سبقت ۔۔۔ شاہد جمیل اختر

سبقت

شاہد جمیل احمد

پتہ نہیں آج بیدو کے ہاتھوں کو کیا ہو گیا تھا کہ دُھلے ہوئے برتنوں کا ڈھیر بلند ہی نہیں ہو پا رہا تھا جبکہ بِنا دُھلے برتن اُس کے چاروں طرف اور کُھرے کے ہر کونے میں بکھرے پڑے اپنی جُھٹال دکھا کر اُس کا منہ چڑا رہے تھے ۔ ہر روز کی طرح برتن دھونے کے سارے لوازمات جیسے ادھ گُھلی ہری صابن ، راکھ اور ٹاکی سب موجود تھے مگر کام تھا کہ نمٹنے میں نہ آ رہا تھا ۔درمیان میں جب وقفے وقفے سے چودھرانی کی آواز کے نوکیلے الفاظ ‘ جلدی کرو تمہارے ہاتھ تو نہیں ٹوٹ گئے’ اُس کے کانوں کے پردے سے ٹکراتے تو ایک دم اُس کے ہاتھوں کی نصف دائرے کی حرکت تیز ہو جاتی مگر اگلے ہی لمحے پھر وہی سستی، وہی بیزاری ۔ آج جیسے اُس کے ہاتھ پاؤں پُھولے ہوئے تھے ۔ یہ کام اُس کیلئے نیا نہیں تھا بلکہ وہ تو نصف صدی سے یہ کام کرتی آئی تھی ۔ پھر اُسے ایک دم یاد آیا کہ اس کی ماں بھی تو یہی کام کیا کرتی تھی ۔ اُسے وہ دن بھی اچھی طرح یاد تھا جب اُس کی ماں شدید بیماری کی وجہ سے دو دن حویلی میں کام کرنے نہ آ سکی تو تیسرے دن اس کی چودھرانی نے اسے نوکروں کے ذریعے گھر سے اٹھوایا اور اس کی چلونگی کھرے میں لا کر رکھ دی ۔ وہ ٹھنڈے پانی سے اپنی ماں کے کانبے کو بڑھتا دیکھ رہی تھی اور پھر اسی حالت میں اس کی ماں نے کُھرے کی ایک دیوار پر ہمیشہ کیلئے اپنا سر ٹکا دیا تھا ۔
اُسے اپنی ماں کی طرح بخار تو نہیں تھا مگر اس کی سانسیں گرم اور تیز تیز چل رہی تھیں ۔ شام ہونے کو تھی اور برتنوں کے ڈھیر ویسے کے ویسے پڑے تھے ۔ اس کام سے فارغ ہو کر ابھی اس نے چودھرانی کی پنڈلیوں کی چھلیوں کو بھی پھوڑنا تھا اور اس کے بعد ہی وہ اپنے گھر جا سکتی تھی ۔ آج کے دن کچھ بھی نیا نہیں تھا ، سب چیزیں پہلے کی طرح تھیں جیسے راکھ، صابن ، ٹاکی ، برتن اور چودھرانی کی پنڈلیوں کی چھلیاں مگر پتہ نہیں کیوں اسے کچھ نیا لگ رہا تھا، اسے اپنے اندر یہ محسوس ہو رہا تھا جیسے کچھ ہونے والا ہے، کچھ اچھا یا پھر کچھ مختلف ، اس نے لمبی سانس لی اور بے اختیار اس کے مونہہ سے اُف میرے خدایا نگل گیا ۔ اُسے اپنا شوہر دھّنا اور بیٹا جیُرو دھیان میں ایک پگڈنڈی سے گاؤں کی طرف آتے دکھائی دیئے ۔ ان دونوں کے سایوں کو تو وہ آسانی سے پہنچانتی تھی مگر تیسرے سائے سے وہ مانوس نہ تھی ۔ یہ کسی جانور کا سایہ تھا جو کبھی تو اتنا چھوٹا ہو جاتا کہ بّلی کا بچہ محسوس ہونے لگتا اور کبھی اتنا بڑا کہ اس کا قد دوسرے دونوں کی کمر کے برابر ہو جاتا ۔تیسرے کی رسی جیرو نے پکڑی ہوئی تھی اور دھّنانرم پتوں والی شاخ کی ہلکی ہلکی ضربوں سے اُسے ہانک رہا تھا ۔
گھنٹے بھر کی لگا تار مشقت کے بعد برتنوں کے دو طرح کے ڈھیر ایک طرح کے ڈھیر میں تبدیل ہوئے اور وہ ہاتھ خشک کرتی چودھرانی کی خواب گاہ کی طرف بڑھ گئی ۔ کئی بار اس کا دل چاہا کہ وہ چودھرانی سے صاف صاف کہہ دے کہ آج اُسے جلدی گھر جاناہے مگر جیرو کے ابا نے اُسے ہر طرح کی بات کرنے سے منع کیا ہوا تھا ۔ بجھے ہوئے دل کے ساتھ اس نے چودھرانی سے کہا کہ لاؤ بی بی جی میں آپ کی پنڈلیاں دبا دوں ۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا کہ پتہ نہیں یہ منحوس چودھرانی کیا کھاتی ہے اور کیا کرتی کراتی ہے کہ ہر روز اس کی پنڈلیوں کی مچھلیاں پھول جاتی ہیں ۔ اس کی مچھلیاں دبا دبا کر اس کے ہاتھوں کے انگوٹھے اور انگلیوں کی پوریں شل ہو جاتیں مگر ان کا اکڑا کم ہونے میں نہ آتا ۔ اب تو ان گٹھلیوں کی بات پنڈلیوں سے چل کر کافی اوپر تک چلی گئی تھی اور جوں جوں یہ بات بڑھ رہی تھی توں توں بیدو کے لکڑی جیسے ہاتھوں کی مشقت بڑھتی چلی جا رہی تھی ۔ جب سے چوہدری نے دوسری شادی کی تھی تب سے تو بڑی چودھرانی کا جسم اور بھی انبل گیا تھا ۔
کُفتاں کی بانگ کے کافی دیر بعد بیدو کام کاج اور لتاڑ سے فارغ ہوئی ۔ گلی میں بڑے بڑے قدم اٹھاتے ہوئے وہ یہی سوچ رہی تھی کہ جیرو اور اُس کے ابا گھر پہنچ چکے ہوں گے ۔ کیا پتہ وہ اب جانور کو نہلا رہے ہوں ۔ اُن کو تو اتنی عقل بھی نہیں کہ جانور کو رات کونہلانا نہیں چاہیئے ، جانور کے بیمار ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے ۔ پھر ایک دم اُسے وہم ہوا کہ رات کو جانور کو نہلانے کی وجہ سے اُس کی ٹانگیں جڑ گئی ہیں اور صبح کے وقت اُسے اٹھاتے ہیں تو وہ اٹھ نہیں رہا ۔ کیا پتہ وہ قینچی سے اس کی اون مونڈ رہے ہوں ۔ کوئی پتہ نہیں رات کے اندھیرے میں ان کی قینچی اون کی بجائے کھال میں گھس گئی ہو اور جانور خون میں لت پت پڑا ہو!! نہیں نہیں!!! ایسا کچھ نہیں ہوگا، اُکھڑی ہوئی سانسوں کے ساتھ اس نے دونوں ہاتھوں سے باہر کا دروازہ کھولا اور گھر کے اندھیرے اورخاموشی کو دیکھ کر بھانپ گئی کہ وہ لوگ ابھی نہیں آئے ۔ اُس نے دل ہی دل میں سوچا کہ اچھ ہی ہوا جو وہ لوگ ابھی نہیں پہنچے کہ اس طرح وہ ان کو یہ تو بتا سکے گی کہ رات کو جانور کو نہ نہلائیں یا پھر اندھیرے میں اس کی اون نہ اتاریں ۔ اس نے کچی دیوار کے ساتھ ٹیک لگے حقے کو جگایا ، اس کی نڑی اور نیچے کو نلکے کے پانی سے اچھی طرح تازہ کیا ، اُپلوں کی آگ جلائی اور چلم بھر کر ڈھیلی چار پائی کی گود میں بیٹھ کر بڑے بڑے کش کھینچنے لگی ۔
رات اپنے دوسرے پہر میں داخل ہو چکی تھی جب اُسے دروازے پر ہلچل محسوس ہوئی ۔ دھّنانے اس کی رسی پکڑی ہوئی تھی اور جیرو اس کی پچھلی ٹانگیں اُٹھا کر اُسے گھر کے اندر دھکیل رہا تھا ۔ گھر کے اندر داخل ہوتے ہی انہوں نے سب سے پہلے دروازے کو مضبوطی سے بند کیا اور دونوں جانور کو باندھنے کے بعد ایک بار پھر اُس کے ارد گرد چکر کاٹ کر اس کا جائزہ لینے لگے ، یوں جیسے اِس سے پہلے وہ لوگ نیند میں سارا کام مکمل کر آئے تھے اور اب جاگ کر اصل صورت حال کا جائزہ لینے لگے تھے ۔ جیرو نے دونوں ہاتھوں میں بھر کر اُسے زمین سے ذرا اوپر اٹھایا اور پھر نیچے پھینک کر کہنے لگا من کے قریب لگتا ہے ۔ دھّنا کہنے لگا ،بیوقوف وزن کی بات نہیں کرتے ۔ جس کا ہے اُس کیلئے سیروں اور منوں کی کوئی اہمیت نہیں ۔ مسلمان ہونے کے بعد اُن کی معلوم تاریخ میں یہ اُن کے خاندان میں پہلا واقعہ رونما ہونے جا رہا تھا ۔ دبی دبی زبان میں انہوں نے گاؤں گلی کے لوگوں میں اپنے ارادے کو ظاہر تو کر دیا تھا مگر کسی نے اُن کایقین نہیں کیا ۔ لوگ سمجھتے تھے کہ وہ مذاق کر رہے ہیں ۔ اُن کے ذہن میں یہی تھا کہ یا تو جیرو دور پار سے کسی کا جانور چرائے گا ورنہ ان کے پاس اس کام کیلئے جانور کہاں سے آئے گا ،جبکہ چرائے ہوئے جانور کو ایسا ہی ذبح کیا اور ایسا ہی نہ کیا ۔ کسی کو کیا پتہ کہ اُن کے گھر میں وہ تین لوگ تھے اور تینوں کمانے والے تھے ۔ بیدو کو بچے کُھچے کھانے کے علاوہ عید تہوار اور موقع بہ موقع صدقے کے پیسے بھی ملتے تھے، جیرو نے بھی دوسرے گاؤں کے زمیندار کے ساتھ سیپ کی ہوئی تھی اور دھّنا بھی ہر روز آس پاس کے دیہات سے کچھ نہ کچھ مانگ لاتا تھا ۔ یوں بھی ان کا خرچہ ہی کتنا تھا ،مانگے تانگے کے تمباکو اور بچے کھچے کے کھانے سے بھلی چنگی گذر اوقات ہو رہی تھی ۔پچھلے کئی سال سے پیسے جمع کرنے کے بعد وہ اپنے خاندان کی صدیوں پرانی روایت بدلنے اور نئی تاریخ رقم کرنے کے درپے تھے ۔
حقیقت تو یہ تھی کہ اُن تینوں میں سے کوئی بھی اُس رات پل بھر کو نہ سوسکا ،اگرچہ وہ اپنے کپڑوں سے اپنے منہ ڈھانپ کر اور آہستہ سے کروٹیں بدل کر ایک دوسرے کو اپنا سویا ہونا ظاہر کر رہے تھے ۔ کبھی جیرو پیشاب کے بہانے اُٹھ جاتا اور کبھی دھّنا پانی پینے کی غرض سے ۔ بیدو جب کروٹیں بدل بدل کر تھک گئی تو اُس نے آدھی رات سے ہی تھوم پیاز چھیلنا شروع کر دیئے ۔ اُس کا بہانہ بنا کر وہ دونوں بھی انگڑائیاں لیتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوئے جیسے نیند مکمل کر چکے ہوں ۔ جانور کو دھریک کے پتے کھلاتے اور چلم دوبارہ بھرتے بھراتے اُن کے کانوں میں اذان کی آواز پڑی ۔ دھّنے نے جیرو کو کہا کہ تم نماز پڑھ لو، وہ کہنے لگا مجھے تو نماز نہیں آتی ابا تو ہی پڑھ لے ۔ ابا ناراض ہو گیا کہ تو بڑھاپے میں مجھ سے ہی سارے کام کروانا ، خود کچھ نہ کرنا نکمے۔ بیدو کو موقع مل گیا ۔ کہنے لگی تم دونوں رہنے دو، پتہ نہیں کیا خاندان ہے تمہارا ، تم لوگوں کو تو کچھ بھی نہیں آتا ۔ وہ منہ ہاتھ دھو کر پرانے کھیس پر کھڑی تو ہو گئی مگر آگے اُسے بھی کچھ پتہ نہ تھا کہ نماز میں کیا پڑھتے ہیں ۔ اس کا مقصد تو ان کو دکھانا ہی تھا کہ نمازپڑھی جا رہی ہے ۔اِس لئے تھوڑی سی بلند آوازمیں بسملا، اللہ وکبرپڑھتی رہی اور کھیس لپیٹنے تک اُسکے اچھے خاصے پسینے چھوٹ گئے ۔ اِس کے ساتھ ہی جیرو نلکا گیٹر کرمڈھی دھونے لگا۔ دھنے نے لگی لگائی چھریوں اور بُگدے کو ایک بار پھر ریتی سے تیز کیا ۔ جیرو کہنے لگا ابا کیا صلاح ہے ۔دھّنے نے جیرو کی طرف دیکھا اور کہنے لگا پُتّر بسم اللہ کرتے ہیں ۔ میں نے ایک بار میاں جی کو سپیکر میں کہتے سنا تھا کہ مسلمانوں نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے پتہ نہیں کیا لے جاؤ البتہ اس کا مطبل یھی بنتا تھا کہ ایک دوسرے سے پہلے وہ کام کرنے کی کوشش کرو ۔ ویسے بھی نیک کام میں دیر کیسی ۔ اُس نے جیرو کو مخاطب کرکے کہا کہ میں اور تیری ماں جانور کو قابو کریں گے اور تم چھری چلانا ، تمہیں وہ تو یاد ہے ناں جو چھری چلاتے وقت پڑھتے ہیں۔جیرو جو پہلے ہی اپنے باپ سے نماز والے کام میں جھینپ گیا تھا ،کہنے لگا ہاں ابّامجھے آتا ہے ، میں نے اِس سے پہلے بھی چودھریوں کے کئی جانور حلال کئے ہیں ۔
گھر کے ایک کونے میں ہی انہوں نے جانور کو حلال کیا اور اب گھاس ڈالنے والی کھاد کی بوریوں سے بنی ہوئی چادر بچھا کر اس کی کھال اتارنے لگے۔ ان کو کھال اتارنے کا بہت تجربہ تھا ، جیرو اور دھّنا منٹوں میں مرے ہوئے جانور کی کھال اُتار لیا کرتے تھے مگر آج انہیں احساس تھا کہ یہ جانور مرا ہوا نہیں بلکہ حلال کیا ہوا ہے ،اسلئے بڑی احتیاط سے چھریوں کے چھوٹے چھوٹے کٹ لگا کر کھال اتار رہے تھے ۔ کھال اتارنے کے دوران ان کو کھالیں جمع کرنے والوں کے اعلانات بھی یاد آ رہے تھے کہ قربانی کے جانوروں کی کھال انتہائی احتیاط سے اتارنی چاہیئے کیونکہ اس کا بھی ثواب ہے ۔ اسی احتیاط کے دوران جیرو کے بائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور انگلی پر چھری کے کئی زخم بھی لگے مگر اُس نے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی جانور کا گوشت بناتے ہوئے انہیں اتنی احتیاط سے کام لینا پڑ رہا تھا ورنہ تو وہ گوشت کو چیلوں کی طرح ایک منٹ میں چیر پھاڑ دیتے تھے ۔ ان کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ اگر کوئی ان سے پوچہ لیتا تو وہ یہ تک بتا سکتے تھے کہ کُل اتنے سو اتنی بوٹیاں بنیں ، بوٹیاں بن چکیں تو لگے ہاتھ انہوں نے اس کے تین حصے بھی کر دیئے اور ہر حصے کو پرنے میں ڈال کر تینوں نے اسطرح جوکھا کہ ایک بوٹی بھی کسی میں کم یا زیادہ نہیں تھی ۔
صبح کا اجالا ذرا پھیلا تو گوشت تقسیم کرنے کا مرحلہ در پیش تھا ۔ دھّنے نے اپنے پرنے میں ایک حصے سے اچھی اچھی بوٹیاں ڈالیں اور کاندھے والے کھیس میں چھپاتا ہوا چودہریوں کی حویلی میں پہنچ گیا ۔ چودھری صاحب ابھی نہانے دھونے کی تیاریوں میں مصروف تھے ۔ انہوں نے دھّنے کو ایک طرف کوئی چیز اٹھائے ہوئے کھڑا دیکھا تو کہنے لگے دھّنے کیا بات ہے اور یہ پرنے میں صبح صبح کیا اٹھا رکھا ہے ۔ دھّنا پہلے تو ذرا گھبرایا اور پھر کچھ دیر توقف کے بعد بولا، چودھری جی گوشت لایا ہوں، اس دفعہ ہم نے بھی قربانی کی ہے ۔چودھری صاحب پہلے کِھلکھلا کر ہنسے اور پھر بڑی مشکل سے اپنی ہنسی روکتے ہوئے کہنے لگے ، مگر دھّنے قربانی تو عید کی نماز کے بعد ہوتی ہے اور عید کی نماز میں ابھی ایک گھنٹہ باقی ہے ، یہ قربانی نہیں ہے صدقہ ہے اور ہم صدقے کا گوشت نہیں کھاتے ۔ دھّنا لڑکھڑاتے بوجھل قدموں کے ساتھ واپس مڑا تو یہ سوچ کر اور بھی پریشان ہو گیا کہ وہ بیدو اور جیرو کو کیسے بتا پائے گا کہ اُن کی خواہش کی تکمیل کے بیچ ایک بار پھر کئی سال کا طویل اور پر مشقت سفر حائل ہو چکا تھا۔

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

February 2024
M T W T F S S
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
26272829