غزل ۔۔۔ قیصر عباس

غزل

( قیصر عباس )

اپنے بے نام اندھیروں کوسنبھالے رکھوں
میں نکل جاؤں تواس گھر پہ بھی تالے رکھوں

روشنی کچھ تو میسر ہو درِ ز نداں میں
دل میں بھولی ہوئی یادوں کے اجالے رکھوں

توڑ ڈالوں میں سسکتی ہوئی ظلمت کا غرور
ہاتھ پر ڈوبتے سورج کو اچھالے رکھوں

جب تری ذات کا محتاج نہیں میرا وجود
اپنی تکمیل کو کیوں تیرے حوالے رکھوں

میں نے بخشاہے تجھے تیری بڑائی کا وقار
روٹھ جاؤں تو کوئی اور خدا لے رکھوں

خاک بن کربھی رہوں اپنی مسافت کا غبار
میں کہ مرنے کے بھی انداز نرالے رکھوں

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: