڑے ڈھکنوں کو اٹھا اٹھا کے دیکھتا کہ شاید دس نمبر مل جائے لیکن معلوم نہیں دس نمبر ڈھکن کہاں تھا۔ اسے مل جاتا تو ٹی وی میں دکھائی جانے والی گاڑی اس کی ہوجاتی ۔ایک مدت گزر گئی لیکن اسے وہ ڈھکن نہ ملا۔
پھر ایک روز سکول سے واپس آتے ہوئے راستے میں ،اسے ایک ڈھکن ملا اس نے یونہی عادتا اٹھایا سرسری نظر دوڑائی ۔ لیکن یہ کیا ۔۔۔۔
اس کا دس نمبر نکل آیا تھا۔۔۔۔۔
اوہ وہ امیر ہوگیاتھا۔
و ہ پا گلوں کی طرح دوڑتے ہوئے گھر آیا تھا
ماں جی ابا جی میری ٹی وی والی گاڑی نکل آئی ہے
اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیسے چلا چلا کہ ساری دنیا کو بتائے کہ وہ گاڑی جیت گیا ہے اب وہ گاڑی پر سکول جایا کرے گا۔۔۔اور پھر کراچی اور لاہور بھی جائے گا
اتنے میں اندر سے بھیا نکلے وہ بھاگ کر ان سے لپٹ گیا 
’’بھیا میری ٹی وی والی گاڑی نکل آئی ہے یہ دیکھیں دس نمبر کا ڈھکن ، اس نے بستہ کھولا اور باقی ڈھکن جو ہر وقت اس کے بیگ میں ہوتے تھے نکالے اور انہیں ایک ترتیب میں رکھ دیا
پورے دس تھے اسے یقین نہیں آرہا تھا لیکن وہ پورے دس تھے۔
بھیا نے ایک نظر ڈھکنوں کی طرف دیکھا اور پھر اسکی طرف دیکھ کر کہا
’’ اوہ ہو ، تم تھوڑے لیٹ ہوگئے۔۔۔۔ یہ سکیم تو پچھلے ہفتے ختم ہوگئی ہے‘‘
اور وہ پانچ منٹ بعد ہی باہر گلی میں پیدل دوڑے جارہا تھا۔۔۔۔۔۔اور اب بھی وہ دوڑے جارہاتھا۔۔۔۔۔

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

June 2024
M T W T F S S
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930